کیا بیرسٹر اعتزاز احسن تاریخ کی درست سمت پہ کھڑے ہوئے ہیں؟


ہماری سرزمین ”پروجیکٹ“ کی آماجگاہ ہے، عقل کل ہونے کے واہمے یا زعم کا شکار وارثان نظام تجرباتی طور پر کوئی نہ کوئی پروجیکٹ لانچ کرتے ہی رہتے ہیں تاکہ ”اسٹیٹس کو“ کی ناؤ پوری طرح سے ڈوبنے نہ پائے اور استحصال کے اس چکر کو جتنا دراز کیا جاسکتا ہے کیا جائے۔ بھلے جتنے مرضی پروجیکٹ لگانے پڑیں کیا فرق پڑتا ہے؟

ملک و قوم کی خیر ہے جب تک اس قسم کی جذباتی کہانیاں چلتی رہیں گی جذباتی میٹریل دستیاب رہے گا اور سادہ لوح عوام بہلتے رہیں گے کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ یا آ پشن ہی نہیں ہے۔

یہ ملک تو قائم رہنے کے لیے بنا تھا۔
وطن عزیز سونے کی چڑیا ہے۔
یہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی ہے۔

یہ ستائیسویں کی شب آزاد ہوا تھا، پتا نہیں لوگ بھاگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ بھی تو اسی مقدس دن ہی آزاد ہوا تھا۔
یہ قیامت کی صبح تک قائم رہے گا۔
پاکستان قادر مطلق کے چند رازوں میں سے ایک راز ہے۔

عوام کو ان خیالی جھنجنوں کا اس قدر عادی بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی مداری انہیں مذہب اور روحانیت کے نام پر بے وقوف بنا کے چلا جاتا ہے اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی۔

بنیادی وجہ یہ ہے کہ انیس سو سینتالیس کے بعد سے انہیں اسی قسم کی شعبدہ بازیوں کا عادی بنایا گیا ہے اور ان کے ذہنوں میں حقائق کی بجائے جذباتیت یا میجیکل تھنکنگ کا جوہر باقاعدہ منصوبہ بندی سے انڈیلا گیا ہے جس کا واضح ثبوت قرار داد مقاصد کی صورت میں سامنے آیا۔

اس قرارداد کے پیش ہونے کے بعد اسمبلی میں موجود کچھ باشعور آوازوں نے خبردار کرتے ہوئے آنے والے حالات کی نشاندہی کر دی تھی مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

ان باشعور آوازوں کو آنے والے وقت کی چاپ واضح طور سنائی دے رہی تھی مگر سوال یہ ہے کہ جو حالات کی نزاکتوں سے بے خبر تھے یا جان بوجھ کر آنکھیں موندھے بیٹھے تھے آ خر وہ کون لوگ تھے اور ان کا تعلق معاشرے کے کس طبقے سے تھا؟ پوچھنا تو بنتا ہے نا! کہ آخر کیا مجبوری تھی کہ آئین سازی کی طرف سنجیدگی سے بڑھنے کی بجائے قرارداد کو ترجیح دی گئی؟

جبکہ دوسری طرف ہمسائیگی میں فوری طور پر آئین سازی کا عمل شروع کر دیا گیا اور وہ آج دنیا کی صفوں میں اپنا نمایاں مقام یا جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ہم ابھی تک ہچکولے کھا رہے ہیں۔

جمہوریت اور جمہوری روایات کا پالن کرنے کی بجائے ہم ہجوم کا دم بھرنے اور ان کے ذریعہ سے وقتی مفادات کو حاصل کرنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں دو سانحات ایسے ہیں جنہوں نے بڑے بڑوں کی علمیت، ذہانت و متانت اور روشن خیالی کو لپیٹ کے رکھ دیا تھا اور یہ سب بھی اسی بھیڑ چال یا ہجومی نفسیات کا حصہ بن گئے جو شروع دن سے اس ملک میں رائج ہے۔

پہلے افتخار چوہدری کی وکلاء تحریک کو دیکھ لیں جس کے دلفریب نعروں اور بے تکیوں کی سی منظر کشی کے سحر میں مبتلا ہو کر کے بڑے بڑے بہہ گئے۔

خاص طور پر اعتزاز احسن
کی مشہور زمانہ نظم

”ریاست ہوگی ماں کی جیسے“ کی بڑی دھوم مچی اور موصوف نے لوگوں کو ایسے خواب دکھائے جو آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

ہاں جوڈیشل ایکٹوازم کی صورت میں طاقت کے اکھاڑے میں ایک ”نیا چودھری“ ضرور منظر عام پر آ گیا اور وکلاء تحریک میں خواب و سراب بیچنے کی پاداش میں اعتزاز احسن کے ہاتھ کچھ میڈل لگ گئے اور بین الاقوامی فلیش لائٹ مل گئی مگر عوام کے لاکھوں کیس آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

ہم جیسے چھوٹے ذہنوں کو یہ بات اس وقت بھی ہضم نہیں ہوتی تھی کہ

” بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ریاست کا صرف ایک ادارہ خود مختاری یا آزادی حاصل کر لے اور باقی جوں کے توں رہیں اور ہاتھ باندھ کر ایک طرف کھڑے رہیں، اس طرح تو پھر ایک لحاظ سے آمریت یا بادشاہت ہی قائم ہو سکتی ہے“

اسی تسلسل کا ثبوت آج ہمارے سامنے ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر بھی ہمیں پھر سے اعتزاز احسن ہی نظر آ رہے ہیں۔

جی ہاں یہ وہی اعتزاز ہے جسے شہزادی جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو آئیڈیلسٹ کہا کرتی تھیں۔

وکلاء تحریک کے جو نتائج برآمد ہوئے وہ بھی ہمارے سامنے ہیں اور دوبارہ پھر سے لمحہ موجود کی برکات سمیٹنے کے لیے بیرسٹر جی میدان میں آ چکے ہیں۔

دوسرا سانحہ عمران پروجیکٹ کی صورت میں سامنے آیا جس پر نجانے کب سے ”سیکرٹ ریہرسل“ چل رہی تھی اور بڑے بڑے ماہر اتالیق 1992 کے ورلڈ کپ کے سیلف ڈیکلیئرڈ ہیرو نما بونے کو ”بڑا“ بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے تھے مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ کتنا بڑا ہیرو یا نڈر بن پایا ہے؟

اس حقیقت کا اندازہ آپ اس کے عدالتوں میں پیش ہونے سے لگا سکتے ہیں کہ کیسے ایک ”پروجیکٹو بریو یا ہیرو“ انتہائی کسمپرسی کے گیٹ اپ میں عدالت کے روبرو ہوتا ہے۔

سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ کیا میاں نواز شریف، آصف علی زرداری یا دیگر سیاسی کارکنان جنہوں نے بڑی سختی برداشت کرتے ہوئے دیدہ دلیری سے عدالتوں کا سامنا کیا ہے، کیا ان کا وجود بلٹ پروف یا لوہے کا بنا ہوا تھا؟

حیرت ہے ایاک نعبدو سے اپنی تقریروں کا آغاز اور ہاتھ میں ہر وقت تسبیح تھامے رکھنے والا ڈرے ڈرے اور سہمے انداز میں اور موت کا خوف آنکھوں میں سجائے صرف جیل کی صعوبتوں سے بچنے کے لیے حفاظتی ضمانت کے چکر میں خجل و خوار ہوتا پھر رہا ہے جبکہ دوسری طرف رجسٹرڈ چور اچکے اور کرپٹ ترین سیاستدانوں کا ٹریک ریکارڈ عدالتوں کے روبرو ہو کے اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا دفاع کرنے کا ٹریک ریکارڈ بہادری و استقامت کی داستان رقم کرتا نظر آتا ہے۔

بے نظیر بھٹو کو انتہائی سنجیدہ خطرات لاحق تھے مگر اس نے دبکے رہنے کی بجائے عوام میں رہنے کو ترجیح دی اور جو کچھ ان کے ساتھ ہوا تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو دار پہ جھول گیا مگر سمجھوتا یا معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا۔ تاریخ کی صحیح سمت پر ڈٹ کے کھڑے رہنے کی ایک قیمت ہوتی ہے جسے بہادر ہی بہادری سے چکاتے ہیں۔

کم ظرف، پست ہمت، ذہنی بونے یا ہائبرڈ لیڈر ہمیشہ موقع پرست اور کسی بڑے سرپرست کے دست شفقت کے منتظر رہتے ہیں، جب تک دست شفقت رہتا ہے شیر بن کر دھاڑنے لگتے ہیں جیسے ہی محروم ہوتے ہیں بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔

پروجیکٹ عمران کے سحر میں میں ”بڑے بڑے“ یعنی بہت بڑے تک مبتلا ہو گئے تھے، خاص طور پر معراج محمد خان جیسا زیرک شخص بھی اسی سراب کے گھن چکر میں پھنس گیا تھا۔

جاوید ہاشمی جیسا سیاسی کارکن ملک کی کایا پلٹنے کے چکروں میں بھاگم بھاگ باغی بن گیا تھا لیکن راز کھلتے ہی اسی رفتار سے واپس پلٹا اور عوام کو بتا دیا تھا کہ

” یہ جمہوری پروجیکٹ نہیں ہے بلکہ بچہ جمورا پروجیکٹ ہے“ چلیں خیر جو ہوا سو ہوا

جعلی انقلاب خان کی قلعی کھلتے ہی بہت سوں نے اپنی خطا سے رجوع کر لیا مگر اعتزاز احسن کی سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ بزرگی کی اس عمر میں تاریخ کی کس سمت پہ کھڑے ہیں؟

کیا وہ اپنی ساری گزشتہ کی کمائی کو لمحہ موجود کی ہنگامی یا جعلی صورتحال پر قربان کرنا چاہتے ہیں؟
مطلب وہ اپنی سٹھیائی ہوئی سی باتوں سے پیغام کیا دینا چاہتے ہیں؟

کہیں انہیں بھی تو اوریا مقبول جان کی طرح کا روحانی خواب یا اشارہ تو نہیں ہو گیا کہ ”چھڈ بندا اپنے ماضی نوں ہن اپنے اگے یا سانویں ویکھ“

آئیڈیالزم بھی ایک طرح کی ذہنی بیماری ہوتی ہے جو پریکٹیکل لائف سے کوسوں دور ہوتی ہے، اگر حد سے بڑھ جائے تو بندے کو اس قسم کے زعم خودی میں مبتلا کر دیتی ہے کہ ”یو آر ویری امپورٹنٹ پرسن“ مطلب جناب آپ ہیں تو جہاں کی ساری رونقیں ہیں۔

سوچنے والی بات یہ کہ اس سب چکر میں اعتزاز کا بھی کیا قصور!
یہاں تو ہر کوئی وقتی ابال کا شکار نظر آتا ہے، کیا نظریاتی اور کیا غیر نظریاتی۔
جب پروپیگنڈائی رسم چل نکلے اور حقائق کی جگہ قصے کہانیاں لے لیں تو کسی سے کوئی کیا گلہ کرے؟

Facebook Comments HS