جرمن زبان کے شاعر ایرش فریڈ اور ان کی نظمیں

میں کئی روز سے دیکھ رہا تھا کہ باہم بات چیت کے دوران میں امجد کی جرمن بیگم روزی اچانک اپنی مادری زبان بولنے لگتی تھیں۔ خاص کر جب انھیں امجد سے بات کرنا ہوتی۔ ان کے خاموش ہونے پر امجد مجھے اردو یا پنجابی میں بتاتا کہ بیگم کیا کہہ رہی تھیں۔ امجد علی ”مزنگی“ ہونے کی وجہ سے میرا محلے دار بھی تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھنے کے باعث میرا ہم۔ مکتب بھی۔ بی اے کا امتحان دیتے ہی جرمنی جا بسا تھا۔ اب کے لاہور آیا تھا تو اس کے ساتھ اس کی جرمن بیگم بھی تھیں۔
روزی، ظاہر ہے، پہلی بار لاہور یعنی پاکستان کی سیر کر رہی تھیں اور ہم سبھی خود کو ان کا میزبان تصور کرنے پر اترا رہے تھے۔ قیام لاہور کے دوران میں جہاں انھیں یہاں کے تاریخی مقامات کی سیر کروائی گئی وہاں تعلیمی ادارے بھی دکھائے گئے۔ میری اور امجد کی مشترکہ مادر علمی گورنمنٹ کالج کا چکر تو لازم تھا مگر میں نے انھیں پنجاب یونی ورسٹی میں اپنے سوشیالوجی کے شعبہ میں بھی مدعو کیا جہاں صدر شعبہ ڈاکٹر محمد انور صاحب سمیت دیگر اساتذہ اور ہم جماعتوں سے ان کی ملاقات ہوئی۔
روزی پناہ گزینوں کی بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک ادارے سے منسلک تھیں اور عمدہ انگریزی بولتی تھیں مگر جب وہ امجد کے ساتھ جرمن زبان میں گفتگو کرنے لگتیں میں ان دونوں کا منہ دیکھتا رہ جاتا۔ چناں چہ جی میں ٹھانی کہ اگلی بار جب امجد اور بھابھی صاحبہ سے ملاقات ہوگی تو امجد کو کم از کم مترجم کی ذمہ داری تو ادا نہ کرنا پڑے گی۔ یعنی یہ کہ میں نے جرمن زبان سیکھنے کا ارادہ کر لیا۔ امجد اور روزی بھابھی کے جرمنی لوٹ جانے کے بعد میں نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ لاہور میں داخلہ لے لیا۔ دن میں نیو کیمپس میں میں ایم اے سوشیالوجی کی کلاسز اور شام کو گلبرگ میں جرمن زبان کے کورسز۔
اگلے برس جب امجد لاہور آیا تو وہ اکیلا تھا۔ میں نے اسی کو جرمن زبان میں چند جملے سنائے اور یوں اسے خوش گوار حیرت میں ڈال کر خوش ہو لیا۔ گویا میں اپنے مقصد میں جزوی طور پر کام یاب ہو گیا تھا۔ تاہم اس وقت میرے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ دوستانہ محبت میں ابتدا ہونے والی میری یہ غیررسمی سی کوشش مستقبل میں میرے لیے جرمنی کے سفر، تعلیم اور ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے پیشہ ورانہ وابستگی کا وسیلہ بننے والی ہے۔
کالج میں سوشیالوجی پڑھاتے ہوئے مجھے تین برس تو ہوہی گئے تھے کہ 1989 میں گرمیوں کی تعطیلات میں جرمن زبان کے ایک مختصر کورس میں داخلہ لیا اور اپنے دوست کے پاس جرمنی کے شہر کولون جا پہنچا۔ امجد تب تک ریڈیو دوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی سے وابستہ ہو چکا تھا۔ اردو، ہندی اور بنگالی زبانوں کی نشریات کے سربراہ ڈاکٹر گوئبل گروس سے میں ایک بار گوئٹے انسٹی ٹیوٹ لاہور میں مل چکا تھا۔ باقی کارکنان سے بھی جلد ہی جان پہچان ہو گئی اور میں جزوقتی طور پر اردو سروس کے لیے کام کرنے لگا۔ چھٹیوں کے اختتام پر پاکستان لوٹتے ہوئے ڈاکٹر گوئبل گروس نے مجھے تین سالہ کل وقتی ملازمت کی پیش کش کی جسے میں نے قبول کیا اور پاکستان آ کر واپسی کی تیاری کرنے لگا۔ اگلے سال میں جرمنی کی کولون یونی ورسٹی کا بھی طالب علم تھا اور وائس آف جرمنی کی اردو نشریات کا ایڈیٹر یا پروڈیوسر بھی۔
ابتدائی مصروفیت اور سیروتفریح کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا تو لاہور کے دوست، پاک ٹی ہاؤس اور اہل خانہ یاد آنے لگے۔ ادبی کمی کو پورا کرنے کے لیے حلقہ ارباب ذوق، جرمنی کی بنیاد رکھ دی اور پاکستان سے رابطے کے لیے ایک اخبار میں جرمنی کی ہفتہ وار ادبی ثقافتی ڈائری لکھنا شروع کردی۔ امجد علی تو برسوں سے یہاں رہ رہا تھا اور جرمن زبان و ثقافت سے خوب آگاہ تھا مگر میری جرمن درسی حدود سے آگے نہ بڑھی تھی۔ ادب تو اس کا اگلا پڑاؤ تھا۔ سو، ادارے کی لائبریری، مقامی کتب خانہ اور بک سٹورز سے راہ و رسم بڑھائی اور جرمن ادب کا مطالعہ آغاز کر دیا۔
متون کو سمجھنے کے لیے اردو اور انگریزی کے الفاظ و مترادفات تلاش کیے جاتے اور لکھے جاتے۔ یوں الفاظ سے جملے اور مصرعے اور پھر چھوٹی چھوٹی جرمن نظمیں اردو میں منتقل ہونے لگیں۔ تراجم کا جو شوق گورنمنٹ کالج کی سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کے ہفتہ وار اجلاسوں میں شرکت سے آغاز ہوا تھا اب دور دیس میں دل لگانے کی ایک باقاعدہ حکمت عملی کے طور پر کام آ رہا تھا۔ ہوتا یہ تھا کہ مطالعہ کرتے ہوئے جو نظم دل کو بھاتی عادتاً اس کا ترجمہ اردو میں کرتا جاتا۔ اس طرح بہت سی نظمیں ’طالب علمانہ‘ جوش ہی میں اردو کے قالب میں ڈھل گئیں جن میں رلکے، ایرش فریڈ، رشاردآندرز، ہانس ورنرکوہن، والٹر ہیلموٹ فرٹس، فریڈرش ہیبل، ہائینس پیونٹک، یرگن تھیوبالڈی، ہانس سبولکا اور مشرقی جرمنی کے نمائندہ شاعر یوہانس بوبروفسکی جیسے اہم شعرا کی متعدد نظمیں شامل ہیں۔
انہی دنوں سابقہ مشرقی جرمنی کے ریڈیو برلن سے ایک براڈکاسٹر اور ادبی شخصیت اجول بھٹا چاریہ کولون آئے۔ انہیں بھی ادبی تراجم کا شوق تھا۔ ہم کھانے اور چائے کے وقفے میں کیفے ٹیریا میں محفل جماتے جس میں وہ جرمن نظموں کے ہندی تراجم مجھے سناتے۔ مجھے ان کے کیے ایرش فریڈ کی نظموں کے تراجم بہت اچھے لگے۔ چناں چہ میں نے بھی اس شاعر کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ جرمن زبان کے یہ اہم شاعر دراصل دوسری عالمی جنگ کے دوران ادبی منظر نامہ پر نمایاں ہوئے۔
ان کی پیدائش مئی 1921 میں ویانا، آسٹریا میں ہوئی تھی۔ لڑکپن ہی سے سیاسی نظمیں اور مضامین لکھنے لگے تھے۔ آسٹریا پر نازی جرمنی کے تسلط کے بعد ایرش فریڈ نے وہاں سے فرار ہو کر لندن میں پناہ لی جہاں وہ بی بی سی کی جرمن نشریات سے منسلک ہو گئے۔ اس دوران میں وہ شاعری بھی کرتے رہے اور مضامین اور ڈرامے بھی لکھتے رہے۔ ان کا ایک ناول بھی منظر عام پر آیا۔ ان کا اولین شعری مجموعہ 1944 میں شائع ہوا۔ 1978 میں ان کی اعزاز یافتہ کتاب ”سو نظمیں جن کا وطن نہیں“ بیک وقت سات زبانوں میں شائع ہوئی۔ 1979 میں ان کی نظموں کا مجموعہ ”محبت کی نظمیں“ منظر عام پر آیا جبکہ 1986 میں ان کے نثر پاروں کی کتاب اور یادداشتیں اشاعت پذیر ہوئیں جن کو عالمی ادبی حلقوں میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
ایرش فریڈ اشتراکی طرز فکر سے متاثر تھے۔ انہیں امن و آزادی اور انسانی بہبود کا علم بردار مزاحمتی شاعر کہا جاسکتا ہے۔ وہ نسل پرستی، تسلط اور جبریت کے عمر بھر مخالف رہے۔ جب امریکا نے ویت نام میں دراندازی کی تو ایرش فریڈ نے اس اقدام کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اسرائیل کی نسل پرست اور فاشسٹ کارروائیوں کے سبب وہ صیہونیت کے مخالف اور فلسطینیوں کے حامی رہے۔ اس موضوع پر ان کی بہت سی نظمیں ہیں۔ افسوس کہ مغرب کے ادبی ناقدین بوجوہ ان نظموں کا حوالہ نہیں دیتے اور انہیں ’سیاسی‘ اور ’متنازعہ‘ وغیرہ قرار دے کر نظر انداز کرتے آرہے ہیں۔
ایرش فریڈ نے ایک اور کمال کا کام کیا۔ انھوں نے ڈلن ٹامس، ٹی ایس ایلیٹ، گراہم گرین اور سلویا پلاتھ جیسے انگریزی زبان کے نام ور تخلیق کاروں کے تراجم جرمن زبان میں کیے جو بہت مقبول ہوئے۔ ایرش فریڈ کو زندگی میں متعدد اہم ادبی اعزازات سے نوازا گیا۔ اب آسٹریا کا قومی ادبی ایوارڈ انہی کے نام سے منسوب ہے۔
ایرش فریڈکا انتقال 22 نومبر 1988 کو جرمنی میں ہوا لیکن ان کی تدفین لندن میں ہوئی۔ اپنے پیچھے باکمال نظموں کا قابل قدر اثاثہ چھوڑ گئے جس سے اب بھی دنیا بھر میں استفادہ کیا جاتا ہے۔ ان کی نظموں کے اردو تراجم ڈاکٹر منیر الدین احمد کے علاوہ کچھ دوسرے لکھاریوں نے بھی کیے ہیں جو مترجمین کے حسن انتخاب اور معیار ذوق کے آئنہ دار ہیں۔ اس اعتبار سے میں نے ایرش فریڈ کی جن نظموں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے وہ میرے ذوق انتخاب کی نمائندگی کرتی ہیں۔ میں نے ان نظموں کا ترجمہ کرتے ہوئے جہاں اردو شعری آہنگ کو ملحوظ رکھنے کی سعی کی ہے وہاں اصل نظموں کے مزاج اور اسلوب کو بھی مد نظر رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی۔ اس میں کام یاب کتنا رہا ہوں یہ تو پڑھنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ سو، چند مختصر نظموں کے تراجم یہاں پیش کر رہا ہوں :
۔
یہ کیا ہے
۔
بے تکی بات ہے
عقل تو یہ کہے
جو یہ ہے، سو یہ ہے
یہ محبت کہے
قہر ہے
قیاس کہتا ہے یہ
درد ہے، درد ہے اور کچھ بھی نہیں
خوف کہتا ہے یہ
کوئی مایوس کن بات ہے
کہتی ہے آگہی
جو یہ ہے، سو یہ ہے
یہ محبت کہے
یہ تو کچھ مضحکہ خیز ہے
فخر کہتا ہے
پکی حماقت ہے
بولے کوئی احتیاط
غیر ممکن ہے یہ
کہتا ہے تجربہ
جو یہ ہے، سو یہ ہے
یہ محبت کہے
۔ ۔
ڈر اور شک
۔
اس پر شک نہ کرو
جو کہے
کہ وہ ڈرتا ہے
ڈرو اس سے مگر
جو کہتا ہے
کہ وہ شک ہی نہیں کرتا
۔ ۔
راکھ
۔
سو، میں راکھ ہوں
اپنے شعلوں کی
جن کی کہ لکڑی بھی
میں تھا
مجھے ٹکڑے ٹکڑے کیا جس نے
میں ہی کلہاڑی تھا گویا
تھمی تھی جو
میرے ہی ہاتھوں میں
مجھ کو جلا یا جنھوں نے
اس سے پہلے کہ میں ڈھونڈ پاتا
وہ ٹھنڈک کہیں
اپنی ہی راکھ میں۔
۔
ایک کوشش
۔
مری تو یہ کوشش تھی
میں کام کرتے ہوئے
اپنے ہی کام پر دھیان دوں
بجائے تمہارے۔
مگر (کیا کروں ) میں
مسلسل ابھارا گیا تھا مجھے
ایسی ناکامی پر ۔
۔
بازدید
۔
یہ تھکن کے پیڑ
برسوں بعد
پھر سے جھانکتے ہیں
رات کے اس آسماں کے سامنے
امید کی دیواروں کے پیچھے سے
جن کو منہدم کرنے لگے ہیں
اک بہت اونچی عمارت کے لیے
پر ان کی شاخیں
اب بھی اوپر کو لپکتی ہیں
کسی جنت کی جانب
جو رہی محروم اپنے دیوتا سے
اور ان پیڑوں کی پتوں کی
نویلی سرسراہٹ
کھڑکیوں سے اس طرح آتی ہے
جیسے موت کو نیند آ رہی ہو
چاند، لیکن اب، نکلتا ہی نہیں۔
۔ ۔
تعمیری خود انتقادی
۔
میری کمزوری تھا
میرا بالا دستی کا احساس
میں نے اس کو زیر کیا
اب کامل
بے عیب ہوں میں۔
۔ ۔
تفنن بر طرف
۔
بچے
پتھر مارتے ہیں
ان مینڈکوں کو
بس ہنسی ہنسی ہیں
مینڈک (بے چارے )
مرتے جاتے ہیں لیکن
پوری سنجیدگی سے۔
۔
پھر سے وہ
۔
وہ مجھ پر
اور میرے ساتھیوں پر وار کرتے ہیں
اسی سفاکیت سے
جو انہوں نے غالباً ہم سے ہی سیکھی تھی
سور
وہ دم کٹے بندر
ہماری نقل کیسی خوب کرتے ہیں!
ہمارے جیسا ہی انداز ہے ان کا
ہمارے جیسے سارے ڈھنگ
لیکن فرق ہے تو بس یہی
ہم ہیں درست
اور وہ غلط
بالکل غلط
۔ ۔
ایک مصروف شاعر سے کچھ سوالات
۔
کتنا وقت لگے گا
آخر کتنا وقت لگے گا تم کو
میری بات کو ہتک جاننا کب تم ترک کرو گے؟
کیا میں ابھی سے
پھر سے کچھ ایسا کہنے والا ہوں؟
میرے کہے کی کیا کوئی وقعت بھی ہے؟
کیا اب تک ناقابل فہم نہیں وہ ٹھہرا؟
یا بالکل مبہم؟
کیا میں پھر سے یونہی ٹرٹر کرتا جاؤں گا؟
” کیا میں ہمیشہ سے یونہی کہتا آیا ہوں؟“
۔ ۔
ان کا نوحہ جو پکارتے رہے
۔
” تم نے کیا کیا؟“
”بس پکارنے دیا انہیں۔“
”تو دوسروں نے کیا کیا؟“
انہوں اپنے مونہہ
ٹھونس ٹھونس بھر لیے۔
” وہ سب پکارتے تھے کیا؟“
”“ مدد، مدد ’۔ پکارتے تھے۔ ”
”کس لیے؟ کس کے لیے ’مدد، مدد‘ پکارتے تھے؟“
”غالباً مرے لیے۔“
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں۔


