شہاب نامہ عصری تاریخ کا بھرپور بیانیہ ہے
سرخیاں :
ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ادب دشمن ہے، پاکستان کو ایک حجاج بن یوسف درکار ہے
شکم پرور معاشرے میں کتاب لکھنا شہر نابینا میں آئینوں کی فروخت کا سودا ہے
اردو ادیب اپنے پیشگی ایصال ثواب کے لیے کتاب مفت کورئیر سے ترسیل کرتا ہے
باکمال فکشن نگار، سابق بیوروکریٹ، اقبال دیوان سے خصوصی مکالمہ
وسیع مطالعہ، نگر نگر کا سفر، اور کہانی کہنے کی للک۔ فکشن نگاری کی سمت آنا لگ بھگ طے تھا۔ ایک جانب جہاں عالمی ادب جم کر پڑھا، وہیں طویل عرصہ بیوروکریسی میں گزارا۔ اہم سیاسی واقعات کے گواہ بنے۔ کئی قصے ذہن پر نقش، سینے میں دفن۔ کہانیاں بننے لگے، تو واقعات کو ان کی تخلیقیت کا سہارا مل گیا۔ جس نے ان کا فکشن پڑھا، اسے قابل مطالعہ پایا۔
تجربات کے رسیا ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جہاں قرآن حفظ کرنے کا ارادہ باندھا، اسکیچنگ سیکھنے لگے، وہیں سوشل میڈیا کا بھی رخ کیا، جہاں روز مرہ کے واقعات پر ان کا تبصرہ ہمیں معاملات کا نیا رخ دیکھنے کی تحریک دیتا ہے۔
اقبال دیوان کے تین ناولز ”جسے رات لے اڑی ہوا“ ، ”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا“ اور ”کہروڑ پکا کی نیلماں“ شایع ہوچکے ہیں، جنھیں ناقدین اور قارئین، دونوں نے سراہا۔ افسانے ”پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ“ اور ”چارہ گر ہیں بے اثر“ کے زیر عنوان منظرعام پر آئے۔
گزشتہ دنوں دیوان صاحب سے ایک ڈیجیٹل مکالمہ ہوا، جو دوستوں سے بانٹا جا رہا ہے۔ آئیں، اس بات چیت میں شامل ہوجائیں۔
اقبال: بہ طور بیوروکریٹ کئی اہم سیاسی واقعات کے گواہ بنے، انھیں کتابی شکل دینے کا ارادہ ہے؟
دیوان صاحب: نہیں، اب ہماری مکمل توجہ مصوری پر ہے۔ اردو میں کتاب لکھنا اس کی اشاعت بہت مہنگا شوق ہے اور بے توقیری کا دریا تیر کے عبور کرنا ہے۔ اردو کتاب ادیب اپنی روح کے پیشگی ایصال ثواب کے لیے مفت کورئیر سے ترسیل کرتا ہے۔ آپ اپنے دس قریبی ساتھیوں سے پوچھیں، انہوں نے کتنی دفعہ ہوٹل میں کھایا اور کتنی کتابیں خریدیں؟ شکم پرور معاشرے میں کتاب لکھنا شہر نابینا میں آئینوں کی فروخت کا سودا ہے۔
اقبال: قدرت اللہ شہاب سمیت بہت سے بیوروکریٹس نے آپ بیتیاں لکھیں، آپ کو کس کی کتاب زیادہ پسند آئی، اور اس کی وجہ کیا رہی؟
دیوان صاحب: شہاب صاحب کی شہاب نامہ بہت ہی بھرپور کتاب ہے۔ کل 59 ابواب ہیں، نائنٹی اور بملا کماری کی بے چین روح کچھ غیر معمولی ہیں اور ناقدین کی زد میں آئے۔ باقی 57 پر کسی نے حرف زنی کی ہمت نہیں دکھائی۔ کتاب شہاب کی وفات کے بعد شائع ہوئی، اس کی شہرت اور روحانی مباحث کا کوئی لابھ ان تک نہ پہنچا، وہ بہت ایمان دار اور قابل افسر تھے۔
سوچیں، اس زمانے کے طاقت ور ترین آئی سی ایس افسر، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر جنرل آف پاکستان، باتھ آئی لینڈ کے سرکاری فلیٹ [موجودہ پی آئی ڈی سی فلیٹس] سے گورنر جنرل ہاؤس [موجودہ گورنر ہاؤس] وہ سائیکل یا موٹر رکشا، جسے اسے زمانے میں آواز کی مناسبت سے پھٹ پھٹی کہتے تھے، آتے جاتے تھے۔ نائنٹی والا باب کیفیت کا باب ہے۔ ذکر نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ ممکن ہے کہیں سے اشارہ ہوا ہو۔ راہ سلوک میں کچھ حوالے ملامت کے ہوتے ہیں۔
بملا کماری کی بے چین روح بھارتی ریاست اوڑیسہ کے دارالحکومت کٹک میں ان کی پہلی پوسٹنگ کے حوالے سے اس سرکاری رہائش گاہ کے تجربات ہیں۔ ہم اسے شدید محسوسات کی دنیا سمجھتے ہیں، سن 1944 کا اوڑیسہ جہاں وہ بہ طور اسسٹنٹ کمشنر پوسٹ ہوئے، وہ بہت انوکھا علاقہ ہے، ممکن ہے بہت سے دیو مالائی واقعات سننے کو ملے ہوں، اب اگر اس زمانے میں کوئی بومبریٹ چترال میں پوسٹ ہوتا اور ایسی کچھ داستان بیان کرتا، جہاں کیلاش لوگوں کے قصوں کا اثر غالب ہوتا، تو اسے ”پاسنگ فینسی“ کہہ کر نظرانداز کرنے میں مضائقہ نہیں۔ اس سے بٹ کر یہ عصری تاریخ کا فرسٹ ہینڈ اکاؤنٹ ہے، اور بھرپور بیانیہ ہے۔
اقبال: بیوروکریسی کا وسیع تجربہ فکشن نگاری میں کتنا کار آمد ثابت ہوا؟
دیوان صاحب: بہت زیادہ۔ اس نے اعتماد دیا۔ اردو ادب کا مطالعہ بھی بہت رہا۔ یونی ورسٹی تک ہم نے تقریباً ہر زندہ مردہ ادیب کو سن 1972 میں پڑھ لیا تھا۔ حیدرآباد میں ہمیں دنیا بھر میں کتابوں کی سب سے خوب صورت دکان ملی، جس کا نام بھی انوکھا تھا یعنی: ادبیات، جو ایک سندھی فیملی کی دکان تھی، وہاں ہم ساتویں جماعت سے کاروبار سیکھنے کے لیے ملازم تھے۔ انگریزی اردو کی ہر کتاب، ہر رسالہ وہاں آتا تھا۔ اسٹیشنری بھی بہت عمدہ ہوتی تھی، سو ہم نے خوب سیکھا۔
خوب پڑھا۔ بیوروکریسی میں ہم نے طاقت کی بجائے سیاحت کے مواقع فراہم کرنے والی پوسٹنگ کو ترجیح دی۔ ساٹھ ممالک دیکھے۔ پہلی سیر وہاں کتابوں کی دکان دیکھنے کی ہوتی۔ لندن میں فوائلز فار بکس بڑی تو بہت تھی، پر خوب صورت نہ تھی۔ پولینڈ کے شہر گڈانسک کی دکان چھوٹی اور حسین تھی، مگر وہ صرف اسٹیشنری شاپ تھی، ادبیات پر سندھ کی اشرافیہ اور انٹیلی جینشیا روزانہ کی بنیاد پر آتی تھی، جی ایم سید، شیخ ایاز، خادم حسین تنویر عباسی، طارق اشرف، نسیم کھرل سب سے ملے۔
اقبال: مصوری کی جانب آنے کا خیال کیسے آیا، اور یہ تجربہ کیسا رہا؟
دیوان صاحب: ریٹائرمنٹ کے بعد وقت تھا۔ جمالیات سے لگاؤ گہرا تھا۔ امریکا جہاں ہم ایک بین الاقوامی اسکالرشپ جیتے تھے، وہاں ایک اختیاری مضمون فگر ڈرائنگ میں ہماری پڑوسن دوست کرس لے گئی، جو وہاں طالب علمی کا خرچہ پورا کرنے کے لیے نیوڈ ماڈلنگ کرتی تھی۔ سو مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں۔
اقبال: پاکستان کا مستقبل کیا دکھائی دے رہا ہے؟ کیا ہم ڈیفالٹ ہونے والے ہیں؟
دیوان صاحب: قیام سے اب تک کے زوال کا سفر آپ کے سامنے ہے، سن ستر تک کوٹری کے پاس دریائے سندھ میں اسٹیمر چلتے تھے، پلا مچھلی ڈیڑھ روپے میں ملتی تھی، اب ایسا نہیں، پاکستان کے اداروں میں اندر خلفشار برپا ہے، کوئی مرکزی اتھارٹی نہیں، جس کا حکم فائنل ہو، جو ہر مسئلے پر مٹی پا و کی بجائے امریکی صدر ٹرومین کی طرح علانیہ کہہ سکے : ”دی بک اسٹاپ ہیئر۔“
The Buck Stops Here
اسٹاک ایکسچینج کا جو حجم سن 2018 میں فرض کر لیں، سو روپے تھا، وہ ڈالر کی وجہ سے پچیس روپے رہ گیا ہے، انصاف صحت، تعلیم اور احساس تحفظ، تینوں عام پاکستانی کے لیے ناقابل حصول ہوچکے ہیں، پاکستان کو ایک حجاج بن یوسف درکار ہے۔
اقبال: بلاول، مریم، عمران خان، اگلا وزیر اعظم کون ہو گا اور اسے آپ کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
دیوان صاحب: تینوں میں سے کسی کے فی الحال امکانات روشن نہیں۔ سرکار چلانے کا تینوں کو کوئی تجربہ نہیں۔ تینوں نے کبھی سرکاری اسپتال تھانا، مجسٹریٹ، سرکاری اسکول اور غریب کا گھر اندر سے نہیں دیکھا۔ نہرو کہا کرتے تھے کہ غریبی ہٹانی ہے، تو غریبی اپناؤ۔
اقبال: مصنف کو اپنی ہر کتاب عزیز ہوتی ہے، مگر پھر بھی اپنی کوئی ایک کتاب، جو دل کے زیادہ قریب ہو، خود کو دریافت کرنے کا وسیلہ بنی ہو؟
دیوان صاحب: پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“ کا لکھنا بہت بڑا تجربہ تھا۔ شام میں ان کی ایک افسر کندہ حلب [الیپو ] ہماری کورس میٹ تھی، جس نے ترغیب دی کہ ہم اس کی داستان لکھیں، سو بات چل نکلی۔
اقبال: کیا ہماری موجودہ شاعری فیض اور جالب پیدا کر سکتی ہے؟
دیوان صاحب: ہرگز نہیں۔
اقبال: عالمی اور اردو ادب سے پسندیدہ فکشن نگار کون ہے؟ شاعر کون سا اچھا لگا؟
دیوان صاحب: سمرسٹ ماہم، ایڈنا او برائن، موراکامی، مارکیز اور ڈورس لیسنگ اردو میں منٹو، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ، آغا بابر، واجدہ تبسم، مسعود مفتی، غلام عباس۔ شاعر؛ غالب، فیض، مصطفے زیدی۔
اقبال: اگر صاحب مسند ہوں، تو ملک کی بہتری کے لیے پہلا قدم کیا اٹھائیں گے؟
دیوان صاحب: امریکی آئین کی چار شقوں پر فوری عمل: پچاس لاکھ کی آبادی کے چالیس صوبے، سینیٹ براہ راست ووٹ سے، امریکی طرز صدارتی نظام، ہر بڑا منصوبہ اور انتظامیہ، عدلیہ، فوج کے اہم عہدوں تقرری متعلقہ سینیٹ کمیٹی کی ”ٹیلی وائسڈ کلئیرنس“ یعنی توثیق کے بعد ۔ اس کے علاوہ عدلیہ میں بھرتی مقابلے کے امتحان کے ذریعے۔ وکیل کے جج بننے پر پابندی اور تیس فیصد تقرریاں انتظامی افسروں میں سے۔ سپریم کورٹ میں پبلک انٹرسٹ کا کیس براہ راست ٹیلی ویژن پر۔
انتظامی میجسٹریسی کی بحالی، وزیر اعظم کے روزانہ شیڈول کہ وہ کتنی دیر کس سے مل رہا، اس کی اشاعت۔ اس لیے کہ وزیر اعظم کا وقت عوام کی امانت ہے۔ گریڈ بیس سے اوپر کے افسر کے اثاثوں کی اشاعت اور سرکاری ملازم کے ریٹائر ہونے کے پانچ سال بعد تک باہر سکونت پر پابندی۔ اسی طرح عدلیہ کے جج اپنے فیصلوں میں مکمل با اختیار، مگر انتظامی مؔعاملات اور مراعات کے حساب سے سرکاری ملازم تصور ہوں گے۔
اقبال: کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ہماری ریاست کا ڈھانچہ ادب دشمن ہے، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
دیوان صاحب: دیوان صاحب: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ایک طرح سے یوں بھی ادب دشمن ہے کہ ادب میں عوامی احساسات و مسائل کا تکلیف دہ اور شعور بیدار کرنے والا عکس دکھائی دیتا ہے۔




