طارق عزیز: ایک کثیر الجہت شخصیت (آخری قسط)


طارق عزیز سامعین کی فرمائش پر اپنا کلام سنا رہے تھے جبکہ بانو قدسیہ، اشفاق احمد، قافلہ کے مستقل میزبان سید فخرالدین بلے، منیر نیازی، صدیقہ بیگم، خالد احمد، اجمل نیازی، اختر حسین جعفری، اعزاز احمد آذر، سرفراز سید، اسلم کولسری، ابصار عبدالعلی اور دیگر تمام تر شرکائے قافلہ پڑاؤ بہت انہماک سے طارق عزیز کا کلام سماعت فرما رہے تھے۔ اپنی دو غزلیں اور ایک نظم سنانے کے بعد طارق عزیز نے کہا مجھے فی الحال تو اپنا یہی کلام یاد آیا تو میں نے پیش کر دیا۔ یہ سن کر اسلم کولسری نے اپنے مخصوص انداز میں ایک اشارہ سا دیا تو طارق عزیز نے کہا ہاں، ہاں، وہ تو یاد ہے میاں سناتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنا یہ کلام سنایا۔

طارق عزیز کی پنجابی شاعری سے انتخاب
….
رب کریم
ایسے اسم سکھا دے سانوں
ہرے بھرے ہو جائیے
گہرے علم عطا کر سانوں
بہت کھرے ہو جائیے
….
رب ارنی
اج دی رات میں کلا واں
کوئی نہیں میرے کول
اج دی رات تے میریا ربا
نیڑے ہو کے بول
….
سچا شرک
دور پرے اسمان تے
رب سچے دا ناں
ہیٹھاں ایس جہان وچ
بس اک ماں ای ماں
….
بلوچا وے۔
جے کوئی میرے جیہا ملے تاں
اوس نال پیار ودھاویں ناں
اوس دے درد ونڈھاویں ناں
اوس نوں انج تڑفاویں ناں
اول میرے جیہے کسے نال
پیار دی پینگ ودھاندے نہیں
جے تقدیریں اکھ لڑ جاوے
فیر او اکھ چروندے نہیں
ساری حیاتی اوس بندے نوں
اپنے دلوں بھلاؤندے نئی

مرن والے دا زندہ شعور
میرے لئی تے زہر سی
پھلاں دی خوشبو
میرے لئی نہ دوستا
ایڈا اچا رو
…..

طارق عزیز نے اپنا یہ کلام سنا کر کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ مجھے اپنے سے زیادہ دوسرے شعراء کلام یاد رہتا ہے اور یہ کہہ کر طارق عزیز نے دیوار پر آویزاں آنس معین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اب آپ کی خدمت میں آنس معین کا کلام سناتا ہوں۔ سب سے پہلے طارق عزیز نے آنس معین کی جو غزل سنائی اس کا ایک شعر نذر قارئین ہے

شامل پس پردہ بھی ہیں اس کھیل میں کچھ لوگ
بولے گا کوئی، ہونٹ ہلائے گا، کوئی اور

یہ غزل سنانے کے بعد آنس معین کی ایک کرب سے لبریز نظم دانشور کہلانے والو، سنانی شروع کی تو بانو قدسیہ اور صدیقہ بیگم کی آنکھیں نمناک ہو گئیں اور انہوں نے سر سے سرکتے ہوئے آنچل کو سنبھالا اور اپنی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے اشفاق احمد صاحب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خاں صاحب نے آنس معین کی شاعری کا جو ناقدانہ تجزیہ فرمایا مجھے تو وہ پڑھ کر بھی رونا آ گیا تھا۔ پھر طارق عزیز نے بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے بے شمار شعراء کو پڑھا بھی ہے اور سنا بھی ہے لیکن آنس معین جیسا جواں سال، کرب آشنا اور یکسر منفرد انداز کا چونکا دینے شاعر میں نے نہ دیکھا نہ پڑھا۔

آنس معین اور شکیب جلالی جیسے رجحان ساز شعراء بے شک لاثانی اور لافانی ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کرنے کے بعد طارق عزیز نے آنس معین کی شاہکار نظم عدم سے آگے، سنائی۔ یہ نظم جیسے ہی ختم ہوئی تو خود طارق عزیز نے بھی اور دیگر شعرائے قافلہ پڑاؤ نے آنس معین کی شاعری کے حوالے سے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا

اور پھر طارق عزیز نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے آنس معین کا یہ شعر سنایا

بہت سی باتیں ابھی وضاحت طلب ہیں لیکن
مری کہانی کا حسن ہی اختصار میں ہے

صدیقہ بیگم خاموشی اور افسردگی سے تمام تر گفتگو سنتی رہیں تو طارق عزیز نے صدیقہ بیگم کو مخاطب کر کے مظفر وارثی کا یہ شعر پڑھا

تم بھی تو مظفرؔ کی کسی بات پہ بولو
شاعر کا ہی لفظوں پہ اجارا نہیں ہوتا

جب قافلہ کا پڑاؤ اختتام پذیر ہونے کو تھا تو اشفاق احمد صاحب نے طارق عزیز کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے جو فرمایا اور جو سنایا ہم نے پوری توجہ سے سنا لیکن کوئی فرمائش نہیں کی، اس پر طارق عزیز نے کہا کہ سرکار آپ حکم فرمائیں، آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ اشفاق احمد خاں صاحب نے کہا کہ حکم چلانے کی ہماری مجال کہاں، حکم چلانے کے لیے تو محترم سید فخرالدین بلے صاحب نے ظفر معین بلے کو رکھا ہوا ہے کہ جو مجھے تو مجھے، بانو کو بھی ایسے حکم دیتے ہیں کہ میں خود حیران رہ جاتا ہوں، میں ہی کیا اس محفل میں موجود کون ہے کہ جس پر ظفر معین بلے کا حکم نہیں چلتا، یا جو ظفر معین بلے کے احکامات سے محفوظ رہا ہو، بہرحال ہم تو گزارش ہی کر سکتے ہیں کہ گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے، سنا دیجے۔ طارق عزیز نے اپنا جو کلام سنایا، وہ شاہکار آپ بھی ملاحظہ فرمائیے

گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے
گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے
ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
میں سوچناں واں چونہوں دناں لئی
ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
جے حرف اوکھے میں پڑھ نہیں سکدا
تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے
نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
تے حکم عالی جناب کیہ اے

نوٹ: طارق عزیز، ایک کثیر الجہت شخصیت کی آخری قسط میں شامل تینوں مصورانہ شاہکار پروفیسر آکاش مغل صاحب کے تخلیق کردہ ہیں۔

Facebook Comments HS