منش میں کیسے مٹی مہکے


بالا آخر دھرتی ہم سے چھوٹ گئی یہ الفاظ رانا رتن سنگھ کے پوتے نے سندھ چھوڑتے وقت کہے تھے۔ رانا رتن سنگھ جس کو انگریز نے امر کوٹ کے قلعے کے میں سولی چڑھایا تھا اور اسے ائر پورٹ پے الوداع کہنے کے لیے اکیلا سورہیہ بادشاہ کا بیٹا ہی تھا! سورہیہ بادشاہ جس کی لاش انگریزوں نے گم کردی تھی۔ اسی طرح تھرپارکر کے ارجن سنگھ ٹھاکر نے، جو اپنے پورے گاؤں سمیت ہجرت کر رہا تھا، گھوڑے کے رکاب میں پاؤں ڈال کر پیچھے مڑ کے دیکھا تو یہ کہا کہ کر واپس بیٹھ گیا کہ ”ڏاڏی ری گوئاڙی رڙی ڪو ڇڏان“ یعنی اپنے دادا کا وطن سونا نہیں چھوڑ سکتا!

ایسے بہت سے کردار بعد میں وطن سے وفا کے جرم میں افسوس ناک مصیبتوں سے گزرے اور گزر رہے ہیں جب کہ ان کی حب الوطنی پر کوئی داغ نہیں تھا! بس یہ تھا کہ ان کے پاؤں دھرتی کے اندر گڑے ہوئے تھے اور ان کے لیے دھرتی ہی دھرم تھی۔ یہ اور بات ہے کہ پھر وہی دھرتی ان کی رکھشا نہیں کر سکی اور وہ آج بھی اس وطن میں اضافی فرد کی طرح جی رہے ہیں۔ ننگر پارکر سندھ کے پورن واء جاگیر کا جاگیردار کیسو باء سوڈھا بھی تھرپارکر کا ایسا ہی کردار تھا جو اس زمانے میں وطن سے لپٹ کے بیٹھ گیا جب لوگ ہجرت پر مجبور ہو گئے تھے۔

اس کی بیوی اور اکلوتی بیٹی ہجرت کر کے گجرات ہندستان چلی گئیں۔ وہاں سے اس کے سسرالی رشتہ داروں نے اس زمانے کے بدنام ڈاکو بلونت سنگھ کو کیسو باء کو اٹھا کر ہندستان لانے کے لیے بھیجا۔ بلونت سنگھ نے اسے سمجھا بجھا کے لے جانے کی کوشش کی تو کیسو باء نے بلونت سنگھ کو بولا کہ ”اگر مجھے یہاں سے لے چلنا ہے تو اس کاونجھر پہاڑ کو اس دھرتی سے اکھاڑ کے ساتھ لے چلو“ اس کے اس جواب اور انکار پہ بلونت سنگھ دھونی دکھانے لگا تو کیسو باء لاٹھی اٹھا کے اس کی جانب لپکا اور دہاڑ کے بولا ”بلیا! تو مونے ٻیھاڙی“ یعنی اوئے بلیا تو مجھے ڈراتا ہے۔ بلونت سنگھ یہ رد عمل دیکھ کے چپ چاپ واپس ہندستان چلا گیا۔ یہ دکھ اس وقت اور بڑھ گیا کہ جب اپنے والد کی جدائی اور طعنوں کے سبب اس کی اکلوتی بیٹی نے ادھر ہندستان میں خودکشی کر لی۔ اس اپنی اکلوتی بیٹی کی خودکشی کا سنتے ہی کیسو باء کے منہ بٹوارے کے تمام دکھ کو بیان کرتا ہوا یہ درد ناک جملہ ادا ہوا ”پتہ نہیں ہم کون سے کرموں کی سزا بھگت رہے ہیں، نہ جینے والوں کے براتی نہ مرنے والوں کے کاندھی۔“

اس دھرتی کی پہچان کیسو باء سوڈھا کی موت کے بعد اس کے بیٹے کو اپنی پہچان کے لیے شناختی کارڈ بنوانا پڑا اور وطن سے وفا کی ریت نبھانے کے لیے مسلمان بھی ہونا پڑا۔ جب بابو شیخ ولد کیسو باء کے نام والا شناختی کارڈ رکھنے والے اس دھرتی جائے، کہ جس کے باپ نے اپنا سب کچھ دھرتی پہ وار دیا تھا، کی موت واقع ہوئی تو اس کی خبر میڈیا میں گور پٹ جانور کی موجودگی جتنی بھی جگہ نہ بنا سکی۔ کیسو باء کے بعد اس کی زمینوں پر قبضے ہوئے اور بابو شیخ کو راجپوتوں کے قبیلے میں بھی ٹھاکر کی پہچان کے بجائے اس کی اچھوت کولھی ماں کے بیٹے کی پہچان ہی ملتی رہی۔ کیسوبا اور بابو شیخ نے ہزاروں نا انصافیوں کے باوجود نہ کبھی کوئی پریس کانفرنس کی اور نہ ہی ارب پتی سیٹھوں کی طرح وطن میں بے وطن ہونے کی شکایت کی۔ بابو شیخ نے تو کبھی مذہب کو بھی مسئلہ نہیں بنایا۔ جب وہ ٹھاکر راجپوتوں میں اچھوت ماں کا بیٹا بن کر اور پارکر میں کیسو باء کا بیٹا بن کر نہ جی سکا تو مسلمان ہو گیا۔ بابو شیخ نے جس گھڑی آنکھیں موندھیں اس گھڑی کارونجھر کے دامن میں ایک سماجی تنظیم کی ”پروقار“ تقریب میں شریک سندھ کے شعور مند اس غم سے بے خبر شریک تھے کہ ایک وطن دوست ہیرو کا ”وطن دوست بیٹا“ یہ دنیا چھوڑ گیا ہے۔

کیسو باء کے کیہ قصے آج بھی پارکر میں زبان زد عام ہیں۔ کیسوبا کا ذکر ہمیشہ اس کی وجاہت اور وقار سے شروع ہو کر اس کی حب الوطنی اور بہادری پر ختم ہوتا ہے۔ آج بھی پارکر کے کسی گاوٴں میں کسی کی امد پر انتظامات ہوتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سے یہ آواز ضرور سننے میں آتی ہے کہ ”کون سا کیسوبا سوڈھا آ رہا ہے کہ اتنے انتظامات کر رہے ہو“ کیسو باء سوڈھا اور بابو شیخ اپنا نہ گزارنے جیسا وقت بھی اس احساس کی پناہ میں گزار گئے کہ ہمارے ہجرت کر جانے سے یہ وطن سونا اور تنہا ہو جائے گا۔ ان کا مشکل حالات میں بغیر کسی دہائی کے وطن کے ساتھ جڑے رہنے کا احسان یہ دیس صدیوں تک نہیں بھول پائے گا۔

ساتھ اگر میں چلوں گا تیرے
میرا دیس اکیلا ہو گا
تیرے پاس ”کھتی کا کھیس“ نہیں ہے
ٹونئر ”ٹکوں“ کا بھیس نہیں ہے
اور ہاں
تیرے پاس تو دیس نہیں ہے
منش میں کیسے مٹی مہکے
تو کیا سمجھے
تو کیا جانے۔

Facebook Comments HS