قاضی میدی

یہ مئی 1989 کے آخری ہفتے کا کوئی دن تھا، سخت گرمی پڑ رہی تھی، زمین تانبے کی طرح تپ رہی تھی، آسمان آگ برسا رہا تھا، لگتا تھا سورج سوا نیزے پہ ہے، اسماعیل میرٹھی کے بقول چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ میں بیوی بچوں کے ساتھ اسلام آباد سے گوجرانوالہ گیا ہوا تھا۔ تیسرے پہر گرمی کی شدت بڑھ گئی تو میں بیٹے اور بیٹی کو اردو بازار کے نیائیں چوک میں ہدایت اللہ کا مشہور فالودہ قلفہ کھلانے لے گیا۔ ہم ابھی دکان میں ایک میز پہ بیٹھے فالودے کے پیالوں کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک کونے سے آواز آئی: ”میرے فلودے وچ قلفے دے نال آئس کریم وی پاویں“۔ میں چونکا، میرے کانوں کو آواز جانی پہچانی لگی۔ پلٹ کے دیکھا تو ایک بزرگ پہ نگاہ پڑی، سفید داڑھی، سفید مونچھیں، سفید بھوئیں، سفید شلوار قمیص، سر پہ کالی جناح کیپ، چہرے پہ ہلکی سی جھریاں، دور سے لگے جیسے لو کا مارا دسہری آم۔ اس بزرگ کی آواز کان میں گونج رہی تھی، لیکن شکل صورت آواز سے میل نہ کھاتی تھی۔ ذہن میں جھماکا سا ہوا اور ایک لحظے میں چہرہ پہچان میں آ گیا۔
میں اپنی میز سے اٹھا، بزرگ کے قریب جا کے سلام کیا۔ اس نے اجنبیت سے میری طرف دیکھتے ہوئے وعلیکم السلام کہا۔ اس کی نگاہوں میں سوال تھا کہ تم کون؟ میں نے بڑی رسان سے پوچھا: ”آپ قاضی حمیداللہ صاحب ہیں؟“۔ ”ج، جی”! بزرگ نے تقریباً ہکلاتے ہوئے کہا۔ میں نے پوچھا:“ قاضی ہدایت اللہ صاحب کے بیٹے ہیں؟ ”۔ بزرگ کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی،“ جی ”کہتے ہوئے وہ مجھے ٹٹولتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگے۔ میرا اگلا سوال تھا:“ آپ نے حافظ نظام الدین صاحب سے قرآن پاک حفظ کیا تھا؟ ”۔ بزرگ کی آنکھوں میں تحیر کے ڈورے تیرنے لگے، چہرے پہ پریشانی کے آثار گہرے ہو گئے، لڑکھڑاتے لہجے میں بولے: “آپ کون؟”۔ میں نے ان کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا:“ عطا محمد سکول میں پڑھتے رہے ہیں؟”۔ بزرگ نے اثبات میں سر ہلایا اور سوچ میں پڑ گئے۔ لیکن سوچ کا یہ مرحلہ چند سیکنڈ کا تھا، وہ اپنی نشست سے اچھل کے کھڑے ہوئے اور چیخ کے بولے: “شکور، توں؟”
عطا محمد اسلامیہ سکول سے، 1961 میں، میٹرک کرنے کے بعد ، قاضی حمیداللہ سے میری یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس کے یہ 28 برس کہاں گزرے، مجھے کوئی خبر نہ تھی۔ فالودہ قلفہ کھاتے ہوئے ہم ان 28 گم گشتہ برسوں کا حال احوال ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ ہم جماعت طلبہ کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھا کہ کون کہاں ہے؟ کلاس کا مانیٹر اسلم کھوکھر، پڑھاکو لڑکے عبدالمجید شیخ، احمد صادق لون، کامران مطہر، لطیف شیخ، شفقت جاوید، خالد سلیم، اکرام گابا، گلزار بٹ، بی سیکشن کا مانیٹر مشتاق شیخ اور کئی دوسرے، زندگی کی کن راہوں میں گم ہو گئے؟ بعض کا مجھے پتا تھا، اور بعض کا اسے۔ کچھ اساتذہ کا بھی ذکر آیا کہ کون زندہ ہے، اور کون اللہ کو پیارا ہوا۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر ملک عبداللہ، سیکنڈ ہیڈ ماسٹر شیخ محمد حسین، حافظ حاجی احمد، صوفی تاج دین، قاضی منور، محمد حسین مجروح، قاضی محمد فاضل، عربی کے استاد محمد بشیر، ڈرائنگ ماسٹر قدرت اللہ، اور چھٹی جماعت کے انگریزی کے ٹیچر قاضی عبدالحمید، جنہیں بدتمیز طلبہ قاضی چڑا کہتے تھے۔
میں نے اسے اپنے تعلیمی سفر کی مختصر روئیداد سناتے ہوئے بتایا کہ ایم اے صحافت کرنے کے بعد میں پاکستان ٹیلیویژن میں آ گیا تھا اور ان دنوں اسلام آباد مرکز پہ کنٹرولر نیوز ہوں، تو اس کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے لہرانے لگے۔ سوچتا ہو گا کہ سکول میں کسی دینی مدرسے کے طالب علم جیسا حلیہ رکھنے والا لڑکا ٹیلیویژن میں؟ انہونی سی بات لگی ہو گی اسے۔ کرید کرید کے ٹیلیویژن کے بارے میں سوال کرتا رہا۔ اپنے بارے میں اس نے بتایا کہ وہ بھی زیادہ وقت اسلام آباد میں گزارتا ہے، اور قومی اسمبلی میں قاری ہے۔ اب حیران ہونے کی باری میری تھی۔ پارلیمنٹ میں میرا آنا جانا رہتا تھا اور میں نے کبھی اسے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاس میں تلاوت کرتے دیکھا تھا، نہ سنا۔ میری حیرت بھانپتے ہوئے اس نے جیب سے اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کے مجھے دیا جس پہ کندہ تھا: ”پیر قاضی حمیداللہ مدنی، قاری نیشنل اسمبلی“۔ یہ ”مدنی“ کب سے ہوئے تم؟ مدینہ یونیورسٹی پڑھنے گئے تھے کیا؟ ”بس، ایسے ہی ہے، اب مجھے مدنی کہتے ہیں“۔ اور یہ پیر کب بنے؟ ”بہت عرصہ ہوا، میرے بہت سے مرید ہیں اب“۔ یا للعجب! یہ بیٹھے بٹھائے مدنی بھی ہو گیا، اور پیر بھی۔
میں ابھی مدنی اور پیر والی گتھی سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ قاضی بولا: ”وزیراعظم بے نظیر سے کوئی کام ہے تو بتاؤ، زرداری بڑا مرید ہے میرا“۔ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بارے میں اس کے لہجے کی بے تکلفی متاثر کن تھی۔ میں نے بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ نہیں، مجھے ان سے کوئی کام نہیں۔ قاضی بھلا کب پسپا ہونے والا تھا، پینترا بدل کے بولا: ”پنجاب کا وزیر اعلٰی نواز شریف بھی اپنا عقیدت مند ہے، اس سے کوئی کام ہے تو کہو“۔ مجھے سمجھ تو آ گئی کہ جعلی عکس ڈال رہا ہے، لیکن میں چپکا ہو رہا۔ آدھ، پون گھنٹے کی نشست کے بعد ہم ایک دوسرے سے یہ کہہ کے جدا ہوئے کہ اب، انشاء اللہ، اسلام آباد میں ملاقات ہو گی۔
واپس گھر جاتے ہوئے 1956 سے 1961 تک عطا محمد سکول میں بیتے ہوئے پانچ برسوں کے مختلف واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے، فلمی مونتاژ کی طرح، تیزی کے ساتھ گزرنے لگے۔
مجھے یاد آیا کہ قاضی کے ساتھ میری پہلی ملاقات بھی قلفے پر ہوئی تھی۔ یہ عطا محمد سکول میں داخل ہونے سے کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے۔ میری تایا زاد بہن کا بیٹا، اقبال، مجھ سے آٹھ دس مہینے بڑا تھا، لیکن قد کاٹھ، ڈیل ڈول سے ہم دونوں ہم عمر ہی لگتے تھے۔ اقبال، پرانی سبزی منڈی کے پاس حافظ نظام الدین صاحب کے مکتب میں قرآن حفظ کرنے کے بعد دہرائی کر رہا تھا، اور میں پرائمری سکول میں پانچویں جماعت میں تھا۔ ایک دن دوپہر کے وقت ہم دونوں اردو بازار میں گھومتے گھامتے اس پنج راہے پہ جا نکلے جہاں سے حافظ آباد روڈ گزرتی ہے، اور ایک سڑک نوشہرہ ورکاں کو اور دوسری تنگ سی سڑک قدیمی قبرستان کی طرف جاتی ہے جس پر شروع میں محبوب عالم سکول اور اس کے بعد عطا محمد سکول واقع ہیں۔ ان دونوں سڑکوں کے سنگم پہ ایک ریڑھی کے گرد آٹھ دس لوگ کھڑے پیالوں سے کچھ کھا رہے تھے۔ اقبال نے دور سے ہی آنکھیں سکیڑ کے دیکھا اور بولا: ”اوہ میدی کھلوتا اے، ایہہ مسیتوں نسیا ہویا اے اج“۔ یہ کہہ کے اقبال تیزی سے لپکا اور جا کے میدی کو بازو سے پکڑ لیا۔ میدی کرائے پہ لئے ہوئے چھوٹے سائیکل کو اپنی ایک ٹانگ سے سہارا دیے پیالے سے قلفہ کھا رہا تھا۔ اقبال نے اس کے پہنچے پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا: ”بچو! اج فیر نسیاں ایں، ہن تے تینوں لے کے جاواں گا“۔ میدی نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا جیسے وہ منکر نکیر کے شکنجے میں آ گیا ہو، اور جائے رفتن، نہ پائے ماندن والا معاملہ ہو۔ لیکن اس کے حواس ماؤف نہیں ہوئے۔ اس نے پیالہ ریڑھی پہ رکھا، جیب میں ہاتھ ڈالا، اٹھنی نکال کے ریڑھی پہ پھینکی، بولا: ”ایہناں نوں وی قلفہ کھوا“۔ یہ کہتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا، اور سائیکل پہ سوار ہو کے ہوا ہو گیا۔ اقبال نے سٹپٹا کے میری طرف دیکھا اور پھر ہم دونوں نے قلفے کے پیالے اٹھا لیے۔
اس واقعے سے چند ہفتے بعد میں اور قاضی میدی دونوں، ”مقابلے کا امتحان“ پاس کر کے عطا محمد سکول میں چھٹی جماعت میں داخل ہو گئے۔ ”مقابلے کے اس امتحان“ کا پس منظر یہ تھا کہ 1950 کے عشرے کے اوائل میں انجمن اسلامیہ، گوجرانوالہ کے اکابر نے محسوس کیا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے ایک خصوصی سکول قائم کیا جائے جس میں ذہین ترین بچوں کو داخلہ ملے اور وہ قابل ترین اساتذہ کی نگرانی میں تعلیم حاصل کریں۔ چنانچہ ہر سال موسم بہار میں داخلے کا خصوصی امتحان منعقد ہوتا جس میں ضلع گوجرانوالہ اور نواحی علاقوں کے پرائمری سکولوں سے پانچویں جماعت پاس کرنے والے دو، ڈھائی ہزار بچے شریک ہوتے۔ ان میں سے تقریباً سو بچے منتخب ہوتے جنہیں اس نئے سکول میں داخلہ ملتا۔ ایسے سکول کے قیام کے کے لئے جن شخصیات نے بھرپور کوششیں کیں ان میں گوجرانوالہ کے معروف سیاسی اور سماجی رہنما بابو عطا محمد سر فہرست تھے۔ چنانچہ سکول انہی کے نام پہ قائم ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی اس سکول کے نام وقف کر دی تھی، اور ان کی قبر بھی اسی سکول کے احاطے میں ہے۔
بابو عطا محمد، جسٹس شیخ دین محمد کے بھائی تھے جو 1947 میں ہندوستان کے بٹوارے کے لئے قائم ہونے والے ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن کے مسلمان ممبر تھے، اور بعد میں صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔ ہائی کورٹ کا جج بننے سے پہلے شیخ دین محمد پنجاب اسمبلی کے ممبر بھی رہے تھے۔ انہوں نے جج بننے کے لئے اسمبلی رکنیت سے استعفٰی دیا، تو بابو عطا محمد نے بھائی کی نشست پر ضمنی انتخاب لڑا لیکن ناکام رہے، اور یہ نشست مجلس احرار کے مولانا مظہر علی اظہر نے جیت لی۔
ہمارے لڑکپن میں تعلیمی کارکردگی کے لحاظ سے عطا محمد سکول کا شمار پنجاب کے تین بہترین سکولوں میں ہوتا تھا، اور میٹرک کے نتائج کے حوالے سے یہ سکول کیڈٹ کالج حسن ابدال اور لاہور کے سنٹرل ماڈل سکول کا ہم پلہ سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں میٹرک کے امتحان میں، کم و بیش ہر سال، ان تینوں سکولوں کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب سو فیصد یا ننانوے فیصد ہوتا تھا۔ جس سکول کا نتیجہ سب سے اچھا ہوتا، اسے تعلیمی بورڈ کی جانب سے خطیر رقم انعام کے طور پہ ملتی۔ جب انعام، گھوم پھر کے، انہی تین سکولوں میں بٹنے لگا، تو فیصلہ کیا گیا کہ تین بار انعام لینے والا سکول مقابلے سے باہر ہو جائے گا۔
تعلیمی لحاظ سے عطا محمد سکول کی شہرت اتنی اچھی تھی کہ جس بچے کو اس سکول میں داخلہ مل جاتا، اس کے والدین مطمئن ہو جاتے کہ بچہ اچھے نمبروں سے میٹرک کر ہی لے گا، اور جس بچے کو اس سکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا، وہ پژمردگی اور ایک طرح سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتا۔ مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ 1988 میں 29 مئی کو صدر جنرل ضیاءالحق نے محمد خاں جونیجو کی حکومت برطرف کر کے قومی اسمبلی تحلیل کی تو میں بیجنگ میں تھا۔ دراصل، جنرل ضیاءالحق 30 مئی سے چین کا سرکاری دورہ کرنے والے تھے، اور میں اس دورے کی کوریج کے لئے بیجنگ گیا ہوا تھا۔ اس دن میں نے چین کے صدر یانگ شانگ کھن (Yang Shangkun) کا تفصیلی انٹرویو کیا اور صدر پاکستان کے دورے کا کرٹن ریزر (curtain raiser) تیار کیا۔ انٹرویو کا کچھ حصہ اور کرٹن ریزر اس دن پاکستان ٹیلیویژن کے پانچ بجے کے بلیٹن میں نشر کیے گئے۔ تقریباً چالیس منٹ کا تفصیلی انٹرویو رات کو نشر ہونا تھا۔ لیکن اس بلیٹن کے آدھ، پون گھنٹے بعد جنرل ضیاءالحق نے، عین اس وقت جب وزیر اعظم محمد خاں جونیجو چین کے دورے سے اسلام آباد واپس پہنچے تھے، ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جونیجو حکومت کی برطرفی کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر بیجنگ پہنچی تو عجب کنفیوژن تھا کہ صدر کے دورے کا کیا بنے گا؟ دورہ ہو گا یا نہیں؟ اسی ادھیڑ بن میں رات گزری، تو صبح سویرے سفیر اکرم ذکی کا مجھے فون آ گیا کہ کیا کر رہے ہو، سفارت خانے چلے آؤ، گپ شپ رہے گی۔ میں سفارت خانے پہنچا تو سفیر کے دفتر میں اکرم ذکی کے ساتھ قومی اسمبلی کی تحلیل اور حکومت کی برطرفی کی ممکنہ وجوہ اور ان فیصلوں کے نتائج و عواقب پر گفتگو ہوتی رہی۔ بات وات کرتے ہوئے اکرم ذکی نے سوال کیا: ”اب وزیر اعظم کون بنے گا؟“۔ ”اس کی ضرورت کیا ہے؟“ میرا جواب تھا۔ ”یہ تو آئینی تقاضا ہے“ اکرم ذکی نے کہا۔ میں نے عرض کیا: ”پہلے کون سے آئینی تقاضے پورے ہوئے ہیں“۔ بولے : ”وزیر اعظم تو بنانا پڑے گا۔ اسلم خٹک بن سکتا ہے، سینیئر وزیر ہے“۔ میں نے تعجب سے کہا: ”اس عمر میں، وزارت عظمٰی کا بوجھ؟“۔ بے ساختگی سے بولے : ”Why not? He would love to improve his obituary (کیوں نہیں؟ وہ اپنی لوح مزار بہتر بنانا چاہے گا(“۔ پھر بولے : ”ڈاکٹر محبوب الحق بھی ہو سکتا ہے، ماہر معاشیات ہے، عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ہم سے ایک سال آگے تھا، محبوب عالم سکول میں، اس کے والد بھی اسی سکول میں ٹیچر تھے۔ تم کہاں پڑھے ہو؟“۔ میں نے بتایا: ”عطا محمد سکول میں“ ، تو اکرم ذکی ایک لمحے کو اپنی کرسی سے دو انچ اچھلے، پھر سنبھل کے بولے : ”ہمارے زمانے میں عطا محمد سکول نہیں تھا“۔ شاید کہنا چاہتے تھے کہ میں نالائق نہیں تھا، میرے زمانے میں عطا محمد سکول ہوتا تو میں بھی وہیں پڑھتا۔ کچھ ایسی اچھی شہرت تھی اس سکول کی۔
ارے، میں کیا سکول کا قصہ لے بیٹھا، بے چارہ میدی تو پیچھے رہ گیا۔
میدی کے والد قاضی ہدایت اللہ عطا محمد سکول ہی میں استاد تھے، اور ساتویں جماعت سے دسویں تک تاریخ پڑھایا کرتے تھے۔ قاضی ہدایت اللہ طلبہ میں بہت مقبول تھے، تاریخ پڑھانے کی وجہ سے نہیں، کہانیاں سنانے کی وجہ سے۔ ان کا کہانی سنانے کا انداز کیا ہی سحر انگیز تھا۔ اس زمانے میں تو نہیں، بعد میں ہم نے دلی کے میر باقر داستان گو کا ذکر کتابوں میں پڑھا تو اس بات کو جھٹلا نہ سکے کہ داستان گو بھی واقعی مجمعے کو باندھ کے رکھتے اور سننے والوں پہ جادو کر دیتے تھے۔ اگر ہم نے قاضی ہدایت اللہ سے کہانیاں نہ سنی ہوتیں تو ہم میر باقر کو بھی دلی کے چرب زبانوں کا تراشا ایک فرضی کردار سمجھتے۔ قاضی ہدایت اللہ سے کہانی سننے کا بھی ایک طریقہ، ایک روایت تھی۔ ہفتے میں ایک دن، تاریخ کے پیریڈ میں، کہانی سنی جاتی تھی۔ روایت یہ تھی کہ جس دن کہانی سننے کا موڈ ہوتا، کلاس کا مانیٹر طلبہ سے اکنی اکنی، دونی دونی اکٹھی کرتا، اور یہ پیسے مٹھی میں لئے، کلاس روم کے دروازے کے قریب کھڑا ہو جاتا۔ جیسے ہی، اپنا پیریڈ لینے کے لئے، قاضی صاحب کلاس روم میں داخل ہوتے، کلاس مانیٹر اپنی، پیسوں سے بھری، مٹھی قاضی صاحب کے کوٹ یا واسکٹ کی جیب میں الٹ دیتا۔ قاضی صاحب اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہتے: ”اوئے، نہیں، چلو پڑھو“۔ کلاس شور مچاتی: ”کہانی، کہانی“۔ قاضی صاحب گہری ٹھنڈی سانس لیتے، طلبہ پر نظر ڈالتے، اور مسکرا کے کہتے: ”اچھا، تو پھر کہانی سہی“۔ پھر وہ کرسی پر بیٹھنے کی بجائے میز کے کنارے پہ ٹک جاتے یا کلاس کے سب سے اگلے ڈیسک پہ بیٹھ کے پاؤں بنچ پہ رکھ لیتے، لمبی سانس لیتے اور پوچھتے : ”تو، ہم کہاں تک پہنچے تھے؟“ کوئی تیز طرار لڑکا مہینوں سے جاری کہانی کے آخری منظر کا حوالہ دیتا، اور قاضی صاحب وہیں سے مصرع طرح اٹھاتے، اور کہانی کی بنت شروع ہو جاتی۔ بنت ایسی خوبصورت جیسے کوئی چابک دست نورباف تانے بانے سے پارچے میں رنگوں کی بہار سمو دے، یا کوئی زر دوز ریشم، زربفت، اطلس و کمخواب پہ ستاروں کی کہکشاں بکھیر دے یا ہنرمند نقاش اپنی مہارت فن سے غالیچے کے گل بوٹوں میں زندگی کے رنگ بھر دے اور یہ رنگ باتیں کریں۔ کہانی سبک رفتار ندی کی طرح آگے بڑھتی، سننے والوں کو اپنے ساتھ بہائے لئے چلی جاتی۔ کہانی کے کردار جیتے جاگتے انسانوں کی طرح آنکھوں کے سامنے دکھائی دیتے۔ قاضی صاحب کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکت، لب و لہجہ اور آواز کا اتار چڑھاؤ ایسا ڈرامائی منظر تشکیل دیتے کہ سننے والا مبہوت بلکہ مخمور ہو کے رہ جاتا۔ ہمیں پورا ہفتہ کہانی کا انتظار رہتا۔ قاضی صاحب کی کہانیاں، اکثر و بیشتر، انگریزی ناولوں سے ماخوذ ہوتیں لیکن وہ اپنی جودت طبع سے کہانی کے پلاٹ اور کرداروں کے مکالموں میں مناسب رد و بدل بھی کر لیتے جس سے کہانی کی دلکشی بڑھ جاتی۔ عام طور پہ قاضی صاحب کی ایک کہانی سال بھر چلتی۔ کبھی سال میں دو کہانیاں بھی ہو جاتیں۔
میدی پڑھائی میں متوسط سطح کا طالب علم تھا، نہ پہلی دوسری پوزیشن لینے والا، نہ پھسڈی۔ ہاں، شرارتوں میں بہت تیز تھا، لیکن اساتذہ، عام طور پہ، اس کی شرارتوں سے صرف نظر کر جاتے تھے کیونکہ وہ ایک سینیئر ٹیچر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ میٹرک کے بعد میدی نے پڑھائی جاری رکھی یا نہیں، مجھے علم نہیں۔ لگتا ہے کہ اس نے پڑھائی کی بجائے پیری مریدی کے راستے پر ہی قدم بڑھائے۔ سلوک کی منزلیں طے کیں یا نہیں، لیکن اس پر ”فتوحات“ کے دروازے جلد ہی کھل گئے اور مریدوں نے اس کے اوپر مال خوب نچھاور کیا۔
قاضی میدی سے میری دوسری ملاقات، تین، چار مہینے بعد ، اسلام آباد میں ہوئی، جب وہ مجھے ملنے ٹیلیویژن سنٹر آیا۔ باتوں باتوں میں اس کے ذاتی معاملات کا ذکر آیا تو بتانے لگا کہ اس نے کسی مالدار عورت سے شادی کر لی تھی، اور اب لاہور کے کسی مہنگے علاقے میں اس کا اپنا مکان ہے۔ کہنے لگا: ”یار شکور! میں نے 75 لاکھ روپیہ بنا لیا ہے، 25 لاکھ اور بنانا ہے۔ بس ایک کروڑ روپیہ میرا ہدف ہے، اس کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ دوں گا“۔ 1989 کا ایک کروڑ روپیہ آج کے ایک ارب روپے سے زیادہ ہی ہو گا۔ یہ تب اس کے عزائم تھے، طائر لاہوتی کی پرواز کتنی بلند تھی۔ میدی کو ٹیلیویژن کے انتظامی امور کے بارے میں خاصا تجسس تھا۔ میں ابھی اس دغدغے میں تھا کہ یہ کسی ٹیلیویژن پروگرام کی فرمائش نہ کر دے کہ میدی نے مجھے پیشکش کر دی: ”تم میرے ساتھ جاپان چلو، بہت مرید ہیں میرے وہاں، فرسٹ کلاس کا ہوائی سفر اور پنج ستارہ ہوٹل میں قیام، سارا خرچہ میرے ذمے“۔ ”اچھا! کرنا کیا ہو گا وہاں؟“ میں نے پوچھا، تو بولا: ”کچھ نہیں، بس سیر تفریح، صرف یہ کرنا کہ ایک تقریب میں سیرت کے موضوع پہ چھوٹی سی تقریر کر دینا، اور کچھ نہیں“۔ میں نے کہا: ”میدی، میں آٹھ بار جا چکا ہوں جاپان، اب کوئی حسرت نہیں وہاں جانے کی، اور ہاں، یہ دین کے نام پہ دکانداری میں نے کبھی نہیں کی، اور نہ کرنے کا ارادہ ہے“۔ میدی نے موضوع بدل دیا، اور کچھ دیر بعد جانے کی اجازت چاہی۔ اس کے بعد کئی سال قاضی میدی سے میری ملاقات نہ ہو سکی، اور نہ ہی اس کی کوئی خیر خبر ملی۔
اکتوبر 2002 کے اوائل میں نامور ماہر تعلیم صوفی جمال اللہ مرحوم کے صاحبزادے، اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کے سابق پرنسپل عبداللہ جمال اسلام آباد آئے اور دو دن میرے ہاں قیام کیا۔ ان دنوں ملک میں انتخابی مہم جاری تھی۔ ایک نشست میں گوجرانوالہ کے انتخابی منظر نامے پہ گفتگو ہوئی تو عبداللہ جمال نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ سخت ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ قاضی حمیداللہ ہو جائے گا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا: ”قاضی ہدایت اللہ کا بیٹا؟“۔ بولے : ”نہیں، قاضی میدی نہیں، جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے مولانا قاضی حمید اللہ، متحدہ مجلس عمل کے امیدوار۔ یہ والے قاضی حمید اللہ، افغان طالبان کے امیر المومنین ملا عمر کے استاد بتائے جاتے تھے۔ ان کا ایک اور شاگرد ملا نور محمد ثاقب افغانستان کا چیف جسٹس اور مذہبی امور کا وزیر بھی رہا تھا۔ عبد اللہ جمال نے پوچھا:“ قاضی میدی کو کیسے جانتے ہو ”؟ میں نے بتایا کہ سکول میں میرا کلاس فیلو تھا۔ بولے :“ اس سے بچ کے رہنا، کچھ پتا ہے وہ کتنے فراڈ کر چکا ہے؟ ”۔ مجھے حیران دیکھ کر انہوں نے تفصیل بتائی۔ کہنے لگے کہ ضیاء مارشل لاء کے دور میں، صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی بیٹی زین ضیاء، جو سیشل چائیلڈ (special child) ہے، اس کے روحانی علاج اور دم درود کے بہانے میدی کو آرمی ہاؤس تک رسائی مل گئی تھی۔ وہاں آنے جانے کے دوران میدی نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا لیٹر پیڈ اڑا لیا تھا (اسی طرح جیسے آرمی ہاؤس کے مکین نے 5 جولائی 1977 کو جمہوریت کا پیڈ اڑا لیا تھا، اور سیاست دان منہ دیکھتے، یا اپنا سا منہ لے کے، رہ گئے تھے)۔ عبداللہ جمال نے یہ بھی بتایا کہ قاضی میدی نے، مبینہ طور پہ، یہ لیٹر پیڈ (جمہوریت کا نہیں، مارشل لاء والا) استعمال کرتے ہوئے سرکاری افسروں کے تقرر اور تبادلوں کے احکام جاری کر کے مال بنانا شروع کر دیا تھا، لیکن جلد ہی پکڑا گیا۔ تاہم، بیگم ضیا کی رحم دلی کی وجہ سے سخت سزا سے بچ گیا۔ یوں، مجھے میدی کے“ روحانی کمالات اور تصرفات ”کا علم ہوا۔
عبداللہ جمال راوی معتبر تھے، اور کسی شاعرانہ مبالغہ آرائی کے احتمال کے باوجود، انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ پھر بھی ان کی بات پہ یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا، قاضی ہدایت اللہ کا بیٹا، اور ایسا فن کار؟ دل کہتا تھا کہ یہ کوئی اور ہی کلاکار ہو گا جس نے قاضی میدی کا سوانگ بھرا ہو گا۔ آخر عبداللہ جمال آرمی ہاؤس میں تو موجود نہیں ہوں گے کہ انہوں نے میدی کو لیٹر پیڈ اٹھاتے دیکھا ہو، یہ سنی سنائی بات ہو گی، اور سنی سنائی بات کا اعتبار کیا؟ یا، شاید، انہوں نے کسی اخبار میں جھوٹی سچی خبر پڑھی ہو، اخبار تو بکتے ہی (یہ لفظ بِکتے ہے، بکتے نہیں) ایسی مسالے دار خبروں کی وجہ سے ہیں۔ لیکن میری نظر سے تو ایسی کوئی خبر نہیں گزری تھی، ہو سکتا ہے کسی “مفصل” اخبار میں چھپی ہو (انگریز کے دور میں علاقائی اخبار کو“ مفصل ”اخبار کہا جاتا تھا)۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آرمی ہاؤس کا یہ واقعہ درست ہو لیکن سائی وار (psywar) یا نفسیاتی جنگ کے ماہرین نے اس خبر کو دبا دیا ہو تاکہ قوم کے مورال پہ برا اثر نہ پڑے اور سیاسی طالع آزماؤں کو یہ خوش فہمی یا گمان (یا بدگمانی) نہ ہو کہ مارشل لا کے آہنی نظام میں بھی سیندھ لگائی جا سکتی ہے۔
قاضی میدی سے میری ایک اور ملاقات اسلام آباد میں پی ٹی وی کے انجینیئر غلام نبی کے جنازے پہ ہوئی تھی۔ میں اور نیوز کاسٹر اظہر لودھی نماز جنازہ کے بعد ایک درخت کے سائے میں کھڑے تھے کہ میدی چلتا ہوا ہماری طرف آیا۔ مشکوک شہرت رکھنے والا ایک اور پیر بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس پیر نے ایک نیم مذہبی، نیم سیاسی جماعت بنا رکھی تھی، اور ایجنسیوں کے اشارے پہ کسی نہ کسی سیاسی اتحاد میں شامل ہو جاتا تھا۔ لوگوں سے مال بٹورنے کے لئے اس نے کئی دھندے بھی شروع کر رکھے تھے۔ یہ دونوں پیر ہمارے قریب آئے تو میں نے کہا: ”تم دونوں میں سے بڑا پیر اور بڑا فراڈیا کون ہے؟“۔ دونوں کھسیانی ہنسی ہنس دیے۔ میدی نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے کہا: ”ہتھ ہولا رکھ، ایتھے میرے کج مرید وی نیں“۔
قاضی میدی سے یہ میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد اس کا کوئی اور چھور نہیں ملا۔ جانے وہ اپنے مریدوں کے جمگھٹ میں کہیں کھو گیا، یا اس نے بیرون ملک کوئی ٹھکانہ تلاش کر لیا، یا روحانی پرواز کرتا ہوا کہیں افلاک کی پہنائیوں میں بھٹک گیا۔
(جنوری 2006 میں قاضی حمیداللہ گوجرانوالہ میراتھون میں ہنگامہ آرائی کے سرغنہ تھے۔ 2008ء کے انتخابات میں ان کے پوسٹروں پر "فاتح میراتھون” جلی حروف میں لکھا تھا۔ انتخاب ہار گئے- 18 اپریل 2012ء کو انتقال ہوا۔ و-مسعود)



