لفظوں کا توپچی: صولت رضا

صولت کے ساتھ پہلی ملاقات مجھے اب بھی یاد ہے۔ نومبر 1970 کے دوسرے ہفتے کا کوئی دن تھا۔ ڈھائی تین ہفتے پہلے ہی میرا کراچی ٹیلیویژن سے لاہور سنٹر پہ تبادلہ ہوا تھا۔ ان دنوں لاہور سنٹر ایبٹ روڈ پہ نہیں تھا۔ شملہ پہاڑی والے چوک سے ریلوے سٹیشن کی طرف جائیں تو ایمپریس روڈ یا شارع عبدالحمید بن بادیس پر بائیں ہاتھ ریڈیو پاکستان کی عمارت ہے۔ جس احاطے میں یہ عمارت واقع ہے، اس کے صدر دروازے

Read more

ثریا شہاب: کومل لہجہ اور ریشم کے تار سی آواز

”آواز کی دنیا کے دوستو! آداب!“ یہ جملہ 1960 کے عشرے میں کئی برس تک، آغاز صبح کے ساتھ، ریڈیو زاہدان کے سٹوڈیوز سے ابھر کر، ہوا کے دوش پر سفر کرتا ہوا، دنیا بھر میں اردو بولنے اور سننے والے کروڑوں لوگوں کے کانوں میں رس گھولتا رہا۔ خوبصورت دلنشیں آواز، گداز کومل لہجہ، جیسے حریر و دیبا کے جھولے پر مدھر گیت کے ہلکورے۔ ریڈیو زاہدان سے یہ ریشمی آواز کسی ایرانی دوشیزہ کی نہیں، ایک پاکستانی خاتون

Read more

معصوم عثمانی: اک ہیرا آدمی

یہ 1973 کے موسم گرما کی بات ہے۔ ایک دن، تیسرے پہر، ریڈیو پاکستان کے سینیئر رپورٹر تنویر صدیقی ایک بزرگ اور ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ پاکستان ٹیلیویژن کے چکلالہ سنٹر پہ آئے۔ ان دنوں رضی احمد رضوی نیوز ایڈیٹر ہوتے تھے، وہ اس وقت نیوز روم میں نہیں تھے، اتفاق سے میں موجود تھا۔ رپورٹنگ کے حوالے سے تنویر صدیقی سے ہماری یاد اللہ تھی۔ صدیقی صاحب نے بزرگ کا تعارف کرایا: ”موسٰی عثمانی صاحب ہیں، ہمارے سینیئر

Read more

قاضی میدی

یہ مئی 1989 کے آخری ہفتے کا کوئی دن تھا، سخت گرمی پڑ رہی تھی، زمین تانبے کی طرح تپ رہی تھی، آسمان آگ برسا رہا تھا، لگتا تھا سورج سوا نیزے پہ ہے، اسماعیل میرٹھی کے بقول چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ میں بیوی بچوں کے ساتھ اسلام آباد سے گوجرانوالہ گیا ہوا تھا۔ تیسرے پہر گرمی کی شدت بڑھ گئی تو میں بیٹے اور بیٹی کو اردو بازار کے نیائیں چوک میں ہدایت اللہ کا

Read more