سلمی اعوان کا سفر نامہ: حیرت بھری آنکھ میں چین


سلمی اعوان کے کئی سفرنامے پڑھ چکی ہوں۔ وہ جس ملک کی سیاحت کو جائیں وہاں کے ادب، تاریخ، ثقافت، تمدن اور معیشت کا جائزہ زیرک نگاہی سے لیتی ہیں مگر اپنے تاثرات اتنی بے ساختگی اور برجستگی سے رقم کرتی ہیں کہ کہیں آپ مسکراتے ہوئے صفحات پلٹ رہے ہوں تو پتا ہی نہیں چلتا کب آنکھ بھر آئے۔ ان کا عراق اشکبار ہیں ہم اور روس کا سفر نامہ تو ہمارے دیدبان میگزین کی زینت بھی بنا تھا مگر جو چین کے سفر نامے میں ان کا قلم اپنی جولانیاں بکھیر رہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

چین کا یہ سفر سلمی اعوان نے ایک محض سیاح کی حیثیت سے نہیں کیا۔ بلکہ ایک دانشور لکھاری کی نظر سے اس قوم کی نمائندہ بن کر لکھا کہ جن کی دوستی ہمالیہ سے بلند تھی، اپنی قوم کو تنزلی کی جانب اور ہمسائے کو ہمالیہ سے بلند ہوتا دیکھ کر کڑھتی ہیں۔ یہ جلن یہ کڑھن ان کی ترقی کی نہیں اپنے لوگوں کی تنزلی کی ہے۔ ہائے ہم کیا تھے اور کیا رہ گئے۔ وہ جو بھوک قحط اور خونی انقلاب بھگت چکے اب فقط بیس پچیس برسوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

سفر نامے کا آغاز کریں تو آپ کھلکھلا کر ہنسی گے۔ داماد کی بیجنگ کے سفارت خانے میں تقرری پہ بیٹی پریشان ہیں اور سلمی اعوان کا دل بلیوں اچھل رہا ہے۔ پھر گھریلو خادمہ نسرین کا کیا ہی دلچسپ کردار شامل کیا ہے۔ جسے لوگ کہتے تھے یہ باندری چین جائے گی؟ اور وہ خوش ذوق پہنچ گئی چین۔ چین کے سفر کا اشتیاق وہاں کی تاریخ اور تیز رو ترقی کے سفر نے ہر سیاح کی مانند مصنفہ کی آنکھیں بھی چندھیائیں، متاثر کیا، حسرت میں مبتلا کیا مگر یہ سارے مشاہدے اتنے سادہ سرسری اور آسان نہیں ہیں۔ سلمی اعوان نے چین میں موجود پاکستانی سفارت خانے اور سفارتی عملے سے لے کر بیجنگ کی مسلم کمیونٹی شی آن مسلم کوراٹر مساجد تک میں جو کجی نظر آئی اس کے لتے لیے۔ گھورا، گھرکا اور لتاڑا۔ بی بی ہوش کے ناخن لو دکھاوے پہ فضول خرچی نہ کرو۔ غریب ملک کے وسائل پہ عیاشی کرتے اپنے حکمرانوں پہ آہیں بھریں۔

ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے زمانہ طالبعلمی میں ماؤ اور لینن کی انقلابی نظمیں پڑھتے انہیں گمان نہ گزرا تھا کہ اسی چین کے دور عروج میں وہ اس کا سفر کریں گی اور ماؤ کے ثقافتی انقلاب کے دور رس اثرات فوائد مضمرات اور جبر و قہر تک کے معاملات سے یوں باخبر ہوں گی۔ سلمی اعوان محبت کی پوٹلی ہیں اس لیے ہر جگہ انہیں اپنی روح جیسے محبت کے بھرے لوگ مل جاتے ہیں جو محض اتفاق نہیں بلکہ ان کے ہالہ دروں کے اثرات ہوں گے۔ وہ چین کے مختلف دانشوروں، اردو کے سکالروں سے ملتی، خیالات کا تبادلہ کرتی، پاکستان کی تنزلی کے وجوہات تلاش کرتی نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر تھانگ منگ شنگ اور اردو ڈیپارٹمنٹ کی شبانہ و نسرین سے ملتی ہیں مگر بیجنگ کی روح اور رگ رگ سے واقفیت حاصل کی کی تمنا اپنی جگہ موجود ہے۔

ایک دن تنگ شیاؤ سے وہ اچانک جا ملتی ہیں۔ تنگ شیاؤ کی مصنفہ و شاعرہ نانی اور نانی کی بہترین دوست چھانگ چھوان امریکہ سے اوپیرا گلوکاری اور موسیقی سیکھ چکی تھی۔ اس کے مداحوں میں وزیراعظم چو این لائی بھی تھے۔ وہ ماؤ کے انقلاب کی دکھ بھری داستان سناتی ہے جو تنگ شیاؤ اور چھانگ چھوان کے خاندان کے ساتھ گزری۔ گلوکارہ چھانگ چھوان پہ ظلم و ستم میں ماؤ کی سخت گیر بیوی چیانگ کے ظلم کی داستان قاری کی آنکھ نم کر دیتی ہے۔ انقلاب کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا یہ تھین آن من سکوائر پہ ٹینکوں تلے کچلے طلبہ ہو یا تنگ کے آبا و اجداد عام لوگ تو بہت کچھ گنواتے ہیں۔ پھر کہیں جا کر کچھ حاصل کرنے کا وقت آتا ہے اور کبھی وہ وقت بھی نہیں آتا۔

دیوار چین، شاہراہ ریشم، عظیم شہر سپاہ، شہر ممنوعہ، لاؤ شی ٹی ہاؤس بیجنگ کے گلی کوچوں کی سیاحت میں ہر گام اور ہر قدم پہ جہاں مصنفہ ان کی ترقی، عظیم ثقافت میں گندھی عمارات، ان کے فن پارے و عجائبات دیکھتی ہیں تو انہیں حیرت سے تکنے سراہنے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کی نا اہلی کے دکھڑے بھی روتی ہیں اپنے آثار اور اثاثے نہ سنبھالنے پہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتی ہیں خدا سے شکوہ کناں ہوتی ہیں۔

یہ کتاب محض ایک سفر نامہ نہیں بلکہ قوموں کے عروج زوال کی داستان میں تہذیب، تمدن، ثقافت ادب اور شاعری کے اثرات کی انتھالوجی ہے۔ اس میں جدید اور قدیم چینی شعراء کا کلام یکجا ہے ماؤ کی خون گرما دینے والی انقلابی شاعری ہے تو اسی کی تحریک میں کچلے معصوم لوگوں کا لہو بھی قرطاس کو رنگین کرتا نظر آتا ہے۔ اس انتھالوجی میں آپ کو اپنی تنزلی کی داستان بھی بین السطور ملے گے۔ ارے غلام اسحاق خان کے دور تک پاکستان چین کو بوقت ضرورت قرض دیا کرتا تھا آج ان کے ٹیکسی ڈرائیور استہزائیہ انداز میں کہتے ہیں کہ عمران خان پیسے مانگنے آ رہا ہے۔ دو تین عشروں میں قوم کیسے بن جاتی ہے خالی انقلاب نہیں بلکہ ساتھ ہی محنت مسلسل محنت اور لگن۔ وہ کہتی ہیں چینیوں سے زیادہ بھوک کس نے دیکھی ہوگی مگر ایسے رجے پجے ہیں کہ راستے میں کسی کو کچھ کھانے کو دو تو انکار کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں تو نیاز بٹنے لگے تو لوگ ہاتھوں سے چھین چھین کر بھگدڑ مچا دیتے ہیں۔

یہ سفر نامہ اردو ادب کے طلباء کو ہی نہیں بلکہ سیاسیات اور فارن ریلیشنز سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ضرور پڑھنا چاہیے اس میں ایک دانشور مصنفہ ماں نے اپنے قوم کے بچوں بڑوں سب کو کھری کھری سنائی ہیں۔ سیانے کے کہے اور آملے کے کھائے کا سواد دیر بعد آتا ہے۔

سفر نامے کی زیادہ تفصیل تبصرے میں شامل نہیں تاکہ قارئین خود اس سے حظ اٹھائیں۔ اس لیے کتاب منگوائیں اور پڑھیں۔ یہ کتاب جہلم بک کارنر نے شائع کی ہے بہترین طباعت، اغلاط سے پاک متن اور خوبصورت تصاویر سے مزین سرورق اور کیا چاہیے بھلا پڑھنے کو۔

Facebook Comments HS