محبت ہو تو انصاف غیر متعین ہو جاتا ہے

”پیار صابر ہوتا ہے۔ پیار مہربان ہوتا ہے۔ پیار میں حسد نہیں ہے، اس میں تفاخر نہیں ہے، یہ انا پرست نہیں ہے، یہ نا شائستہ نہیں ہے، یہ اپنے مفادات کی تلاش میں نہیں ہے، یہ جلد مزاج نہیں ہے، یہ چوٹ سے نہیں گھبراتا، یہ غلط کام پر خوش نہیں ہوتا، بلکہ جس چیز سے خوش ہوتا ہے، وہ ہے سچ“ ۔ محبت کی یہ خوبصورت تعریف سینٹ پال نے ایک خط میں کی تھی۔ پال کو مسیح کے بعد مسیحیت میں سب سے اہم شخص سمجھا جاتا ہے۔
یہ خوبصورت تعریف اتنی فصاحت سے واضح کرتی ہے کہ محبت کیا نہیں ہے۔ شاید محبت کی مزید مکمل تعریف اس بات پر بھی مرکوز ہونی چاہیے کہ محبت کیا ہے۔ میری رائے میں، محبت دیکھ بھال ہے، یہ دوستی ہے، یہ غیر مشروط ہے، یہ برداشت ہے، یہ احترام ہے، یہ بے لوث ہے، اور یہ ہمیشہ قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
در حقیقت زندگی کا جوہر محبت ہے۔ محبت سے عاری زندگی ایک خالی زندگی ہے۔ ہماری زندگیوں میں بھرنے والے تمام رنگ محبت کے جذبات سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسان اپنی زندگی کا آغاز ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت سے کرتا ہے۔ جوان ہونے پر، ایک ایسے جیون ساتھی کی تلاش میں ہوتا ہے جو محبت، پیار اور دوستی کا ذریعہ ہو۔ پھر بچے جن کی محبت سب سے پاکیزہ ہے۔
لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔ کوئی شخص بعض نظریات کے لیے سرشار محسوس کر سکتا ہے۔ مقاصد سے محبت کے بغیر کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ایک مقصد کے لیے وقف زندگی عقیدت اور عزم سے بھری ہوتی ہے۔ محبت کے بغیر شاعر دل کو چھو لینے والی شاعری نہیں لکھ سکتا، کوئی سائنس دان اثر انگیز دریافتوں کی امید نہیں کر سکتا، ایک انسان دوست سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالنے کی امید نہیں کی جا سکتی، ایک مصلح معاشرے میں تبدیلی نہیں لا سکتا، اور کوئی شخص کسی بھی پیشے میں عروج پر نہیں پہنچ سکتا۔
ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی وہ ہے جب یہ اہداف زندگی میں محبت بھرے انسانی رشتوں کے ساتھ منسلک ہوں۔
اکثر میں سوچتا ہوں کہ کیا سب سے زیادہ تخلیقی لوگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگیاں گہرے پیار بھرے رشتوں سے خالی ہوتی ہیں۔ کسی بھی پیشے یا تخلیقی سرگرمی میں سب سے زیادہ خوش نصیب وہ ہوتے ہیں جو اپنے پیاروں کی مکمل حمایت کے ساتھ اپنے مقاصد کے لیے پر جوش ہوتے ہیں جن کی زندگی میں محبت رکاوٹ کے بجائے سہارا دیتی ہے۔
تاہم ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں ایک تخلیقی اور سرشار شخص کو محبت اور کامیابی کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک ظالمانہ انتخاب ہوتا ہے۔ یا تو خوابوں کو بھول جائیں اور محبت کے طوق میں جکڑے جائیں یا مقاصد کے پیچھے لگ جائیں اور محبت کو قربان کر دیں۔
بعض صورتوں میں، لوگوں کی زندگیوں میں محبت کی کمی ایک نعمت بن سکتی ہے۔ وہ پیاروں کی طرف سے کسی مزاحمت کی فکر کیے بغیر اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ صورت حال ایسے خاندانوں میں ہو سکتی ہے جہاں یا تو پیارے زندہ نہیں ہیں یا رشتے ایسے ہیں کہ وہ محبت کے مضبوط بندھن محسوس نہیں کرتے۔
درحقیقت تاریخ ایسے کامیاب ترین لوگوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاندان کے ساتھ محبت کے رشتے کمزور تھے لیکن وہ سب سے زیادہ با اثر افراد بن گئے۔ یہاں ایک مثال پیش کر نا چاہوں گا۔
کئی سال پہلے انسانی تاریخ کے ایک سو با اثر افراد کی فہرست مرتب کی گئی تھی۔ اس فہرست میں، جیسا کہ تصور کیا جا سکتا ہے، مذاہب کے بانیوں، سیاسی رہنماؤں، فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کا غلبہ تھا۔ حیرت انگیز طور پر سب سے اوپر تین نام پیغمبر اسلام (ص) ، آئزک نیوٹن اور یسوع مسیح کے تھے۔ حضرت محمد اور حضرت عیسیٰ مسیح دو کامیاب ترین مذاہب کی ابتداء کے ذمہ دار تھے۔ آج دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی یا تو اسلام یا عیسائیت سے تعلق رکھتی ہے۔
اپنی زندگی میں، انہیں ان نظریات کی تشہیر میں سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جو قائم روایات اور موجودہ مذہبی عقائد کے خلاف سمجھے جاتے تھے۔ نیوٹن کو بہت سے لوگ پچھلے ہزار سالوں کا سب سے با اثر شخص سمجھتے ہیں۔ ان کی حرکت کے قوانین کی تشکیل اور کشش ثقل کے قانون کی دریافت نے انسانیت کو سائنس کے جدید دور میں داخل کیا اور زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ان قوانین نے جدید طبیعیات کی بنیاد رکھی۔
یہ حیرت انگیز بات ہے کہ پیغمبر اسلام اور نیوٹن اپنے باپ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے، وہ پیدائش کے وقت یتیم تھے۔
اور زیادہ تر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مسیح کی پیدائش بھی باپ کے بغیر ہوئی۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کسی نے ان کی پیدائش پر یہ تبصرہ ضرور کیا ہو گا کہ یہ نوزائیدہ بچے کتنے بدنصیب ہیں جو یتیم پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ انسانی تاریخ پر کس قدر اثر انداز ہوں گے۔
ان کی عظمت کی وجہ کیا تھی؟ یہ سب معمولی پس منظر والے خاندانوں میں پیدا ہوئے تھے۔ شاید ان کی یتیم پیدائش نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ ایک سنگین نقصان ایک عظیم فائدے میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ تخلیقی اور سب سے زیادہ با اثر لوگوں کی صف میں شامل ہونے کے لیے، ایک ایسا ذہن ہونا چاہیے جو مضبوط اور خود مختار ہو۔ اس آزادی کے لیے محبت کی بیڑیوں سمیت تمام بندھنوں سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی محبت سے بھی جو آپ کو مخالف سمت میں کھینچتی ہے۔ قدیم روایات کو چیلنج کرنے والے نظریات کو پیش کرنے اور ان کی ترویج کے لیے ایک شخص کو ان لوگوں کے پیار اور محبت سے محدود نہیں ہونا چاہیے جو روایت کے راستے پر قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔
ذرا تصور کریں کہ پیغمبر اسلام کیسا محسوس کرتے اگر ان کے والدین زندہ ہوتے اور روایات سے بغاوت پر آمادہ نہ ہوتے جب انہوں نے ان بتوں کو توڑنے کا اعلان کیا جنہیں وہ دیوتاؤں کے طور پر پوجتے تھے۔ ایک طرف وہ اپنے والدین کی محبت اور دوسری طرف خدا کی پکار سے بندھا ہوا محسوس کرتے۔ تاہم وہ خوش قسمت تھے کہ خدیجہ میں ایک محبت کرنے والی بیوی ملی جو اس وقت ان کی بڑی حامی اور پیروکار بن گئیں جب انہیں اپنی برادری سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔
محبت کے موضوع پر ہونے والی اس گفتگو میں دور دراز کوانٹم میکا نکس کو شامل کرتے ہوئے، میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ نیلز بوہر کوانٹم میکا نکس کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کوانٹم میکا نکس کی تصوراتی بنیادوں کو واضح کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ایک اہم کارنامہ ایک اصول کی دریافت ہے جس کے مطابق، دو مشاہدات اس طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں کہ ایک کا صحیح علم دوسرے کے تمام ممکنہ نتائج کی طرف لے جاتا ہے۔ طبیعیات سے ایک مثال کسی چیز کی پوزیشن اور رفتار ہے۔ اگر ہم کسی چیز کی پوزیشن کو انتہائی درست طریقے سے تعین کرتے ہیں، تو اس کی رفتار مکمل طور پر غیر یقینی ہوجاتی ہے۔ یہ انتہائی حیران کن اصول کوانٹم میکانکس کا ایک بنیادی اصول ہے۔
نیلز بوہر کا تعلق ڈنمارک سے تھا اور وہ اپنے آبائی ملک میں ایک مشہور شخصیت تھے۔ وہ ڈنمارک کے بادشاہ اور ملکہ کے بعد شاید سب سے زیادہ قابل احترام شخص تھے۔ ایک انتہائی ماہر اور مشہور سائنسدان کی حیثیت سے، انہیں اکثر عوامی لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک لیکچر میں، پروفیسر بوہر اپنے اصول کی وضاحت کر رہے تھے، کہ کس طرح دو مشاہدات کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اگر ایک قطعی متعین ہو تو دوسری خاصیت بالکل غیر متعین ہو جاتی ہے، سامعین میں زیادہ تر عام لوگ شامل تھے۔
لیکچر کے دوران، ایک بوڑھی عورت نے چھیڑ چھاڑ کے موڈ میں سوال پوچھنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا: ”پروفیسر بوہر، آپ نے ذکر کیا کہ دو مشاہدات اس طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں کہ ایک متعین ہو تو دوسری خصوصیت غیر متعین ہو جاتی ہے؟ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اگر محبت ہو جائے تو کون سی خصوصیت غیر متعین ہو جاتی ہے؟“ بوہر کے لیے یہ ایک غیر متوقع سوال تھا۔ وہ طبعی خصوصیات کے بارے میں سوچنے کے عادی تھے نہ کہ محبت یا نفرت جیسی جذباتی کیفیتوں کے بارے میں۔ لیکن پروفیسر بوہر کو جواب دینا تھا۔ وہ چند سیکنڈ کے لیے سوچ میں پڑے اور پھر جواب دیا ”انصاف“ ۔ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمارا انصاف کا احساس ناکام ہونے لگتا ہے۔ ایک جج سے اپنے ہی بیٹے کے خلاف منصفانہ فیصلہ دینے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
محبت سب سے نرم، سب سے پیارا، اور سب سے قیمتی جذبہ ہے اور انسانوں کے لیے ایک شاندار تحفہ ہے۔ محبت کے بغیر، انسان کے لئے، جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

