ایک بری ماں کی کتھا

ماما آپ بابا سے بات کر لیں۔
میں نے بات کر لی ہے، آپ فون بند کرو اور آ جاؤ میرے پاس، سونا نہیں ہے آپ نے۔
اس نے گڈ نائٹ کہہ کر فون بند کر دیا، اور ہمیشہ کی طرح قریب آ کر ماں کے رخساروں پر پے در پے بوسے دیے اور لپٹ گیا۔
اس نے آہستگی سے اسے خود سے دور کیا، اور تکیے پر اس کا سر رکھ کر اس کے گھنے سیاہ ریشمی بالوں والا سر سہلانے لگی۔
آپ بھی میرے ساتھ سوئیں ناں۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے ننھے ہاتھوں میں جکڑا۔
آج آپ دس سال کے ہو گئے ہو، ناؤ یو آر بگ بوائے،
آخر کب تک میرے ساتھ سوو گے۔
ہمیشہ وہ شرارت سے ہنسا۔
جی نہیں اب تم کو اکیلے سونے کی عادت ڈالنی ہو گی تا کہ جب اپنے بابا کے گھر جاؤ تو وہاں اپنے روم میں سو سکو۔
میں وہاں نہیں جاؤں گا، میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔
یہ میرے بابا کا گھر ہے یہاں صرف میں رہ سکتی ہوں۔
مجھے بھی آپ کے اور نانا کے ساتھ رہنا ہے۔
تم کو اپنے بابا کے پاس جانا ہو گا، تا کہ تم اپنے بابا سے موٹر بائیک چلانا سیکھ سکو، پھر اسپورٹس کار ڈرائیو کرنا بھی سیکھو۔ تم کو اسپورٹس کارز پسند ہیں ناں۔
میں نانا سے سیکھوں گا۔
نانا کو بھلا کہاں موٹر بائیک اور کار چلانی آتی ہے۔
تو پھر میں شاہو ماما سے سیکھوں گا۔
شاہو ماما یہاں نہیں رہیں گے وہ بھی بڑے ہو گئے ہیں آپ کے بابا کی طرح، اب وہ کینیڈا شفٹ ہو جائیں گے۔
سب بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو اپنے بابا کے ساتھ رہتے ہیں، جب بڑے ہو جاتے ہیں تو اپنے گھر بناتے ہیں۔
وہ تیزی سے بولا، آپ بھی بڑی ہو گئی ہیں، آپ بھی اپنا گھر بنائیں۔
عورتیں اپنا گھر نہیں بناتیں، وہ اپنے بابا کے گھر میں رہتی ہیں۔ دس از رول۔
آئی ڈونٹ ایگری ود دس رول
اوکے جب آپ مکمل بگ بوائے بن جاؤ تو اس رول کو بدل دینا۔
کیسے بدلنا ہو گا؟
سب عورتوں کو الاؤ کر دینا کہ وہ اپنے گھر خود بنائیں اور اپنی مرضی سے اکیلی رہیں یا اپنے بچوں کے ساتھ رہیں۔
سوہنی آنی کہہ رہی تھیں کہ چھوٹے بچوں کو مما کے ساتھ رہنا چاہیے، اس لیے میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔
بٹ یو آر ناٹ چھوٹا بچہ۔ یو آر بگ بوائے۔
آپ تو خود اپنا کھانا کھا سکتے ہو، دانت بھی برش کر سکتے ہو، پوٹی بھی خود دھو سکتے ہو، نہاتے بھی خود ہو، کیونکہ آپ کو ماما سے شرم آتی ہے، اب تو آپ سائیکل بھی چلا سکتے ہو، اور جوتے بھی خود پہن لیتے ہو
اس نے جھنجھلا کر بات قطع کی، میں ٹائی نہیں پہن سکتا۔
ٹائی کی ناٹ بابا بنانا سکھا دیں گے۔
وہ بسورا، ان کو بھی بنانی نہیں آتی۔
ماں بڑبڑائی، آتی ہے۔
آخر آپ بابا کے گھر کیوں نہیں جا رہی ہیں، پہلے تو جاتی تھیں۔
کیونکہ اب میں بابا کی بیوی نہیں ہوں، اس لیے ہم ساتھ نہیں رہ سکتے۔
اسکی معصوم نگاہوں میں سوچ اتر آئی،
تو کیا صرف بیوی بابا ساتھ رہ سکتی ہے؟
جی صرف بیوی۔
تو آپ بابا کی بیوی کیوں نہیں رہی ہیں؟
بس میرا دل نہیں چاہتا ہے کہ ان کی بیوی بن کر رہوں۔
اس نے سوچتی ہوئی سوالیہ نگاہیں ماں کے چہرے پر ٹکا دیں۔
کیا آپ کو بابا اچھے نہیں لگتے؟
وہ بہت اچھے ہیں، اس نے اس کا دھیان بٹانے کے لئے اس کی توجہ سالگرہ پر ملے گفٹس کی طرف مبذول کروانی چاہی، دیکھو آج بابا نے آپ کو اتنے اچھے گفٹس بھیجے ہیں، میرے پاس تو پیسے ہی نہیں تھے جو میں آپ کو گفٹ دیتی، اس لیے آپ بابا کے پاس جاؤ تا کہ وہ اسی طرح آپ کو اچھے اچھے گفٹس دیں۔
اس نے ماں نے گلے میں بانہیں حمائل کر دیں،
وہ اچھے ہیں لیکن وہ میرے ساتھ سوتے نہیں ہیں، نہ ہی مجھے اسٹوریز سناتے ہیں۔
یار وہ آفس جاتے ہیں تھک جاتے ہیں اس لیے اسٹوریز نہیں سنا سکتے، ان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن وہ کیک بھی نہیں بناتے۔
آپ کو ریبا آنی کیک بنا کر کھلائیں گی، وہ بہت اچھے کیکس بناتی ہیں یاد ہے ناں، آپ کو کھلایا تھا لاسٹ وزٹ پر۔
کیا ریبا آنی بابا کے گھر رہتی ہیں؟
وہ کہیں بھی رہیں، آپ کا خیال رکھیں گی، اور آپ کو کیک کھلائیں گی۔
دادو کہہ رہی تھیں، ریبا آنی بابا کی داشتہ ہیں، داشتہ کیا ہوتی ہے؟
افففف ایسا نہیں کہتے یار، وہ بابا کی بہت اچھی دوست ہیں اور میری بھی دوست ہیں، بابا کے سامنے دادو والی بات نہ کہنا، بابا بہت خفا ہوں گے ۔
داشتہ کیا ہوتی ہے؟ اس نے سوال دہرایا۔
اسکے معصوم ذہن کی شفاف سوچ سماعت میں بے احتیاطی سے انڈیلے گئے لفظ پر اٹک چکی تھی۔
ماں نے سنبھل سنبھل کر کہنا شروع کیا، دیکھو دادو بیمار ہیں، ان کو گھٹنوں میں درد ہوتا ہے، وہ تھوڑا غصہ زیادہ کرتی ہیں، اس لیے انہوں نے بلاوجہ یہ ورڈ یوز کر لیا۔ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
لیکن کسی کے سامنے اس لفظ کو یوز نہیں کرتے۔ اوکے
پرامس کرو ماما سے کہ نہ بابا کے سامنے کہو گے، نہ ہی ریبا آنی سے۔
پرامس۔ اس نے ہاتھ پھیلایا تو اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا، اور کہا، پرامس۔
اگر ریبا آنی بابا کے گھر میں رہتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بابا کی بیوی ہیں۔
ماں نے طویل سانس لیا۔
ہاں اب وہ بابا کی بیوی ہیں۔
تو آپ بابا سے اس لیے بات نہیں کرتیں کہ وہ آپ کو بیوی نہیں بناتے۔
میں ان کی بیوی بننے کو تیار نہیں ہوں۔
تو پہلے کیسے بن گئی تھیں؟
ماں تلخ ہو گئی، شادی کر لی تھی ناں
نہیں بلکہ کروائی گئی تھی۔ وہ بڑبڑائی
تو دوبارہ شادی کر کے بیوی بن جائیں۔
دوبارہ شادی نہیں ہوتی، چلو آنکھیں بند کرو۔
ننا کہہ رہی تھیں کہ شادی کرنا فرض ہے دوبارہ ہو سکتی ہے۔
ماں نے بہ مشکل غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
میرے بیٹے شادی بار بار نہیں ہوتی، صرف ایک بار ہوتی ہے۔
تو کیا ننا جھوٹ کہہ رہی تھیں؟
ماں نے بے ساختہ سرہانے رکھی پانی کی بوتل اٹھائی اور منہ سے لگا لی۔
میری جان میرے پیارے بچے۔ ننا اکثر بھول جاتی ہیں، تم دیکھتے ہو ناں وہ کبھی پیسے رکھ کر بھول جاتی ہیں کبھی کچن میں رکھی شے بھول جاتی ہیں، وہ یہ بھی بھول گئیں کہ کتاب میں لکھا ہے شادی کرنا فرض نہیں ہے۔ شادی کر نا سنت ہے۔
آپ یاد رکھنا یہ بات۔
سنت کیا ہوتی ہے۔
یہ صبح اٹھ کر نانا سے پوچھنا، وہ تفصیل سے بتائیں گے۔
ابھی پلیز آپ نے نہیں سونا تو مجھے سلا دو، آئی ایم ٹائرڈ۔
اس نے اپنا سر اس کے چھوٹے سے سینے پر رکھ دیا، وہ کھلکھلا کر ہنسا اور ماں کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے پھیرتے خود سو گیا۔
لیکن اس کے سوالات جاگتی ماں کے ارادے کو مضبوط کر گئے۔
صبح کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی ماں نے سابقہ شوہر کو فون کیا اور اسی ہفتے میں وہ اپنے باپ کے پاس دوسرے ملک پہنچ گیا۔
گو اس کے جانے کے بعد وہ بہت بے تاب رہی، کئی ماہ اس کی مامتا سو نہیں سکی، وہ اس کے نرم ہاتھ ملائم بانہیں اپنے گرد حمائل محسوس کرنا چاہتی تو کر نہ پاتی، وہ اس کے چھوٹے سے تکیے سے لپٹ جاتی، وہ اس کی خوشبو، اس کی مسکراہٹ اس کے گلابی ہونٹ، اس کے نم آلود بوسے، چنے منے دانت اس کے کمبل میں ٹٹولتی رہتی لیکن کچھ نہ پاتی، وہ اکثر اس سے ملنے چلی جاتی کیونکہ اسے دوسرے ملک جانے میں مسائل درپیش نہیں آتے تھے لیکن پھر ماں مصروف ہو گئی، اپنے دل کی خوشی پوری کرنے میں، اس کا خیال تھا اس کی زندگی کے قیمتی پندرہ برس شادی میں ضائع ہو گئے ہیں اور ان برسوں کا حساب چکانا چاہیے، اپنے سارے پسندیدہ و بے معنی کام اس نے کیے ، اس کے باپ نے اسے نہیں روکا، وہ خود کو اس کی شادی ناکام ہونے کا مجرم گردانتا تھا۔
کاش وہ اس کو روک لیتا ان بے لذت سرگرمیوں سے۔
کاش وہ سمجھ جاتی جو سمجھدار ہونے کی دعویدار تھی، اپنے وجود کے حصے، اپنے جنم دیے بیٹے کو نہ سمجھ سکی، وہ سمجھ نہیں سکی کہ
اس کا بیٹا صرف صورت میں اس کے شوہر جیسا ہے، اس کی عادات و سیرت تو خود اس کے جیسی ہے، اس کا دل اس کے اپنے دل کی طرح حساس و شفاف ہے۔
کاش وہ یہ سمجھ پاتی کہ بیٹا بہت گہری سوچ کا حامل ہے۔
کتنی محبت سے وہ اس کے آویزے چھوتا تھا، اور اس کی کیوٹکس کے رنگ منتخب کرتا تھا مما آج یہ والی اپلائی کریں۔
اس نے انیس برس کی عمر میں دل ٹوٹنے کا انتقام اپنے بیٹے سے لیا۔
جب وہ تیس برس کی ہوئی تو اس کو زندگی گزارنے کا فہم آیا۔
لیکن اپنے بیٹے کو اس نے یہ فہم محض دس برس کی عمر میں دے دیا، خود سے جدا کر کے۔
جب مدر ڈے پر اس کے بیٹے کی کال نہیں آئی تو اس نے محبت سے چور ہو کر اسے کال کی۔
میرے بیٹے نے مجھے مدر ڈے وش نہیں کیا۔
اسکے بیٹے کی بھاری ٹھہری ہوئی آواز آئی، کیا فرق پڑتا ہے مما۔ آپ ہی تو کہتی ہیں کہ کسی کے وش کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
وہ ساکت ہو گئی، فرق پڑتا ہے بیٹا۔ میں آپ کو یاد کر رہی تھی۔
مما آپ مجھے یاد نہیں کرتیں۔ آپ جنوری میں مکے آئیں تھیں، مجھ سے مل کر کیوں نہیں گئیں، میں صرف دو گھنٹے کی دوری پر تھا، آپ مجھے کال کر لیتیں، میں آپ کے پاس آ جاتا۔
بیٹا مکے بلاوے پر آنا ہوتا ہے، موقع ملا تھا تو میں عبادت کرنا چاہتی تھی۔
تمھارے ماما اور مامی میرے ساتھ تھے۔ ہم بس چار دن رکے تھے۔
ٹھیک ہے مما۔ کوئی بات نہیں۔ آپ مکے آ کر عبادت کیا کریں۔ زیادہ ثواب ملتا ہے۔
ماں منمنائی۔ میں اگلے ماہ آپ کی برتھ ڈے پر آ جاوں گی۔
مما آپ کے یا بابا کے آنے جانے سے اب مجھے کوئی احساس نہیں ہوتا۔ مجھے اکیلا رہنا اچھا لگتا ہے آپ کی طرح۔
ماں کراہی۔ ایسا نہ سوچو، تم ریبا آنی اور اپنے بھائیوں کے ساتھ انجوائے کیا کرو، تم سب ایک خاندان ہو۔
مما میرا صرف ایک بھائی ہے، اور وہ یہاں نہیں ہے اور ریبا آنی بھی یہاں نہیں ہیں، وہ دونوں ہمارے ساتھ نہیں رہتے، کبھی کبھی یہاں آ جاتے ہیں جب بابا ان کو انوائٹ کرتے ہیں۔
ماں کو سمندر کی آواز فون میں گونجتی سنائی دی، اس نے کانپ کر کہا، کیا تم سمندر کنارے ہو، احتیاط کرو بیٹا، آج کل تو اس سمندر میں طغیانی ہے۔
بیٹا ہنسا، فکر نہ کریں، میں سمندر میں ڈوبنے نہیں آیا، میں آپ کی طرح ایڈونچر کا شوق نہیں رکھتا، نہ ہی بابا کی طرح مجھے رنگ برنگی مچھلیاں پکڑنے اور سوئمنگ کا شوق ہے۔
میں صرف یہاں آ کر بیٹھ جاتا ہوں۔ اور سب کچھ دیکھتا رہتا ہوں۔
وہ رو پڑی، تم زندگی گزارو میرے بچے۔ تم تنہا نہیں ہو،
اسپورٹس کار خریدو اور دوستو کے ساتھ ریسنگ کیا کرو۔
اپنے بابا کے ساتھ آفس جایا کرو۔ یو آر کمپلیٹ بگ مین، یو آر ٹوئنٹی ون ناؤ۔
مما مجھے کیا کرنا ہے، مجھے اچھی طرح معلوم ہے آپ انسٹرکشن نہ دیں پلیز۔
ہیپی مدر ڈے۔
بیٹے نے فون بند کر دیا۔

