شائزو فرینیا کی تشخیص (4)
ذہنی بیماریوں کی تشخیص جسمانی بیماریوں کی تشخیص سے بنیادی طور پر اس طرح مختلف بھی ہے اور مشکل بھی کہ اس میں ایکسرے، خون اور پیشاب وغیرہ کے لیبارٹری ٹیسٹ بالکل مدد نہیں کرتے اور ماہرین نفسیات کو کافی حد تک ہسٹری اور انٹرویو پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور اگر مریض نہ تو ہسٹری دینے کے لیے تیار ہو اور نہ ہی انٹرویو کے لیے تو تشخیص کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے اور اگر تشخیص مشکل ہو جائے تو علاج کے لیے مختلف ماہرین نے مختلف پیمانے استعمال کیے ہیں، لیکن مجموعی طور پر بلائلر اور شنائڈر کے پیمانے زیادہ مقبول ہوئے ہیں اور آج بھی دنیا بھر کے ماہرین نفسیات مریض کے انٹرویو کے دوران ان عوارض اور علامات کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔
Bleuiar ’s-4A-S
بلائلر نے اپنی تحریروں میں یہ واضح کیا تھا کہ شائزو فرینیا کے مریض کو چار علامات کی وجہ سے باقی مریضوں سے متمیز نہیں کر سکتے ہیں۔
Autism-1
Ambivalence-2
Affect-3
Association-4
پہلی علامت۔ آٹزم
بلائلر کا کہنا تھا کہ شائزوفرینیا کا مریض نفسیاتی اور جذباتی طور پر اپنے ماحول سے کٹ کر اپنی ذات میں کھو جاتا ہے اور ایک کچھوے کی طرح اپنے خول میں چھپ جاتا ہے، اس طرح وہ خارجی زندگی سے داخلی زندگی کی طرف سفر کرتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے ہی خوابوں، خیالوں اور تصورات میں کھویا رہتا ہے اور اپنے ماحول سے دور ہوجاتا ہے۔
دوسری علامت۔ ایمبوالینس
شائزوفرینیا کا مریض ایک ہی چیز، انسان یا رشتے کے بارے میں بیک وقت متضاد جذبات یا رویے رکھتا ہے چنانچہ وہ اپنی ماں یا باپ یا کسی دوست یا رشتہ دار یا اپنی ملازمت یا خدا سے بیک وقت محبت بھی کرتا ہے اور نفرت بھی اور یہ صورت حال اس کے لیے بہت پریشان کن اور اذیت ناک بھی ہوتی ہے لیکن وہ اس عذاب سے نکل بھی نہیں سکتا اور جذباتی درد محسوس کرتا ہے۔
تیسری علامت آفیکٹ
شائزوفرینیا کے مریض کے متضاد جذبات اس کے اعمال میں بھی ظاہر ہوتے ہیں چونکہ وہ پل بھر میں غصہ بھی ہو سکتا ہے اور خوش بھی، اس لیے بعض دفعہ لوگ اس جذباتی رد عمل کو سمجھ نہیں پاتے اور خود بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ بعض متضاد جذباتی رد عمل کا بیک وقت اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب یہ بتا رہے ہوں کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے تو ساتھ ہی کھل کھلا کر ہنس بھی پڑیں گے اور یا کسی کی شادی کی خبر کے ساتھ رونا بھی شروع کر دیں گے۔ اس طرح بعض دفعہ وہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے کئی کئی دن یا ہفتے سوگوار یا بہت خوش بھی رہتے ہیں۔
چوتھی علامت ایسوسی ایشن
شائزوفرینیا کے مریض کی گفتگو میں ربط نہیں ہوتا۔ وہ ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر اس طرح چھلانگ لگاتا ہے کہ سننے والا پریشان ہو جاتا ہے۔
بلائلر کا یہ مشاہدات ایک طویل عرصے تک ماہرین کی رہبری کرتے رہے۔ اس کے بعد کئی اور لوگوں نے بات آگے بڑھائی۔ جن ماہرین کے مشاہدات اور تشخیص کے پیمانوں اور علامات کی نشاندہی کو یورپ اور بعد میں شمالی امریکہ میں پذیرائی حاصل ہوئی ان میں ایک نام شنائڈر کا ہے انہوں نے اپنے مشاہدات کو فرسٹ رینک سمپٹمز کا نام دیا جو مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ مریض اپنے خیالات آوازوں کی صورت سنتا ہے۔
2۔ مریض دو یا دو سے زیادہ لوگوں کی غائبانہ آوازیں سنتا ہے وہ اس کے بارے میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ آوازیں مریض سے مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ اس کے متعلق گفتگو کر رہی ہوتی ہیں۔
3۔ مریض کو ایک ایسی غائبانہ آواز سنائی دیتی ہے جو اس کے ہر کام پر اپنی رائے دیتی رہتی ہے۔
4۔ مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے اپنے خیالات کسی اور کی دسترس میں ہیں اس طرح کوئی بیرونی طاقت یا تو اس کے ذہن میں بیرونی خیالات ڈالتی ہے یا اس کے ذہن سے اس کے خیالات نکالتی ہے
THOUGHT INSERTION
(Withdraw Thought) ۔
5۔ مریض کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے خیالات دوسرے لوگوں تک نشر ہو رہے ہیں اور وہ اس کے ذاتی خیالات سے واقف ہو جاتے ہیں۔
THOUGHT BROADCASTING
6۔ مریض کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اعمال بھی بیرونی طاقتیں کنٹرول کر رہی ہیں۔ وہ جیسے کسی خارجی طاقت کے زیر اثر ہے جیسے ہپناٹزم میں ہوتا ہے اور اس طرح وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار نہیں۔
7۔ مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے جسم کے احساسات بھی چاہے وہ لمس کے ہوں یا حرارت کے، خارجی طاقتوں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
8۔ مریض عجیب و غریب واہمے کا شکار ہوجاتا ہے۔
کوئی چیز دیکھتا ہے اور ساتھ ہی کسی ایسی چیز پر یقین کرنے لگتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر وہ سڑک پر چلتے ہوئے ایک پولیس افسر کو دیکھتا ہے اور یقین کر لیتا ہے کہ وہ اسے گرفتار کرنے آ رہا ہے۔
یہاں اس حقیقت کا اظہار اہم ہے کہ ہر مریض میں یہ تمام علامات موجود نہیں ہوتیں لیکن ان علامات کی نشاندہی ہمیں مرض کی تشخیص میں مدد دیتی ہے۔
اقسام
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ شائزوفرینیا بہت سی بیماریوں کا مجموعہ ہے اور چونکہ ابھی ہم تحقیق کے اس مرحلے تک نہیں پہنچے کہ ان بیماریوں کو مختلف طریقوں سے جدا کرسکیں اس لیے ہم ان سب کو ایک ہی بیماری کا نام دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ شائزوفرینیا ہے تو ایک ہی مرض لیکن اس کی بہت سی اقسام ہیں :
Paranoid-1
اس قسم کی بنیادی علامت مریض کا شکی مزاج ہونا ہے مریض ہر چیز اور ہر شخص پر شک کرنا شروع کر دیتا ہے اور مختلف توہمات کا شکار ہوجاتا ہے اکثر اوقات مریض یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی لگا ہوا ہے اور اس کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ بعض دفعہ مریض سمجھتا ہے کہ اس کا شریک حیات اسے زہر دینا چاہتا ہے کبھی وہ یقین کرنے لگتا ہے کہ شہر کی پولیس اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے اور بعض دفعہ مریض کہتا ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی اسکینڈل کا حصہ بن گیا ہے۔ ایسی صورت میں مریض کی کتنی بھی تسلی کی جائے یا دلیلوں سے ثابت کیا جائے کہ وہ جن چیزوں پر یقین رکھتا ہے وہ حقیقت نہیں اس کا واہمہ ہیں لیکن وہ اسے نہیں مانتا۔
Hebephrenic-2
اس قسم میں مریض کی حالت بہت جلد خراب ہوجاتی ہے اور وہ بچوں جیسی حرکتیں کرنا شروع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعمال اور گفتگو سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ بعض کے خیال کی رو اتنی زیادہ متاثر ہوتی ہے کہ اس کے لیے عام گفتگو یا تبادلہ خیال کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
Catatonic-3
اس قسم میں مریض یا تو اتنا پریشان ہوجاتا ہے کہ اس کے اعمال میں تندی اور تیزی اور گفتگو میں شدت پیدا ہوجاتی ہے اور یا وہ اتنا خاموش اور بے حس و حرکت ہوجاتا ہے کہ اس پر بت کا گمان ہونے لگتا ہے اگر وہ مریض ایک جگہ کھڑا یا بیٹھا ہو یا لیٹا ہوتا ہے تو گھنٹوں وہیں کھڑا یا بیٹھا یا لیٹا رہتا ہے اور بالکل کسی سے گفتگو نہیں کرتا۔
Simple-4
چند دہائیاں پہلے یہ تشخیص بہت استعمال کی جاتی تھی لیکن اب ماہرین یہ نام استعمال نہیں کرتے۔ یہ تشخیص ان مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی جن کی ذہنی صحت آہستہ آہستہ رو بہ ہوتی جاتی تھی ان کی داخلی کیفیت بدتر ہوتی جاتی تھی لیکن بظاہر مرض کی روایتی علامات ظاہر نہ ہوتی تھیں۔
Latent-5
یہ تشخیص بھی اب مقبول نہیں رہی۔ ایک زمانے میں ماہرین کا خیال تھا کہ اگر مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں لیکن مریض کی شخصیت اور طرز زندگی میں ایسے آثار موجود ہیں جن سے خطرہ ہے کہ اگر مریض کو کسی نفسیاتی دھچکے یا بحران کا سامنا کرنا پڑا تو وہ بیمار ہو جائے گا تو وہ اسے خفیہ مرض کہتے تھے لیکن اب جب تک مرض کی علامات ظاہر نہ ہوں ہم تشخیص نہیں کرتے۔
Schizoafective-6
یہ وہ مریض ہیں جن میں شائزوفرینیا کے علاوہ ڈپریشن یا مینیا کی علامات بھی نظر آتی ہیں، ایسے مریض اکثر اوقات شائزوفرینیا کے باقی مریضوں کے مقابلے میں علاج سے جلد بہتر ہو جاتے ہیں۔
Postpartum-7
بعض دفعہ شائزوفرینیا کی علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب عورت بچے کی پیدائش کے بحران سے گزرتی ہے۔ اس صورت حال میں ماں کے علاج کے ساتھ بچے کی نگہداشت بھی اہم ہوجاتی ہے۔
Childhood Schizophrenia-8
بعض بچے بچپن سے ہی سنجیدہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور عام بچوں کی طرح ماں باپ سے محبت اور پیار کا اظہار نہیں کرتے اور ماں باپ کے لیے بھی ان کی نگہداشت مشکل ہوجاتی ہے۔ بچوں کے بہت سے ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ بچوں کا شائزوفرینیا جوانوں کے شائزوفرینیا سے ایک مختلف بیماری ہے۔
شائزوفرینیا کی یہ اقسام اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ یہ واضح ہو سکے کہ اگرچہ ہم اس بیماری یا بیماریوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں لیکن جو نہیں جانتے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو ہم جانتے ہیں اس لیے ہمیں امید ہے کہ آئندہ کی تحقیق ان گتھیوں کو سلجھا سکے گی۔ (جاری ہے۔ اگلی قسط میں ہم علاج کی بات کریں گے )


