کیا اگلا کالم مجھے کتوں پہ لکھنا پڑے گا؟


کالونی میں شادی تھی اور مزے کی بات یہ تھی بلکہ میرے لئے ایسی صورت حال بہت خوش کن ہوتی ہے جس میں کچھ عام ڈگر سے ہٹ کر ہو۔ بات کچھ یوں تھی کہ یہ شادی بین المسالک تھی، لڑکی سنی تھی اور لڑکے کا تعلق شیعہ فقہ سے تھا اور نکاح خواں قریبی مسجد اہلحدیث سے آیا اور سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ لڑکی کا خاندان مسلم لیگی تھا اور لڑکے کا خاندان عمران خان کی محبت میں مبتلا مگر کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوئی اور محبت فاتح عالم ٹھہری۔ آج دونوں خاندان محبت و روشن خیالی کی شمع جلائے ایک دوسرے کے مذہبی و سیاسی خیالات کا احترام کرتے ہوئے متنازعہ اور ریڈ لائن کو کراس نہیں کرتے۔ یہ صورتحال جہاں نہال کرتی ہے وہیں دور تک سوچنے پہ مجبور کرتی ہے۔

تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو مجھے یاد ہے ذرا ذرا

یاد کیجیے وہ وقت جب نواز شریف اور بی بی بے نظیر بھٹو ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے پیلی ٹیکسی اور فحش تصاویر اور دوسری جانب سے ٹانگ کھینچنے کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے ایک دوسرے کی حکومتیں اسٹیبلشمنٹ کی عینک لگا کر کرپشن کے الزامات میں لپیٹ کر گرائی گئیں۔ بہت سا وقت اس چوہے بلی کے کھیل میں گزرا دونوں کو سیاسی عمل نے کچھ عقل و حکمت عطا کی اور چارٹر آف ڈیموکریسی سائن ہو گیا، اسٹیبلشمنٹ کے کان کھڑے ہوئے۔

سیاستدان کی اگلی فتح آئین کے ماتھے پہ داغ ندامت 58 / 2 بی کو جسے آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا جس کو ظلمت وقت نے صدر کو راون کی طرح دس ہاتھ عطا کر دیے تھے اور شاید آپ کو یاد ہو کہ اس وقت ایوان صدر غلام گردشوں کی طرح سازشوں کا گڑھ ہوا کرتا تھا، کو 1997 ء میں تیرہویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گویا سانپ کے زہر بھرے دانت نکال دیے گئے مگر وائے قسمت اسٹیبلشمنٹ اس پہ شدید برافروختہ تھی اور اس پر مزید تڑکہ اس وقت لگا جب 2006 ء میں بے نظیر اور نواز شریف نے مل کر میثاق جمہوریت سائن کر لیا اور یہ طے کر لیا کہ اب وہ اسٹیبلشمنٹ کا مزید مہرہ نہیں بنیں گے۔

پھر کیسے عمران خان کی پرورش فوجی نرسری میں ہوئی، منتخب جمہوری حکومت کے خلاف دھرنے کی بلیک میلنگ، بدزبانی کا ایک نیا طوفان، سوشل میڈیا انجنیئرنگ، سلیبریٹی ایکٹرز، پیڈ لکھاری، یوٹیوبرز، آرمی، ریٹائرڈ آرمی، میڈیا، سوشل میڈیا، ففتھ جنریشن وار۔ غرض اسٹیبلشمنٹ نے سارے پتے ایک شخص اور جماعت پہ جھونک دیے۔ آرمی پبلک سکول سانحہ دھرنے کے اختتام کی وجہ بنا کہ حکومت نے بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور پھر ایک جمہوری وزیر اعظم کو نا اہل کر کے فارغ کر دیا گیا۔

عمران حکومت، بدترین کارکردگی، لوگوں میں شدید مایوسی اور بددلی کا استعارہ بنی۔ کئی قریبی لکھاری دوست پی ٹی آئی سے باغی ہوتے دیکھے اور پھر حالات کی نزاکت و سازش دیکھ کر ملکی سیاسی جماعتوں نے ایوان میں تحریک عدم اعتماد کے تحت اس حکومت کو چلتا کیا اور پی ڈی ایم نے حکومت بنا لی۔

عمران خان ایک خوش قسمت شخص ہے کہ اس کے ووٹرز نے اس کی تمام غلطیاں بھلا کر اس کے حق میں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز اٹھائی اور سسٹم میں موجود سہولت کاروں کی بدولت وہ پھر سے ہیرو بن گیا۔

حالانکہ اسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہم جیسے خاموش اور بہت سے لوگ عرصے سے لکھ رہے تھے اور گالیاں کھا رہے تھے، عمران نے حسب معمول ٹرن لیا اور باجوہ کو عوامی غیض و غضب کے سامنے کر دیا جبکہ یہی باجوہ کبھی ان کا ہیرو ہوا کرتا تھا۔

اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور پرانی بات نہیں۔ اور آج اگر عمران خان تمام تر اشتعال انگیزی، توڑ پھوڑ ملکی و فوجی تنصیبات کو نذر آتش کر کے، ایک جنرل کے لئے ڈرٹی ہیری کا نام تفویض کر کے اور لغو زبان استعمال کر کے پھر ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے تو اسے یہ عقل سیکھنے میں مزید کتنے برس درکار ہیں کہ یہ ہاتھ اس ملک کے سیاستدانوں کی جانب بڑھا لیا جائے۔ ستر برس کے ایک بزرگ کے پاس بطور سیاسی جماعت کے سربراہ کے کون جانے اتنا وقت ہے کہ وہ یہ سبق آئندہ برسوں میں سیکھ سکے تو کیا بہتر نہ ہو گا کہ وہ مار دو ، جلا دو ، گرا دو ، پیس دو ، نہیں چھوڑوں گا کی پالیسی کو چھوڑ کر اس ملک کے سیاستدانوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا لے کیونکہ وہ خود ایک سیاست دان ہے۔

اور یہی اپیل میں نواز شریف اور زرداری سے کروں گی، اعتراف کہ نواز شریف کو اس بات کا دکھ و غصہ ہے کہ ایک جمہوری حکومت کو سازش کے تحت اور ناقابل تلافی حد تک فیور دے کر گرایا گیا، ایک شخص کو دیوتا بنا کر بشمول اس کے سب سیاستدانوں کی تذلیل کی گئی۔ شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ مریم نواز، نواز شریف کو نیب مقدمات میں جیل میں ڈالا گیا حتی کہ جنگ اخبار کے شکیل الرحمن کو بلا تقصیر جیل میں بند کیا گیا۔ مگر ۔ ایک اور مگر باقی ہے :

آپ لوگ سیاستدان ہیں ہمارے نمائندے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اپنے ووٹ کی طاقت سے آپ کو ووٹ کے ذریعے منتخب کر کے حکومت کرنے کا حق دیں۔

اس وقت ملک کی کوئی سیاسی جماعت نہ تو نظریاتی ہے اور نہ جمہوری کہ جس میں خود باضابطہ الیکشنز ہوتے ہوں۔

ایک ایجنڈا آپ کو سب نفرت بھلا کر ایک میز پہ بٹھا سکتا ہے وہ ہے اسٹیبلشمنٹ کو بالکل پیچھے بیرکوں میں دھکیل دیا جائے وہ آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے بس اپنا کام کریں۔

اور یہ بھی سوچیے کہ وہ کون سی قوت ہے جو آپ کو ایک نہیں ہونے دیتی؟! وہ قوت کیا آپ کی مشترکہ دشمن نہیں؟

اور اگر نواز، زرداری مولانا فضل الرحمن اور عمران خان آپ لوگ اپنی جھوٹی ضد اور انا کے ہاتھوں یہ موقع گنوا دیتے ہیں تو یہ عوام آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

یہ وقت ہے پی ٹی آئی کے متشدد ورکرز کے ہوش کرنے کا کہ آپ کا لیڈر ایک عام انسان ہے نہ کوئی اوتار نہ ولی نہ منتخب اور چنیدہ۔ اس نے ویسی ہی غلطیاں اور جرائم کیے ہی جیسے کہ باقی سیاستدانوں نے کیے ہیں۔ ان کو بس سیاستدان سمجھ کر چلیں اور اپنے ملک کی سلامتی، اداروں اور جمہوریت پہ فوکس کریں، اپ اسے دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں یہ آپ کا جمہوری حق ہے اور اس کو لانے میں میری آواز آپ کے ساتھ ہے مگر آپ یہ کہیں کہ اور کوئی نظر نہ آئے اور نہ کسی اور کو حق حکومت و سیاست ہو تو یہ عمل غیر جمہوری ہو گا۔

یہ وقت ہے نفرت ضد و انا کو بھلا کر ایک ایجنڈے پہ اکٹھے ہو کر الیکشن کو پلان کرنے کا ۔
عمران خان کو اگر اپنی عوامی قوت پہ اس قدر ناز ہے تو وہ اداروں کی تقسیم پہ کیوں مصر ہے؟

اور آخر میں یہ عرض کروں گی کہ میز پہ بیٹھ کر الیکشن کی شفافیت، سیٹ ایڈجسٹمنٹ و دیگر امور پہ بات کر کے الیکشنز کی جانب سفر کیجیے۔

الیکشن کوئی کھیل نہیں، وہ جتھوں کا کوئی خونی ڈرامہ بھی نہیں، عمران خان کے خلاف ایک مضبوط ووٹ بینک موجود ہے، جلسوں، دھرنوں اور جتھوں کی زبان کچھ اور ہوتی ہے، اس خونی جلاؤ گھیراؤ میں جو زبان لوگوں کو عمران کے خلاف بولتے سنا وہ ناگفتنی ہے الیکشن انجنیئرڈ نہ ہوں تو ہر سیاستدان کو اپنی اوقات پتا چل جائے گی۔

اور اس وقت میری توقعات نواز شریف اور زرداری سے زیادہ ہیں کہ وہ میثاق جمہوریت کے بعد پی ڈی ایم کی صورت اکٹھے ہو سکتے ہیں تو تحریک انصاف جو ایک تیسری بڑی جماعت ہے اس کو دھارے میں لاکر معقولیت کی راہ پہ کیوں نہیں لایا جا سکتا؟!

عمران خان کی شدید ناقد ہونے کے باوجود میں یہ نہیں چاہوں گی کہ ایک سیاسی جماعت پہ اسٹیبلشمنٹ کے قہر کی بجلی گرے جس میں اس کی اپنی حماقتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ یہ عمل جمہوریت اور سیاستدانوں کو کمزور کرے گا۔

اچھا جملہ معترضہ کے طور پہ آخری بات سن لیجیے کیا آپ نے کبھی کتا پالا ہے؟ کتا لالچی حریص اور بیک وقت بہت محبت کرنے والا جانور ہے اس کو سدھانا مشکل امر ہے ایک ہاتھ میں ڈنڈا دوسرے میں مٹھائی رکھنا پڑتی ہے مگر اس تمام کے باوجود وہ کسی اجنبی کو آپ کے گیٹ کی طرف نیند کی حالت میں بھی دیکھنے نہیں دیتا اور یہی کتا اگر کبھی بدمعاشی کرنے پہ آ جائے تو ڈنڈا دکھا کر بٹھا دیں اور جب کبھی اس سے خوش ہوں تو شاباش کے طور پہ ٹریٹ دے کر گلے لگا لیں مگر اشتعال میں آ کر کبھی اپنے کتے کو ذبح نہ کیجیے کہ اس طرح گلی کے کتے آپ کو چیر پھاڑ کھائیں گے۔

مجھے لگتا ہے اگلا کالم مجھے کتوں پہ لکھنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS