ٹی وی کی امراؤ جان ادا!


ہم نے پٹا پٹ آنکھیں جھپکائیں۔ ”یہ۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اچھا خاصا حلیہ تو ہے ہمارا۔“

”اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ مگر یہ حلیہ شام کے وقت تیار ہونے والی ڈھلتی ہوئی عمروں کی دلہنوں کا ہے، جن کے میاں دن بھر کے تھکے ہارے اور سارے دن نظریں ’سینک‘ کر گھر میں داخل ہوتے ہیں تو شکی مزاج بیویوں کا ایسا ہی حلیہ ہوتا ہے، جیسا کہ آپ کا ۔ یہ انداز، طور اطوار ایک ملازمت پیشہ خاتون (یہ لفظ گولے کی طرح ہمارے حلق میں پھنس گیا) کے ہرگز نہیں۔ کیا سمجھیں؟ اس طرح تو آپ شام کو تیار ہوا کریں، اپنے میاں کے لیے۔“

”اس طرح تو وہ خود تیار ہوا کریں، ہمارے لیے۔“ ہم بلبلا کر بولے، ”کیوں کہ شام کو تو ہم داخل ہوتے ہیں گھر میں، بلکہ اکثر تو شام بھی یہیں گزر جاتی ہے۔ رات کے دو بجے جب گھر جاؤ تو یہ خرگوش بیچ کر سو رہے ہوتے ہیں تو ان کو تیار ہو کر خاک دکھائیں۔ صبح ہی صبح چلتے وقت ایک نظر دیکھ لیتے ہیں اور بس۔“ ہماری آواز حلق میں ہی گھٹ گئی۔

مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسی اطمینان سے خلال سے دانتوں کو کریدتے ہوئے بولے، ”اور ہاں ایک بات اور پلے سے باندھ لیجیے کہ اس حلیے میں آپ میراثیوں کے سامنے مت چلی جائیے گا، ورنہ شام تک ان کے ساز نہیں ملیں گے آپس میں اور ہماری ساری ریکارڈنگ کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ کیا سمجھیں؟“

”ان کم بختوں کے تو ویسے ہی سارے تار ہلے ہوئے ہیں۔ ہمیں دیکھ کر کیا ہلکا بھاری ہو جائے گا؟“

”آپ کو اندازہ نہیں ہے اس طرح ان کا ایمان بھی خراب ہوتا ہے اور عاقبت الگ بگڑتی ہے“ وہ اسی سنگین سنجیدگی سے داڑھی کو کھجاتے ہوئے بولے۔

”تو کیا ہم اپنی ’اصلی‘ صورت میں یہاں آیا کریں؟“

”نہیں! اب ایسا غضب بھی مت کیجیے گا (وہ تڑپ کر سیدھے ہو گئے ) پھر تو یہاں دور دور تک انسان کا سایہ بھی نہیں نظر آئے گا۔“ ہنسی ان کی آنکھوں میں ناچ سی گئی اور ہماری آنکھوں سے بے بسی اور غصے کے لپکے نکلنے لگے۔

بخدا ہم نے زندگی میں آج تک کسی کو کبھی کوئی بڑی گالی نہیں دی، مگر اس دن ہم نے گالیاں سننے پر خاصا دھیان دیا اور پھر گھر آ کر پہلے ہی سلام کے بعد میاں کے سامنے خوب کلس کلس کر وہ گالیاں عالی جاہ کو دے ڈالیں۔ یہ سکتے کے عالم میں بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔ پھر بھرائی ہوئی آواز میں بولے۔

”بیوی! میں تم میں اچھا خاصا چینج دیکھ رہا ہوں۔ تم، تم فوراً یہ نوکری چھوڑ دو ۔“

ہم نے تڑپ کر کہا، ”کیوں۔ کیوں چھوڑ دیں یہ نوکری؟ البتہ ہم عالی جاہ کو نہیں چھوڑیں گے، چلیں ہمارے ساتھ ایکسپریشن“ ۔ اور ہم ان کے ساتھ جاکر چار چھ جوڑے لے آئے۔ اگلے دن جب کمرے میں داخل ہوئے تو عالی جاہ نے ہمیں سر سے پاؤں تک گھورا اور ایک مسکراہٹ انتہائی کنجوسی سے ان کی آنکھوں کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔ کہنے لگے، ”بی بی اب ہم نے یہ بھی نہیں کہا تھا کہ اپنے میاں کے کپڑے پہن کر آ جاؤ!“

”یہ؟ یہ میاں کے کپڑے ہیں؟“ ہم تلملا کر رہ گئے۔

”بخدا! اب ہم نے یہ بھی نہیں چاہا تھا کہ امراؤ۔ جان ادا۔ ‘مرزا ہادی رسوا کا روپ دھار لے’ وہ مکاری سے مسکرائے۔

اور پھر دوسرے دن ہم پھر پرانے پہناوے پر واپس آ گئے۔ ہماری خوش لباسی کے لگتا تھا کہ سب ہی معترف تھے۔ یہاں تک کہ انجینئرز بھی کرید کرید کر پوچھا کرتے تھے کہ ہاں تو یہ یاقوت کے ٹاپس آپ کی ساس اماں نے بھجوائے ہیں اور یہ فیروزے کی انگوٹھی آپ کو امی کی طرف سے ملی ہے۔ اور ہم اپنے بھولپن میں اور زیادہ تفصیل سے انہیں نگوں کا حساب بھی بتا دیا کرتے تھے۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ درپردہ ان کی آنکھوں کے ’خفیہ‘ اشاروں میں کون سی شرارت ناچا کرتی ہے۔

ایک دن عالی جاہ خاصے تپے ہوئے تھے۔ گال اتنے ’انگارا‘ ہو رہے تھے کہ آرام سے ان پر روٹیاں سینکی جا سکتی تھیں۔ لگتا تھا کہ بیگم نے چمٹا، بیلن، ڈوئی، سب استعمال کر لیا ہے۔ بات بے بات کاٹنے کو دوڑ رہے تھے۔ ہمیں نئے جوڑے میں دیکھ کر چٹخ گئے اور جھلا کر بولے، ”یہ آپ اتنا تیار ہو کر کیوں آتی ہیں؟“

”تاکہ ہم دوسروں کو اچھے لگیں۔“ ہم نے انتہائی سادگی اور متانت سے کہا۔
”زہر لگتی ہیں آپ لوگوں کو ۔“

”یہ آپ الٹا آئینہ پکڑ کر کیوں کھڑے ہو گئے، رخ اپنی طرف موڑ لیں۔“ یہ کہہ کر ہم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

تلملا کر رہ گئے، ”پتا ہے لوگ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، چھیڑتے ہیں آپ کو آپ کی غیر موجودگی میں۔“ انہوں نے پنجے باہر نکال لیے۔

”کسی لڑکی کو اس کی غیر موجودگی میں ہرگز نہیں چھیڑا جاسکتا۔“ ہم نے ضبط اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
”یہ آپ ہر وقت۔ امراؤ جان ادا کیوں بنی پھرتی ہیں؟“ وہ مزید چٹخے۔

”امراؤ؟“ ہماری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ”بخدا! ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ’مرزا ہادی رسوا‘ کا یہ ناول لکھا کس نے ہے اور قسم خدا کی ہم نے تو ’ریکھا‘ کو بھی امراؤ کے روپ میں نہیں دیکھا تو کاپی کس کی کریں؟“

”ہاں، جیسے کچھ پتا ہی نہیں ہے آپ کو ، بہت ہی بھولی ہیں آپ۔“ وہ عورتوں کی طرح تلملائے۔
”وہ تو ہیں، اس میں کیا شک ہے۔“ ہم بھی مکاری سے مسکرائے۔
”دیکھیے، آپ ایسا کریں کہ ’سفر‘ (سیریل) والوں کے ساتھ اپنی ایلوکیشن کرالیں۔“
”کیوں؟ آپ کا ایمان خراب ہوتا ہے ایسے؟“ ہم نے انتہائی معصومیت سے پوچھا۔

”نہیں! میں چاہتا ہوں کہ تھوڑا سا ’ایمان‘،  ’ان‘ کا بھی سنور جائے۔ آخر وہ بھی تو کچھ عاقبت کے بورے سمیٹ لیں۔ بس میں بھر پایا، جہاں جاتی ہیں کام رک جاتا ہے، بجائے آگے بڑھنے کے۔“

”بخدا! ہم تو بہت شور مچاتے ہیں کہ جلدی جلدی کام کرو مگر ، اگر ہمیں دیکھ کر ان کے ہاتھ رک رک کر چلنے لگتے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؟“ ہم نے بڑا سوکھا سا منہ بنا کر کہا۔

”اس میں ان کا کیا قصور؟“ انہوں نے پینترا بدل کر ہمارا وار ہمیں پر لوٹا دیا۔ پندرہ بیس منٹ تو انہیں آپ کا جائزہ لینے اور آپ کو سمجھنے میں لگ جاتے ہوں گے۔ اور جو دس منٹ بچ جاتے ہوں گے، اس میں شور مچا مچا کر ان کے دماغ کے ساتھ ساتھ ان کے کان بھی ’پٹ‘ کر دیا کرتی ہوں گی۔ ”

”ہم اتنا شور صرف گھر میں مچاتے ہیں۔“

”آپ گھر اور دفتر میں ’امتیاز‘ ہی کب برتتی ہیں۔ اسٹوڈیو سے یوں برآمد ہوتی ہیں، جسے ڈرائنگ روم سے نکل رہی ہوں۔“

”اچھا جائیے اور جاکر خان صاحب سے کہہ کر ہم سے اپنی جان چھڑا لیں۔“ ہم بھی جھلا کر بولے اور وہ فوں فاں کرتے، پی ایم آفس کی طرف چلے گئے۔

ایک گھنٹے بعد جب برآمد ہوئے تو ہارے ہوئے مرغے کی طرح پر دونوں طرف کو لٹکے ہوئے تھے۔ منہ ستا ہوا، آنکھیں ہلکی سی سوجی ہوئی۔ لگتا تھا ظہیر خان صاحب سے گلے لپٹ کر خوب روئے ہیں۔

”کیوں کیا ہوا؟“ ہمدردی کی ایک انجانی سی لہر ہمارے دل میں دوڑ گئی۔ ”کوئی ملا ’ڈھنگ‘ کا اسسٹنٹ؟“

”جی، نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔“ دکھ کی پرچھائیاں ان کی آنکھوں میں ہلکورے لینے لگیں۔ ”نئی ایلوکیشن لسٹ آ گئی ہے۔ اس سہ ماہی میں، میں اور آپ مل کر کمبائین پروڈکشن کریں گے، کیوں کہ ’ماشاء ا اللہ‘ اب آپ معاون سے فل فلیج پروڈیوسر بن گئی ہیں۔“ دکھ کے مارے ہلکان ہو کر انہوں نے میز پر سر ڈال دیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2