پاکستان میں وزیراعظم کا سب سے بڑا مسئلہ بے اختیار ہونا ہے: معروف صحافی اور کالم نگار فیض اللہ خان سے مکالمہ


جب ایک سیاسی راہ نما نے پرنم آنکھوں کے ساتھ، قید و بند کی صعوبتوں اور زنداں کی گرمی کا ذکر کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیا، تو میرا دھیان فیض اللہ خان کی داستان کی سمت چلا گیا۔

فیض اللہ خان، جسے افغانستان کی اجنبی سرزمین پر قید و بند کا عذاب جھیلنا پڑا۔ جرم اس کا شوق صحافت تھا، جس کا تعاقب کرتے ہوئے وہ افغان طالبان کے انٹرویوز کے ارادے سے، خفیہ طور پر افغانستان میں داخل ہوئے۔ واپسی کے سفر میں گرفتار کر لیا گیا۔ تین ماہ جیل میں گزرے۔ قید کے اس کرب کو فیض اللہ خان نے کچھ یوں بیان کیا:

”اپریل، مئی اور جون کی غضب ناک گرمی میں نے جلال آباد کی جیل میں گزاری۔ لوڈ شیڈنگ کے بعد 5 بندوں کی گنجائش والے کمرے میں 22 افراد کے ساتھ رہنا، پھر پسینہ اور گرمی دوہرا عذاب تھا۔ بیرک مکمل بند ہوتی تھی، ایسے میں کھانے کے چولھے بیرک کو جہنم بنا دیتے۔ جیل دوستانہ نہ تھی، بس خدا کا ہی سہارا تھا، مگر مشکل وقت کٹ گیا۔“

ان کی گرفتاری نے عالمی خبر رساں اداروں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستان میں بھی شور اٹھا۔ کراچی سے قبائلی علاقوں تک؛ صحافتی تنظیم متحرک ہوئیں۔ ان کے چینل نے اس پر تواتر سے پروگرام کیے۔ ان کی اہلیہ سنعیہ کا کردار کلیدی رہا۔ نوبل انعام یافتہ، ملالہ یوسف زئی نے بھی افغان حکومت سے خصوصی درخواست کی تھی۔ یوں قوم کی دعاؤں سے یہ مرحلہ طے ہوا۔ فیض یہ داستان اپنی مشہور زمانہ کتاب ”ڈیورنڈ لائن کا قیدی“ میں درج کر چکے ہیں۔

فیض اللہ خان کا صحافتی سفر دو عشروں پر محیط ہے، اس وقت ایک اے آر وائی نیوز سے بطور سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ سماجی مبصر کی حیثیت سے بھی متحرک ہیں۔ اب فیس پر کم ہی دکھائی دیتے ہیں، مگر ٹویٹر پر مصروف ہیں۔ اسی مصروفیات میں کچھ وقت ہمیں عنایت کیا، لیجیے، انٹرویو حاضر ہے :

اقبال: ایک عرصے سے الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیں، اس شعبے کا مستقبل کیا دکھائی دے رہا ہے؟

فیض: چند بڑے چینلز کو چھوڑ کر باقی جگہوں پہ صورت حال بہت اچھی نہیں، لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ نئے چینلز آرہے ہیں، صحافیوں کی نوکریاں ہو رہی ہیں، مگر مارکیٹ میں رہنا مقابلہ کرنا آسان نہیں رہا، اور الیکٹرانک میڈیا کا مستقبل بہت روشن نہیں، ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کئی چینلز مالکان کا اصل مقصد پہلے سے موجود اپنے کاروبار اور مفادات کا تحفظ، طاقت ور اداروں سے مراسم اور اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی ہے۔

اقبال: کیا یہ سچ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو نگل لیا؟

فیض: کوئی بیس برس پہلے الیکٹرانک میڈیا نے پرنٹ کو جو چیلنج دیا تھا، کم و بیش اسی طرح کا چیلنج ڈیجٹل نے الیکٹرانک میڈیا کو دے رکھا ہے، مگر پرنٹ میڈیا اب بھی موجود ہے۔ گو کہ قارئین اخبارات کی صفحات محدود ہوچکے، مگر الیکٹرانک اور ڈیجٹل میں یہ ہوا ہے کہ تمام چینلز اب ڈیجٹل سیکشن پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ بڑے چینلز تو پہلے سے یہ کام کر رہے تھے، چھوٹے بھی اب آگے بڑھ رہے ہیں، کیوں کہ مستقبل یا اگلے چند برس ڈیجیٹل میڈیا ہی کے ہیں، الیکٹرانک میڈیا موجود تو رہے گا، مگر ڈیجٹل کی اہمیت موبائل کی وجہ سے بڑھ چکی ہے۔ من چاہا پروگرام وقت کے قید سے ماوراء ہو کر، کہیں بھی دیکھا جاسکتا ہے، موبائل کے وسیلے اسکرین جیب میں سما چکی، یہی ڈیجیٹل میڈیا کی کامیابی ہے۔

اقبال: ایک کتاب لکھی، زندگی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ بیان کیا، واقعات تو اور بھی ہیں، کیا انھیں بیان کرنے کا ارادہ ہے؟

فیض: واقعات بہت ہیں۔ صحافت سے جڑے صحافت کے سوا زندگی کے تجربات زندگی کی کہانی، بلکہ عام پہاڑی پس منظر رکھنے والے بچے کی کہانی۔ اور اسے بیان کرنا بھی ہے۔ اس کا مقصد کہیں سے اپنی بڑائی نہیں، بلکہ آنے والوں کو حوصلہ دینا ہے کہ محنت، پیشہ ورانہ مہارت، مخلص دوست اور ماں باپ کی دعائیں کیسے راستہ بناتی ہیں۔

اقبال: افغانستان میں دوران قید کوئی ایسا واقعہ، ایسا منظر، جو ابھی صفحہ قرطاس پر نہیں، محض سینے میں دفن ہے؟

فیض: افغانستان میں دوران قید بعض واقعات ابھی کہیں بیان نہیں کیے۔ شاید کوئی مناسب موقع ہو، تو اس پر بھی بات کروں گا، بہرحال وہ خاصے تہلکہ خیز ہیں۔

اقبال: افغانستان میں آنے والی حالیہ تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اور کیا پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر اسی تبدیلی سے جڑی ہے؟

فیض: حال میں نوبل امن کے لئے نام زد ہونے والی افغان خاتون، جو بیس برس قبل یورپ سے افغانستان لوٹی تھیں، کا کہنا تھا کہ افغانستان کی بہتری کے لئے طالبان سے بات کرنا ضروری ہے۔ نہ کرنے سے صرف عام لوگوں کو نقصان ہو گا۔ اس وقت ممکن ہے کہ جنھیں آپ ان کا متبادل سمجھتے ہوں، وہ ان سے بھی برے نکلیں۔ میں اس خیال کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ باقی دہشت گردی وہاں سے جڑی ہے، بالکل ہے، مگر یہ مکمل جواب نہیں۔ جب تک ہم کسی مسئلے کی جڑ تک، حقائق تک نہیں جائیں گے، تب تک بلیک اینڈ وائٹ بیانات شاید عوامی توجہ حاصل کر لیں، کچھ جذبات کی سطح بھی بلند ہو جائے، مگر یہ معاملے کا حل نہیں۔ بہ ہرحال یہ الگ سے طویل موضوع ہے۔

اقبال: ٹویٹر پر آپ خاصے متحرک، عام خیال ہے کہ یہ پلیٹ فورم سیاسی و سماجی تبدیلی میں معاون ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟

فیض: سوشل میڈیا فورمز سب ہی پر اثر ہیں، مگر ٹویٹر کی افادیت ایک جن کی طرح ہے، جس کا فیس بک دور دور تک مقابلہ نہیں کر پاتا۔ ٹویٹر مختصر اور پراثر اظہار کی جگہ ہے۔ اور پھر چوں کہ سیاسی، سماجی، مذہبی، نجی اور سرکاری اداروں کے نمایاں افراد براہ راست موجود ہوتے ہیں، تو بات متعلقہ فورم تک پلک جھپکتے پہنچ جاتی ہے، مسئلہ حل ہونا نہ ہونا دوسرا پہلو ہے، مگر بات کا پہنچ جانا بہ ہرحال اہمیت رکھتا ہے۔ باقی وہاں سماجی سیاسی شعور کے ساتھ ہمارے اذہان میں موجود غلاظت اور ناقص گھریلو و سیاسی تربیت کے مظاہر بھی بدقسمتی سے عام ہیں۔

اقبال: کوئی ایک مشورہ، جو آپ عمران خان اور نواز شریف کو دینا چاہیں؟

فیض: عمران خان اور نواز؛ دونوں اس بات پہ متفق ہیں کہ پاکستان میں وزیراعظم کا سب سے بڑا مسئلہ اختیار کا نہ ملنا ہے، دونوں وزرائے اعظم کے منصب پر وقت گزارنے کے بعد اس بات یکسو و متفق ہیں، مگر عوام کے سامنے یہ کہتے انا آڑے آجاتی ہے۔ براہ مہربانی طاقت ور پارلیمان کی خاطر انا ایک طرف رکھ دیں۔ میاں صاحب کو اضافی مشورہ یہ ہے کہ پارٹی کو گھر اور پنجاب سے باہر بھی نکالیں، خاص کر کراچی جسے دہائیوں سے سیاسی طور پہ چھوڑ رکھا ہے۔

اقبال: کراچی ہی پر بات کرتے ہیں۔ یہ آپ کا شہر ہے، مگر یوں لگتا ہے، کچھ عرصے سے یہ شہر لاوارث ہے، اس کی بہتری کے لیے کیا تجویز ہے؟

فیض: کراچی کی بہتری طاقت ور بلدیاتی نظام میں ہے۔ پیپلز پارٹی سمیت یہاں بسنے والی لسانی اکائیوں بشمول پشتون پنجابی کشمیری گلگتی سرائیکیوں کو اسے ویسے ہی اون کرنا ہو گا، جیسا کہ اس کا حق ہے، کیوں کہ اس شہر نے صوبے نے بہت کچھ دیا ہے۔

پیپلز پارٹی میں جب تک کراچی سے تعلق رکھنے والے اچھے، نیک نام چہرے شامل ہو کر شہر کے لئے کام نہیں کریں گے، یہ یونہی رہے گا۔ بدقسمتی سے نواز شریف مولانا فضل الرحمان نے بھی اس شہر کو مکمل نظر انداز کیا۔ لے دے کر ایم کیو ایم، تحریک انصاف یا جماعت اسلامی شہر کی بات کرتی رہی ہیں۔ تو جب قد آور لیڈر شہر پر بات ہی نہیں کریں گے، تو شہر کیسے آگے بڑھے گا؟

اقبال: ادب پر بات ہو جائے۔ کس قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں؟ شاعر کون سا پسند، ادیب کو سا اچھا لگا؟

فیض: تاریخی کتب سے اب بھی دل چسپی ہے۔ مذہب و ادب کو بھی خوب پڑھا۔ اب طویل عرصے سے کوئی کتاب مکمل نہیں کر سکا۔ موبائل نے بہت ساری سرگرمیاں ترک کرا دیں۔ بہ طور ادیب عبد اللہ حسین اچھے لگے۔ جمال احسانی، قابل اجمیری، فیض، اقبال، جون، افتخار عارف احسن عزیز صاحبان بھی پسند ہیں۔

اقبال: کس طرح کی فلمز دیکھتے ہیں؟ کس اداکار کا کام پسند؟

فیض: ذاتی طور پہ مجھے ہلکی پھلکی فلمیں پسند ہیں۔ جذباتی مناظر پر آج بھی آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ انگریزی فلموں میں مجھے پرانے زمانے کی بنی فلمیں پرکشش لگتی ہیں۔ ایکشن فلموں میں گلیڈی ایٹر اچھی لگی۔ ٹام کروز، انتونیو بیندراس کی اداکاری اور فلمیں بہت پسند ہیں۔ ہندی سینماء میں عامر خان کی اداکاری پسند ہے اور موضوعات بھی، تامل فلمیں بالکل نہیں دیکھتا۔ ویب سیزن البتہ مختلف دیکھ رکھے ہیں، اور اب لگتا ہے کہ فلموں سے زیادہ ان میں کشش ہے۔ مارویل سیریز پوری دیکھ رکھی ہے وہ بھی اچھی لگی۔

اقبال: پاکستان کا مستقبل کیسا دکھائی دے رہا ہے؟

فیض: پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی زیادہ ہے، امید کم ہے، خدا کرے کہ ہمارے خدشات بالکل غلط نکلیں۔ کیوں کہ ہم جیسے کروڑوں لوگوں کے پاس پاکستان کے سوا کوئی آپشن نہیں چاہے، یہ ملک آباد رہے یا برباد ہو (خدانخواستہ) ۔

اقبال: نوجوانوں کو کوئی مشورہ؟ خاص کر صحافت کے حوالے سے۔

فیض: نوجوان کوشش کریں اپنا کاروبار کریں، صحافت میں آنے سے بہتر ہے اپنا یوٹیوب کھول لیں۔ صحافت میں تب آئیں، جب کچن کے معاملات پورے ہوں، کیوں کہ پھر صحافت سے خوب صورت شعبہ دوسرا ہے ہی نہیں، مگر کلی انحصار اس پہ ہے تو خاصی مشکلات ہیں۔ نوجوان شارٹ کٹ کے بجائے اچھی تعلیم ہنر کو توجہ دیں، اور بہتر یہی ہے پاکستان سے باہر مستقبل تلاش کریں۔ بروقت اچھے فیصلے پروفیشنلز کے مشورے سے کریں، تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔ تعلیم وہ حاصل کریں، جس میں دل چسپی ہو یا دل جمعی سے کام کرسکیں، بھیڑ چال سے گریز کریں۔ اپنی شخصیت و صلاحیت کا جائزہ لیں، تاکہ بعد میں جاکر وقت ضائع ہونے کا احساس نہ ہو۔ وقت بہت قیمتی دولت ہے، جو فی الحال مفت میں میسر ہے، مگر اسے غلط فیصلوں میں ضائع نہ ہونے دیں۔

Facebook Comments HS