مقدس گائے
پاکستان میں پچھلے پچھتر سال سے جو کچھ ہو رہا ہے۔ ہم سب کے سامنے ہے۔ اتنے سالوں میں ادارے تنزل کا شکار ہی ہوئے ہیں چہ جائے کہ ’پروفیشنل معیار‘ تک پہنچتے۔ خود احتسابی کو متعارف کرواتے۔ ’کرپشن فری‘ نظام جس پر عام بندے کی رسائی ممکن ہو، کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اپنی ’ڈومین‘ میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں اور فرائض انجام دیتے۔ کیونکہ ہمیشہ سے حکومتیں، عدلیہ، فورسز، بیوروکریسی سب گٹھ جوڑ کر اپنا الو سیدھا کرتے آئے ہیں۔ جس کے گواہ ملکی تاریخ کے کئی سانحے ہیں۔ مثلاً پاکستان کا دو لخت ہونا، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور کئی سربراہان کی ناگہانی اموات، سانحہ ماڈل ٹاؤن، ارشد شریف اور کئی صحافیوں کا قتل و اغوا وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے ہم عوام کے سوالات کو دباتے اور ان کے ناراض لہجوں سے ڈرتے ہیں۔ آزادی رائے کے مخالف ہیں اور انھیں دبا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اور ساری قوت و وسائل اسی کام پر صرف کرتے ہیں لیکن عوامی محبت حاصل نہیں کر پاتے۔
کیونکہ ہم اب تک اس بات کا ادراک نہیں کر پائے کہ اداروں کا تعارف ان کا نام نہیں، کام اور کردار کرواتے ہیں۔ عدلیہ اگر انصاف مہیا نہ کر سکے تو اس کے در و دیوار کا اچار ہی ڈالا جا سکتا ہے۔ بیوروکریسی، اس سے متعلقہ عہدے داران اور دفاتر اگر عوام کے سہولت کار نہیں بن سکتے تو ان گنت سرکاری وسائل اور اختیارات کا بے حساب استعمال صرف سی۔ ایس۔ ایس کے ایک پرچے پر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر فوج اور اس کے ملازم ملک کی دفاعی خدمت کرتے نظر نہیں آتے اور فوج کے ٹیگ کو عزت، مرتبے، وقار اور سہولیات لینے کی مد میں ناجائز بروئے کار لاتے ہیں تو صرف فورسز میں شامل ہونے کی وجہ سے ’محبت کا ان لمیٹڈ‘ اکاؤنٹ کی کسی بھی ملک کے شہریوں سے توقع رکھنا یا تقاضا کرنا بچگانہ سوچ ہے۔ اور کیا پھر فوج کے سپاہی ہی ملک کے لئے لڑتے ہیں؟ پولیس میں بھرتی ہونے والے، روز پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے، جو عوام سے گالیاں بھی سنتے ہیں اور جوتے بھی کھاتے ہیں، کیا وہ اس ملک کے سپاہی نہیں؟ جن کی مراعات کے درجے بھی فوج کی نسبت کافی کم ہیں۔ پھر ’شہید‘ کا لفظ صرف فورسز کے ساتھ ہی کیوں نتھی ہے؟ ورنہ تو بے گناہ ذبح ہونے والے، علم کی راہ میں جان دینے والے، جنگوں اور دنگا فساد میں مرنے والے، سڑک حادثات میں جان دینے والے، ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے والے سبھی شہدا کے زمرے میں آتے ہیں۔ جن کو نہ تو مرنے کے بعد پلاٹ ملتے ہیں۔ نہ بچوں کی معاشی و تعلیمی کفالت، نہ بیوگی کے فوائد، نہ مفت صحت اور رہائش کی سہولیات۔
اداروں کی محبت، خون کے رشتوں کی مانند نہیں ہوتی کہ کتنی ہی رنجشیں ہو جائیں، ہمیشہ قائم رہے۔ بلکہ ادارہ کوئی بھی ہو، اسے عوام کو ’ڈیلیور اور پرفارم‘ کر کے دینا ہو گا۔ ورنہ بندوق کی نوک پر ’آئی لو یو‘ کہلوا بھی لیں، سیلوٹ مروا بھی لیں، سقوط ڈھاکہ کا قلق ختم نہیں کر پائیں گے۔ پھر عوام کے سامنے جوابدہی تو خلفائے راشدین تک کی ہوئی ہے۔ یاد ہے ناں وہ مشہور واقعہ جب بھرے مجمعے میں، حاضرین میں سے ایک نے سرعام حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک سے زیادہ چادریں استعمال کرنے پر سوال اٹھایا تھا کیونکہ ورنہ مال غنیمت سے سبھی کے حصے میں ایک چادر آئی تھی۔ اس کی ایسی جرات پر سر قلم کروانے کی بجائے انھوں نے تحمل اور بنا تیوری چڑھائے وضاحت دی تھی کہ ان کے پاس دو چادریں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بیٹے نے اپنی چادر بھی انھیں دے دی تھی کہ وہ طویل قامت تھے اور ایک چادر بدن ڈھانپنے کو ناکافی۔
حاکم وقت، اور سبھی ادارے عوام کی وجہ سے منتخب ہوتے ہیں اس کے ٹیکس سے چلتے ہیں۔ اس لئے ان کے اچھے، برے، میٹھے اور تلخ سبھی جذبات کو انھی کے سامنے ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ جو آپ کا اچھا، برا بھگتتے ہیں، وہی سوال بھی اٹھاتے ہیں اور کٹہرا بھی لگاتے ہیں۔ کہنا صرف یہ تھا کہ اداروں کو ’سیاہ اور سفید کی کیٹیگریز‘ میں مت ڈالیں۔ غیر متعصب اور غیر جذباتی نگاہ سے دیکھیں۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو فوج، بیورو کریسی اور ایسے کئی ادارے ہمارے ہاں مقدس گائے بن جائیں گے۔
ہندو گائے کو مذہبی عقائد اور تہواروں میں بہت خاص مقام دیتے ہیں۔ گائے کو وہ ماں سے مشابہت دیتے ہیں۔ جس طرح گائے اپنے بچوں کو پالنے اور بڑھانے کے لئے اپنا دودھ پلاتی ہے۔ بالکل ویسے ہی گائے اپنے دودھ، مکھن، گھی سے انسانوں کو پالتی ہے۔ اسے بقائے زندگی، پاکیزگی، قربانی، دولت، فراوانی اور خالص ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہندو دیوتاؤں میں پرتھوی دیوی کو بھی گائے کہا جاتا ہے اور یہ استعارے اس کے لئے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ کرشنا دیوتا کا پسندیدہ جانور گائے ہے۔ اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کے ہزاروں گائے پالی تھیں۔ دیہاتوں، شہروں کے گلیوں، سڑکوں پر گھومتی پھرتی ہیں اور لوگ ان کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہندو گائے کو ذبح کرنا، گوشت کھانا حرام سمجھتے ہیں۔ چار روزہ پونگل میلہ جو تامل ناڈو میں ہر سال تیرہ جنوری کو شروع ہوتا ہے اس کا تیسرا دن خاص طور پر ’متو میلہ‘ کہلاتا ہے جس میں گائے کو نہلایا، دہلایا اور دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح گوپاستامی میلے جو اکتوبر۔ نومبر کے درمیان ہوتا ہے، گائے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر خوشی کا اہتمام ہوتا ہے۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستان کے قیام سے اب تک حکومتوں اور حکومتی اداروں نے خود کو عوام کے لئے ’مقدس گائے‘ بنا لیا ہے؟ جن کے حضور ہم انسان ہونے کے باوجود حاضر ہونے سے زیادہ یقین رکھتے ہیں اور جن کی بے عیبی پر ہمیں آنکھیں بند کر کے یقین ہے؟


