کھوٹے سکوں کا ہانکا کیسے کیا جاتا ہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاستدانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا لگا کر ایک کھونٹے پر باندھنے کا کام میجر جنرل سکندر مرزا نے شروع کیا تھا۔ جبکہ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل فرینک میسروی نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ 75 سال سے یہ دونوں کام تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔
ہند کی تقسیم کے بعد افواج کی تقسیم بھی ہوئی تو جنرل میسروی پاکستان آرمی کے پہلے کمانڈر انچیف بنے ان کی ریٹائرمنٹ پر قائداعظم نے جنرل گریسی کو کمانڈر ان چیف کے عہدے پر ترقی دی جنرل گریسی 11 فروری 1948 سے 16 جنوری 1951 تک فوج کے سربراہ رہے پاکستانی فوج کی کمان سنبھالنے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں چیف آف سٹاف کے عہدے پر تھے۔
ہندوستان نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر پر قبضہ کیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے آرمی چیف جنرل فرینک میسروی کو کشمیر میں پاکستانی فوج اتارنے کا حکم دیا۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کا کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا بلکہ وہ یہ معاملہ سپریم کمانڈر جنرل کلاڈ آکن لیک کے نوٹس میں لے آئے تھے۔ جرنیلوں کے اپنے باس کے احکامات نہ ماننے کی تاریخ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اس معاملے کو کسی اور دن کے لیے اٹھا کر رکھتے ہیں آج ہم تاریخی حقائق کے ساتھ سیاستدانوں کو ہانکا لگانے کو زیربحث لاتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ ”میجر جنرل سکندر مرزا پاکستان کے گورنر جنرل بنے تو چوہدری محمد علی کو وزیراعظم پاکستان بنایا گیا۔ چوہدری محمد علی نے وزارت اعظمی کا حلف اٹھانے کے ساتھ ہی سرزمین بے آئین کو آئین دینے پر کام شروع کر دیا۔ انھوں نے پانچ ماہ کی قلیل مدت میں پاکستان کو 1956ء کا آئین دیا۔ 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔ نئے آئین کے تحت چوہدری محمد علی نے وزارت اعظمی اور گورنر جنرل سکندر مرزا نے صدر کا حلف اٹھایا۔ نئے آئین کو اسکندر مرزا کی صدارت میں چلانا ایسا ہی تھا جیسے کہ دودھ کو بلی کی رکھوالی میں رکھنا۔ ”
وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”اسکندر مرزا جوڑ توڑ کے بادشاہ تھے۔ گورنر جنرل یا صدر کے طور پر آئینی بندشوں اور پابندیوں میں مقید ہو کر رہنا ان کے لیے ناممکن تھا۔ انھوں نے آئین کا گلا گھونٹنے کے لیے سیاستدانوں کو ہانکا لگایا اور ریپبلکن پارٹی بنا کر کھونٹے سے باندھ دیا۔“ رال ٹپکاتے سیاستدان دم ہلاتے اس کھونٹے پر بندھنے کے لیے تیار ہو گئے کسی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ انکار کر دے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد تین سال کی قلیل مدت میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ ری پبلکن پارٹی ہر حکومت کا حصہ ہوتی تھی۔ اسکندر مرزا نے ستمبر 1956 میں ریپبلکن پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے نائب صدر بنے مگر یہ پارٹی آگے چل کر کوئی خاص مقبولیت حاصل نہ کر سکی اسکندر مرزا کے اقتدار سے نکالنے کے بعد ہانکے کے سیاستدان نئے کھونٹے کی تلاش میں نکل پڑے۔
جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگایا تو اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے انھیں انتخابات کی ضرورت پڑی۔ انتخابات کے لیے انھیں ایک سیاسی جماعت بنانا پڑی۔ 1962ء میں جنرل ایوب خان نے ایک سیاسی جماعت ”کنونشن مسلم لیگ“ کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کی تشکیل میں مسلم لیگ کے اس وقت کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے ایوب خان کا ساتھ دیا ملک میں صدارتی انتخابات کا بگل بجا۔ ایوب خان کے مقابلہ میں متحدہ اپوزیشن نے محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی امیدوار بنایا انتخابی مہم میں محترمہ فاطمہ جناح پر کیچڑ اچھالا گیا۔ انتخابی مہم کے دوران گجرانوالہ شہر میں انجینئر خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر خاں (وایس چیئرمین گوجرانوالہ مینسپل کمیٹی) نے ایک کتیا کے گلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی تصویر لٹکا کر اسے پورے شہر میں گھمایا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو غدار تک کہا گیا۔ ایوب خان کے چیف پولنگ ایجنٹ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ مگر یہ سیاسی جماعت ایوب خان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی غروب ہو گئی۔ جنرل ایوب خان کے ہاں جنم لینے والی کنونشن لیگ نے آٹھ سال بعد 1970 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 124 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے مگر یہ جماعت محض دو نشستیں ہی جیت سکی اور ان انتخابات کے بعد یہ جماعت قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔
جنرل ضیاءالحق کا مارشل لا آیا تو انھوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروا کر محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا۔ 1988ء میں جنرل ضیاءالحق طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہوئے تو جنرل اسلم بیگ چیف آف آرمی سٹاف بنے۔ فوج نے سیاست سے علیحدہ ہونے اور بیرکوں میں رہنے کا اعلان کیا۔ فوج کا سیاست سے علیحدہ ہونے کا اعلان محض ہوائی اعلان تھا۔ جنرل ضیاءالحق کی فکر کی آبیاری کے لیے مقتدرہ نے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں سیاستدانوں کو ایک بار پھر ہانکا لگایا اور انھیں آئی جے آئی کے کھونٹے سے باندھ دیا۔ جنرل ضیا الحق کی فکر کی ترویج کے لیے جرنیلوں کی سرپرستی میں آئی جے آئی کے بطن سے مسلم لیگ نواز نے جنم لیا یوں پیپلز پارٹی کا مقابلہ نون لیگ سے ہونے لگا۔
مشرف نے مارشل لا لگایا۔ تین سال وہ سیاہ و سفید کے مالک رہے اپنے پیش رو آمروں کی طرح انھیں بھی طویل مدت اقتدار میں رہنا تھا۔ طویل مدت اقتدار میں رہنے کے لیے ملک میں انتخابات کا ہونا ضروری تھا۔ اس موقع پر انھیں ضرورت محسوس ہوئی کہ ایسے سیاستدانوں پر مشتمل ایک عدد سیاسی جماعت بنائی جائے جو ان کے وفادار ہوں۔ وہ دن کو رات کہیں تو وہ بھی آنکھیں بند کر کے کہیں بادشاہ سلامت ہمیں آسمان پر تارے نظر آ رہے ہیں، واقعی رات کا سماں ہے۔
جنرل مشرف نے نون لیگ کے سیاستدانوں کو ہانکا لگایا اور انھیں ق لیگ کے کھونٹے سے باندھا۔ میاں محمد اظہر کو ق لیگ کا سربراہ بنایا گیا۔ انتخابات ہوئے میاں اظہر تو ہار گئے مگر گجرات کے چوہدری انتخابات میں جیت گئے۔ ازاں بعد چوہدری شجاعت کو ق لیگ کا صدر بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی کے بطن سے پیٹریاٹ گروپ برآمد کیا گیا جس کا سربراہ راؤ سکندر اقبال کو بنایا گیا۔ پیٹریاٹ گروپ میں مخدوم فیصل صالح حیات، آفتاب شیرپاؤ اور دیگر اہم رہنما شامل تھے۔ یوں ق لیگ اور پیٹریاٹ گروپ نے مل کر حکومت بنائی۔ دو ہزار آٹھ کی انتخابی مہم میں محترمہ کی شہادت ہو گئی۔ انتخابات ایک ماہ کے لیے موخر کر دیے گئے۔ پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی۔ ق لیگ سکڑ کر چند نشستوں تک محدود ہو گئی۔ 2013ء کے انتخابات میں ق لیگ کے بہت سے رہنما نون لیگ میں چلے گئے۔
2018ء کے انتخابات کا دور شروع ہوا تو سیاسی جماعتوں میں ایک بار پھر توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو گیا۔ ضمیر فروش سیاست دان نے تھوک کے حساب سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی۔ بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے ”جنوبی صوبہ محاذ“ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا۔ بلوچستان میں ”باپ پارٹی“ بنائی گئی جس میں نون لیگ اور ق لیگ کے سیاستدانوں نے پناہ حاصل کی انتخابات ہوئے تو تحریک انصاف اقتدار میں آئی۔
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کنگز پارٹیاں کون اور کیوں بناتا ہے؟ کنگز پارٹیوں کی تشکیل نادیدہ مخلوق کرتی ہے تاکہ ان کا اجارہ قائم رہے۔ کنگز پارٹی میں شامل سیاستدان ان کے آگے دم ہلاتے رہیں تین سے پانچ سال بعد کنگز پارٹی کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ دم ہلانے یا تابع رہنے سے انکار کرتی ہے تو نظر نہ آنے والی مخلوق ایک بار پھر نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کے لیے توڑ پھوڑ کرتی ہے کرپٹ سیاستدان فوری طور نئے کھونٹے پر خود کو باندھنے کے لیے سب سے پہلے پیش کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو انھوں نے قوم کو بتانا شروع کیا کہ پاکستان میں خالص جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں۔ وزیراعظم تو بے اختیار ہوتا ہے۔ ان کی آواز گلی گلی قریہ قریہ پھیلی۔ ان کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی۔ ان کی مقبولیت کو کم کرنے کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا مگر وہ پہلے سے زیادہ مقبول ہوتے گئے بالآخر نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کو جماعت سے علیحدہ کرنے پر کام شروع ہوا۔ استحکام پاکستان پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا تھوک کے حساب سے سیاستدانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا لگا کر استحکام پاکستان پارٹی کے کھونٹے سے باندھا گیا۔ ماضی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کا حشر بھی رپبلکن پارٹی اور کنونشن لیگ جیسا ہو گا۔
جمہوریت کا سکہ اس وقت چلتا ہے جب وہ خالص ہو جوں ہی اس میں کھوٹ مل جائے اس کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی۔

