عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (4)


عطاالحق قاسمی صاحب کو بحیثیت نظم گو شاعر کے بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ نظم کے ایک توانا شاعر کے طور پر بھی ان کی انفرادیت کو برملا تسلیم کیا گیا۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ نظم نگاری بھی عطاالحق قاسمی کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید اردو نظم میں بھی ان کا منفرد اور جداگانہ لہجہ ان کی پہچان بنا۔ اس مناسبت سے پہلے تو ملاحظہ فرمائیے عطاالحق قاسمی صاحب کی ایک جاندار نظم ایک لانگ ڈسٹینس کال اور انگریزی زبان میں اس کا شاندار منظوم ترجمہ۔

محترمہ تعبیر علی صاحبہ نے ماسٹرز انگریزی زبان و ادب میں کیا لیکن اردو ادب سے جنون کی حد تک ان کے لگاؤ نے بہت سے دشوار اور مشکل کام بھی کروا ڈالے۔ محترمہ تعبیر علی نے علامہ طالب جوہری، احمد ندیم ندیم قاسمی، خالد احمد، نسیم لیہ اور حمایت علی شاعر اور فیروز ناطق خسرو کی منتخب نظموں کے انگریزی میں خوبصورت منظوم تراجم کیے۔ محترمہ تعبیر علی نے اردو افسانے، اردو نظم اور حتی کہ اردو غزل کو اس کے حقیقی اور اصلی حسن کو اور اعلی و عمدہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے قابل ستائش بلکہ شاندار انداز میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد اب وہ ہاتھ دھو کر عطاالحق قاسمی کی نظموں کے در ہے ہیں۔

نظم۔ ایک لانگ ڈسٹینس کال
نظم نگار : عطاالحق قاسمی
ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی صاحبہ
Poem : A long distance call
Poet : AttauL_Huq Qasmi
Translated By : Madam TaBeeR ALi
تمہارا خط مجھ کو مل گیا ہے
ابھی پڑھا ہے
مجھے تو بس اتنا پوچھنا ہے
اداس کیوں ہو اداس کیوں ہو
میں پوچھتی ہوں اداس کیوں ہو
تمہاری آواز اتنی مدھم ہے
ایسے لگتا ہے
جیسے اپنے ہی کان میں
کوئی بات کہہ کر سمجھ رہے ہو
کہ بات مجھ تک پہنچ گئی ہے
تمہاری آواز
راستوں کی مسافتوں میں بھٹک رہی ہے
نظم : ایک لانگ ڈسٹینس کال، نظم نگار : عطاالحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی صاحبہ
Poem : A long distance call Poet : AttauL_Huq QasmiTranslated By : Madam TaBeeR ALi
Received your letter
Just finished it
Listen I have to ask something of you
Only one question that why have you become so distressful
Why ,why have you emerged as mournful
With a low voice
It seems to be like that
As you are murmuring in your own voice
Or trying to convince yourself
That whether I understood and got cleared on your expression
Your voice
Continually disappearing while it is travelling towards me
نظم : ایک لانگ ڈسٹینس کال، نظم نگار : عطاالحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی صاحبہ
Poem : A long distance call Poet : AttauL_Huq QasmiTranslated By : Madam TaBeeR ALi

ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب عطاءالحق قاسمی صاحب کو ناروے کی سفارت سونپنے کا اعلان ہوا۔ اس پر بھی بہت واویلا ہوا، مخالفت کرنے والوں نے شدت پسندانہ رویہ اختیار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن دیگر محبان عطاءالحق قاسمی کی طرح ہم نے بھی ببانگ دہل عطاءالحق قاسمی کی بطور سفیر تعیناتی کے حوالے سے کھل کر حمایت میں لکھا۔ اور بار بار۔ عطاءالحق قاسمی کی ناروے اور ہماری شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور پوسٹنگ اور بعد میں کراچی منتقلی کے بعد کبھی کبھار کا فون پر رابطہ تو برقرار رہا لیکن ملنے ملانے کے مواقع کم ہو گئے لیکن پھر عطاءالحق قاسمی کا ہر برس کراچی آنے کا شیڈول ہمارے علم میں آنے لگا۔

کبھی مشاعروں کے حوالے سے، کبھی عالمی اردو کانفرنس کے حوالے سے اور یوں ہمارے تعلقات کا کنکشن بحال ہی نہیں ہوا بلکہ مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ ہمیں احباب سے معلوم ہوتا رہا کہ عطاءالحق قاسمی نے اس تعلق داری کو کس خوبصورت انداز میں نبھایا۔ جب جب اور جہاں کہیں موضوع چھڑا اور بات ہوئی تو انہوں نے محبت بھرے انداز میں سید فخرالدین بلے اور ان کی ادبی و ثقافتی خدمات کا ذکر فرمایا اور جب جب بھی ہم سے ملاقات ہوئی ہمیشہ بہت بڑے انسان، بہت بڑے باپ کی اولاد کہہ کر ہی مخاطب کیا۔

ادبی تنظیم قافلہ کے زیر اہتمام احمد ندیم قاسمی کا جشن ولادت ایک دو نہیں، تین نہیں بلکہ پانچ چھ مرتبہ منایا گیا۔ جس میں مستقل شرکائے قافلہ پڑاؤ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سلیم اختر، امجد اسلام امجد، کلیم عثمانی، شہزاد احمد، ڈاکٹر اجمل نیازی، برادرم خالد احمد اور برادر محترم عطاءالحق قاسمی بھی شریک ہوئے۔ اس جشن ولادت میں احمد ندیم قاسمی صاحب کی شخصیت، افسانوں، شاعری، ڈراموں اور ان کے کالموں کے حوالے سے ناقدین ادب و صحافت نے کھل کر باتیں کیں۔

ان سے بہت سی نظمیں، غزلیں بھی سنی گئیں۔ یہ دیکھ کر ان کی صاحبزادی محترمہ ناہید قاسمی بولیں میں نے بابا سے کسی ایک نشست میں اتنا کلام نہیں سنا۔ واقعی بڑی خوبصورت محفل سجائی ہے آپ لوگوں نے اور پھر سرکار احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی محترمہ منصورہ احمد نے میرے والد محترم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بلے بھئی بلے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب نے فرمایا کہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث میں آج کی اس خوبصورت محفل میں شرکت کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا لیکن ایک تو محترم فخرالدین بلے صاحب کا حکم تھا اور دوسرے یہ کہ بیٹی منصورہ، ظفر معین بلے، نجیب احمد اور خالد احمد اس سازش میں شامل تھے۔

میری طبیعت کی خرابی سے واقف ہونے کے باوجود آج خالد احمد اور ظفر معین بلے اور منصورہ بیٹی نے فرمائش کر، کر کے اتنا کلام سنا کہ میں کیا بتاؤں۔ جناب احمد ندیم قاسمی نے کہا خالد احمد اور ظفر معین بلے کے ساتھ مل کر شرکائے قافلہ پڑاؤ نے مجھے جو پذیرائی اور توانائی بخشی ہے میں اس کے لیے جناب فخرالدین بلے صاحب کا شکر گزار ہوں۔ عطاالحق قاسمی صاحب نے بھی اس ایونٹ کو بہت انجوائے کیا اور ان کی مسکراہٹ بھی داد دیتی نظر آئی۔ (جاری ہے ) ۔

Facebook Comments HS