شہید عبدالصمد خان اچکزئی: سوانح عمری کی روشنی میں
محمد نعیم آزاد پشتو زبان کی ایک توانا آواز ہے جو بے شمار ادبی موضوعات پر لکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک 21 کتابیں تصنیف کر کے پشتو ادب کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کی ان کتابوں میں پشتو شاعری کی 3 کتابیں، 6 تحقیقی کتابیں، 2 ناول، 9 تراجم اور 1 سفرنامہ شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب خان عبدالصمد خان اچکزئی کی زندگی اور خدمات پر مبنی ہے جس میں مصنف نے خان عبدالصمد خان اچکزئی کی سیاسی جدوجہد کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے ساتھ ساتھ میں اس کتاب میں مصنف نے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف پشتونوں کی تاریخی جدوجہد کا بھی ادبی پیراہن میں جائزہ لیا ہے۔ زیر نظر کتاب 504 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے تیرہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کا ٹائٹل راز محمد نے ڈیزائن کیا ہے، جب کہ کتاب کو 2021 میں آزاد ریسرچ سینٹر پشین نے شائع کیا تھا۔
اس کتاب کا پہلا باب خان عبدالصمد خان اچکزئی کے خاندانی پس منظر کے بارے میں ہے مصنف کے بقول خان عبدالصمد خان اچکزئی 1907 میں گلستان کے گاؤں عنایت اللہ کاریز میں پیدا ہوئے۔ ساتھ ساتھ میں محمد نعیم آزاد نے خان شہید کے والد، والدہ، بیویوں، بیٹوں اور بیٹیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ محمد نعیم آزاد، عبدالصمد خان اچکزئی کے آبا و اجداد کے تاریخی پس منظر کا مشاہدہ کر کے کہتے ہیں کہ ان کے آبا و اجداد میں سے برخوردار خان گزرا ہے جو کہ احمد شاہ ابدالی کے کمانڈر تھے جنہوں نے پانی پت کی جنگ میں بھی حصہ لیا اور مرہٹوں کے خلاف 3000 فوجی جوانوں کی کمانڈ کی۔ مصنف کا خیال ہے کہ خان شہید کے خاندان کے افراد بلخ اور کشمیر کے حکمران رہ چکے تھے۔ ان کے بقول بوستان خان جو کہ برخوردار خان کا بیٹا تھا کو فاتح ترکستان بھی کہا جاتا ہے۔ جب کہ عبداللہ خان جلیزئی (جلیزئی عبد الصمد خان اچکزئی کا قبیلہ) 1841 میں پہلی اینگلو افغان جنگ میں انگریزوں کے خلاف لڑا تھا۔
اس کتاب کے باب 2 میں مصنف خان عبدالصمد خان اچکزئی کے بچپن کے بارے میں بات کرتا ہے۔ صفحہ 62 پر وہ لکھتا ہے کہ خان شہید کے والدین مذہبی تھے۔ اور یتیم بچوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ ان حالات میں خان عبدالصمد خان اچکزئی کی پرورش ہوئی۔ جن کا ان کی زندگی پر بڑا اثر ہوا۔ جس کا ذکر آگے پیراگراف میں آ جائے گا۔ نعیم آزاد کا کہنا ہے کہ عبدالصمد خان اچکزئی نے بچپن میں شیخ سعدی کی گلستان اور بوستان کی کتابیں، فقہ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھی تھیں۔
کتاب کے باب 3 میں نعیم آزاد، خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی تعلیم پر روشنی ڈالتا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ خان شہید مڈل کلاس کی اسکالر شپ کے امتحان میں صوبے میں پہلے نمبر پر رہے۔ مصنف عبدالصمد خان اچکزئی کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے سرکاری نوکری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس لیے برطانوی سامراج کی جانب سے مراعات جیسے کہ انہیں اچکزئی قبیلے کا سربراہ بنانے کی پیشکش اور ای ای سی کی ملازمت کی فراہمی کی پیشکشوں کو بار بار مسترد کیا۔ اسی باب میں نعیم آزاد کہتے ہیں کہ خان عبدالصمد خان اچکزئی بچپن میں کامریڈ اور ہمدرد اخبار پڑھا کرتے تھے جو ان کی سیاسی جدوجہد اور برطانوی راج کے قبضے سے آزادی کے لیے ان کی سوچ کی گواہی دیتی ہیں۔
مذکورہ کتاب کا چوتھا باب خان شہید کی جوانی کی سرگرمیوں اور خان شہید کی مزاحمتی سیاست اور سرگرمیوں اور ان کی اسباب پر مشتمل ہے۔ نعیم آزاد، خان شہید کے حوالے سے کہتے ہیں کہ وہ غیر انسانی اور غیر فطری رسم و رواج کے خلاف تھے اور انہوں نے علاقے میں منشیات کے خلاف اقدامات کر کے خوشحال معاشرے کے لیے کام کیا۔ مصنف نے صفحہ 113 پر خان عبدالصمد خان اچکزئی پر برطانوی حکام کے مظالم کے بارے میں بھی بات کی ہے جب وہ جیل میں تھے۔
باب 5 اور 6 اس کتاب کے اہم ترین ابواب ہیں جو خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہیں۔ نعیم آزاد خان عبدالصمد خان اچکزئی کی جدوجہد کی تاریخ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں ہی خان شہید نے برطانوی راج کے خلاف اپنے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب انگریزوں اور پشتونوں کے تعلقات بحیثیت قوم اچھے نہیں تھے کیونکہ افغانستان نے 1919 میں انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی۔
نعیم آزاد کا کہنا ہے کہ پشتون بطور قوم مزاحمتی ہے اور اس نے کبھی اپنی سرزمین پر قبضے اور حملے کو قبول نہیں کیا چاہے وہ سکندر اعظم ہو یا برطانیہ، ان سب کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان کی تذویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ سرزمین بفر زون بن چکا ہے اور جنگوں اور بین الاقوامی proxies کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ یہ great game کا مرکز رہا ہے، مختلف جنگیں جیسے کہ 1841، 1879، اور 1919، پشتونوں اور برطانوی افواج کے ساتھ بہت سی جھڑپیں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
نعیم آزاد نے گندمک معاہدے، ڈیورنڈ لائن معاہدے، ایسٹ انڈیا کمپنی، کولڈ وار اور برطانوی کالونیزم کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ نعیم آزاد نے علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایشیا کا دل ہے۔ اگر افغانستان میں امن ہو گا تو ایشیا میں امن ہو گا اور اگر افغانستان عدم تحفظ کا شکار ہو گا تو ایشیا بھی عدم تحفظ کا شکار ہو گا۔
انجمن اصلاح افغان کو خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے ہم عصر عبدالغفار خان عرف باچا خان نے قائم کیا تھا۔ جس کو خان شہید نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ خان شہید باچا خان کے لیے بے پناہ عزت رکھتے ہیں۔ مصنف خان شہید کی محمد علی جناح اور گاندھی سے ملاقات کے بارے میں بھی لکھتے ہے۔ اس باب میں انگریزوں کے خلاف اس وقت کے ادب پر بھی بات کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر پشتون افغان میگزین 1910 میں، ہمدرد افغان 1927 میں، خیبر 1931 میں، آزاد پشتون 1935 میں، زلمی پشتون 1935 میں، استقلال 1938 میں بالترتیب شائع ہونے شروع ہوئے۔
محمد نعیم آزاد نے بلوچستان کے بارے میں بات کی ہے۔ کہ خان شہید نے بلوچ قیادت یوسف عزیز مگسی اور آغا عبدالکریم کے ساتھ بلوچستان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ اس سلسلے میں خان شہید نے بلوچ قیادت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوئے اور جیکب آباد کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ جو کہ ایک تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خان شہید نے بلوچستان کے پشتونوں کی الگ حیثیت کے حوالے سے جدوجہد کا ذکر ہے۔
ساتویں باب میں عبدالصمد خان اچکزئی کی زندگی کے واقعات اور تقسیم ہند کے بعد ان کی سیاسی جدوجہد پر مشتمل ہے۔ کہ کس طرح اسے بار بار گرفتار اور نظربند کیا گیا۔ نعیم آزاد خان شہید کے پشتونستان کے مطالبے پر بھی بات کرتے ہیں، 1956 میںورر پشتون کی تشکیل، خان عبدالصمد خان اچکزئی کی ون یونٹ کے خلاف چھوٹی قوموں کے حقوق کے لئے جدوجہد، نیپ میں ان کی شرکت اور 1955 میں ان پر غداری کے بے بنیاد مقدمے اور ان کی گرفتاری کا بھی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ نعیم آزاد خان شہید کی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں جنہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی ایک فیڈریشن چاہتے ہیں جہاں تمام صوبوں کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ اور یہ کہ وہ پاکستان کے خلاف نہیں۔
ایک اور باب میں مصنف خان شہید کے عدم تشدد کے رویے کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔ مصنف نے خان شہید کا موازنہ گاندھی، باچا خان اور ابوالکلام آزاد سے کرتے ہیں، جب کہ نعیم آزاد نے محمد علی جناح کو نظر انداز کیا جو بھی ایک عدم تشدد کے پیروکار تھے اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔
ایک اور باب خان شہید کی ادبی خدمات کی معلومات پر مشتمل ہے۔ خان عبدالصمد خان اچکزئی کو بلوچستان میں بابائے صحافت کہا جاتا ہے جنہوں نے بلوچستان میں پریس ایکٹ کے لیے محنت کی اور صوبے کے صحافیوں کے حقوق کے علمبردار تھے جنہوں نے 1938 میں استقلال اخبار کا آغاز بھی کیا۔ وہ عربی، اردو، انگریزی، اور براہوی زبانیں لکھ پڑھ سکتے تھے۔ انہوں نے شیخ سعدی کی کتابوں گلستان اور بوستان کا ترجمہ، ابوالکلام آزاد کے ترجمۃ القرآن، امام غزالی کی کتاب کیمیا سادات، سیرت النبی، اور چارلیٹ ڈائیسن کی آزادی کا مستقبل کے ترجمے کیے ۔ انہوں نے پشتو ڈکشنری اور پشتو گرامر بھی لکھا۔
زیر نظر کتاب کے کچھ اور ابواب جیسے کہ خان شہید کی ادبی خدمات کی اہمیت، خان شہید کے لکھے گئے گرامر کے نئے قواعد کی اہمیت، مصنفین کی نظر میں خان شہید اور گرفتاری کے وقت عدالت میں خان شہید کا بیان بھی شامل ہیں۔
بلاشبہ یہ تحقیقی کام خاص طور پر پشتو ادب میں قابل تعریف ہے جہاں تحقیق کی بہت کمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں ماخذ زیادہ تر پشتو ادب اور اردو سے لیے گئے ہیں جبکہ خان عبدالصمد خان اچکزئی پر انگریزی زبان میں کافی علمی تحقیق موجود ہے۔ جن کے ریفرنس شاذ و نادر ہی حوالہ جات میں شامل ہیں۔
مزید براں محمد نعیم آزاد بہت سے نکات پر اچانک اور غیر واضح انداز میں بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ 1930 کی دہائی کے معاشی بحران کی بات کرتے ہیں لیکن اس کا ذکر نہیں کرتے کہ اس کا افغانستان اور ہندوستان میں برطانوی راج کے ساتھ، کتاب کے عنوان اور خان شہید کی زندگی اور خدمات کے حوالے سے کیا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ، اگرچہ، وہ افغانستان کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے لیکن وہ اس کی جامع اور مربوط انداز میں گہرائی سے وضاحت نہیں کرتا۔ وہ یہ بتانے میں بھی ناکام رہے کہ پشتون بحیثیت قوم کس طرح اپنے تزویراتی محل وقوع، اپنے جغرافیہ اور قدرتی وسائل کا شکار رہا ہے۔
محمد نعیم آزاد نے خان شہید کی سوانح عمری کی روشنی میں کتاب کا نام خان شہید اس کی سوانح حیات کی روشنی میں رکھا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنی منشا کے مطابق بہت سی باتیں کرتا ہے اور اپنی خواہشات کی مطابق موضوعات کو کھینچتا چلا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ مصنف کا مقصد صرف کاغذ کے صفحات کو رنگین کرنا ہے۔
اس کتاب کا نام خان شہید اس کی سوانح حیات کی روشنی میں نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ برطانوی استعمار، پشتون تاریخی تحریک اور خان شہید ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہ کتاب صرف خان شہید اور اس کی سوانح عمری تک محدود نہیں۔ دوسری طرف نعیم آزاد نے خان عبدالصمد خان اچکزئی کے خاندانی پس منظر پر تو بہت بات کی ہے لیکن خان شہید کی شہادت کے بعد اس کی تحریک اور اس کے فلسفے کے بارے میں خاموش ہیں کہ آیا خان عبدالصمد خان اچکزئی کے سیاسی اور فکری وراثین اس کی وراثت کو کیسے اور کس طرف لے کر جا رے ہیں؟ یہ کتاب مجھے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا نا مکمل منشور محسوس ہوتا ہے


