سندھی لسانیات کے اہم عالم ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی کی وفات

حیدرآباد (سندھ) میں پیدا ہونے والے، سندھی زبان و ادب کے نامور اور معتبر عالم، دانشور، محقق، ماہرِ لسانیات، استاد اور دہلی یونیورسٹی کے زبانوں کے شعبے میں سندھی سیکشن کے سابق سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر کشنچند جیٹلی، پير 3 جولائی کو 93 برس کی عمر میں دہلی (بھارت) میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔
ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی نے 7 نومبر 1930ء سندھ کے دوسرے بڑے شہر حيدرآباد کی مشہور ‘مُکھی گلی’ میں کشنچند جيٹلی نامی ايک استاد کے گهر میں آنکھ کھولی۔ انہوں نے پرائمری تعليم حيدرآباد کے نوودياليہ سے اور سیکنڈری تعليم سادُهو نولرائے ہيرانند اکيڈمی حيدرآباد سے حاصل کی۔ خوشقسمتی سے مرلی دھر جیٹلی کی پيدائش ايک ايسے علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی، جس خاندان کے لگ بهگ تمام افراد، عرصہء دراز سے، سندھی، ہندی اور سنسکرت زبانوں کے عالم رہتے آ رہے تھے۔ مرلی دھر کے دادا، پنڈت ٹوپنڑداس شيوارام اپنے دور کے منجھے ہوئے عالم اور مارٹنڈ آيرويد مہاودياليہ کے پرنسپل تھے، جبکہ مرليدهر کے والد، کشنچند جيٹلی بھی اسی ادارے میں استاد تھے۔ مرلیدهر کے آباواجداد کا بنيادی طور پر تعلق سندھ کے ضلع دادو کے ‘پَهکا’ نامی ایک چهوٹے سے گاؤں سے تھا، جو کلہوڑا دورِ حکومت کے دوران سندھ کے دارالحکومت رہنے والے شہر "خدا آباد” کے نواح میں آج بھی واقع ہے۔ بتايا جاتا ہے کہ جیٹلی خاندان کو بعد ازاں معروف کلہوڑا حکمران، غلام شاہ کلہوڑو نے وہاں سے ہجرت کروا کے، حيدرآباد میں ان کے قيام کا بندوبست کيا تها۔ مرلی دھر جیٹلی میں 12 برس کی کمسن عمر میں، اپنے عالم دادا کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ادب کے ساتھ دلچسپی پيدا ہوئی۔ اس لگاؤ کی وجہ سے یہ ہوا کہ 1941ء میں مُکھی گلی حيدرآباد میں واقع ہيرانند اکيڈمی میں جب کتب خانہ قائم ہوا، تو اس کا انتظام پروفيسر راجپال کی زيرِ نگرانی مرلی دھر کو سونپا گيا۔
تقسيمِ ہند کا سانحہ ہوا، تو اور انگنت خاندانوں کی طرح اگست 1947ء میں جیٹلی خاندان کو بھی نم آنکھوں کے ساتھ اپنا ديس اور شہرِ پيدائش چهوڑنا پڑا۔ تقسيمِ ہند کے وقت مُرلی 17 برس کے نوخيز نوجوان تھے۔ یہاں سے کُوچ کرنے کے بعد پہلے اس خاندان نے راجستهان کے شہر جودهپور میں ڈیرہ ڈالا اور بعد ازاں مستقل طور پر مہاراشٹر رياست کے شہر "پونے” میں سکونت اختيار کرلی۔ مرلی دهر کے ادب سے عشق کی انتہا یہ تھی کہ سندھ سے ہجرت کے وقت ہر کسی کی طرح وہ بھی صرف اپنا ضروری سامان سمیٹ کر سرحد پار چل ديے تهے، مگر جب وہاں جا کر سکون سے آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنی کتب کی جمع پُونجی تو سندھ میں چھوڑ آئے ہیں، تو يہ بات انہیں سخت بیچين کر رہی تھی، لحٰذا وہ ہجرت کے چار ماہ بعد دسمبر 1947ء میں صرف اپنی چهوٹی سی لائبريری سمیٹنے واپس سندھ آئے اور اپنی کتابیں لے کر واپس بهارت لوٹے۔
مرلی دهر جیٹلی نے سندھ میں نامکمل چھوڑا ہوا اپنا تعليمی سلسلہ، نو طے شدہ سرحد کے پار جاری رکھا۔ جس کے تحت انہوں نے مارچ 1949ء میں بڑودا کے سندھی ہندو ہائی سکول سے ميٹرک پاس کيا۔ علم و ادب سے دلچسپی کے ساتھ ساتھ مرلی دهر میں خاکہ سازی (ڈرائنگ) کا ہنر بچپن ہی سے موجود تها اور وہ خوشخط بھی تھے۔ ان کی اسی خوبی کی وجہ سے انہيں میٹرک کے بعد بڑودا کے عجائب گھر میں ‘خطاط’ کی حيثيت سے ملازمت مل گئی۔ ليکن انہوں نے اس کے بعد حصولِ تعليم کا سلسلہ ترک نہیں کیا اور 1961ء تک پونا يونيورسٹی سے ہندی اور سنسکرت دونوں میں ماسٹرز کی ڈگرياں حاصل کرلیں۔ جس کے بعد وہ 1960ء تا 1964ء دکن کالج کے پونا میں قائم ريسرچ انسٹيٹيوٹ میں "ريسرچ فيلو” کے طور پر اپنی خدمات انجام ديتے رہے اور اسی دوران مستقل مزاجی کے ساتھ لسانيات میں اعلیٰ درجے کی تحقيق کو پايہء تکميل تک پہنچایا اور 1965ء میں اسی کالج سے لسانيات میں پی۔ ايچ۔ ڈی۔ کی ڈگری حاصل کی۔ اپنی پی۔ ايچ۔ ڈی۔ سے ایک برس پہلے وہ دکن کالج چھوڑ کر، ترقی پا کر آر۔ کے۔ تلريجا کالج الہاس نگر میں ليکچرر مقرر ہوئے، جہاں 1964ء تا 1966ء پڑھایا اور یہاں سے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے، انہیں کامیابی نے ايک اور نئی منزل پہ پہنچایا، اور انہیں 9 فروری 1966ء کو لسانيات کی تعليم دينے کے لیے دہلی يونيورسٹی میں استاد مقرر کيا گيا، جہاں 60 برس کی عمر تک اپنی ملازمت کے اختتام تک، بلا تعطل انہوں نے علم کی قندیلیں روشن کیں اور 6 نومبر 1996ء کو کامياب تدريسی کيريئر گزار کر، پروفيسر کی حيثيت سے دہلی يونيورسٹی سے رٹائر ہوئے۔

جامعہ دہلی میں تدريسی خدمات کی انجام دہی کے دوران انہوں نے کئی طلبہ و طالبات کی ڈاکٹریٹ کے مقالہ جات کی تحقيق میں نگرانی کی، جن میں کئی اور کے علاوہ موتی لال جوتوانی، موہن لال شرما، سنتداس جهانگيانی، سُشيلا موٹوانی، رُکمنی ناگرانی، روی پرکاش ٹيکچندانی وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں وہ سندھ بھر کی جامعات کے سندھی ادب کے شعبوں میں پی۔ ايچ۔ ڈی۔ کے لیے ‘آنرری اوورسيز ايگزامينر’ (اعزازی سمندر پار ممتحن) کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام ديتے رہے۔
ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی نے سندھی، ہندی اور انگريزی میں 20 سے زائد تحقيقی کتب تصنيف کی ہیں، جن میں سے کچھ کی تفصيلات مندرجہ ذیل ہیں:
(1) ‘لالچند امرڈنو مل جگتيانی’ [ شخصيت و ادبی خدمات ] (شائع: 1965ء)
(2) ‘ساہتيہ جو اتہاس’ [ تاريخِ ادب ] (شائع: 1972ء)
(3) ‘ميگھ دوت’ (کاليداس کی شاعری کا جائزہ ــ شائع: 1981ء)
(4) ‘ہوتچند مُولچند گربخشانی’ [ شخصيت و ادبی خدمات ] (موتی لال جوتوانی کے ساتھ تصنيف شدہ ــ شائع: 1985ء)
(5) ‘اوائلی شائع تهيل سندھی لوک کہانڑيوں’ [ قديم شائع شدہ سندھی لوک کہانیاں ] (شائع: 1986ء)
(6) ‘سندهُوءَ جُوں لہرُوں’ [ دريائے سندھ کی لہریں ] (معروف ادبی جريدے "سندُهو” میں ڈاکٹر مرلی دھر کی شائع شدہ تحريريں ــ شائع: 1989ء)
(7) ‘جيٹھمل پرسرام گلراجانی جو جيوَن ائیں رچنائوں’ [ جيٹھمل پرسرام گلراجانی کی حيات و تخليقات ] (شائع: 1990ء)
(8) ‘شاہ جے رسالے جو ابهياس’ [ شاہ عبداللطيف بهٹائی کے مجمُوعہء کلام کا مطالعہ ] (شائع: 1992ء)
(9) ‘سندھی پہاکا ائیں محاورا ـ ہک ابهياس’ [ سندھی کہاوتیں اور محاورے ــ ايک مطالعہ ] (شائع: 1993ء)
(10) ‘سندھی بهاشا وياکرنڑ’ [ سندھی زبان کا گرامر ] (ہندی کی کتاب ــ شائع: 1997ء)
(11) ‘سندھی بولیءَ جو سرشتو ائیں لکهاوٹ’ [ سندھی زبان کا سرشتہء و طرزِ تحرير ] (شائع: 1999ء)
(12) ‘سندھی بهگت’ (ہندی کتاب ــ شائع: 1999ء)
(13) ‘سندھی ساہت جی جهلک’ [ سندھی ادب کی ايک جھلک ] (تنقيدی مضامين کا مجموعہ ــ شائع: 2000ء)
(14) ‘سندھی دهونی وگيان’ [ سندھی صوتيات ] (لسانيات ــ شائع: 2000ء)
(15) ‘بهارتی ساهتيہ کوش’ [ بھارتی لغتِ ادب ] (اس ہندی لغت کے لیے ڈاکٹر مرليدهر نے 100 سے زايد سندھی قلمکاروں کے حالاتِ زندگی تحرير کيے تھے۔)
(16) ‘بهارتيہ کہاوت’ (وشوناتھ دنکر نرونڑی کی ادارت میں تيار شدہ تين جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں ڈاکٹر جیٹلی نے سندھی کی 1200 کہاوتیں ہندی اور انگلش میں ترجمہ کرنے کا کار ہائے نماياں انجام ديا تها۔)
(17) ‘انسائيکلوپيڈيا آف انڈين لٹريچر’ (پانچ جلدوں پر مشتمل اس انسائيکلوپيڈيا میں 100 سے زائد انٹریز ڈاکٹر جیٹلی کی تحقيقی کاوش کا نتيجہ ہیں۔)
(18) ‘ہندی – سندھی شبد کوش’ [ ہندی سندھی لغت ]
اور ديگر تصنيفات۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر مرليدهر جيٹلی نے ‘سندھی ويتپتی کوش’ (سندھی زبان کی ایٹمولوجیکل ڈکشنری) پر بھی بهرپُور تحقيقی کام انجام ديا۔ ان تصنيفات کے علاوہ ڈاکٹر جيٹلی کے زبان و ادب، اديبوں کی حيات و ادبی خدمات اور ادبی تنقيد کے مختلف موضوعات سے متعلق 200 سے زائد تحقيقی مقالاجات، ہندوستان خواہ سندھ کے مقبول رسائل، مخازن اور ريسرچ جرنلز میں شائع ہوتے رہے ہیں، جو ایک محقق کے لیے ایک بہت بڑی تعداد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مرليدهر جيٹلی کچھ برس تک ممبئی سے طبع ہونے والے معروف ہفتہ وار ادبی مخزن ‘ہند واسی’ کے سب ايڈيٹر بھی رہے، جو رسالہ ہند اور سندھ کے ادبی حلقوں میں یکساں مقبول ہے۔
پروفيسر ڈاکٹر جيٹلی کو ان کی نمایاں تحقيقی، علمی و ادبی خدمات پر ان کی زندگی میں کئی اہم انعامات، اعزازات، اوارڈس، اور اسناد سے بھی نوازا گيا، جن میں سے مندرجہ ذیل قابلِ ذکر ہیں:
◙ سند و انعام، منجانب: ‘سندھی ساہتيہ اکادمی دہلی’ (1997ء)
◙ ‘سندھی بولیءَ جو سرشتو ائیں لکهاوٹ’ [ سندھی زبان کا سرشتہء و طرزِ تحرير ] کتاب لکھنے کی ستائش میں بھارت میں قائم ‘نيشنل کونسل فار پروموشن آف سندھی لينگئيج’ (قومی کونسل برائے فروغِ سندھی زبان) کی جانب سے انعام
◙ ‘سندھی دهونی وگيان’ [ سندھی صوتيات ] کتاب لکھنے کی ستائش میں بھارت میں قائم ‘بهارتيہ ساہتيہ پريشد’ (بهارت ادبی کونسل) کی جانب سے اوارڈ (2001ء)
◙ اوارڈ، منجانب: ‘اکهل بهارت سندھی بولی ائیں ساہت سبها’ [آل انڈیا اسمبلی برائے سندھی زبان و ادب] (2004ء)
◙ اوارڈ، منجانب: ‘رام بخشانی فائونڈيشن’ (2007ء)
◙ ‘نيشنل کونسل فار پروموشن آف سندھی لينگئيج’ (قومی کونسل برائے فروغِ سندھی زبان) کی جانب سے ايک اور اوارڈ اور نقد انعام (2009ء)
◙ اوارڈ، منجانب: ‘سنگيت آچاريہ (استادِ موسيقی) ماسٹر چندر اکادمی’ (2009ء)
◙ اوارڈ، منجانب: ‘رام پنجوانی ٹرسٹ، ممبئی’ (2010ء)
◙ اوارڈ، منجانب: ‘اُتر پرديش سندھی اکيڈمی’
◙ انعام، منجانب: ‘مدھیہ پرديش سندھی اکیڈمی’
◙ اوارڈ، منجانب: ‘ممبئی يونيورسٹی’
وغيرہ
ڈاکٹر مرليدهر جيٹلی ‘ساہتيہ اکادمی دہلی’ اور ‘کے۔ کے۔ برلا فائونڈيشن’ کے رکن، بعد ميں ‘کے۔ کے۔ برلا فائونڈيشن’ کی سندھی زبان کمیٹی کے صدر، حکومتِ انڈيا کی وزارتِ انسانی بہبود کی سندھی ايڈوائزری کميٹی کے وائيس چيئرمين، مرکزی ساہتيہ اکادمی کے رکن کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور سندھی اکيڈمی دہلی کے وائيس چيئرمين بھی رہے۔
ڈاکٹر جیٹلی ماضیء قريب میں دو بار (1989ء اور 2014ء میں) مختلف اداروں کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنسز میں شرکت کے لیے سندھ تشريف لائے اور انہیں اپنے شہرِ پيدائش اور ہم زمین دوستوں کے ساتھ ملنے اور گلے لگنے کا بهرپور موقع ملا۔ اپنی جائے پيدائش اور مٹی سے دُور رہنے کے باوجود اپنی زبان اور اس کے ادب کے لیے عمر بهر کام کرنا اور اس کام میں يکتائی کی وجہ سے اوجِ کمال حاصل کرنا، يقيناً ان کا اپنی دھرتی اور ماں بولی کے ساتھ محبت کا والہانہ اظہار ہی تھا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر جیٹلی جہانِ ادب میں تادیر یاد رکھے جائيں گے۔
3 جُولائی 2023ء کو پروفيسر ڈاکٹر مرلی دھر کشنچند جیٹلی کے اپنی حیات کے دن پورے کر کے کوچ کرنے پر سندھی زبان و ادب سے پیار کرنے والا ہر فرد، ہر قاری اور ہر کتاب دوست غمزدہ ہے، چاہے وہ سندھ یا ہند میں بستا ہو، یا دنيا کے کسی بھی کونے میں۔
Facebook Comments HS

