اخلاقی تقاضوں کا فقدان
انسان ایک معاشرتی حیوان ہوتے ہوئے بنائے عالم سے اس تگ و دو میں رہا ہے کہ دنیا میں ایک اچھا اور بہتر معاشرہ قائم ہو تاکہ لوگ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹ سکیں۔ یعنی ان کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہوں۔ ان کے درمیان محبت، امن، مساوات، رواداری، ملنساری اور ہم آہنگی فروغ پائے تاکہ دنیا میں تعمیر و ترقی بھی ہو اور بھائی چارے کی مثال بھی قائم ہو۔ اگر ہم دنیا کی ابتداء پر غور و خوض کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب خدا نے آدم کو خلق کیا تو وہ اکیلا تھا۔ خدا نے سوچا کہ آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہیں۔ میں اس کے لیے ایک مددگار اس کی مانند بناؤں گا تاکہ ان کے درمیان رفاقت و شراکت کا عمل شروع ہو سکے۔ وہ ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹ سکیں۔ ایک دوسرے کی ضرورت بن کر جی سکیں۔ محنت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔
چنانچہ خدا نے آدم کے لیے اس کی مددگار حوا بنائی۔ خدا نے انہیں باغ عدن میں رکھا۔ اپنی شریعت عطا کی اور نیکو بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔
انہیں ہر چیز پر اختیار بخشا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو ہر چیز سے افضل پیدا کیا ہے۔
دنیا کی ہر چیز کا اختیار اس کے ہاتھ میں کر دیا۔
اسے حکمت اور دانائی سے بھر دیا۔ اسے سوچنے اور پرکھنے کی قوت عطا کر دی۔ اس کی فطرت میں دریافتوں کا جذبہ رکھ دیا تاکہ دنیا میں تعمیر و ترقی کی نئی نئی راہیں کھل سکیں۔ یہ سب کچھ پل بھر میں نہیں ہو گیا۔ بلکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ سب کچھ وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا ہے۔
خدا کا یہ الہی منصوبہ تھا کہ جب اس نے دنیا کو پیدا کیا تو اسے خاص مقصد کے تحت بنایا تھا۔
اس میں انسان کی پیدائش کے ساتھ ساتھ ہوا کے پرندے، سمندر کے آبی جانور، جنگل کے چرند پرند اور سمندر کی مچھلیاں پیدا کر کے بنی آدم کو ان پر اختیار بخشا۔ پہاڑوں میں نباتات پیدا کیں تاکہ ایک دوسرے ممالک کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
اگر ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات حق سچ پر مبنی ہے کہ دنیا کا پہلا باپ حضرت آدم جبکہ پہلی ماں بی بی حوا تھی جسے زندوں کی ماں بھی کہا گیا ہے۔ اس کے بعد ہبوط انسانی کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس کے اثرات و ثمرات آج دنیا بھر میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اگر آج ہم دنیا کا مجموعی جائزہ لیں تو اس کرہ ارض پر تقریباً 196 ممالک آباد ہیں۔ جن کے اپنے اپنے مذاہب، اپنی اپنی زبان، اپنی اپنی ثقافت، اپنی اپنی اقدار و روایات، اپنے اپنے نظریات و عقائد اور اپنی اپنی سوچ کا دائرہ کار ہے۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود ہمیں جو ایک نقطہ آپس میں جوڑتا ہے۔ وہ اخلاقی قدریں ہیں جو ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔ ہمارے درمیان نظریات میں اختلاف تو ضرور موجود ہے۔ مگر ایک چیز جسے قدرت کاملہ نے ہمارے خون میں پیدا کیا ہے، وہ اخلاقیات ہے۔
اس میں ہمارا مذہب خواہ کوئی بھی ہو ہمیں ایک چیز جو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیتی ہے۔ وہ ہماری اخلاقی تعلیم ہے جو ہمیں انسانیت کا پرچار، بشریت کی قدر اور آدمیت کی پہچان کرواتی ہے۔
دنیا میں اب تک حیران کن دریافتیں منظر عام پر آ چکی ہیں جو ہماری توجہ اس جانب مبذول کرواتی ہیں کہ خدا انسان پر کتنا مہربان ہے؟ خدا نے اسے کس قدر عقل و بصیر بنایا ہے۔ اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا ہے اور وہ اس دم کی مرہون منت کیا کیا کر رہا ہے۔ تعلیم و تربیت نے انسان کی خوشحالی کے جو دروازے کھولے ہیں۔ وہ قابل دید ہونے کے ساتھ ساتھ قابل فخر بھی ہیں جنہیں رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انسان نے حکمت کے بل بوتے چاند پر قدم رکھ لیا، تعلیم کی نئی راہیں متعین کیں، ایٹم بم بنایا، مختلف علوم دریافت کیے، بے شمار مشینری بنائی، زندگی بچانے والی مشینیں اور ادویات بنائیں، ایک سوئی سے لے کر سرجیکل آلات، ٹرین، ہوائی جہاز، آب دوزیں، الٹرا ساؤنڈ مشین، ایکس رے مشین اور زمینی سفر طے کرنے کے لیے بے شمار گاڑیاں بنائیں تاکہ لوگ آپس میں بہتر تعلقات و روابط کو فروغ دے سکیں۔ خوشحال زندگی گزار سکیں۔ مصیبت میں ایک دوسرے کے کام آ سکیں۔ ممالک آپس میں بری، بحری اور فضائی روابط بڑھا سکیں۔
بلا شبہ 21 ویں صدی کی دریافتوں، آسائشوں، نشانوں، معجزوں اور ایجادوں نے انسان کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ قائم ہوئے ہیں جو تاریخ کے آئینے میں کسی معجزے سے کم نہیں۔ مذکورہ تمام کارناموں، دریافتوں اور آسائشوں کے ساتھ ساتھ انسان کے ساتھ جو بڑا ہاتھ ہوا ہے، وہ اخلاقی گراوٹ ہے۔ جس کے بد اثرات نسل انسانی کو تباہی کہ دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ آئے دن ہم سوشل میڈیا پر نہ گفتہ بے مختلف واقعات، کہانیاں اور قصے سنتے ہیں کہ فلاں جگہ ایسا دل خراش واقعہ پیش آیا ہے کہ اس نے اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ انسانوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں۔ انسانیت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔
لوگوں پر وحشیانہ تشدد کر کے انہیں ابدی نیند سلا دیا گیا ہے۔ کسی کا گلا کاٹ دیا گیا ہے۔ کسی کے منہ پر تیزاب پھینک کر اس کے حسن و جمال کے ساتھ کھلواڑ کھیلا گیا ہے۔ کسی کو جبری مذہب تبدیلی کے قصے سنا کر اس کا مذہبی حق چھین لیا گیا۔
دنیا میں ظلم و ستم کی حدیں ٹوٹ رہی ہیں۔
غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں کا حق کھایا جا رہا ہے۔ جبکہ امن، محبت، بھائی چارے، مساوات، رواداری اور اخلاقیات کی فضا سوگوار ہو رہی ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے قائم نہیں ہو سکتی جہاں دنیا نے خوب تعمیر ترقی کی منازل طے کیں ہیں، وہاں اخلاقی گراوٹ بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔ انسان کی فطرت سے وہ خوبیاں چھن گئیں ہیں جو اسے انسانیت کا درس دیتی ہیں۔
اگرچہ آج دنیا بھر میں عالمی ادارے اور تنظیمیں قائم ہیں جو انصاف، غربت، بے روزگاری، انسانی حقوق کی پاسداری، برابری اور مذہبی تفریق کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس امر کے باوجود بھی دنیا میں ظلم و ستم، انتہا پسندی، دھوکہ دہی، قتل و غارت، فحش مواد دیکھنے کی رغبت، گنڈا گردی، نا انصافی، الزام تراشی، توہم پرستی، بت پرستی، انا پرستی جیسے عناصر موجود ہیں جو ہماری جسمانی، روحانی اور ذہنی امراض کا سبب بن رہے ہیں۔ دولت کی فراوانی نے انسانوں کو بے بسی کے ماحول میں پھینک دیا ہے۔ ہماری آنکھوں میں گناہ کے ککرے اتر آئے ہیں، دل پر گناہ کی چربی چھا گئی ہے۔
ان ساری باتوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے انسان نے اس کہاوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“
طاقت اور اختیار نے انسان کو حیوان بننے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج ہمیں اس بات پر دل جمی سے سوچنا ہو گا؟ اخر اخلاقی گراوٹ کے وہ کون سے محرکات ہیں جن کی بدولت وہ حیوان بن گیا ہے۔ نتیجتاً نہ اسے اپنی پرواہ، نہ دوسروں کی اور نہ اپنے معاشرے کی، نہ اپنی قوم کی اور نہ اپنے ملک کی۔ شاید اس کی طاقت اور اختیار اسے ایسے گناہوں اور جرائم میں مبتلا کر رہا ہے جس کے پاس معاشرے میں افراتفری اور بے چینی کی لہر پھیل چکی ہے۔
ہماری سرشت میں میازمیٹک تھیوری اس قدر فعال ہو چکی ہے کہ ہم کوئی امتیاز برتے بغیر اپنے منفی ہتھکنڈوں کو خوب استعمال کر رہے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نے اسے گھائل کیا ہے اور کہیں معاشرتی بگاڑ نے اسے گناہ کی دلدل میں پھنسا کر رکھ دیا ہے۔ انسان کے قول و فعل میں دن بدن تضاد و تعارض بڑھتا جا رہا ہے۔ جب ہم عملی طور پر معاشرے کو دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے؟ اس میں دعوے تو خدائی ہیں جب کہ کام ابلیس کے ہیں۔ جگہ جگہ رشوت دی اور لی جاتی ہے۔ ہمارے ہاتھوں پر رشوت کی مہندی لگی نظر آتی ہے۔ ہم انڈا کھانے کی بجائے پوری مرغی کھا جاتے ہیں۔ جگہ جگہ فحاشی کے اڈے ہیں۔ منشیات کا مسلسل بڑھتا ہوا رجحان نوجوانوں کو کس طرح گھائل کر رہا ہے۔ ان کی جوانی چاٹ رہا ہے۔ ہمارے خون میں نشہ کی ملاوٹ ہو رہی ہے۔ ہم اپنے جسم و روح کو منشیات کے عادی بنا کر آلودہ بنا رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اسٹیج ڈراموں اور فلم انڈسٹری کے ذریعے نوجوان نسل کے اذہان و قلوب کو گندا کیا جا رہا ہے۔
میری آنکھوں کے سامنے اخلاقی گراوٹ کے بے شمار مناظر ہیں۔ جب میری آنکھوں سے ان مناظر کا ٹاکرا ہوتا ہے تو میری آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔
میں اپنی آنکھوں کے سامنے انصاف کا خون ہوتا ہوا دیکھتا ہوں۔ جرم کے تعاقب میں ایک امیر کو چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ ایک غریب کو سزا کا مرتکب بنا دیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ جس میں عدل و انصاف کا خواب تو دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر حقیقی عملداری غائب نظر آتی ہے۔ دنیا میں امیر کے ہاتھ لمبے ہیں جبکہ امیر کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں۔ ہم نہ تو اپنی اصلاح کرتے ہیں اور نہ اپنے معاشرے کی شاید جس کی بنیادی وجہ عملی نمونہ سے بغاوت ہے جس کا کھلا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لیکن شاید ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ وہ خاموشی سے اپنا انتقام لیتی ہے بلکہ انتقام کا سلسلہ نسلوں تک جاری رہتا ہے۔
اس بات کو خدا کا عذاب سمجھ لیجیے یا گناہوں کی سزا کا قرض۔
میں یہاں نو مئی کا واقعہ دہرانا ضروری سمجھتا ہوں جس میں پاکستان کی عسکری قیادت کہ دفاتر اور املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ اس اندوہناک واقعہ میں جو عناصر بھی ملوث تھے وہ ملک و قوم کی سالمیت کے خلاف تھے۔ یہ واقعہ پہلا نہیں ہے ایسے کئی واقعات رونما اور لوگ خاموش ہو گئے۔ اخبارات کی شہ سرخیاں بنے مگر ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ انہیں توڑا پھوڑا گیا۔ ہمارے غم و غصہ نے ہمیں اس قدر بے حال کر دیا کہ ہم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے دل خراش واقعات نے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہماری جنونیت کا جن کس قدر بے قابو ہے۔ ہم کس طرح اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں؟
شاید ہم اس وقت کو بھول گئے ہیں جب یہ ملک بہت سی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا تھا۔ ہم شاید قائد اعظم کے احسانات کو بھول گئے ہیں۔ جس کی انتھک محنت اور لگن نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر متعارف کروایا تھا۔ ہم نے 75 سالوں میں جو جو ترقی کی ہے۔ اسے کیسے فراموش کر سکتے ہیں؟ آج اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم نے سازش کی ہے یا بغاوت؟ آخر میں ایک اور پاکستانی معاشرے کا پہلو جس میں مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی ایک بہت بڑی اخلاقی اور معاشرتی گراوٹ ہے۔ اکثریت یہ خیال کرتی ہے کہ جو ہمارا عقیدہ وہی ہر پاکستانی کا ہو۔
اخر میں، میں اپنے ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے دعا گو ہوں


