ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے منسوب 09 مئی کے احتجاجی واقعات کو یوں ایک سانحہ کا نام اور رنگ دیا جا رہا ہے گویا فائیونائین ہمارا نائین الیون تھا۔ ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں اور نہ ہی ہر دو کے درمیان کوئی نسبت ٹھہرتی ہے۔ ہاں اگر ذرا آنکھیں کھول کر اور کچھ گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ایک مماثلت ایسی کیفیت ضرور دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے پس پردہ سیاسی عوامل کا کارفرما ہونا۔ امریکہ نے اپنی دو عمارتوں (ٹوئن ٹاورز) کی بنیاد پر پوری دنیا بالخصوص مسلمانوں کو آگے لگا لیا تھا اور اب ہمارے ہاں یہی کھیل (نومولود) ”جناح ہاؤس“ (اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ تاریخ مذکور تک کبھی جناح ہاؤس کا نام سنا نہ پڑھا۔)
بلکہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی کنیت کی مناسبت سے لاہور میں ان کی کوئی رہائش گاہ بھی تھی۔ اس ”راز“ کا تفصیلی احوال تو راقم پر تب کھلا جب بعد میں اس موضوع پر کہا اور لکھا جانے لگا جیسے 18 مئی سنہ 2023 ء کے روزنامہ جنگ میں (مقبوضہ) جناح ہاؤس کے بارے میں لکھا گیا حامد میر کا کام بعنوان (جیسی قوم ویسے حکمران) نامی ایک عمارت کے تقدس کو ابھار کر اور اس کی آڑ میں پوری قوم (مشتری ہوشیار باش!) خصوصاً پی ٹی آئی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ اور وہ بھی چھپ کر نہیں کھل کر۔ نجانے یہاں مجھے یہ نعرہ کیوں یاد آ رہا ہے جو فکر فردا سے بے نیاز کچھ لوگوں کی طرف سے بلا سوچے سمجھے لگایا جاتا ہے کہ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ سچی بات ہے مجھے تو سنہ 1979 ء تا امروز اس کے برعکس نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ میرے وطن کے سجیلے جوان اور افسر دھرتی ماں پر قربان ہوتے چلے آرہے ہیں۔ گزشتہ چوالیس پبنتالیس سالوں سے دہشت گردی کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے لئے شب و روز مصروف ہیں۔
ان کے جاگنے کی وجہ سے ہی ہم سوتے میں بھی احساس تحفظ محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں پاک فوج کے باب میں ایسی باتیں کرنا نعرے لگانا تو فی الواقعی بہت بڑی گستاخی اور جسارت کی بات ہے۔ اور ساتھ ہی حقائق سے چشم پوشی بھی۔ بھلا ایسی سب نامعقول باتیں مجھ ایسا کوئی بندہ کیسے مان سکتا ہے۔ ایک ایسا بندہ جس کا اوائل عمری سے ہی پاک فوج کے ساتھ ایک رومانس رہا ہے۔ ہم وہی تو ہیں جو شروع بچپن میں کسی فوجی کا نوائے کو جاتا دیکھتے تو احتراماً رک جاتے۔
انہیں سیلوٹ مارتے اور سوچتے یہ وہ سربکف لوگ اور نیک روحیں ہیں جنہیں وطن کی ہوائیں بھی سلام کہتی ہیں۔ اور ہاں یہ بھی تو سچ ہے کہ فوج تو فوج ہمیں فوجی ٹرک بھی بالکل ایسے ہی پیارا لگتا جیسے مجنوں کو لیلیٰ تو لیلیٰ سگ لیلیٰ بھی بہت عزیز تھا! ہمارے اس اعتراف حقیقت کے بعد آپ بھی تو کچھ اس بات کا اعتراف کریں کہ پاک فوج سے محبت کی چاہ میں پاک قوم نے بھی بہت زخم کھائے ہیں۔ اس کے منہ زور فیصلوں کو بھگتا ہے۔
اپنی آرزوؤں کا خون ہوتے دیکھا ہے۔ اور وہ یوں کہ معروف دہشت گردی کے پیچھے تو نہیں ہاں البتہ ملکی سیاست کے پیچھے ہمیشہ ہی وردی اپنا رنگ ضرور دکھاتی اور جماتی رہی ہے اور یہ کوئی حالیہ یا دو چار برسوں کی بات نہیں، پون صدی پر محیط ایک بہت ہی تلخ اور المناک کہانی ہے۔ ہر باب ہی داغ داغ اور خونچکاں۔ ادھر قائد محترم کی آنکھ بند ہوئی، ادھر آپ کی آنکھ یوں ”کھل“ گئی جیسے لاٹری نکل آئی ہو۔ گویا قافلہ آزادی کی یہی آخری منزل تھی۔
میرے عزیز ہم وطنو! ! آج آپ کو جناح ہاؤس جس میں آپ کا ایک کور کمانڈر مقیم تھا، اس ایک گھر کی بربادی، اس کے لٹنے اور جلنے کا غم کھائے جا رہا ہے، کیا قائد کا بنایا پاکستان ایسا ہی بے وقعت، بدقسمت اور لاوارث تھا کہ وہ ایک مدت سے کبھی اس آگ تو کبھی اس آگ میں مسلسل جل رہا ہے مگر جناح کے پاکستان کے لئے جناح ہاؤس ایسی حساسیت دیکھنے کو نہیں ملی۔ تب بھی جب وہ آپ کی قلمرو میں اور آپ کی سینگنوں کے سائے تلے ٹوٹ گیا۔
آپ کو یہ سب کچھ گوارا تھا مگر کرسی سے دستبرداری اور اکثریتی رائے کا احترام آپ کو سخت ناگوار گزرا۔ یہ مقام ماتم نہیں تو اور کیا ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود آپ کی کہہ مکرنیوں کا آج بھی وہی عالم ہے۔ احساس زیاں جاگا نہ من کی دولت ہاتھ آئی۔ جبکہ تن کی دولت جسے اقبال نے چھاؤں کہا تھا، اس کا سایہ بھی پچھلے دنوں بعنوان جہاد فرانس کے ایک کوچہ میں سر عام آپ کا ساتھ چھوڑ گیا۔ افغانیوں کا اظہار برہمی بطور ایک ”قدر مشترک“ کے یقیناً ہمارے لئے قابل فہم ہے۔
ادھر اور ادھر دونوں ممالک میں ایک جیسی شکایت، کچھ بھی نہ بدلہ۔ وہی سوچ کا سفر، وہی عمل کی کہانی۔ سقوط ڈھاکہ کو ابھی بمشکل چھ سال ہی ہوئے تھے کہ آپ ایک بار پھر اسلام کے سپاہی بن کر اسلام آباد پر چڑھ دوڑے۔ صرف یہی نہیں، معزول کیے گئے وزیراعظم کو جو ابھی کچھ ہی پہلے اپنی فوج اور شہریوں کو بھارتی جیل سے نکال کر لایا تھا اور جو ہمارے موجودہ ملکی دستور اور ایٹمی پروگرام کا خالق تھا اور جس نے اسلامی سربراہی کانفرنس کی لاہور میں میزبانی کر کے ایک شکست خوردہ قوم کو عزم نو سے ہمکنار کیا تھا، اسے ایک مشکوک مقدمے اور متنازع فیصلہ کے باوجود پھانسی دے کر لاوارثوں کی طرح بڑی شتابی سے قبر میں اتار دیا۔
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے! اس کے برعکس اسلام کے اس سپاہی کے عہد حکومت میں جب اس جنرل کی وفات ہوئی جو ملک ٹوٹنے کے وقت صدر پاکستان تھا، اپنے اس پیٹی بھائی کو آپ نے قومی پرچم میں لپیٹ کر پورے اعزاز کے ساتھ دفنایا۔ آج آپ نے جناح ہاؤس پر حملہ آوروں کے سارے حقائق جمع کر لئے ہیں اور بقول آپ کے انہیں جھٹلایا جاسکتا ہے نہ بگاڑا۔ اگر آپ بھول گئے ہوں تو یاد دلا دوں، ملک ٹوٹنے پر بھی حمود الرحمن نامی ایک کمیشن بنا تھا اور اس نے بھی اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے گفتنی نا گفتنی کچھ حقائق کچھ نتائج اخذ کیے تھے اور انہیں بھی جھٹلایا جاسکتا تھا نہ بگاڑا۔
مگر آپ نے اپنے نامہٴ اعمال کی وہ رپورٹ منظر عام پر ہی نہیں آنے دی، عزیز ہم وطنو تک اس کے کچھ مندرجات پہنچے بھی تو ہمسایہ ملک بھارت کی وساطت سے۔ آپ کو جنرل ہیڈ کوارٹر پر بھی حملے یا احتجاج کا بہت رنج ہے۔ درست۔ مگر پاکستان کا ”وزیراعظم ہاؤس“ بھی کروڑوں عوام کا جی ایچ کیو ہے، آپ نے کتنی ہی بار اس کے تقدس، اس کی عظمت اور اعتماد کو برباد کیا۔ تماشا بنایا۔ آخری دفعہ جب آپ نے براہ راست وہاں جھنڈے گاڑے، اسے فتح کیا اور ملک کے وزیراعظم کو بیک بینی دو گوش نکال باہر کیا تو جمہور کے اس نمائندے کو پہلے لانڈھی جیل کراچی پھر اٹک قلعہ اور پھر وہاں سے بھلے باہمی رضامندی سے ہی سہی، دس سال کے لئے جلا وطن کر دیا۔ کچھ ایسا ہی سلوک وزیراعظم ہاؤس کے ایک اور مکین گیلانی صاحب کے ساتھ براستہ عدالت کیا گیا۔ پھر یہی کہانی نواز شریف کے ساتھ بھی بنام پانامہ دہرائی گئی۔ ہر دو حکم ناموں پر فوری عمل ہوا، حالیہ دنوں میں جب اسی عدالت کی طرف سے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخاب کروانے کا فیصلہ آیا تو اسے رد کر دیا گیا۔
آہ! وہی روایتی نظریہ ضرورت جس نے ہمیں گھر کا چھوڑا نہ گھاٹ کا! آپ کبھی بت تراش کے طور پر سامنے آتے ہیں تو کبھی بت شکن کے طور پر۔ کبھی کنگز پارٹی بناتے ہیں تو کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کی کوکھ سے پیٹریاٹ ایجاد کرلیتے ہیں۔ کبھی نقد رقمیں بانٹتے ہیں۔ کبھی ریفرنڈم کی آڑ میں چھپ جاتے ہیں۔ علی ہذا القیاس۔ آپ کا یہ مینڈیٹ تو نہیں تھا۔ اور نہ ہی حلف تھا۔ اب بھی نہیں ہے۔ مگر یہ سب کچھ کیا ہے؟ میں نے پیچھے پاک فوج کے ساتھ اپنی محبت اور عقیدت کا ایک حقیقت پسند شخص کے طور پر ذکر کیا ہے۔ آج اگر میں ایسا سوچتا ہوں تو اس میں غلط کیا ہے کہ میرا محبوب میرے پیار کا قاتل نکلا؟
آپ عوام پر کیوں ایسا تاثر چھوڑتے ہیں کہ جس سے لگے پاک فوج ملکی سیاست دانوں کی پولیس بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے مشران (Elders) اپنے اصل کام کے سوا باقی سب ( سیاسی غیر سیاسی) کام کر لیتے ہیں۔ ہم نے پڑھا سنا کہ 1965 ء کی جنگ میں آپ نے دشمن پر اپنی دھاک بٹھا کر ایک دنیا کو حیران پریشان کر دیا۔ مگر اس مشرک ملک نے صرف چھ سال بعد ، 1971 ء کی جنگ میں ہم سے اپنا بدلہ لے لیا۔ مگر ادھر جہاد فی سبیل اللہ والے گزشتہ باون سالوں سے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔
ہماری شہ رگ کشمیر اور سیاچن ( جس کے بارہ میں اسلام کے سپاہی نے فرمایا تھا وہاں تو گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں اگتا، گویا جاتا ہے تو جانے دو) بدستور ہماری دسترس سے باہر ہیں۔ اور شاید ہماری موجودہ دفاعی پالیسی (کہ ہمیں کوئی تھپڑ مارے گا تو پھر جواباً ہم بھی ایسا ہی کریں گے ) کے تحت آئندہ بھی یہ صورتحال برقرار رہے گی۔ ہاں ایک کارگل کا ایڈوینچر ضرور سامنے آیا لیکن وہ جیسے شروع کیا گیا تھا ویسے ہی ختم ہو گیا۔ کہ بعد از خرابی بسیار فریقین واپس اپنی اپنی پوسٹوں پر چلے گئے۔ یاد رکھیں، آپ سے وابستہ ایسی سب کہانیاں قوم کی اجتماعی یادداشت میں مسلسل رقم اور محفوظ ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ آج آپ بظاہر ایک اور راونڈ غلام عوام بمقابلہ اسٹیٹس کو جیت چکے ہیں تو اس میں حیرانی والی کیا بات ہے؟
سوال مگر یہ ہے کہ آخر ایسا کب تک؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی سب کھٹی میٹھی باتوں اور یادوں کے انتہائی تلخ اور منفی ردعمل سے محفوظ رکھے۔ بصورت دیگر خاکم بدہن ہم بھی افغانستان، یمن، سوڈان، شام، عراق اور لیبیا کی تباہ حال صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔ ایک اور یوگوسلاویہ بن جائیں گے۔ اور یہ خطرہ تب تک ہمارے سروں پر منڈلاتا رہے گا جب تک آپ سیاست میں دخیل رہ کر دانستہ نا دانستہ طور پر ملک و قوم کو کمزور اور بے سمت کرنے اور رکھنے ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں گے۔
بس آپ سے یہی شکایت اور یہی وجہ اختلاف ہے وگرنہ ہمیں آپ سے آج بھی پیار ہے! سیاست دانوں کی نا اہلیاں، بے اعتدالیاں زباں زد عام کرپشن کی عجب اور غضب کہانیاں اور نتیجتاً ان کے بیچوں بیچ جنم لیتی ان کی مصلحتیں اپنی جگہ بجا۔ لیکن آپ انہیں فطری ماحول میں پھلنے پھولنے، سمجھنے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا مکمل موقع تو دیں۔ ان کی کمزوریوں سے فائدہ تو نہ اٹھائیں۔ انہیں تقسیم تو نہ کریں۔ آج آپ اپنی ایک عمارت کے جلنے پر تو ماتم کناں ہیں۔
اپنے عزم اور اپنے فرمان امروز سے قوم کو خبردار کر رہے ہیں۔ جبکہ اسی نام نہاد اسلامی ملک میں مساجد کا انتہائی غلط استعمال ہو، وہاں سے اشتعال انگیز اعلانات ہوں، ان کی توڑ پھوڑ ہو، بے حرمتی ہو، لال مسجد (بھلے ان کا رستہ غلط تھا) میں متبادل حل کے باوجود گولیاں چل جائیں۔ خوبصورت فیصل مسجد اسلام آباد کے آنگن میں ایک ایسے شخص، جو مسلسل اللہ کے نام کا غلط استعمال کرتا اور اپنے ناجائز اقتدار کو طوالت بخشتا اور بسم اللہ پڑھ کر جھوٹ پہ جھوٹ بولتا رہا، کی جلی کٹی باقیات کو دفنا کر اللہ کے گھر کے تقدس کو پامال اور اس کے حسن کو ہی گہنا بلکہ دھبہ لگا دیا جائے (وغیرہ ) تو ایسی کسی بھی صورت میں کسی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے جیسا کہ ہم نے نو دس مئی کے واقعات کے بعد دیکھا۔
گویا آپ کے گھر آپ کے ٹھکانے اور علامتیں مقابلتاً بہت ہی اونچے درجے کی کوئی چیز ہیں۔ صرف یہی نہیں، ایسی کوئی عسکری سرگرمی ہمیں تب بھی نظر نہیں آتی جب ملکی آئین کو چند صفحوں کی کتاب قرار دیکر اسے پھاڑنے کی علانیہ بات کی جائے۔ اسے بوقت ضرورت منسوخ یا معطل کر دیا جائے۔ بغیر اندراج مقدمات کے شہریوں اور صحافیوں کو اٹھا لیا جائے۔ ماورائے عدالت مار دیا جائے۔ اکبر بگٹی جیسے محب وطن لوگوں کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
لوگوں کی پرائیویٹ آڈیو ویڈیو ریکارڈز اور پھر انہیں بلیک میلنگ کے لئے بوقت ضرورت ریلیز کیا جاتا رہے۔ اس داستان رنج و الم کو کوئی کہاں تک سنے اور سنائے؟ آپ اپنے فیصلے تو بزور طاقت منوا لیتے ہیں مگر ووٹ کی پرچی کے ذریعے سامنے آنے والی عوام کی رائے کو عزت و احترام دینے اسے تسلیم کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔ آپ ”مثبت نتائج“ کی امید میں نوے دنوں کو گیارہ سال تک کھینچ کر لے جاتے ہیں۔ دست اجل سے مشروط کر دیتے ہیں۔ آپ غلط کام اور غلط فیصلے بھی کریں تو ماشاء اللہ، سبحان اللہ۔ اہل سیاست درست بھی کریں تو استغفراللہ، نعوذ باللہ۔
یہ حال دل کسی سیاسی جماعت کے کارکن کا نہیں، ایک ایسے خوش نصیب پاکستانی کا ہے جس نے بھلے وقتوں میں بھانپ لیا تھا کہ ”ارض پاک“ میں بوجہ عدم انصاف پاکستانیوں کی غالب ترین اکثریت کے لئے حیات جرم بنتی جا رہی ہے اور یوں وہ مدتوں پہلے ایک روز بذریعہ جہاز ملک سے زندہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اب تو میرے ہم وطن اس کوشش میں رستے میں ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ میرے یہ غریب الدیار لوگ منزل مراد کے بجائے کسی اجنبی سرزمین کی بے نام و نشان قبر میں اتر جاتے ہیں۔
یعنی کبھی مشکل رستوں کا مرحلہ طے کرتے، کبھی موسموں کی شدت سے لڑتے کبھی سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر کبھی کسی کنٹینر میں دم گھٹ کر اور کبھی سمندر میں ڈوب کر۔ زندگی کی ان تمام تر تلخیوں ناقدریوں اور کڑواہٹوں کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ اپنے وطن کی محبت پھر بھی دل سے نہیں نکلی۔ ہاں اتنا فرق ضرور پڑا ہے کہ اب شرمندگی کا بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔ اور وہ یوں کہ اگر کوئی اجنبی مجھ سے پوچھے کہ کہاں کے ہو؟
تو ایسی صورت میں اکثر میرا یہی جواب ہوتا ہے بھارت سے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہمارے ناخداؤں نے ہمارا ہاتھ نیچے کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں ہماری شناخت علاوہ دہشت گردی کے ایک غریب مقروض اور بھکاری ملک کے ہونے لگی ہے اور کسی بھی غیرت مند پاکستانی کو اپنا یہ تعارف گوارا نہیں۔ جب اس پر سرکار کا مانگے ہوئے قرض کا کوئی پیسہ لگا ہی نہیں تو وہ یہ بوجھ، یہ داغ ندامت کیوں اٹھائے؟ جہاں تک پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کی سیاست بے فراست کا تعلق ہے، اس نے سوائے بیزاری اور اکتاہٹ کے اور کچھ نہیں دیا۔
میرے تجزیے کے مطابق عمران خان کی کسی سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں۔ وہ اپنی دنیا کا بندہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خلاف روایت نقار خانے میں اس کی آواز کو سنا گیا۔ اور وہ رفتہ رفتہ باقی سب آوازوں پر غالب آ گئی۔ بھاری ہو گئی۔ اور یہی موصوف کا جرم ٹھہرا۔ ماہ مئی کے واقعات تو درحقیقت ایک بہانہ جبکہ خان نشانہ ہے! پس چہ باید کرد؟ آپ کی ساری شان و شوکت عزت اور طاقت پاکستان اور پاکستانیوں ہی کے دم قدم سے ہے جسے آپ نے روز اول سے ہی بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔
ہم سب کا دور رس مفاد اسی میں ہے کہ آپ اپنے واضح اعلان کے مطابق محض زبانی کلامی نہیں، عملی طور پر بھی خود کو ملکی سیاست سے الگ کر لیں۔ نو مئی کو سبق دینے کے خیال سے نہیں سبق لینے اور سیکھنے کے خیال سے دیکھیں اور سمجھیں۔ اسے اپنے لئے ایک فیصلہ کن موڑ بنا لیں۔ تبدیلی اور رجیم چینج کے نام سے رواں برسوں میں آپ نے جو الٹے سیدھے تجربے کیے ہیں، ان سے ایک بار پھر یہی کھلا ہے کہ یہ آپ کی صلاحیت کا میدان نہیں۔
اور جو ہے اس میں بھی بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ جب کوئی آرمی چیف اپنی توسیع کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے تو وہ گویا اپنے عمل سے اس امر کا اعلان عام کر رہا ہوتا ہے کہ میرے بعد روشنی نہیں، اندھیرا ہے۔ آپ خود بھی ڈوب رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک و قوم کو بھی ڈبو رہے ہیں۔ نو مئی کو لوگ آپ کے خلاف نکلے نہ نکالے گئے، یہ تو ایک لاوہ تھا جو اندر ہی اندر پکتا رہا اور اس روز، وہ خوف کے سارے بت توڑ کر بالآخر اپنی ابتدائی شکل میں بہہ نکلا۔
سابق مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں ہم اس کی انتہائی صورت بھی دیکھ چکے ہیں۔ موجودہ پاکستان کو اگر آپ ٹوٹنے سے بچا بھی لیں تو یاد رکھیں دلوں کے ٹوٹنے کے عمل کو آپ کبھی روک نہیں پائیں گے۔ اور نہ ہی باہمی نفرتوں کو۔ چھوٹے صوبے خصوصاً بلوچستان پہلے ہی دل شکستہ ہے۔ اگر آپ نو مئی کے واقعات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ سمجھتے ہیں تو یہ منصوبہ بندی ہمیں ملک و قوم اور جمہوریت کے خلاف بھی ہوتی بارہا نظر آئی۔ کیا پہلا مارشل لاء بغیر کسی منصوبہ بندی کے لگایا گیا تھا؟ وہ لگا تو سنہ 1958 ء میں مگر ایوب خان کی سوانح حیات سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے چار سال پہلے ہی یہ خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے۔ 04 اکتوبر سنہ 1954 ء کی ایک رات جب وہ لندن کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے تو وہ ملکی خرابی اور اس کے علاج کے بارہ میں سوچتے ہوئے خود سے کہتے ہیں
”آؤ ذرا فوجی طریق پر اپنے خیالات تو قلمبند کریں۔ ملک میں کیا خرابی پیدا ہو گئی ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟“
(جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی صفحہ 208 )
پھر یہ منصوبہ بندی جنرل یحییٰ خان نے صدر ایوب خان کے خلاف کی۔ اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات مرحوم الطاف گوہر نے اس کا احوال اپنی کتاب ایوب خان فوجی راج کے پہلے دس سال میں کر رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک بھیانک سازش اور منصوبہ بندی جنرل ضیاء نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے آپریشن فیئر پلے کے نام سے کی تھی۔ اور آخری دفعہ یہی منصوبہ بندی وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جنرل پرویز مشرف نے سری لنکا روانگی سے قبل کر رکھی تھی۔ سو اب صرف نو مئی کی مبینہ منصوبہ بندی پر ہی اظہار برہمی کیوں؟
بخدا پاکستانیوں کو اپنا دشمن نہیں، پشتبان بنائیں۔ باہمی اعتماد میں اضافہ کریں۔ ان کی آڑ میں پی ٹی آئی کا رستہ روکنا ایک اور تاریخی غلطی ہوگی۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں۔ یہ وقت غصے اور اناء کے اظہار کا نہیں، چشم بصیرت کو بروئے کار لانے اور مل کر آگے بڑھنے کا ہے۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔

