نظریہ ارتقا اور انسانی نفسیات کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ


عمر فاروق کے سوال

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب میں امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں دل کی گہرائیوں سے سمجھتا ہوں کہ آپ میری زندگی کے چند ان افراد میں سے ہیں جن سے ‘محبت اور دوستی’ کے تعلق کو میں بہت قیمتی جانتا ہوں۔ چند دن پہلے آپ کی کتاب "انفرادی اور معاشرتی نفسیات” پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے کتاب کی خاص بات یہ لگی کہ اس میں عام آدمی کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بات اسے فلسفیانہ کاوش سے زیادہ حقیقت کے قریب تر لے آتی ہے اور یہی بات آپ کی کتاب کو قیمتی بناتی ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں نے بہت کچھ نیا جانا بلکہ میرے ذہن میں نئے نئے سوالات پیدا ہوئے جو مجھے مزید جاننے پر اکساتے ہیں۔ جو مجھے روایت کی تہوں کو کریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میں فی الحال چند سوالات آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں تاکہ جستجو کی یہ کاوش کسی نتیجہ پر پہنچ سکے۔

٭٭٭            ٭٭٭

محترم ڈاکٹر صاحب انسانوں کی انفرادی اور معاشرتی نفسیات کی بہتر آگہی کے لیے میں یہ جاننا چاہوں گا کہ

 ‘انسان درحقیقت کیا ہیں؟’

‘وہ کہاں سے آئے ہیں؟،

ڈارون کے نظریہ ارتقا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

انسانی سائیکی کیا ہے؟

انسان نفسیاتی مسائل کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

آپ کا شکر گزار

عمرفاروق

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ڈاکٹر خالد سہیل کے جوابات

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محترمی عمر فاروق صاحب !

یہ میری کتاب کی خوش بختی کہ اسے آپ جیسا ذہین قاری ملا۔ آپ نے جو سوالات پوچھے ہیں ان پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ میں نظریہ ارتقا اور انسانی سائیکی کے حوالے سے اپنے خیالات و نظریات اختصار سے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نظریہ ارتقا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے بچپن کی وہ دوپہر یاد ہے جب میں نے اپنے خاندان کے ایک بزرگ سے پوچھا تھا کہ اس دنیا میں انسان کہاں سے آئے ہیں؟ اور انہوں نے فرمایا تھا ‘ جنت سے ، پھر اس بزرگ نے مجھے آدم و حوا کہ کہانی ان الفاظ میں سنائی تھی۔ فرمانے لگے ‘ جنت میں خدا نے مٹی کا ایک پتلا بنایا تھا۔ جب خدا نے اس مٹی کے پتلے میں روح پھونکی اور وہ زندہ ہو گیا تو خدا نے اس کا نام آدم رکھا۔ آدم کچھ عرصہ جنت میں اکیلا رہا پھر اس نے خدا سے کہا کہ مجھے ایک شریکِ حیات چاہیے کیونکہ میں جنت میں احساسِ تنہائی کا شکار ہو گیا ہوں۔ خدا نے آدم کی بائیں پسلی سے ایک عورت بنائی اور اس کا نام حوا رکھا۔ آدم اور حوا کچھ عرصہ جنت کے باغوں اور بہاروں میں خوش رہے لیکن پھر شیطان کو آدم اور حوا کی خوشی سے حسد ہونے لگا۔ شیطان نے حوا کو ورغلایا اور حوا نے آدم کو ورغلایا اور آدم نے وہ پھل کھایا جس کو کھانے سے خدا نے آدم کو منع کیا تھا۔ ایسا کرنے سے خدا آدم اور حوا سے ناراض ہو گیا اور دونوں کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا۔ اب اس دنیا میں آدم اور حوا کے بیٹوں اور بیٹیوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ قیامت کے دن ان کا امتحان ہوگا۔ جس نے نیکیاں زیادہ کی ہوں گی وہ امتحان میں پاس ہو جائے گا اور جنت میں چلا جائے گا اور جس نے برائیاں زیادہ کی ہوں گی وہ امتحان میں فیل ہو جائے گا اور اسے جہنم میں بھیج دیا جائے گا،۔

میں نے جب اس بزرگ سے آدم اور حوا،جنت اور دوزخ کی کہانی سنی تو مجھے مزا تو بہت آیا کیونکہ وہ ایک دلچسپ کہانی تھی لیکن میرا دل نہ مانا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ سچ نہ ہو بلکہ کسی نے وہ کہانی خود ہی گھڑ لی ہو۔

مجھے اپنی نوجوانی کی وہ شام بھی یاد ہے جب میری والدہ نے مجھے قرآن کا نسخہ دیتے ہوئے کہا تھا ‘ سہیل بیٹا ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے آپ کو نہ صرف قرآن پڑھنا چاہیے بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا چاہیے،

میں چونکہ عربی زبان سے نابلد تھا اس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے میں لائبریری سے بہت سے تراجم اور تفاسیر لے آیا۔ ان تراجم اور تفاسیر میں بہت سے اسلامی سکالرز اور دانشوروں کی کتابیں شامل تھیں۔ میں نے اگلے چند برسوں میں ابوالا علیٰ مودودی‘ غلام احمد پرویز اور ابوالکلام آزاد کی تفاسیر کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کی کتاب Reconstruction of Religious Thought in Islam کے چھ لیکچر بھی پڑھے۔

علامہ اقبال کے لیکچر پڑھنے سے مجھے پتہ چلا کہ آسمانی کتابوں کو پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ بعض سکالر ان آیات کو لغوی معانی دیتے ہیں اور بعض دانشور استعاراتی معانی۔ اقبال نےکہا کہ آدم اور حوا کی کہانی صرف جنت میں بسنے والے دو انسانوں کی کہانی نہیں بلکہ کرہِ ارض پر بسنے والے ہر مرد اور عورت کی استعاراتی کہانی ہے۔ اقبال سے میں نے یہ بھی سیکھا کہ جنت اور دوزخ انسانی ذہن کی کیفیتوں کے نام ہیں۔ کوئی آسمانوں میں مخصوص جگہیں نہیں ہیں کیونکہ HEAVEN AND HELL ARE STATES OF MIND AND NOT PLACES

اقبال نے مجھے آسمانی کتابوں کو استعاراتی انداز میں پڑھنا سکھایا۔

میں نے مختلف اسلامی دانشوروں کی قرآن کی تفاسیر میں جب آدم و حوا کی کہانی کی تفصیل پڑھیں تو مجھے پتہ چلا کہ قرآن میں لکھا گیا ہے کہ ساری نسلِ انسانی کا آغاز ۔ ۔ ۔ نفس الواحدہ۔ ۔ ۔ ۔ سے ہوا ہے۔ میں نے جتنے مسلم سکالرز کی تفاسیر پڑھیں انہوں نے نفس الواحدہ کا ترجمہ آدم کیا اور کہا کہ آدم سے نسلِ انسانی کا آغاز ہوا۔

میرے لیے دلچسپ بات یہ تھی کہ جن اسلامی سکالرز نے آدم اور حوا کی کہانی پیش کی ان سب نے ڈارون کی تھیوری کو رد کیا اور یہ لکھا کہ قرآنی تعلیمات ڈارون کے نظریہ ارتقا کو رد کرتی ہیں لیکن جب میں نے ابوالکلام آزاد کی تفسیر پڑھی تو مجھے حیرانی ہوئی کہ انہوں نے لکھا کہ قرآن اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ آزاد نے ۔ ۔ نفس الواحدہ۔ ۔ ۔ کا ترجمہ آدم کرنے کی بجائے ۔ ۔ Unicellular Organism…Amoeba۔ ۔ کیا۔ پھر آزاد نے قرآن کی کئی اور آیات کے حوالے دے کر [جن میں لکھا ہے کہ زندگی کا آغاز پانی سے اور انسانی زندگی کا آغاز خون کے لوتھڑے سے ہوا] یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآنی تعلیمات اور ڈارون کے نظریہ ارتقا میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

پہلے تو میں آزاد کی علمیت ، سائنس اور مذہب کے درمیان پل بنانے اور قرآنی آیات کو نئے معانی پہنانے سے بہت متاثر ہوا لیکن جب میں نے دوسرے آسمانی مذاہب کے دانشوروں کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ دانشور جو آسمانی صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔ ۔ ۔ چاہے وہ قرآن ہو، انجیل ہو، تورات ہو یا زبور۔ ۔ ۔ وہ جب کسی لامذہب سائنسدان کی نئی تحقیق پڑھتے ہیں یا کسی دہریہ محقق کے جدید نظریے کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ دوبارہ اپنی آسمانی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کسی پرانی آیت کی اس طرح نئی تفسیر لکھتے ہیں جیسے وہ نئی تحقیق اس پرانی کتاب میں پہلے سے موجود ہو۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے اگر ان آیتوں کی استعاراتی تفسیر کی جائے۔

اس راز کو جاننے کے بعد مجھے یہ بھی سمجھ آیا کہ کسی بھی مذہب کے بنیاد پرست پیروکاروں اور لبرل پیروکاروں میں بنیادی فرق کیا ہے۔ بنیاد پرست پیروکار آسمانی صحیفوں کا لغوی ترجمہ کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ نہیں بدلتا لیکن لبرل پیروکار صحیفوں کی استعارتی تفسیر کرتے ہیں جو ہر نئی صدی میں نئی ہوتی ہے کیونکہ وہ سائنس ،طب، نفسیات اور سماجیات کی ہر نئی تھیوری اور ہر نئے نظریے کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اپنی پرانی آسمانی کتاب کی آیات کی نئی تفسیر کرتے ہیں اور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تھیوری اور یہ تفسیر اس آسمانی کتاب میں پہلے سے موجود تھی۔

میرے ذاتی اور نظریاتی ارتقا میں میڈیکل سکول کی سائنسی تعلیم اور تربیت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں نے ڈارون کے نطریہ ارتقا کو اس دور میں دل کی گہرائیوں سے مانا جس دور میں میں Embryology کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اس دور میں میں نے دیکھا اور جانا کہ ماں کے رحم میں جب باپ کا سپرم اور ماں کا اووم مل کر ایک Zygote بناتے ہیں اور تو وہ زائگوٹ ایک خلیےاور ایک امیبا کی طرح ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک خلیہ نو مہینوں اور سات دن میں لاکھوں اور کروڑوں خلیوں پر مشتمل ایک مکمل انسانی بچہ بنتا ہے۔ میرے لیے یہ حقیقت دلچسپی کا باعث تھی کہ ان نو مہینوں اور سات دنوں میں انسانی بچہ رحمِ مادر میں ان تمام مراحل سے جلدی جلدی گزرتا ہے جن سے زندگی سمندر کی گہرائیوں سے کرہِ ارض کی وسعتوں تک صدیوں۔ ۔ ۔ ہزاروں۔ ۔ ۔ لاکھوں سالوں میں گزری ہے۔ ہمیں سائنسدانوں کی تحقیق نے بتایا ہے کہ ہماری کہکشاں کی عمر 13.7 بلین سال، کرہِ ارض کی عمر4.5 بلین سال ہے اور امیبا سے انسان بننے کا سفر 3.5 بلین سالوں میں طے ہوا ہے۔

نوجوانی میں مجھے سائنس‘ طب‘ نفسیات‘ سماجیات اور انسانی ارتقا میں جو دلچسپی پیدا ہوئی تھی وہ آج بھی موجود ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس دلچسپی میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ اس سفر میں جن سائنسدانوں اور دانشوروں کی تحقیق نے میرے علم میں گرانقدر اضافے کیے ہیں ان میں سے چند ایک سٹیون ہاکنگ، چارلز ڈارون، رچرڈ ڈاکنز، برائن سائکس، سگمنڈ فرائڈ، رچرڈ بیوک، فریڈرک ہیگل، کارل مارکس، یووال ہراری اور کین ولبر ہیں۔ ان سائنسدانوں اور دانشوروں کی تحقیق نے ہمیں انسانی ارتقا کے جسمانی ذہنی اور سماجی پہلوئوں کو سمجھنے میں مدد کی ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

انسانی سائیکی۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

انسانی تاریخ میں ایک وہ زمانہ تھا جب انسانی سائیکی HUMAN PSYCHE کا ترجمہ انسانی روح HUMAN SOUL کیا جاتا تھا۔ روح کو ماننے والوں کے دو گروہ تھے۔

پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ روح انسانی جسم سے علیحدہ اپنا وجود رکھتی ہے جو عالمِ ارواح میں رہتی ہے۔ وہ روح رحمِ مادر میں بچے کے جسم میں داخل ہوتی ہے‘ ساری عمر اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کے وقت جسم سے جدا ہو کر قیامت کا انتظار کرتی ہے۔ قیامت کے دن اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اگر اس شخص نے اپنی زندگی میں نیکیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جنت میں چلی جائے گی اور اگر اس شخص نے بدیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جہنم میں چلی جائے گی۔ بہت سے مسلمان‘ عیسائی اور یہودی آج بھی انسانی روح، یومِ حساب اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔

دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ انسانی روح بار بار اس دنیا میں آتی ہے اور پچھلے جنم کے اعمال کی بنیاد پر کسی جانور یا انسان کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی شخص جنم جنم کے ریاض کے بعد نروان حاصل کر لیتا ہے تو اس کی روح روحِ کل کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آتی۔ بہت سے بدھ ازم اور ہندو ازم کے پیروکار آج بھی اواگون پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ ایک ابدی زندگی پائیں۔

پچھلی چند صدیوں میں ایک تیسرا نظریہ مقبول ہو رہا ہے۔ یہ ایک سیکولر اور سائنسی نظریہ ہے۔ اس نظریہ کے ماننے والے انسانی سائیکی PSYCHE کا ترجمہ روح SOUL  نہیں، بلکہ ذہن  MIND کرتے ہیں۔ اس ذہن کا تعلق انسانی دماغ HUMAN BRAIN اور شخصیتHUMAN PERSONALITY سے ہے ۔ یہ ذہن انسانی جسم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ مر جاتا ہے۔ انسانی ذہن کا یہ تصور پچھلی دو صدیوں کے ان ڈاکٹروں اور نفسیات دانوں کی تخلیقات کا نتیجہ ہے جوذہنی بیماریوں کا علاج اور نفسیاتی مسائل کا حل تلاش کرنے کو کوشش کرتے رہے ہیں۔

وہ طالبعلم جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں  سائیکوجی PSYCHOLOGY ‘ سائیکاٹری PSYCHIATRY اور سائیکو تھیریپی PSYCHOTHERAPY کے علوم کا مطالعہ کرتے ہین ان کی اکثریت انسانی سائیکی کا ترجمہ انسانی ذہن کرتی ہے۔ انسانی نفسیات کے ماہرین نے بیسویں صدی میں نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کو‘ جن میں شائزووفرینیا SCHIZOPHRENIA ڈیپریشن DEPRESSION اور بائی پولر ڈس آرڈرBIPOLAR DISORDER بھی شامل ہیں‘ سمجھنے اور ان کا علاج کرنے کے لیے جو ماڈل تیار کیا ہے جو بائیو سائیکو سوشل ماڈل BIO PSYCHO-SOCIAL MODEL کہلاتا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق انسان کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے کے لیے تین طرح کے عوامل اہم ہیں۔

۱۔ حیاتیاتی عوامل۔ ۔ ۔ BIOLOGICAL FACTORS جن میں موروثی عوامل شامل ہیں جو بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں. ۔ بعض بچے بعض ذہنی امراض وراثت میں پاتے ہیں۔

۲۔ نفسیاتی عوامل۔  PSYCHOLOGICAL FACTORSنفسیاتی طور پر غیر صحتمند خاندانوں میں پلنے والے بچوں کی نشوونما میں شامل تلخ تجربات اور نفسیاتی دھچکے مستقبل میں ان کی شخصیت کو منفی انداز میں متاثر کرتے ہیں اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتے ہیں

۳۔ سماجی عوامل۔ SOCIAL FACTORS خاندانی مسائل‘ معاشرے میں تشدد کے واقعات اور ہجرت کے تلخ تجربات ان عوامل میں شامل ہیں۔

جب ماہرینِ نفسیات مریضوں کی تشخیص کرتے ہیں تو وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مریض کے مسائل میں حیاتیاتی‘ نفسیاتی اور سماجی عومل کی اہمیت کیا ہے۔ اس تشخیص کے بعد وہ ان کا علاج تجویز کرتے ہیں جس میں ادویہ MEDICATIONS ‘  تھیریپی THERAPY اور ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم  EDUCATION شامل ہیں۔ بعض لوگ نفسیاتی مریضوں کو روحانی پیشوائوں کے پاس لے جاتے ہیں جو ان کا گنڈا تعویز سے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ ان نفسیاتی مسائل کو روحانی مسائل سمجھتے ہیں۔

مجھے یاد ہے چند سال پیشتر پاکستان میں مقیم میری ممانی شائزوفرینیا SCHIZOPHRENIA کی ذہنی بیماری کا شکار ہو گئیں۔ جب وہ ایک ماہر نفسیاتPSYCHIATRIST سے ملیں تو انہوں نے انہیں موڈیکیٹ انجکشن MODECATE INJECTION اور تھیریپی THERAPY تجویز کیا۔ میرے ماموں انہیں ایک روحانی عامل کے پاس بھی لے گئے۔ میری ممانی آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگیں۔ بعض رشتہ داروں کا خیال تھا کہ وہ سائیکاٹرسٹ کے علاج کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں اور بعض کا خیال تھا کہ وہ روحانی عامل کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں۔ پھر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ پاکستان مٰیں موڈیکیٹ انجکشن ملنے بند ہو گئے اور میری ممانی کی طبیعت بد سے بدتر ہونے لگی۔ ان کو شائزوفرینیا کےدورے پڑنے لگے اگرچہ وہ روحانی عامل کے پاس باقاعدہ جا رہی تھیں۔ جب میرے ماموں بہت پریشان ہوئے تو میں نے کینیڈا سے ممانی کے لیے موڈیکیٹ انجکشن بھیجے۔ جب وہ انجکشن لگوانے لگیں تو دوبارہ صحتمند ہو گئیں۔

اکیسویں صدی میں جب ہم ساری دنیا کے لوگوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں تین گروہ دکھائی دیتے ہیں۔۔۔

ایک گروہ روح اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے

دوسرا گروہ روح اور اواگوں پر ایمان رکھتا ہے

تیسرا گروہ انسانی ذہن کو مانتا ہے اور حیات بعد الموت پر یقین نہین رکھتا۔

یہ سوال ہم سب کے لیے اہم ہے کہ نفسیاتی مسائل اور روحانی مسائل میں کیا فرق ہے اور کسی معاشرے میں ماہرینِ نفسیات کا کیا کردار ہے؟ وہ لوگ جو شائزوفرینیا ‘ بائی پولر ڈس آرڈر اور ڈیپریشن جیسے نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض کا شکار ہیں انہین کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے؟

عمر فاروق صاحب

میں انسانی نفسیات کا طالبعلم ہوں۔ میں انسان دوستی کے فلسفے پر یقین رکھتا ہوں اور اپنے کلینک میں نفسیاتی مریضوں کی خدمت اور علاج کرتا ہوں چاہے وہ مذہبی، روحانی یا سیکولر کسی بھی روایت کے پیروکار ہوں۔ میں مذہبی انسان نہیں ہوں لیکن انسانیت کی خدمت کو سیکولر عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔

میری کتاب کو سنجیدگی سے پڑھنے اور دلچسپ سوال پوچھنے کا شکریہ

آپ کا دوست

خالد سہیل

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail