آبلہ پا: ایک شاہکار تخلیق
رضیہ فصیح احمد اُردو کی نامور ادیب، افسانہ نویس، ناول نگار اور شاعرہ ہیں۔ انہوں نے کئی یادگار اور شہکار کہانیاں تخلیق کیں۔ 1965 میں جب پاکستان میں زیادہ تر ادب تقسیم ہند اور اس کے اثرات کو بیان کر رہا تھا۔ ایسے میں رضیہ آپا نے ایک منفرد موضوع پر قلم اُٹھایا اور ” آبلہ پا ” جیسا شاہکار ناول تخلیق کیا اور آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا۔
اس ناول میں مصنفہ نے یہ بیان کیا کہ مزاجوں کا فرق محبت کی شادیوں پر کیا ستم ڈھاتا ہے۔ بہت ارمانوں اور خوابوں سے سجایا گیا محل کیسے چند کوتاہیوں اور غلط فہمیوں سے مٹی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ یوں تو اس کہانی میں کئی ضمنی کردار ہیں جو کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں لیکن پوری کہانی کا تانا بانا دو کرداروں صبا اوراسد کے گرد بُنا گیا ہے۔
صبا ایک پڑھی لکھی ، ہمدرد اور سُلجھی ہوئی لڑکی ہے۔ جس کی ماں اور بہن بھائی سب پاکستان ہجرت کرتے ہوئے مارے گئے۔ اُس نے اپنے باپ زیرِ سایہ پرورش پائی۔ بہترین اداروں سے اعلی تعلیم حاصل کی۔ وہ ادب اور آرٹ کی دلدادہ ہے لیکن وہ مغرب کے زیرِ اثر تیزی سے پھیلتے ہوئے جدید طرزِ زندگی اور معیار کو قبول نہیں کرسکی۔ اسی لیے اُس کو ہر جگہ دقیانوسی کہا جاتا تھا۔ وہ اس سب کی پروا کیے بغیر اپنے معاشرتی اور خاندانی اقدار کے ساتھ جینا چاہتی تھی۔ اس کے والد کام۔کے سلسلے میں کچھ عرصہ کے لیے کوئٹہ منتقل ہوتے ہیں تو یہ بھی ساتھ ہی آجاتی ہے اور چمنستان ہوٹل میں قیام۔کرتے ہیں۔ یہاں اس کی ملاقات اسد سے ہوتی ہے۔جو وہاں کام کے سلسلے میں مقیم ہے۔
اسد لاہور کے ایک متوسط گھرانے کا فرد ہے لیکن اس کو بچپن سے ہی اپنے اس ماحول سے نفرت ہے۔اسی لیے اس نے ہمیشہ امیر دوست بنائے اور ان جیسا طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کی۔ بہترین روزگار کی خواہش اسے نیو یارک لے آئی۔ یہاں کی چکا چوند زندگی کو دیکھ اسد کی آنکھیں بھی چندھیا گئی اور اپنے دوست اصغر کی شے پر غلط کاموں میں ملوث ہوگیا۔ اس نے ایک خاتون کیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے اور جب اسے وطن واپسی کا خیال آیا تو وہ ایک بچے ( بوبی ) کا باپ بن چکا تھا۔ وہ اُس بچے کو اپنے ساتھ لے آیا اور یہاں سب کہ یہی کہا کہ اس کے والدین حادثے میں وفات پا گے ہیں۔ وہ رنگین زندگی کا شوقین ہے اور ایک ایسی ہم سفر چاہتا ہے جو اس رنگین دنیا میں اس کے ساتھ شانہ بہ شانہ چل سکے۔
صبا بوبی کی شرارتوں اور معصومیت سے متاثر ہوتی ہے اور اس کا خیال رکھنا شروع کردیتی ہے اور آہستہ آہستہ اسد کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب اسد کو اس بات کا احساس ہے کہ ان دونوں کا مزاج ایک دوسرے بالکل الگ ہے لیکن محض یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ بوبی کو پسند کرتی ہے اور بھی صبا کے قریب ہے اس سے شادی کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ وہ صبا کو اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے اور جلد ہی شادی کا پیغام بھیجتا ہے۔ صبا اور اس کے والد دونوں خوش دلی سے اس کو قبول کر لیتے ہیں۔
صبا کو یقین تھا کہ ان کی محبت کا انجام بھی اتنا ہی خوشگوار ہوگا جیسا وہ کتابوں مءں پڑھتی آئی تھی کہ تمام مصائب کا سامنا کرنے کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ لیکن حقیقت بہت جلد اس پر عیاں ہوتی ہے۔
ان کا صرف طرزِ زندگی نہیں عادات، نظریات، سوچ اور شوق ، چال ڈھال ، تعلیم و تربیت سب بہت الگ ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات ان کو ایک دوسرے سے مزید دور کردیتے ہیں۔ تب ہی ایک جگہ وہ اپنی دوست کو کہتی ہے:
"شخصیتوں کا فرق بھی تو ہوتا ہے نا۔ بعض میاں بیوی الگ الگ ادھوری شخصیتوں کے مالک ہوتے ہیں مگر باہم مل کر ایک مضبوط شخصیت کے مالک بن جاتے ہیں۔ ایک کی کم زوریاں دوسرے کے اسٹرانگ ہوائنٹس میں چھپ جاتی ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ چاہے مل کر ان کی شخصیت زیادہ مضبوط نہ ہو مگر آپس میں گھس پٹ کر ایک خاص سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ مشین کے مختلف کل پرزے آپس میں فٹ ہوتے ہیں، ایک پرزہ دوسرے سے ٹکراتا نہیں مگر اجی۔۔۔ ہم دونوں کی شخصیت ایک دوسرے سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو رہی ہے۔ جیسے دو پتھر کے بُت ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش ہو رہے ہوں۔ کم از کم مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چند مہینوں میں ہی لنج منج رہ گئی ہوں۔ جیسے میرے اندر اور باہر سے بہت کچھ جھڑ گیا ہو۔”
ایک عورت کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ جس کی محبت کے سہارے ہر دکھ کو جھیلتی ہے وہ بے وفا نکل آئے۔صبا کو جس وقت یہ معلوم ہو کہ اسد اسی کی دوست روبینہ میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ بالکل ہی ڈھے گئی اور آخر کا اسد نے اس کو طلاق دے دی۔
مصنفہ کا کمال یہ ہے کہ یہاں تک پڑھتے ہوئے قاری میں صبا سے ہمدردی اور اسد کے کردار پر غصے کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن دوسرے ہی لمحے جب کہانی میں ایک نیا راز ظاہر ہوتا تو کہانی کے اختتام تک قاری کو اسد سے ہمدردی بلکہ ترس آنا شروع ہوجاتا ہے ۔وہ یہ کہ اسد جس لڑکی کی خاطر صبا کو طلاق دیتا ہے وہ لڑکی دولت کی لالچ میں اسی روز اسد کے دوست سے منگنی کرلیتی ہے۔ گھر پہنچنے پر کیٹی کا خط اس کا منتظر ہوتا ہے جس میں وہ یہ اعتراف کرتی ہے کہ بوبی دراصل اسد کا نہیں بلکہ اس کے دوست اصغر کا بیٹا ہے۔ یہ سن کر وہ اپنےحواس کھو دیتا ہے اور بوبی کا گلا دبا کر اسے موت کے سپرد کردیتا ہے اور خود پوری زندگی جیل میں گزارتا ہے۔
یہ مصنفہ کا کمال ہے کہ وہ کس تیزی اور مہارت سےنہ صرف کہانی بلکہ قاری کے جذبات کا رُخ بھی بدل دیتی ہیں۔ان کا مقصد اچھائی یا برائی کی تبلیغ نہیں بلکہ محض یہ سمجھانا ہے کہ مزاج اور طبیعت کا اختلاف محبت کا قاتل بن جاتا ہے اگر ایک دوسرے کی رائے کو اہمیت نہ دی جائے اور معاملات کو عزت و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے حل نہ کیا جائے۔
تحریم اصغر

