طالبان کا جہاد ڈالروں کی بہار سے چلتا ہے


بیس جولائی 2023 کو پشاور کے علاقہ میں دو حملوں میں چار پولیس اہلکاروں کی شہادت ہو گئی۔ حسب سابق یہ حملے پاکستانی طالبان کی طرف سے کیے گئے۔ 12 جولائی کو بلوچستان میں طالبان کے حملوں کے نتیجہ میں بارہ فوجی جوانوں کی المناک شہادت ہوئی تھی۔ جب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے، پاکستان میں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی طالبان خاص طور پر پولیس اور پاک فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ یہ علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں کہ اب خیبر پختون خواہ کے علاوہ بلوچستان بھی پاکستانی طالبان کا نشانہ بنے گا۔ 12 جون کو پاکستانی طالبان نے بلوچستان میں اپنی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک قلات مکران ولایت ہے اور اس کا امیر شاہین بلوچ کو مقرر کیا گیا ہے اور دوسری ژوب ولایت ہے جس کا امیر مولوی نور اللہ کو مقرر کیا گیا ہے۔ بظاہر قلات مکران ولایت بلوچی اراکین کے لئے اور ژوب ولایت پشتون طالبان کے لئے ہے۔ اور حال میں بلوچستان کی چند چھوٹی جہادی تنظیموں نے پاکستانی طالبان کے امیر نور ولی محسود کی اطاعت کا اقرار کیا۔ اگر طالبان کو بلوچستان میں پاؤں جمانے کے مواقع مل گئے تو ان کو پوشیدہ رہنے کے لئے ایک ایسا وسیع اور زیادہ تر غیر آباد علاقہ میسر آ جائے گا، جس میں فیصلہ کن آپریشن کے ذریعہ ان کا خاتمہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ابھی تک اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند طالبان کی راستہ میں روک بننے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پیش رفت سے پاکستان کی پریشانیوں میں اضافہ ہی ہو سکتا ہے۔ صورت حال گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتی جا رہی ہے لیکن اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ تاریخ سے یہی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ فقط دہشت گردوں سے مذاکرات اور معاہدوں سے اب تک صرف دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

(Terrorism Monitor، Vol۔ 21 Issue 14 )

یہ درست ہے کہ ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کر کے دہشت گردی پر کاری ضرب لگائی گئی تھی لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ فقط فوجی آپریشن کے ذریعہ ہی دہشت گردی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ دوسرے پہلوؤں پر بھی توجہ کرنی کی ضرورت ہے۔ ان کے نظریات اور پراپیگنڈا کا مقابلہ دلائل سے کیا جانا چاہیے۔ اور یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستانی طالبان ہر اعتبار سے افغان طالبان کی اولاد ہیں۔ ان کی عسکری اور نظریاتی تربیت افغان طالبان کے ساتھ ہی ہوئی ہے۔ پاکستانی طالبان کا مقابلہ کرنے کے لئے افغان طالبان کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ دنیا میں اس وقت ایسے تنازعات کے ماہرین اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح افغان طالبان نے بیس سال کی خانہ جنگی کے بعد ایک مرتبہ پھر تخت کابل پر قبضہ کر لیا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی طویل خانہ جنگی کے لئے مالی وسائل کہاں سے آئے تھے؟ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر ایسی جنگ فقط چند کروڑ روپے کے چندوں سے تو نہیں لڑی جا سکتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ مالی وسائل اپنے زیر نگیں علاقوں میں زکٰوۃ اور عشر لگا کر اور سڑکوں پر محصول وصول کر کے پیدا کیے گئے تھے۔ اور افیم کے کاشتکاروں کی سرپرستی کر کے بھی کافی دولت اکٹھی کی گئی تھی۔ کچھ ہمدرد تاجروں نے چندے بھی دیے تھے۔ اس قسم کے مالی وسائل کے حصول کے بارے میں پاکستانی نژاد خاتون عائشہ احمد کی کتاب ’جہاد اینڈ کو بلیک مارکٹس اینڈ اسلامسٹ پاور‘ میں اس حوالے سے کافی قابل قدر تحقیق پیش کی گئی تھی کہ افغان طالبان اپنے مالی وسائل کس طرح پیدا کرتے رہے۔ لیکن اس کتاب میں ایک تشنگی رہ گئی تھی۔ اور وہ یہ کہ اس کتاب میں اس بات پر خاطر خواہ بحث نہیں کی گئی تھی کہ افغان طالبان کو دوسرے ممالک سے کتنی مالی مدد وصول ہو رہی تھی؟

خاکسار کے نزدیک یہ تشنگی کنگز کالج لندن سے وابستہ Dr۔ Antonio Giustozzi کی کتاب دی طالبان ایٹ وار 2001۔ 2021 کے مطالعہ سے دور ہو جاتی ہے۔ اس میں انہوں نے اس پہلو کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے کہ کس طرح ان بیس سالوں میں افغان طالبان کے مختلف گروہ دنیا بھر سے مالی وسائل اکٹھے کرتے رہے۔ مصنف نے یہ معلومات مختلف طالبان کمانڈروں سے حاصل کی تھیں۔ ان میں سے کچھ منحرف ہوئے تھے اور کچھ گرفتار اور کچھ کمانڈر ایک پالیسی کے تحت مغربی میڈیا کو انٹرویو دیتے رہے تھے۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ مناسب ہو گا اگر مکرمی اسحق ڈار صاحب کو ٹریننگ کے لئے کابل بھجوا دیا جائے۔ قارئین کرام طالبان کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی، پگڑیوں اور حلیہ کی سادگی سے دھوکہ نہ کھائیں۔ یہ بندہ عاجز تو ان کی ہوشیاری کا قائل ہو گیا۔

پوری دنیا میں یہ واویلا مچا یا گیا کہ اصل میں افغان طالبان اس لئے قابو نہیں آ رہے کیونکہ پاکستان اور پاکستان کے ادارے ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اور ہم بھی یہ سن کر خوش ہوتے رہے کہ ہم بھی ایسے طرم خان ہیں کہ ہماری مدد سے ہی افغان طالبان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔ اس کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے بڑی مہارت سے بہت سے ممالک سے ڈالر نچوڑ کر اپنی خانہ جنگی جاری رکھی۔ ان ممالک کی فہرست ملاحظہ ہو سعودی عرب، قطر، عرب امارات، چین، روس اور پاکستان۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کے امراء بھی افغان طالبان کو بڑی رقوم مہیا کرتے رہے۔

ایبٹ آباد سے جو اسامہ بن لادن کے کاغذات ملے تھے اور وہ اب کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ نائن الیون کے بعد القاعدہ کی مالی حالت طالبان کی نسبت بہت زیادہ پتلی تھی لیکن طالبان کی چابکدستی ملاحظہ ہو کہ اس کے باوجود طالبان محصور اسامہ بن لادن سے بھی کافی ڈالر بٹورنے میں کامیاب ہو گئے حالانکہ اسامہ بن لادن کو خود کافی مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ اور مالی مدد دینے کے علاوہ القاعدہ کے عرب ان کو ٹریننگ بھی دے رہے تھے۔

طالبان کا ستر سے اسی فیصد مالی بجٹ اس بیرونی مدد کے ڈالروں سے پورا ہوتا تھا۔ آپ شاید یہ خیال کرتے ہوں کہ یہ بیرونی مدد چند لاکھ ڈالروں تک محدود ہو گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2003 میں یہ بیرونی آمد فقط دو کروڑ ڈالر تھی اور صرف گیارہ سال کے بعد 2014 میں ڈالروں کی بہار بڑھ کر نوے کروڑ ڈالر یعنی آج کی شرح کے مطابق دو کھرب ساٹھ ارب روپے سے تجاوز کر چکی تھی۔ اور یہ آمد صرف تین گروہوں کی تھی۔ ان کے علاوہ چھوٹے گروہوں کی اپنی علیحدہ علیحدہ آمد ہو رہی تھی۔ کسی ریاست نے ان سالوں کے دوران اپنی زر مبادلہ کی آمد میں پنتالیس گنا سے زاید اضافہ نہیں کیا ہو گا۔

افغان طالبان مختلف گروہوں میں منقسم تھے۔ ہر گروہ کی اپنی شوری تھی۔ ان میں کوئٹہ شوریٰ، پشاور شوریٰ، میران شاہ شوریٰ، شمالی شوریٰ، مشہد آفس وغیرہ زیادہ معروف ہیں۔ یہ گروہ آپس میں الجھ بھی پڑتے تھے اور ایک دوسرے کی عسکری اور مالی مدد بھی کرتے تھے۔ ہر شوریٰ نے مختلف ممالک یا گروہوں یقین دلایا ہوا تھا کہ ہم تمہارے ہی لوگ ہیں۔ اس طرح یہ سب عقلمند طالبان کے ایک یا ایک سے زیادہ گروہوں کو اپنی جیب سے چند سو ملین ڈالر عطا کر دیتے تھے اور بدلہ میں طالبان انہیں دعائیں دیتے تھے۔

اس کے علاوہ بعض ممالک اور گروہ طالبان کے مختلف محاذوں کو بھی براہ راست نذرانے دے کر سمجھتے تھے کہ اب یہ ہمارے ہی آدمی ہیں۔ روس طالبان کی شمالی شوریٰ کی مدد کر رہا تھا۔ اور اسی شوریٰ کو ایران سے بھی مدد مل رہی تھی۔ جب تک پشاور شوریٰ کو ڈالر ملتے رہے، اس کا عروج رہا اور ایک وقت میں چین بھی اس کی مدد کر رہا تھا مگر جب مختلف سخیوں نے یہ مدد روک کر دوسرے گروہوں کو مدد دینی شروع کردی تو اس شوریٰ کا فوری تنزل شروع ہو گیا۔ جب ملا عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب کے اختر محمد منصور گروپ سے اختلافات شروع ہوئے اور انہیں پاکستان سے کوئی مدد نہیں مل رہی تھی تو انہوں نے خلیجی ریاستوں سے رابطہ کیا تو وہاں سے فقط دو سو ملین ڈالر کی جیب خرچ مل گئی تا کہ وہ اپنے گروہ کی ابتدائی تشکیل کر سکیں۔ حد یہ ہے کہ ویسے تو اکثر اوقات طالبان اور اسلامک سٹیٹ ایک دوسرے سے حالت جنگ میں رہتے تھے لیکن خدا جانے انہیں کیا سبز باغ دکھائے کہ ایک مرحلہ پر اسلامک سٹیٹ والوں نے بھی طالبان کو تین کروڑ ڈالر کی مدد دے دی۔ اور یہ تو صرف کیش تھا مختلف ممالک اس کے علاوہ طالبان کو اربوں کا اسلحہ بھی دے رہے تھے۔

یہ تفصیلات پیش کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ طالبان کے خزانے میں ڈالروں کی کثرت دیکھ کر حسد کے جذبات پیدا ہوں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آج کل پاکستان میں پاکستانی طالبان نے دہشت گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے تو یقینی طور پر یہ بغاوت صرف چندے کے ڈبوں سے حاصل ہونے والی مدد سے نہیں چلائی جا رہی۔ جس طرح افغان طالبان کو کہیں سے یہ نذرانے مل رہے تھے پاکستانی طالبان بھی یہ خون ریزی ڈالروں کی مدد کے بغیر نہیں چلا رہے۔ اگر ان کی شورش کو ختم کرنا ہے تو ان کی مالی مدد کی سپلائی ختم کرنی ہوگی۔ اگر ان کی مالی مدد بند ہو جائے تو ان کی بغاوت خود بخود دم توڑ دے گی۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

Facebook Comments HS