اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، آئس اور جنسی ہراسانی کیس
جھوٹ اتنا بولو کہ سچ معلوم ہو۔ یہ الفاظ ہیں جوزف گوئبلز جو کہ جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر کا میڈیا مینیجر تھا۔ اس نے دوسری جنگ عظیم میں اس بات کو سچ کر دکھایا لیکن اگر آج گوئبلز زندہ ہوتا تو شاید آج ہم پاکستانیوں کی حالت دیکھتا تو شاید اسے ہمیں اپنا پیرو مرشد ماننے میں بالکل بھی تامل نہ ہوتا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ونگز کی کارستانیاں آپ کے سامنے ہیں۔ اب تو تعلیمی ادارے بھی اس وبا سے محفوظ نہیں ہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں آئس اور جنسی ہراسانی سکینڈل اس وقت قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی بھی زینت بنا ہوا ہے۔ تیز ترین ذرائع معلومات میسر ہونے کے باوجود حقائق کی تہ تک پہنچنا ایک عام آدمی کے لیے زمانہ قدیم کی طرح آج بھی مشکل ہے۔ ایک طرف جہاں سوشل میڈیا اور کچھ اخبارات میں ایسا منظر نامہ پیش کیا جا رہا ہے جیسے قریب ساری یونیورسٹی انتظامیہ ہی آئس اور سیکس سکینڈلز میں ملوث ہے جس نے جامعہ کی طالبات اور ان کے والدین میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے تو دوسری جانب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور کچھ ملازمین ہیں جو سوشل میڈیا پر تصویر کا دوسرا رخ یا اصل رخ کے عنوان سے پوسٹیں لگانے اور ان آٹے میں نمک کے برابر ملازمین کا ڈھٹائی سے دفاع کیے جا رہے ہیں جسے دیکھ کر طبیعت مکدر ہو جاتی ہے۔ حالات کی نزاکت اور وقت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ عوام کو تصویر کے دونوں رخ یا اصل حقائق سے آ گہی فراہم کی جائے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جنوبی پنجاب کی شاید سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جہاں یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق 70 ہزار کے قریب سٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں۔ 28 جون 2023 کو مخبر کی اطلاع پر سی آئی اے پولیس بہاولپور نے کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے خزانہ دار ابو بکر کو گرفتار کر لیا اور 6 گرام آئس برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جب ابوبکر کے موبائل کا ڈیٹا چیک کیا گیا تو اس میں سے یونیورسٹی کی طالبات اور ملازم خواتین کی نازیبا وڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئیں۔
جس پر ڈی پی او بہاولپور نے ایکشن لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی ٹیم بنا دی جس کے ذمے اسلامیہ یونیورسٹی میں نوجوان نسل کی رگوں میں آئس کا زہر اتارنے اور طالبات اور ملازم خواتین کو بلیک میل کر کے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے والے ملازمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ٹاسک لگایا۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ خزانہ دار ابوبکر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بہاولنگر کیمپس میں ہی چند سال پہلے جنسی ہراسانی کے کیس میں مجرم قرار دیے جا چکے ہیں۔
سابقہ وائس چانسلر قیصر مشتاق صاحب نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موصوف کو نوکری سے تو فارغ نہیں کیا لیکن لیکن انہیں بہاولپور لے آئے۔ خیر کہانی کا سلسلہ وہیں سے شروع کرتے ہیں۔ سی آئی اے بہاولپور نے اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا اور 21 جولائی کو کہانی کے مرکزی کردار اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے چیف سیکورٹی آفیسر اعجاز شاہ کو گرفتار کر کے 10 گرام آئس برآمد کر لی اور مقدمہ درج کر لیا۔ اعجاز شاہ کے موبائل سے یونیورسٹی کی طالبات اور ملازم خواتین کی لاتعداد وڈیوز برآمد ہو گئیں۔
اعجاز شاہ گزشتہ کئی سال سے چیف سیکورٹی آ فیسر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ کچھ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا سٹارز واقعہ کی تحقیقات کے لیے پہنچ گئے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بات کا بتنگڑ بنا دیا۔ کسی نے 5500 نازیبا وڈیوز کا راگ الاپا تو کسی نے 12000 کا آوازہ لگایا۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ معاملہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر اطہر محبوب کی جلد بازی کی وجہ سے بگڑا ہے۔
موصوف نے آئی جی پنجاب کو خط لکھ ڈالا کہ بہاولپور پولیس یونیورسٹی ملازمین کے خلاف جعلی مقدمات کا اندراج کر رہی ہے اور ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ میں نے جب ترجمان اسلامیہ یونیورسٹی شہزاد خالد صاحب سے سوال کیا کہ اس بات کا فیصلہ کہ مقدمات جعلی ہیں یونیورسٹی کی کسی تحقیقاتی ٹیم نے کیا ہے یا وائس چانسلر صاحب کو ان کے موکلوں نے آگاہ کیا ہے تو ترجمان صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب موجود نہ تھا۔
میرا خیال ہے جو نکتہ میں نے اٹھایا وہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کیونکہ اس کے کئی گھنٹوں کے بعد ترجمان صاحب نے ایک تحقیقاتی ٹیم کے ٹی او آ رز مجھ سے شیئر کیے جس پر تاریخ ایک دن پہلے کی درج تھی۔ میرے شبہ کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ اگر یہ ٹیم ایک روز قبل ہی تشکیل دی جا چکی تھی مجھے اس وقت آ گاہ کیوں نہ کیا گیا۔ گزشتہ سے پیوستہ روز بہاولپور پولیس نے اسلامیہ یونیورسٹی کے انچارج ٹرانسپورٹ الطاف کو بھی گرفتار کر لیا اور 8 گرام آئس برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
اس کے علاوہ بھی کئی یونیورسٹی ملازمین کے منشیات فروشوں کے ساتھ رابطے کے بھی پولیس کو شواہد ملے ہیں۔ گزشتہ روز ڈی پی او بہاولپور نے اس معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیلنج کیا کہ کسی بھی سطح پر تحقیقات کر لی جائیں ہم نے مقدمے میرٹ پر درج کیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 113 کے قریب یونیورسٹی سٹوڈنٹس اور کچھ ملازمین سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہیں اور جنسی ہراسانی سے متعلق کیس کی تحقیقات اس انداز میں کر رہے ہیں کہ کوئی خاتون یا ان کی فیملی مشکل کا شکار نہ ہو۔
بہر کیف یونیورسٹی انتظامیہ اور ان کے کاسہ لیس صحافیوں نے تصویر کا دوسرا رخ کی گردان کر کے اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ کسی نے کہا کہ وائس چانسلر کی مدت ختم ہو نے میں چند روز رہ گئے ہیں اس لیے مخالفین نے اتنا کھڑاگ پھیلایا ہے کہ انہیں ایکسٹینشن نہ مل جائے۔ کسی بزرجمہر کو اس کے پیچھے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کا ہاتھ نظر آیا تو کسی کاسہ لیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی اعداد و شمار کو لے کر گرد اڑانی شروع کر دی۔
اگر ہم ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ اسلامیہ یونیورسٹی کوئی پہلی یونیورسٹی نہیں جہاں آئس اور جنسی ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی مختلف جامعات میں ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں اور ان واقعات کا میڈیا ٹرائل بھی روایت کا حصہ ہے لیکن ایسا پہلی دفعہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نوجوان نسل کو آئس جیسے زہر سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے اور مظلوم خواتین کی داد رسی کرنے اور ان چند کالی بھیڑوں کے گھناؤنے کردار کی مذمت کرنے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی انتظامیہ ان مشتبہ کرداروں کے تحفظ کے لیے خم ٹھونک کر کھڑی ہو جائے۔
اس رویے نے جہاں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا، وہیں یونیورسٹی کی طالبات اور ملازم خواتین میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بہاولپور ایک پرامن شہر ہے جہاں لوگ قدرے روایتی اور قدامت پسند ہیں اور ان کا میلان مذہب کی طرف زیادہ ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھنے والی طالبات کی زیادہ تر تعداد ایسے ہی گھرانوں اور دور دراز کے قصبات سے اسلامیہ یونیورسٹی زیور تعلیم سے آراستہ ہونے آتی ہے۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی ڈاکٹر اطہر محبوب (جن کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ شاید بہاولپور کی ثقافت اور زمینی حقائق سے نابلد ہیں) اور یونیورسٹی انتظامیہ کی عاقبت نااندیشی نے ماحول میں ایسی گرما گرمی پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کی طالبات اور ملازم خواتین شدید قسم کے عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہیں۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ حقائق کے مطابق موقف اختیار کرتی کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر یونیورسٹی ملازمین ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے تو معاملات شاید کنٹرول میں رہتے۔
اس معاملے میں سب سے زیادہ کسی شخصیت نے اگر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے تو وہ گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن ہیں۔ بلیغ الرحمن صاحب جہاں بہاولپور کی دھرتی کے سپوت ہیں وہیں وہ پنجاب کی تمام جامعات کے چانسلر بھی ہیں۔ ان پر تو دوہری ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ کاش کہ وہ معاملے کا فی الفور نوٹس لیتے اور شفاف تحقیقات کرواتے تا کہ جامعہ اسلامیہ کی اس قدر رسوائی نہ ہوتی۔


