اسلامیہ یونیورسٹی: تصویر کے چند اور پہلو


ایک زمانہ تھا جب درندے بہت دور سے پہچان لیے جاتے تھے لیکن جوں جوں معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا درندوں نے بھی انسانوں کا روپ دھار لیا۔ انسانوں جیسی شکل اور انہی جیسا بود باش۔ پہلے یہ بہت ڈھکے چھپے انداز میں مخصوص مقامات پہ اپنا دھندا کیا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے ہر جگہ، ہر ادارے اور ہر پیشے میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ یہاں تک تدریس جیسا مقدس شعبہ بھی محفوظ نہیں رہ سکا۔ ہر طبقے اور اور ہر عمر کے افراد ان کی درندگی کا نشانہ بننے لگے۔

حال ہی میں جنوبی پنجاب کے اہم اور بڑے تعلیمی ادارے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں منشیات فروشی اور عصمت دری کے جو افسوسناک واقعات رونما ہوئے اس نے جہاں معیاری تعلیمی نظام کا پردہ چاک کیا وہیں بہت سے شبہات اور سوالات کو جنم دیا۔ جنوبی پنجاب کے مخصوص ماحول میں بہت محنت اور کوشش کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والی خواتین کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

ہمارے یہاں یونیورسٹی کے طلباء و طالبات میں منشیات کا استعمال دن بہ دن بڑھ رہا ہے جو تشویش ناک ہے۔ اس مسلے پر جب بھی بات کرنے کی کوشش کی گئی ہر دفعہ اداروں کے سرپرستوں نے اسے کم عمری اور غفلت کا نام دے کر اس مسئلے کو دبایا ہے۔ لیکن اسلامیہ یونیورسٹی کے اعلی حکام کی سرپرستی میں ہونے والے جرائم کو نہ تو غفلت کہہ کر ٹالا جاسکتا ہے نہ ہی کم عمری کی جذباتیت سے منسوب کر کے اس مسلے کو دبایا جاسکتا ہے۔

ایک جانب ہمارے تعلیمی نظام اور مقابلے بازی نے طلباء کو نمبروں کی دوڑ میں لگا دیا اور وہ سبقت لے جانے کے لیے ہر حد سے گزر جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب استادوں کے روپ میں لٹیرے ہیں جو زیادہ نمبروں کا لالچ دے کر جنسی جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔

اس مسلے سے متعلق میڈیا پر متضاد بیانات اور آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے وی سی اور اعلیٰ حکام اس سے یکسر منکر ہیں اور ایک سوچی سمجھی سازش اور پراپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ تو چند دن میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ہو سکے گا۔ لیکن سوشل میڈیا پر جاری ٹرائل سے یونیورسٹی کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچے گا۔

جنوبی پنجاب کے مخصوص ماحول میں جہاں اکثر والدین خاندانی روایات سے بغاوت کر کے اپنی بچیوں کو یونیورسٹی میں پڑھنے بھیجتے ہیں اور اپنا سارا سرمایہ لگا کر یہاں کی بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں کیا وہ اپنا اعتماد پھر سے بحال کر سکیں گے؟ کیا وہ اپنی بیٹیوں کو پھر سے یونیورسٹی بھیجنے کے لیے تیار ہوں گے؟

تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو یہ بات حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے کہ بلیک میل ہونے والی ہونے والی یا والے طالب علم اور اساتذہ نے آج تک مجرموں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی؟ آج تک یونیورسٹی میں جابجا لگے سی سی ٹی وی کیمرے ایک بھی منظر ریکارڈ نہیں کرسکے؟ کیا محض بدنامی کا ڈر اور کیریئر کا لالچ پانچ ہزار لوگوں کو خاموش کروا سکتا ہے؟

سوشل میڈیا پر ہر شخص سوچے سمجھے بغیر محض فتوے لگانے اور تشہیر کرنے میں مبتلا ہے۔ کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ نامزد کیے گئے ملزم اگر مجرم ثابت نہ ہوئے تو اس اذیت کا حساب کون دے گا جس کا سامنا ملزم اور ان کے گھر والے اس وقت سوشل میڈیا ٹرائل کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں شدت پسندی اور جذباتیت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ آزادیٴ اظہار رائے کا نام دے کر کسی کی زندگی کو اجیرن کرنا، نفسیاتی طور پر تکلیف پہنچانا، آزادی نہیں پستی کی انتہا ہے۔ برائی کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں لیکن یہ خیال رکھیں کہ اندھی تقلید کرتے ہوئے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ایک مخصوص پراپیگنڈے کا حصہ بن جائیں۔ غیر جانبدار ہو کر معاملات کو دیکھیں اور پھر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ مثبت سوچیں اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔

Facebook Comments HS