پاکستان بیت المال کی تھیلیسیمیا سے پاک پاکستان مہم
بخصیت خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی ایک غریب بیوہ ہے۔ بخصیت کے شوہر نے خود کشی کر لی۔ یوں اپنے ساتھ ساتھ بچوں کا اضافی بوجھ اٹھانا بھی اس کا مقدر ٹھہرا۔ لیکن ابھی قدرت کو اس کا مزید امتحان لینا تھاکیونکہ کچھ عرصہ بعد اس پر انکشاف ہواکہ اس کے بچے تھیلیسمیا جیسے خطرناک مرض کا شکار ہیں۔ غریب اور تنگدست بخصیت اپنے بچوں کے علاج کیلئے در در بھٹکتی رہی کیونکہ علاج مہنگا تھا اور اس کے پاس مادّی اور مالی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ لیکن وہ ایک ماں تھی جس کی متاع کل اس کے بچے تھے۔ حالات کے دباؤ سے شکست کھانے کی بجائے اس نے تگ و دو جاری رکھی اور امید کا دامن نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اسے کسی نے ایف نائن پارک اسلام آباد میں پاکستان بیت المال کی طرف سے قائم کئے گئے تھیلیسیمیا سنٹر کے بارے میں آگاہی دی جہاں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے مفت علاج کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ایف نائن پارک میں واقع اس سنٹر میں اس کے تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا تین بچوں کا علاج کیا گیاجس سے اس خاندان کو بہت ریلیف پہنچا۔ اسی طرح مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے محنت کش محمد نعمان کے دو بچوں شیر خان اور ایمان جن کی عمریں علاج کے وقت بتدریج ایک سال اورتین سال تھیں ان کا بھی اس سنٹر سے علاج کیا گیا۔ جبکہ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والا مزدور پیشہ محمد رمضان نے مقامی سطح پر علاج معالجہ کی سہولت نہ ہونے کے باعث اسلام آباد میں اپنے بچے علی عثمان کے علاج کیلئے اسی سنٹر سے رجوع کیا۔
دنیا بھر میں مجموعی طور پر تین سو ملین (30کروڑ) افرا د تھیلیسمیا کے مرض کا شکار ہیں یا ان میں اس مرض کی علامات پائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تھیلیسمیا کے کم وبیش ایک لاکھ ایکٹو مریض موجود ہیں اور ایک ریسرچ پیپر کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ افراد میں تھیلیسمیا کے مرض کی علامات موجود ہیں اور نجانے کتنے ہی مریض اب تک اس مرض کے ہاتھوں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
پوری دنیا میں ساٹھ ہزار جب کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا چھ ہزار بچے تھیلیسیمیا کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جن کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اناسی فیصد تھیلیسیمیا کے مریض صرف ایشائی ممالک میں پیدا ہوتے ہیں۔ تشخیصی مراکز کی کمی اور مہنگے علاج کے سبب غریب لوگ اس خطرناک مرض کا علاج کرانے سے قاصر رہتے ہیں۔اس مرض کے علاج کیلئے ماہانہ دوائیوں کے اخراجات تقریبا بیس ہزار تک ہیں جبکہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کی صورت میں تیس پینتیس لاکھ کے اخراجات ہیں۔ پاکستان میں تھیلیسمیا کے تقریباّ چالیس مراکز ہیں جہاں ذیادہ تر صرف خون کی فراہمی اور بنیادی علاج مہیا کا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیا دراصل خون کا مرض ہے جس میں معیاری خون کم مقدار میں بنتا ہے۔ یہ سرخ خلیوں میں موجودہیموگلوبن کا پیدائشی نقص ہے۔ تھیلس سے مراد سمندر اور ایما سے مراد خون ہے۔ یعنی اس مرض میں مبتلا افراد یا بچوں کو ہر چند دن بعد خون کی اشد ضرورت پیش آتی ہے۔ ہم نے اس مرض کی سنگینی اور اس میں مبتلا خاندانوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ابتدائی ناگزیر علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں اس مرض کے بارے میں آگاہی وشعور بیدار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں معاونت مل سکے۔ شور و آلودگی سے دور ایشیاء کے سب سے بڑے اسلام آباد ایف نائن پارک کے پر فضا مقام پر ایک نجی ادارے کی شراکت داری سے قائم ہمارا پاکستان تھیلیسیمیا سنٹر روائیتی ہسپتالوں سے بہت مختلف ہے۔ پاکستان میں اس وقت تھیلیسیمیا سے تحفظ کیلئے کوئی باقائدہ سپیشلائزڈ ادارہ یا انسٹیٹیوٹ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی سطح پر کچھ اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ابتدائی سکریننگ کیلئے سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں قانون سازی تو کی گئی ہے لیکن اس پر خاطر خواہ عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے۔
تھیلیسمیا کی تین اقسام ہیں تھیلیسیمیا میجر، تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا اور تھیلیسیمیا مائنر۔ تھیلیسیمیا میجر خطرنا ک بیماری ہے۔ اگر اس میں بچوں کو بروقت خون نہ فراہم کی جائے تو یہ ایک سے آٹھ سال کی عمر تک وفات پا جاتے ہیں۔ تھیلیسمیا انٹر میڈیا اس مرض کی ایک درمیانی قسم ہے جس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت تھیلیسیمیا میجر کی نسبت قدرے کم ہوتی ہے تاہم ان میں سے کچھ مریض بڑھتی عمر کے ساتھ جلدی وفات پا جاتے ہیں۔ یاد رہے تھیلیسیمیا ایک ایسا موذی مرض ہے کہ اس کا مکمل علاج کروانے والو ں کی طبعی عمر بھی کم ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا مائنر کے کیریئر والدین میں سے کسی ایک کے ابنارمل یا نارمل جینز بچوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ ان میں بظاہر بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی لیکن یہ ابنارمل جین اپنے بچوں کو وراثت میں دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی کل آبادی میں چھ فیصد افراد تھیلیسمیا مائنر کے کیریئر ہیں۔ اگر ماں اور باپ دونوں میں تھیلیسمیا مائنر ہو تو نئے پیدا ہونے والے بچوں کو تھیلیسیمیا میجر لاحق ہو سکتا ہے۔ کزن میرج سے تھیلیسیمیا کی بیماری کے ذیادہ امکانا ت ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسی شادیوں سے پہلے تھیلیسمیا ٹیسٹ ایچ بی الیکٹرو فروسس لازم کروائیں۔
ترکی، سائپرس، سعودی عرب، اٹلی میں شادی سے پہلے کیرئر اسکریننگ معمول کی پریکٹس ہے۔ اسی طرح بحرین، انڈیا، ایران، انڈونیشیا، ملائشیا، مالدیپ، سنگا پور، تھائی لینڈ، یو اے ای میں بھی اس بیماری سے بچاؤ کے منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں۔ ان ممالک مین اسکریننگ لازمی ہے۔ہیلتھ چونکہ پاکستان میں اب صوبائی سبجیکٹ ہے
تو ہر صوبے کی اسمبلی کو اس حوالے سے قوانین کے ساتھ ان قوانین کے نفاذ کی کوششیں کرنی چاہئیں۔حکومت کو اس حوالے سے فوری طور پر قانون سازی کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں اور شادی سے پہلے تھیلسیمیا ٹیسٹ کو نکاح نامے کا حصہ بنا نا چاہئے۔شادی سے پہلے خون کے ٹیسٹ کروانا آسان ہے بجائے بعد میں پیش آنے والی مشکلات کے۔
اٹلی، ایران، قبرص، یونان، سعودی عرب ا ور ترکی سمیت بہت سے ممالک نے اس سلسلے میں قانون سازی اور دیگر اقدامات کئے جس کے نتیجے میں ان ممالک میں اس مرض پر قابو پا لیا گیا ہے۔ پاکستان میں تھیلیسمیا ٹیسٹ کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے یہ مرض بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریض اور ان کے لواحقین عمر بھر کیلئے خون کے بھکاری بننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، آج ہی اپنا تھیلیسمیا ٹیسٹ ایچ بی الیکٹرو فروسس کرائیں اور اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں محفوظ کریں۔
پاکستان بیت المال ملک بھر میں غریب عوام کو ریلیف پہنچانے والا ایک بے مثال عوامی اور سماجی ادارہ ہے۔ پاکستان بیت المال میڈیکل، تعلیمی وظائف، بے گھر افراد کو شیلٹر ہومز، یتیموں کیلئے سویٹ ہومز، سینئر سٹیزنز کیلئے گریٹ ہوم، خواتین کیلئے ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز، چائلڈ لیبر کی بحالی کیلئے سکولوں کے قیام اور بیواؤں اور یتیموں کی بحالی کیلئے آرفن وڈو سپورٹ پروگرام(OWSP) اور دیگر کئی منصوبہ جات سے عوام کو ریلیف پہنچا رہا ہے۔ اسی طرح تھیلیسیمیا کی موزی بیماری کے خلاف بھی پاکستان بیت المال نے ایف نائن پارک میں پاکستان تھیلیسمیا سنٹر قائم کیا ہے۔ اور اب اس اس مرض کے بارے میں عوام الناس میں آگاہی کی غرض سے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا ہے۔ یاد رہے تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا واحد حل بہترین احتیاطی تدابیر ہیں۔
پاکستان بیت المال اس سلسلے میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر راولپنڈی میں تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی مہم چلا رہا ہے۔ جبکہ تھیلیسیمیا کے بارے میں آگاہی مہم بھی شروع کر رہا ہے۔ پاکستان بیت المال نے تھیلسیمیا کے مریضوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کیا ہے جس کے فارم پاکستان بیت المال کی ویب سائیٹ www.pbm.gov.pk پر موجود ہیں۔ آگاہی مہم میں پاکستان بیت المال کے ملک بھر میں دفاتر اور پراجیکٹس کے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ دیگر اقدامات میں تھیلیسیمیا کے بارے میں ایک آگاہی سیمینار، پاکستان بیت المال کے سکولوں اور ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز(ووکیشنل سنٹرز)، سویٹ ہومز، شیلٹر ہومز میں آگاہی پروگرام، لیکچرز، کوئز، واک، ڈرائنگ اور تقریری مقابلہ جات کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ پاکستان کے ہر ضلع میں مقامی سماجی تنظیموں کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے گا۔ اہم عوامی مقامات جیسے ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیگر مقامات پر بینرز وغیرہ لگائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بھی مہم چلائی جائے گی۔ مزید برآں اس موضوع پر ڈاکومنٹریز بنانے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا انفلیونسرز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔
آئیں اورتھیلیسیمیا سے پاک پاکستان کیلئے پاکستان بیت المال کی آگاہی مہم کا حصہ بنیں اور اس مرض کے بارے میں شعوربیدار کرنے کیلئے اپنی سماجی ذمہ داری پوری کریں۔


