ایران میں شناسا (2)

اصفہان نصف جہان، داخل ہوتے ہی لاہور نما لگا، جیسے شاہد رے سے لاہور داخل ہو رہے ہیں۔ مڈل کلاس سے علاقے اور مارکیٹوں سے ہوتے ہوئے اندرون شہر پہنچے اور پھر اندرون در اندرون کہ ہوٹل پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں تھا جہاں گاڑی لانا شیریں کو رجھانے جیسا ہی تھا۔
’عتیق ہوٹل‘ میں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے پرانے ایران میں لوٹ آئے ہوں۔ شاید کسی پرانی سرائے کا پرانا پن برقرار رکھتے ہوئے جدید ہوٹل کی داغ بیل ڈالی گئی تھی۔ اور ہوٹل/سرائے تو سوا صدی پہلے بھی ایران میں جدید تھے کہ تب بھی آزاد صاحب کو صابن کی ٹکیہ کامپلیمنٹری ملی تھی۔
تنگ راہداریاں، گملوں میں سجے پودے اور درمیان میں نیلی ٹائلوں والا حوض۔ فوارہ اپنی رفتار اور استطاعت کے مطابق پانی اچھالتا ہوا۔ پاس صوفے اور کرسیاں۔ ہالیڈے ماحول تو اب بنا تھا۔ قم تو سٹارٹر تھا، روحانیت کے ٹنج کے ساتھ۔
صد شکر کہ گائیڈ دو گھنٹے لیٹ تھی۔ صحن میں فوارے کے کنارے بیٹھ کر بلونت سنگھ کا ناول اور کلیات اقبال نکالی۔ ایرانی قہوہ بنایا اور اصفہان میں اپنے ہونے کو محسوس کیا۔ کچھ دیر بعد چھت کی راہ لی اور ارد گرد بےڈھب سے بنے گھروں کا نظارہ کیا۔
لاہور کا اندرون بھی ایسا، یونان کا بھی اور اصفہان کا بھی۔ شاید ہر شہر کا اندرون ایک سی اپروچ والے لوگوں سے بنتا اور حتمی شکل ایک سی ہوتی۔ ایران پر پابندیوں کی ایک اور شکل عام موبائل ایپس کا نہ چلنا ہے۔ یہاں بھی یہ قوم پیچھے نہیں رہی اور ہر ایپ کا مقامی ورژن بنا ڈالا ہے۔
گائیڈ فرح پی ایچ ڈی کی طالبعلم تھی اور انگریزی میں رواں تھی۔ ’چہر باغ سٹریٹ‘ کو یورپی ایران کی ’شانزے لیزے‘ کہتے ہیں اور درست ہی کہتے ہیں۔ پڑھی لکھی ملکوں ملکوں گھومی گایئڈ تھی، سو خوب گپ رہی۔ بتانے لگی کہ اسے لال رنگ کی گاڑی رکھنے کا بڑا شوق ہے مگر ایران میں رواج نہیں۔ شاید صحرائی ملک ہونے کی وجہ سے۔
چوک پہ سوٹڈ بوٹڈ بھکاری دیکھا تو حکومتی پالیسی کی بات چھیڑی۔ 60 فیصد لوگ گورنمنٹ سے خوش ہیں جبکہ باقی گزارہ کر رہے ہیں۔
نوجوان ملک میں روزگار کے مواقع اور انڈسٹری ہونے کے باوجود مغرب جا بسنے کے شوقین ہیں۔ سستی بجلی گیس کے باوجود لوگ گورنمنٹ سے اور ریلیف چاہتے ہیں۔ انڈسٹری کے باوجود، غیر مستحکم معیشت شاید بڑی وجہ ہے لوگوں کے عدم اطمینان کی۔ قیمتیں اور تنخواہیں بڑھانے کا ایک سائیکل ہے جو تھمتا نہیں۔
اسے کیسے بتاتے کے ہمارے ہاں صرف قیمتیں ہی بڑھتی ہیں، تنخواہیں نہیں۔ اسی گپ شپ میں شیکنگ مینار آ گیا۔ 13ویں صدی کے ایک بزرگ یہاں درس دیا کرتے تھے۔ انتقال کے بعد یہاں دفن ہوئے تو ان کے ایک شاگرد کو کچھ انوکھا کرنے کا خیال آیا۔ سادہ سا مزار جس کے دو مینار۔ اور ایک مینار کو ہلاؤ تو دوسرا بھی فزکس کے اصولوں کے تحت ہلتا۔ ایک آج کا زمانہ ہے کہ استاد شاگرد کا رشتہ بھی ری ڈیفائن ہو چلا ہے اور اب ہلنے والا مینار بنانے کی بجائے استاد ہل جاتا اگر طلبہ کی مرضی پر نہ چلے۔
آزاد صاحب کو تو اصفہان میں تخت فولاد بھی ملا تھا، ہمارے نصیب میں نہ تھا۔ شاید وہ خاص مہمانوں یا خاص مقصد سے آئے مہمانوں کو ہی ملتا۔
اسی مینار سے آگے آگ کا مندر تھا۔ فائر ٹمپل کا اردو ترجمہ ہم تو یہی کر سکتے۔ فائر ٹیمپل جاتے ہوئے پھر گفتگو کا سلسلہ وہاں سے ہی جوڑا۔ فرح بتانے لگی کہ گورنمنٹ مذہبی مگر پروگریسو ہے۔ میڈیا میں جس طرح پاکستان بدنام، ویسے ہی ایران۔ حجاب مذہبی نہیں، ثقافتی وجہ سے ضروری۔ اسلام سے پہلے بھی حجاب اس خطے کی عورتوں کا خاصا تھا۔ عورتیں آج کے ایران میں زیادہ محفوظ اور مرضی کی مالک۔ شادی کی عمر بڑھتی چلی جا رہی ہے کہ شادی کے بعد عورتیں اپنی مرضی نہیں کر سکتیں سو شادی سے ہی بھاگتی ہیں۔ بچے کم یا نہ کرنے کا رواج۔
لِو ان (live in) رشتوں کا رجحان ڈھکے چھپے انداز سے بڑھ رہا ہے۔ سرکاری سطح پر مگر پابندی۔ رشتہ بتائے بغیر مرد و عورت ہوٹل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ایرانی سیکیولر بھی ہو جائیں تو لاشعوری طور پر سخت مذہبی۔
گفتگو شاید غلط سمت جا پڑی تھی سو کوہ آتش گاہ آ گیا۔ اس کی کڑیاں ساسانی عہد سے جا ملتی ہیں۔ ان کی فوج اس جگہ تعینات تھی اور پہاڑ کی چوٹی پر معبد تھا، جس کا منہ اوپر سے کھلا تھا کہ آگ کے شعلے آسمانوں کی سمت ہی رہیں۔ پاس ہی دریا ہے جس کی وجہ سے یہاں اردگرد زرعی علاقہ ہے۔ گو ایرانی اب مسلمان، آگ کو پوجتے نہیں مگر اس کی عزت ضرور کرتے ہیں۔ وقت اور ہمت ہوتی تو ضرور ہم بھی مندر کی دیواروں کو چھو کر آتے اور اگ سے پناہ مانگتے۔
آگ کی بات چل رہی تھی کہ گائیڈ نے بتایا کہ آٹھ سال پہلے کی ایرانی گورنمنٹ اور اوباما سنجیدہ تھے کہ مل کے کام کیا جائے۔ پابندیاں نرم کی جائیں۔ امریکہ مگر بددیانت نکلا۔ ایران کا ایٹمی پرگرام ہضم کرنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ اب پھر یورپ کے ساتھ کچھ کام جاری مگر کوئی امید بر نہیں آتی۔ کوہ دماوند میں عینی نے ملکہ فرح پہلوی کا بڑا اچھا نقشہ کھینچا تھا، معلوم ہوا حیات ہیں اور امریکہ میں ہیں۔ جن بچوں کی خاطر وہ شاہ کی زندگی میں آئی تھیں، ممکنہ طور پر ان میں سے دو اپنی جان خود لے چکے ہیں۔ شاہ کی تیسری شادی، مقصد سلطنت کے ولی عہدوں کو جننا تھا۔ سلطنت اور ولی عہد، دونوں نے اپنے ہاتھوں فنا کا جام پیا۔ کسی اور کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ بقول گایئڈ حکمران ایران کا پیسہ باہر بھیج کر انویسٹ کرتے رہے اور اب بھی اسی کا پرافٹ کھا رہے۔ حکمرانوں کا اجتماعی لاشعور۔ شاہ اور ملکہ فرح کا مذہبی طور پر آزاد خیال ہونا ان کے فلاحی کاموں کے باوجود عوام کو کھلتا تھا۔ مغرب کو شاید ان کے زیر سایہ ایران کی ترقی کھلتی تھی سو بساط الٹ دی گئی۔ کس نے کب کس کی مدد کی، یہ کہانی پھر سہی۔
اگلی منزل جولفہ سکوئر تھی۔ 1595 کے آس پاس سلطنت عثمانیہ نے آرمینیا والوں پہ زندگی تنگ کی تو شاہ عباس نے ایران کے دروازے ان پر کھول دیے اور انہیں اصفہان کے اک کونے میں لا بسایا۔ تنگ کرنے کے پیچھے ازل سے زبان، نسل، یا خدا کے تصور کا مختلف ہونا ہی ہوتا ہے۔ اکثر بچانے والے کے پاس بچانے کی وجہ سیاسی ہوتی ہے۔ شاہ عباس نے آرمینیا والوں کو مسلمانوں سے الگ بسایا اور شاید یہی وجہ ہے کہ کئی سو سال گزرنے پر بھی سب ہنسی خوشی رہ رہے ہیں۔ آرمینیائی، ایرانی معاشرے میں خوش اسلوبی سے ضم ہیں۔
ہمارے والا حال نہیں کہ اقلیت کو معاشرے کے نچلے درجے پر رکھو۔ آرٹسٹ اور مکینک تو اعلیٰ درجے کے اصفہانی آرمینیائی۔ بیشتر علوم میں پڑھے لکھے، بس مذہب اپنا پڑھتے۔ اصفہان کا ایک پورا علاقہ ان کا۔ اچھے کشادہ گھر۔ شہر کا بہترین شاپنگ ایریا۔ آپس میں آرمینیائی زبان اور دوسروں سے فارسی میں گفتگو کرتے مگر لہجہ اپنا ہی رکھتے۔ مذہبی طور پر آرتھوڈوکس عیسائی۔ وانک کیتھیڈرل یہاں کی مین ٹورسٹ ایٹریکشن ہے۔ وانک گرجہ 1606 میں بنا اور ہر شاہ کے عہد میں توسیع پاتا رہا۔ 13 اور بھی چرچ آس پاس۔ وانک کیتھیڈرل کے ارد گرد پوش دوکانیں اور کافی شاپس۔ اصفہان کا بہترین ڈیٹنگ سپاٹ۔ کبھی لگتا کہ یورپ کی گلیاں کھنگال رہے۔ یونیسکو نے ہیریٹج سائٹ بنا کر ارد گرد سولنگ کر رکھی ہے۔ گرجے کے کھلنے میں ابھی وقت تھا تو سکوائر کے گرد چہل قدمی کی۔
پتہ چلا کہ ظہر سے شام پانچ بجے تک دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے ایرانی قیلولہ فرماتے ہیں۔ ٹھنڈ رکھ کر کام کرتے ہیں اور دوپہر کے آرام پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے۔ گرم موسم میں گھروں کی ٹھنڈک کے لیے بھی مختلف انتظام۔ گھر کے باہر ائیر کولر نما مشین نصب اور گھر کے اندر اس سے ہر کمرے میں سنٹرل سپلائی۔ پبلک اور پرائیویٹ ہسپتال بھی گائیڈ نے دکھائے اور سسٹم بھی سمجھایا جو کم و بیش ہمارے جیسا ہی تھا۔
گرجا گھر کے اندرونی حصے کا منطر پہلی نظر میں کسی بھی آرتھوڈوکس چرچ جیسا لگتا۔ دیواروں پر یسوع مسیح اور حواریوں کی تصاویر۔ اک دیوار پر سات آسمان، بغیر گردش کے۔ نیچے سے اوپر، عام لوگ، خاص لوگ، مریم، عیسیٰ اور پھر خدا۔ کتنا نیچرل سیکویئنس۔ عام لوگ خواص سے لے کر پیغمبروں اور پھر خدا تک کا بوجھ ڈھوتے ہوئے۔ تصویر عیسائی مصور کی بنائی ہوئی اور نیچے مخصوص ایرانی کاشی کاری کا کام مسلمان کا۔ بلکل ایسے ضم جیسے ایرانی اور آرمینیائی۔ جب قرۃالعین حیدر یہاں آئیں تو ان کے ایک ساتھی نے پوچھا کہ عمارت گرجے کی، طرز تعمیر مسجد سا کیوں؟ اور ان کے دو ساتھی تو بس میں بیٹھے رہے اور قومی نفرت برقرار رکھتے ہوئے آرمینی گرجے میں داخل نہ ہوئے۔ صد شکر ہمارے ساتھ ایسے نمونے نہ تھے۔ گرجے کے میوزیم میں آرمینیائی طرز زندگی کو عیاں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اصفہان کا پہلا سرکاری میوزیم ہے جہاں بادشاہ کی آرمینیائی ہجرت کے متعلق خطوط دلچسپ ہیں۔ ایران کی تیسری پرنٹنگ پریس بھی پڑی جو ایران کی علمی و ادبی زندگی میں بڑا سنگ میل ہے۔ 1915 میں پھر ترکوں کو ہشیاری آئی اور لاکھوں آرمینیائی مار دئے گئے۔ اس کی یاد میں ایک دیوار بھی میوزیم کا حصہ ہے۔ کیسا لوپ ہے مذہب کی بنیاد پر جنگ و جدل کا۔ اسی وقت کے ٹکڑے میں ایک طرف عیسائی مومنین کا استحصال کر رہے اور عین اسے وقت دوسری طرف مومنین عیسائیوں کو کڑا وقت دے کر لوپ مکمل کررہے۔ دونوں فریقین کے خدا عرش پر میٹنگ کر رہے تھے کہ واٹ نیکسٹ؟
جولفہ سے نکل کر چہار باغ بالا سے ہوتے ہوئے کھاجو پل پر پینچے۔ راستہ لاہور کی نہر کے ساتھ سڑک کی طرز کا تھا۔ لمبی قطار درختوں کی اور صاف ستھری سڑک۔ ارد گرد فلیٹ اور دکانیں۔ قم کی طرح یہاں بھی فلیٹوں کا رواج ہے۔ رہائش کی جگہ خریدنا قریباً دیوانے کا خواب ہے۔ زیاندے دریا، ڈیم بننے کے باعث خشک، کبھی کبھی انتظامیہ پانی چھوڑتی ورنہ ریت اور مٹی۔ کیسے ڈیم کسی حصے کا پانی کھا کر کسی اور حصے کو دے ڈالتے۔ پانیوں کو سزا دے ڈالتے، بند باندھ کر۔ یہ بھول جاتے کہ خراج تو لوگوں نے ہی بھرنا ہوتا ہے۔ اس دریا کے نظارے کا ذکر آزاد نے اپنے دورے کی مختصر روداد میں بھی کیا مگر تب پانیوں کو ڈیم نامی سزا نہیں ملی تھی۔ زمین کو جو انسان نامی سزا ملی ہوئی اسکا حجم جب کم تھا، سو ضروریات ڈیم کی متقاضی نہ ہوئی تھیں۔
عینی بی بی جب دورہ ایران پر آئیں تو انہیں اس ڈیم کا دورہ بھی کرایا گیا تھا۔ ہم چونکہ سرکاری مہمان نہ تھے اور چاہ کر بھی کسی ملکہ کی داستان حیات نہ لکھ سکتے تھے سو ہمارے حصے میں سوکھا دریا ہی آیا۔ پاس پوش ترین علاقہ، مہنگے گھر جو سامنے دریا کے ہوتے ہوئے بھی بوند بوند دیکھنے کو ترستے تھے۔ دریا خشک مگر ارد گرد بے تحاشا ہریالی۔ کھاجو پل جیسے پل بھی خال خال ہی دیکھے۔
مغرب کے پلوں کی شان اور تاریخ بھی دلچسپ ہوتی مگر یہاں معاملہ ہی اور تھا۔ پل نہ کہیں، نیم محل کہیں۔ 18 ویں صدی کے بادشاہ کا انوکھا خیال۔ عیاشی کے لیے پل بنا ڈالا۔ دور تک اونچی محرابیں۔ درمیان میں تخت کی جگہ اور کمرے۔ اوپر نیچے لمبی راہداریاں۔ ایک کونے سے دوسرے کونے تک دیکھو تو لگے کہ پل کا اپنا ایک جہان ہے، اپنی ایک دنیا ہے۔ مغلوں نے کمال محل، مسجدیں اور مزار بنائے مگر اس قسم کے پل بنانے کا خیال انکو بھی نہ آیا۔ پل کے نیچے لکڑی کے ٹکڑوں سے ڈیم کا کام بھی یہ پل ہی دیتا تھا۔ پل اپنی پوری شان و شوکت سے رہ گیا۔ بادشاہ اور دریا فنا ہو گئے۔ تارڑ صاحب بہاؤ پکڑے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں یا میرا وہم ہے۔ بادشاہ کی عیاشی کی جگہ پر اب نکمے، بےگھر اور ریٹائرڈ لوگ بیٹھ کر تاش کھیلا کرتے ہیں اور وقت گزارا کرتے ہیں۔ رہے نام اللہ کا جو کچھ لوگوں کے لیے وقت کو اور خود کو کتنا نرم کر دیتا، بلکل 70 ماؤں جیسا ہو جاتا، مگر کتنا کم کم ہوتا ایسے۔ انقلاب سکوائر، کھاجو پل اور دریا کے پاس میں وہ جگہ ہے جہاں سے اصفہانیوں نے انقلاب ایران میں شمولیت کا آغاز کیا تھا۔ آگے چہار باغ کا علاقہ۔ واقعی یورپ کی کسی فینسی سٹریٹ سے کم نہیں۔ سائیکل پر، پیدل، لوگ شاپنگ اور ملنے ملانے میں مشغول۔ ایک جگہ مذہبی اجتماع اور افطاری کی رونق۔ فوارے، مجسمے، پارک، دکانیں، خوش باش لوگ۔ ایران زندہ ہے اور بہتوں سے بہتر زندہ ہے۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد پہلا پڑاؤ پرانی جامعہ مسجد تھی۔ راستے میں مٹی کے پرانے گھروں اور نئے پوش گھروں کا امتزاج تھا۔ اصفہان کا مرکزی پرانا شہر دنیا کے باقی سٹی سنٹرز کی نسبت بہتر لگا۔ ڈرگی اور جنکی جو یورپ اور ایشیا کے اندرون شہر کا اٹوٹ انگ ہوتے ہیں، یہاں نظر نہ آئے۔ جدید گھر باہر سے تو ہمارے گھروں جیسے ہی تھے، بس اونچے اونچے جنگلے اور کیمرے نصب تھے۔ مسجد کے قریب بے حد مصروف بازار۔ دلی کی جامع مسجد کے پاس کے بازار کا بھی تو ایسا ہی سن رکھا۔ آنندی افسانے کا ذکر یہاں کتنا ضروری ہے یا شاید غیر ضروری ہے۔ بازار لنڈا بازار نما ہے مگر گوروں کی اترنیں نہیں، لوکل مال ہی مل رہا۔ کپڑے، برتن، عبایا، سوٹ کیس، نوادرات، زیورات، ہر شے کی دکان موجود۔ جامع مسجد اصفہان بلکہ ایران کی قدیم ترین مسجدوں میں سے ایک ہے۔ لگ بھگ آٹھویں صدی سے 20 ویں صدی تک پھیلی ہوئی تاریخ۔ پہلے حصے میں داخل ہو کر آنکھیں دنگ رہ گئیں۔ کچی اینٹوں کا مجموعہ۔ ستون اور چھت پر بغیر رنگ کے دلکش کام۔ جہاں کھڑے ہو لگے کہ چاروں طرف سے ایک سے منظر میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہر دوسری آرچ کے بیچ میں روشنی اور ہوا کے گزر کے لیے سوراخ۔ بیچ میں ہی جدید قالین اور دوسرے لوازمات سے نماز اور دیگر مذہبی امور نپٹانے کا بندوبست۔ مین ہال کا گنبد اونچا، درمیاں میں نیلے کام والا محراب جو 17ویں صدی کا اضافہ لگتا۔ کبوتر ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی تک اڑتے ہوئے۔ ایرانی مساجد والا طویل صحن اور درمیان میں تالاب۔ چاروں طرف مسجد کے مختلف حصے جو مختلف شاہوں کا تحفہ، خانۂ خدا کو۔ مظفرید دور کا موسم سرما والا حصہ بہت دیدہ زیب، نیچی چھت اور سفید آرچز۔ صرف ایک اس مسجد کا دورہ ایران اور اصفہان کے مختلف ادوار کی جھلک دکھانے کو کافی ہے۔ ایک عجیب سا فسوں، جو مذہبی اور روحانی سے زیادہ تاریخی اور فنی۔ اصفہان میں اس مسجد سے خوبصورت، جدید اور دیدہ زیب عمارات موجود مگر اس مسجد میں آکر یوں لگتا کہ انسان ماں کے پیٹ میں واپس آگیا ہے۔
اگلا پڑاؤ نقش جہاں سکوئر تھا۔ اس کی کڑیاں بھی 12ویں صدی سے جاملتی ہیں، جب دریا کے کنارے شہر کے دو حصوں کو ملانے کے لیے اس کی داغ بیل رکھی گئی۔ دوکانیں بنائی گئیں تو مسجدوں کی جگہ بھی ضروری کہ ایرانی بادشاہوں کا خیال تھا کہ مذیب اور کامرس ساتھ ساتھ چلنے چاہیں۔ دونوں میں برکت رہتی ہے۔ آج کا سکوائر جدید دکانوں پر مشتمل۔ دو مسجدیں اور علی کاپو محل سیاحوں کو گھیر لانے کے لیے کافی۔ درمیان میں بگھیاں سیاحوں کو سییر کرانے کے لیے، معلوم ہوا کہ عرب زیادہ تر گھوڑوں پر بیٹھتے اور باقی قومیت کے سیاح پاپیادہ گھومتے۔ اس سکوائر کا ایک جادو بھی ہے، کوہ صفا بہت دور مگر یہاں سے دیوار بھر کے فاصلے پر لگتی۔ لطف اللہ مسجد کا صرف گنبد، کوئی مینار نہیں کہ یہ وی آئی پی مسجد صرف شاہی خاندان کے لیے بنائی گئی تھی۔ 17ویں صدی کا وہی نیلا آرٹ۔ باغ اور جنت کا مزہ ایک ساتھ دینے کے لیے۔ یہاں قالینوں کو بھی اسی کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے۔ اس مسجد کا ڈوم پوری دنیا میں مشہور۔ مور کے سر اور دم کی بناوٹ سے پورا جہان دکھا دیا گیا ہے۔ خالص شاہی مسجد، جہاں محمود و ایاز کبھی اکٹھے نہ ہوئے ہوں گے۔ سکول کے بچے بھی دورے پر تھے۔ ایران میں ہر ماہ سکول کے بچوں کے دو اس قسم کے ٹور لازمی ہیں۔ ایسے تو حافظ اور سعدی کی سرزمین نہیں ایران۔ نیو نارمل گزشتہ سے پیوست ہے۔ گئے دنوں میں جب ہماری ذبان کی سب سے بڑی ادیب کو یہاں بلایا گیا تھا تو تب بھی سکول کے کچھ بچے ٹور پر تھے۔ ایسے ہی تو وقت کی اس چکر دھارا پر سینکڑوں صفحے کالے نہیں کیے اس ساحرہ نے۔ کہ آئینہ وہی رہتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں۔ اس وقت کے بچے جو اب بزرگ ہو چکے ہوں گے، عینی کے فہم سے ناآشنا تھے اور بہت رعب سے انکو بتایا کیے تھے کہ یہ دنیا کی سب سے حسین مسجد ہے۔ قوم پرستی۔
باجو میں عوامی مسجد جسے شاہ مسجد یا امام مسجد کہتے ہیں۔ دروازے 450 سال قبل افغانیوں کے بنائے ہوئے۔ احاطے میں ہاتھ کے بنائے ہوئے منی ایچر کا فنکار بیٹھا اپنے جوہر دکھا رہا تھا۔ وہی وسیع صحن، جہاں رات کو مسافر اپنے جانور باندھا کرتے تھے اور صبح کھول لیا کرتے تھے۔ درمیان میں مسجد اور دونوں اطراف میں گرمی اور سردی کے علیحدہ احاطے۔ گرمیوں والے احاطے میں سورج کی روشنی سے وقت ماپنے والا پتھر، گھڑی کی ایجاد کے بعد اپنی کم اہمیتی پر شکوہ کناں پڑا ہے۔
مسجد میں تمام پتھر اصفہانی ہیں اور آج بھی اصفہان ماربل کا بڑا سپلائر ہے۔ یہاں سائنس کا جادو، بڑے ڈوم کے نیچے نصب پتھر پر کھڑے ہو کر کچھ کہو تو آٹھ دفعہ گونجتا۔ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد سے پہلے مؤذن کا مائیک۔ فزکس کے اصول عمارات میں برتنے میں ایرانیوں کا کوئی ثانی نہیں۔ ڈوم دو تہوں والا، درمیان میں 11 میٹر گیپ۔ نماز پڑھانے کی جگہ کھدی ہوئی اور باقی نمازیوں سے نیچے کہ امام کی عاجزی ظاہر ہو۔ منبر ایک ہی ماربل کے ٹکڑے کا اور 14 سیڑھیاں، 12 اماموں اور فاطمہ و زینب کو ظاہر کرتی ہوئی۔ 62 سال لگے مسجد کی ابتدائی تعمیر میں۔ قجروں کے دور میں جہاں پرانے محل ڈھائے گئے یا بگاڑے گئے وہاں مسجدوں میں بھی ردوبدل کیا گیا۔ شاہ مسجد میں بھی پیلے گل بوٹوں کا اضافہ کیا گیا کہ اس کا حسن ماند پڑ جائے۔ نجانے نئے حکمران پرانوں کو روند کر کیوں اپنا قد بلند کرتے۔ حالانکہ طاقت اپنے ساتھ بہت کچھ ایسا دیتی ہے جس کو استعمال کر کے پرانوں کے کام کو روندے بغیر بھی خود کو امر کیا جا سکتا ہے۔
علی کاپو محل کی تعمیر، 1577 کا سال، ایران کی پہلی ملٹی سٹوری عمارت۔ محل بھی، دفتر بھی، حرم بھی۔ سب ایک جگہ۔ قجروں نے اس کی ٹایلیں بھی اکھاڑ دیں۔ آج کے ہمارے حکمران اس حساب سے بہتر، پرانوں کے کام کو اکھاڑنے کے بجائے اپنی تختیاں لگا کر آگے ہی بڑھاتے۔ محل کی سیڑھیوں کے سٹیپ اونچے کہ دشمن آئے تو مشکل ہو مگر اپنی روز کی مشقت کا خیال نہیں۔ پہلی منزل پر انتظار گاہ، پھر بیسن اورپھر چھت کے سرے سے اصفہان کا نظارہ۔ جنوبی ماڈرن حصہ بھی، شمالی پرانا بھی۔ پورا نقش جہاں قدموں میں۔ چھت پر ہنزہ کے کسی محل کا گماں ہوا، لکڑی کے ستون دیکھ کر۔ گلابی کاشی کاری۔ ایک طرف فربہی مائل ایرانی عورت کی تصویر کہ تھوڑا سا موٹاپا حسن کی علامت تھا تو دوسری طرف چینی عورت کی جسے چینی مصور نی ہی بنایا تھا، عوام کو بینالاقوامی تعلقات کا یقین دلانے کے لیے۔ بادشاہ کے دفتر کے دروازے نیچے تھے کہ آنے والے نہ بھی چائیں تو جھکنا پڑے۔ اس زمانے کی حسین تصاویر کو قدامت پسندوں نے یا بگاڑ دیا یا پھینک دیا۔ خیر اب بگاڑنے یا پھینکنے پر پابندی ہے۔ ساتھ ہی ایران کا پہلا بنک، جو اب بھی فنکشنل ہے۔ فوجی جگہ کو اب آرٹ یونیورسٹی کی جگہ دے کر نسلوں پر احسان کیا گیا ہے۔ دروازے کے ساتھ دو کونوں پر شیشے نصب اور ایکو سے پیغام رسانی کا انتظام جو اس وقت کے گارڈ استعمال کرتے تھے۔
رضا توغی کی منی ایچر آرٹ گیلری کا دورہ بھی دلچسپ تھا۔ موصوف نے اونٹ اور گائے کی ہڈی سے فریم بنانے کے فرق پر سیر حاصل گفتگو کی اور دو منٹ میں ایک منی ایچر پینٹنگ بنا کر تحفے کے طور پر دی۔ پھر وہی وقت کا ہیر پھیر۔ 50 سال پہلے آقائے علی سجادی نے اسی شہر میں ایک منی ایچر پینٹنگ بنا کر قرۃالعین حیدر کے گروپ کو دی تھی۔ یہاں ہم بہتر رہ گئے۔ عینی کے ہاتھ وہ تصویر نہ آئی تھی اور ان کے گروپ کی ایک جرمن خاتون اسے لے اڑی تھیں۔ ایسی ایک پوری دنیا آباد ہے نقش جہان سکوائر میں۔ اصفہان کے تمام اہم ایونٹ بھی یہاں ہی ہوتے۔ کتابوں کی بھی بے شمار دکانیں مگر گایئڈ نے گلہ کیا کہ نئی نسل اب صرف نصاب کی کتب پڑھتی اور باقی علوم جاننے کا شوق اب اس سرزمیں سے بھی مٹنے کو ہے۔ حافظ و سعدی کی سرزمین بھی بنجر ہونے کو ہے؟ دل ڈوبنے لگتا ہے یہ سوچ کے۔
چہل ستون کی کڑی بھی 17 ویں صدی سے ہی ملتی ہے۔ ایک خالص فارسی باغ کی شرائط پر پوری اترتی ہے یہ جگہ۔ عمارت، تالاب اور 9 چھوٹے باغات۔ چہل ستون اس لیے نام کے 20 ستون اور پانی میں ان کے 20 عکس۔ قجروں کے اجاڑے محلوں کا سامان بھی یہاں موجود۔ بنایا اسے مہمان خانے کے طور پر گیا تھا مگر پھر شاہ سلطان نے اسے مسکن بنا لیا اپنی 3000 بیویوں سمیت۔
نجانے 3000 بیویاں، محل اور سلطان دونوں کیسے سنبھال پاتے تھے۔ شاید یہاں تاریخ مبالغے کی چھلنی سے گزری تھی۔ لکڑی کے ستون اور شیشے کا کام، تاج محل کی یاد آ گئی۔ ایران میں پہلی دفعہ شیشہ 18 ویں صدی میں اٹلی سے آیا اور اس عمارت میں نصب ہوا۔ اندر دیواروں پر بڑی دلچسپ مصوری ہے۔ ایک دیوار پر شاہ ایران کے آگے مدد مانگتا ترک شاہ، دایاں ہاتھ چھپا ہوا، مقصد اطاعت دکھانا۔ غیر ملکی عورتیں ناچتی ہوئی اور ملک کی عورتیں حرم میں۔ طاقت کا اظہار دوسرے کی عورت کو نچوا کر کرنے کا چلن بھی نیا نہیں۔ امریش پوری اور میناکشی کا گنگا جمنا سرسوتی کا سین یاد آگیا۔ اگلی تصویر میں نادر شاہ ہند فتح کرتے ہوئے اور ہیرے سمیٹتے ہوئے، لاحول۔ کیا نقش بنا ڈالا برصغیر پر ظلم کا۔ ہیرے سمیٹنے کے چکر میں پورے علاقے کی ہیئت تہ و بالا کرکے رکھ دی تھی ظالم نے۔ پھر ہمارا ہمایوں پناہ مانگتا ہوا۔ پناہ بھی دس سال کی۔ یہان بھی عینی بی بی سے سوال ہوا تھا کہ ہمارے بادشاہوں کو چھوٹا اور حقیر کیوں دکھایا صفوی مصوروں نے؟ جواب عینی نے اپنی فراست کے مطابق دیا کہ مغل آرٹسٹوں نے ان کے بادشاہوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا ہو گا۔ اس وقت کے بادشاہوں کی سیاست بھی آج کی سیاست سے مختلف نہیں تھی۔ کل کا لٹیرا آج کا دوست بن جاتا، صرف مفاد وابستہ ہونے کی دیر۔ اندر کے کمروں میں لوکل شاعروں کی محبت والی تصاویر۔ قاچاروں نے نئی تصاویر بنائیں اور پرانا سب اجاڑنا چاہا۔
ایرانی دورے کے ولن اب تک قاچار ہی ٹھہر رہے تھے۔ چہل ستون کے روایتی چائے خانے سے زعفران کی آئس کریم کھائی۔ زعفران یہاں کا عوامی مصالحہ۔ ہر شے میں ڈالتے، ڈپریشن کے علاج میں بھی استعمال کرتے۔ ریٹائرڈ بابے وہاں چائے پینے اور گپیں لڑنے میں مصروف تھے۔ واپس آ کر آخری کچھ گھنٹے ایرانی روایتی ہوٹل کا مزہ لیا کہ رات کو ایران کے ایک اور شہر بےمثال کی طرف کا سفر تھا۔
(جاری ہے)






