بیکار باتیں، کارآمد باتیں
آج کل وقت کی شدید کمی کا اندیشہ لاحق ہے۔ اس دنیا کے متعین وقت یعنی چوبیس گھنٹوں میں ایک سیکنڈ کی کمی نہیں ہوئی اس کے باوجود وقت میں کمی کا شدید اندیشہ احساس زیاں کی صورت حواس پر غالب رہتا ہے۔ یہ معمولی اور عام سا آوارہ خیال ہو سکتا ہے۔ اسے رد کیا جاسکتا ہے، اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تلک انسان کی زندگی میں ایسے نشیب و فراز اور اتھل پتھل کا سلسلہ جاری رہتا ہے کہ حیرانی دم بہ خود ساکت انسان کو دیکھتی ہے کہ یہ کیا چیز ہے۔ خود نچلا بیٹھتا ہے نہ دوسروں کو بیٹھنے دیتا ہے۔ یہ اذیت آج ہر انسان کسی نہ کسی صورت محسوس کرر ہا ہے۔ یہ الگ بات کہ اس کا اظہار نہیں کرتا۔ وقت کم نہیں ہوا۔ مصروفیت بڑھ گئی ہے۔ دو منٹ بیٹھ کر بات کرنے، چائے پینے اور گپ اڑانے کا وقت مشینی اور مفاد پرستی سوچ نے کھا لیا ہے۔ کتاب پڑھنے، خیالات کا اظہار کرنے اور اپنے تجربات سے دوسروں کو مستفید کرنے کی روایت مر کھپ گئی ہے۔ پتہ نہیں ہم کیا کچھ چھین لینا چاہتے ہیں اور کیا کچھ اپنے قبضے میں لے لینا چاہتے ہیں۔ ملک ریاض بننے کے چکر میں ہر ریڑھی والا اپنے ہاتھ پاؤں کاٹ رہا ہے۔ زندگی کی سادہ دلی اور ہنسی مذاق کے چہل کا تکلفانہ انداز ہم سے روٹھ گیا ہے یا ہم نے اسے اپنی زندگی سے نکال دیا ہے۔ اب کوئی سلام میں پہل کرے تو شک گزرتا ہے کہ اس نے سلام کیوں کیا ہے۔ اس کے سلام کرنے سے مجھے کیا نقصان ہونے والا ہے۔ اس شخص کو نظر میں رکھا جائے اس کی حرکات و سکنات پر غور کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی دوست پرانا اتفاقاً ملاقات کو آ جائے تو عجیب سا لگتا ہے کہ اس وقت یہ یہاں کیسے آ گیا اور کیا لینے آیا ہے کہیں پیسے تو نہیں مانگنے آ گیا۔ اسے باتوں میں بہلا کر چلتا کرو۔ انسان نے اپنے لیے پہلے گھروندے بنائے تھے پھر جنگلوں دریاؤں کی خشک تہ پر وقت گزارا پھر پہاڑوں میں گپھائیں بنائیں۔ یہاں سے دل نہ بھرا تو میدانی علاقوں میں پتھروں سے چبوترے تعمیر کیے تو مرور وقت کے عالی شان محلات میں تبدیل ہو گئے۔ محلات سے آگے بات چلی تو سیکڑوں منزل پر پھیلی وسیع و عریض پلازے اور ہائیٹس بنا لیے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ زندگی کی سادگی اور تصنع سے پاک زندگی کا اجلا تصور کہاں چلا گیا ہے۔ یہ اور اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم سے شاہ جی سے رخصت لی۔ کہنے لگے بیٹھو میاں! کہاں جاتے ہو، ہم نے کہا شاہ جی! آپ تو پرانی دنیا کے باسی ہیں۔ ہم جدید دور کی پیداوار ہیں۔ یہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں لیکن اب پیچھے پلٹ کر دیکھنے کو من نہیں چاہتا۔ کہنے لگے :اچھا ہلکی پھلکی دنیا داری اور خانگی معاملات و میلانات اور مشاہدات و تجربات کی روزمرہ گفتگو کرتے ہیں۔ ہم بیٹھ گئے تو بیٹھ گئے۔ دو گھنٹے کی مزید نشست کے بعد اس روزمرہ والی گفتگو میں بھی جو کچھ کشید کر سکا وہ ذیل میں حاضر خدمت ہے۔ پڑھیے اور رائے دیجیئے۔
٭۔ اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایکسڑا میرٹیل افئیرز (شادی کے علاوہ تعلق) سے نمٹنے کا فہم اور صلاحیت ہے۔ ہمیں اس خام خیالی سے نکل آنا چاہیے کہ میری بیوی کی معصومیت کی تو فرشتے گواہی دیتے ہیں؛ یا میرا شوہر تو کبھی مجھے نہیں دیکھتا کسی اور عورت کو کیا دیکھے گا۔
٭۔ میاں بیوی کا رشتہ ایک سوشل کنٹریکٹ ہے؛ جہاں سنو یہی رٹ الاپ رہے ہیں لوگ۔ مجھے اس لفظ کی سمجھ نہیں آ رہی؛ پتہ نہیں کیا مطلب ہے سوشل کنٹریکٹ کا۔ میرے خیال میں کنٹریکٹ تو مالی معاملے میں کسی ٹھیکے کو کہتے ہیں؛ کسی معینہ مدت کے لیے۔ شادی پتہ نہیں کیسے کنٹریکٹ میں شامل ہو گئی ہے (یا کر دی گئی ہے )
٭۔ لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، ہیر رانجھا، سسی پنوں۔ یہ سارے عاشق شہزادے شہزادیاں تھے۔ غریب بے چارے عشق بھی نہیں کر سکے؛ مجھے لگتا ہے غریبوں کے عشق کو تاریخ نے منہ ہی نہیں لگایا۔
٭۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ماں باب سے پیار ہوتا ہے اور وہ بھی ہمیں پیار کرتے ہیں۔ ہمیں جب بھی پیار ملتا ہے؛ ہمارے اندر کا بچپن جاگ اٹھتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں دوسرا ہمیں بچہ سمجھ کر پیار کرے اور ہم اسے بچہ بن کر چاہیں۔ وہ ماں یا باپ کی طرح سلوک کرے اور ہم بچے کی طرح (یہ کیفیت بہت کم نصیب ہوتی ہے )
٭۔ بعض دفعہ ہمارا ٹوٹا پھوٹا بچپن؛ہمارے بڑے ہوتے جسموں کے ساتھ بڑا نہیں ہوتا؛ہم ادھیڑ عمر میں پہنچ کر بھی بچے کے بچے رہتے ہیں؛ بس حرکتیں بڑوں جیسی کرنا سیکھ لیتے ہیں۔
٭۔ بعض دفعہ مجھے لگتا ہے؛ کاموں میں بھی جان ہوتی ہے؛ وہ بھی سوچتے سمجھتے ہیں : جب کوئی کام بڑا مشکل، بڑا ارجنٹ، بڑا تیز بن کر میرے سر پر سوار ہو، اور میں اسے ملتوی کردوں، تو اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے؛ اس کا دم خم نکل جاتا ہے اور اگلی بار پھر ملتوی کر دوں تو اکثر مر جاتا ہے۔
٭۔ میرے خیال میں سب سے کم ظرف انسان وہ ہے جسے پتہ ہو؛اس کی بیوی اس سے عقلمند ہے۔ اس کی رائے ٹھیک ہوتی ہے اور وہ معاملات کو اس سے بہتر سمجھتی ہے، بہت چلا سکتی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی اپنی بیوی کو دبانے اور غلط ثابت کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہو۔
٭۔ بعض لوگوں کی کبھی تعریف نہیں ہوئی ہوتی؛وہ کبھی کسی کو پسند نہیں آئے ہوتے اور ان میں ایسی کوئی کوالٹی بھی نہیں کہ انھیں پسند کیا جائے؛ ان کی تعریف ہو سکے اور ساری زندگی (ایسے ہی سراہے بغیر) گزر جاتی ہے۔
٭۔ کسی سے بچھڑ کر سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب آپ کو محسوس ہو کہ وہ آپ کے ساتھ ہی ہے۔ کچھ لوگ آپ کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں کو چہرے پر نہیں لاتے؛ وہ آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی کے احساس سے محروم رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد نہیں رکھتے۔
٭۔ یورپین گندے لوگ ہیں؛ ان کی صرف سڑکیں صاف ہیں۔ جن لوگوں کو بات کرنے کی تمیز نہیں رہی، شائستگی اور ناشائستگی کا فرق بھول گئے ہیں۔ عورت اور بچے کا خیال کرنا یاد نہیں رہتا، وہاں اور کس بھلائی کی امید کی جا سکتی۔
٭۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی تکلیفوں کو سبب ان کی اپنی تنگ دلی ہوتا ہے :انسان نے دو چار برس کسی دوسرے ملک میں بسر کیے ہوں؛ اپنوں سے دور رہا ہو؛بھوک اور فاقہ کشی سے گزرا ہو؛لوگوں کی نفرت، حقارت اور دشمنی برداشت کی ہو؛ذہنی اور جسمانی اذیت بھگتی ہو، ہر وقت اور کسی بھی وقت، موت کے آ سکتی موت کا خوف چکھا ہو؛پھر دیکھیں باقی زندگی کیسی خوشی سے گزرتی ہے۔
٭۔ جس طرح انسان کے پاس کبھی صحت ہوتی ہے؛ کبھی بیماری آجاتی ہے؛ کبھی دولت ہوتی ہے؛ کبھی تنگی بھی آجاتی ہے؛ کبھی اختیار ہوتا ہے؛ کبھی بے بسی بھی آجاتی ہے۔ اسی طرح شادی میں بھی دن بدلتے رہتے ہیں؛ کبھی محبت ہوتی ہے، کبھی نفرت بھی آجاتی ہے؛ خلا بھی آ جاتا ہے؛ بات ہوتی ہے، وہ برا وقت نکالنے کی۔ جس طرح آپ بیماری، تنگی اور بے بسی میں برا وقت نکالتے ہیں؛ اسی طرح شادی میں، یا اپنے پارٹنر کے ساتھ آئے برے وقت کو بھی نکالنے کی کوشش کریں؛ صبر اور برداشت سے۔
٭۔ وہ ایک لمحہ جب آپ رات اٹھیں اور واش روم ہو کر، پانی وانی پی کر، دوبارہ سونے لے لیے آئیں اور کھڑے کھڑے اپنے بچے کو سوئے دیکھنے لگیں اور پھر دیکھتے دیکھتے وہیں بیٹھ جائیں اور دیکھتے ہی جائیں؛ کبھی ہاتھوں کو، کبھی ماتھے کو، کبھی ٹھوڑی کو، کبھی ناک کو (کیا یہ لمحہ آپ کو نصیب ہوا ہے )
٭۔ پیغمبروں کی بعثت کا مقصد انسان کی معاشرتی اصلاح اور معاشرتی اصلاح کا مقصد انسان کی روحانی بالیدگی اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی رہا ہے۔ انسان کی معاشرتی اصلاح کمزوروں پر ظلم اور نامناسب جنسی تعلقات روک کر کی جاتی رہی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں مردوں میں زیادہ پائی جاتی تھیں۔ آج بھی حالات کچھ ویسے ہی ہیں۔
٭۔ پختگی ایسے ہی نہیں آجاتی؛ اعتماد ایسے نہیں آ جاتا؛ کئی جگہ منہ مارے ہوتے ہیں؛ کئی معصوموں کو دھوکے دیے ہوتے ہیں؛ کئی ایک کو انگلیوں پر نچایا ہوتا ہے۔ وفادار آدمی تو شرماتا ہے، جھجکتا ہے، ہاتھ ملانے سے ڈرتا ہے۔
٭۔ انسان کو پتہ ہوتا ہے؛ وہ کیا کر رہا ہے؛ اسے پتہ ہوتا ہے اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؛ اسے پتہ ہوتا ہے وہ کیا توڑ رہا ہے؛ اسے پتہ ہوتا ہے کیا ٹوٹ رہا ہے؛ لیکن نہ کوئی رکتا ہے، کوئی روکتا ہے، مجھے اسی لیے محبت (یعنی کالی ”جنسی“ محبت) سے گھن آتی ہے۔
٭۔ عیاشی، تماش بینی، شہدا پن، کچھ مردوں کے منہ پر لکھا ہوتا ہے، ہوس، شہوت، بے غیرتی، ان کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے۔ دھوکا، بے وفائی، خودغرضی، ان کے اٹھنے بیٹھنے سے عیاں ہوتی ہے۔ ان کی آنکھوں، ان کے ہونٹوں، ان کے نتھنوں کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ پہلی نظر میں پتہ لگ جاتا ہے۔ یہ عورت کو عزت تو کیا دیں گے؛ انسان ہی سمجھ لیں تو کافی ہے۔ حیرت ہے پھر بھی عورتیں ان کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔


