ملکی سیاست کے زمینی حقائق اور تقاضے
میری موجودہ ذہنی کیفیت کے مظہر میری داخلی دنیا کے غماز اور میرے حسب حال احمد فراز کے چند اشعار آپ کی ضیافت طبع کے حضور بطور نذر و نیاز
جس آگ سے جی آج جل اٹھا ہے مکرر
پہلے بھی میرے سینے میں بیدار ہوئی تھی
جس کرب کی شدت سے میری روح ہے بے کل
پہلے بھی میری زیست کا آزار ہوئی تھی
جس سوچ سے میں آج لہو تھوک رہا ہوں
پہلے بھی مرے حق میں یہ تلوار ہوئی تھی
اب مرا ہنر ہے میرے جمہور کی دولت
اب میرا جنوں خائف تعزیر نہیں ہے
اب دل پہ جو گزرے گی وہ بے ٹوک کہوں گا
اب میرے قلم میں کوئی زنجیر نہیں ہے
9 مئی کو ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات اور ان کے رد عمل کے طور پر پی ٹی آئی پر ریاستی یورش و یلغار اور نائن الیون کے اسکرپٹ میں خاکسار کو گہری مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ نائن الیون واقعات کے ذمہ داروں کے تعین کی غرض سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور رپورٹ کی ضرورت سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر بارود کی بارش بر سا دی تھی۔ تورا بورا علاقے کی مثال نظر میں رکھ کر تمام سرزمین افغانستان پر اس کی تعمیم کر لیں۔ ٹوئن ٹاور پر حملوں کے حوالے سے ایک نقطۂ نظر یہ بھی گردش میں چلا آ رہا ہے کہ وہ سب کچھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے تیار کردہ اسکرپٹ کا شوٹ تھا۔ سوویت یونین (اب روس) اور امریکہ کے درمیان جنیوا مذاکرات کی کامیابی اور افغان مسئلہ کے (وقتی) حل کی راہ میں حائل رکاوٹ جنرل ضیا الحق سے پیچھا چھڑانے اور اسے ٹھکانے لگانے کی غرض سے پاکستان میں متعین اپنے سفیر کی بلی چڑھانے کے واقعہ کے پس منظر میں دشت سیاست کی سفاکیوں، ہولناکیوں اور پتھریلے جذبوں کے کھیل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ سیاست کسی دور یا علاقے سے متعلقہ ہو، سیاست ہی ہوتی ہے اور اس کی پیشانی پر رقم ہے کہ ”میرے سینے میں دل نہیں ہے“ ۔ یہ غلط العام کہ ”سیاست شیوۂ پیغمبری ہے“ یا یہ کہ ”سیاست انسانوں کی آسمانی سرگرمی ہے کیونکہ اس سے لاکھوں بندگان خدا کی امیدیں، خوشیاں اور مستقبل جڑے ہوتے ہیں“ ۔ سیاست ان مقولوں کے برعکس تاش کے کھلاڑیوں کے درمیان رنگ (Color) کے نام سے معروف کھیل کے مانند ہے یا بساط شطرنج ہے جس میں کھلاڑی ایک دوجے کو مات دینے پر تلے ہوتے ہیں اور بہتر چالباز بازی اپنے حق میں الٹ لیتا ہے۔
اے عقل والو! واقعات اور مظاہر پر تدبر کیا کرو، ( القرآن) عمران خان کی عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کے ذہنوں میں تشکیل پا چکی دیو مالائی ہیئت و حیثیت کے پیش نظر فونٹین ہاؤس کے مکینوں سے لے کر بہرے، گونگے اور اندھوں تک کو اندازہ تھا کہ اگر کسی بھی بے سروپا مقدمے میں اسے عوام سے چھین کر محبوس کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے عشق میں پاگل کسی حد کو بھی چھو سکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے ایجنسیاں اور موجودہ سہمے ہوئے حکمران ممکنہ رد عمل سے نا بلد تھے؟ ہرگز نہیں۔ انہیں اس کا آپ اور مجھ سے زیادہ اندازہ تھا۔ کیا آپ بھول گئے ہیں 8 مئی کی پیشی کے لیے زمان پارک سے رخصت ہونے سے قبل عمران خان نے اپنی گرفتاری کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”کوئی بات نہیں۔ مجھے وارنٹ گرفتاری دکھا دیں اور جہاں چاہیں لے چلیں“۔ اس نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ مجھے گرفتار کریں تو سڑکوں پر نکل کر وہ کر دینا جو 9 مئی کو ہوا۔ کیا اسے گرفتار کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں گھس کر شیشے دروازے توڑنے اور گریبان سے دبوچ کر گھسیٹتے ہوئے بکتر بند گاڑی میں دھکیلنے کا کوئی تک تھا؟ یقیناً نہیں۔ تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ خطرناک کھیل کیوں کھیلا گیا؟ اس لیے کہ موجودہ نحیف و نزار اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کے خوف سے پریشان حال حکومت اور اسے عوام کی مرضی کے خلاف ملک پر مسلط کرنے والے طاقتور ادارے کے مٹھی بھر مستحقین مفاد وہی چاہتے تھے جو 9 مئی کے روز ہوا۔ کیوں؟ ہاں! اس لیے کہ لاٹھی گولی سلاخوں کا خوف پھیلا کر عمران خان اور عوام میں دوری پیدا کی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں اس میں محدود وقتی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں حکمران اور ان کے پشت پناہ ظلم و ستم اور بے لگام دست اندازی میں پی ٹی آئی کے خلاف اس حد تک گئے ہیں جس کی مثال ماسوا مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کے بنگالیوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے، ملک کی 75 سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ نہ ایوب خانی مارشل لاء اور نہ ہی یحییٰ خان، ضیا الحق اور مشرف کی غیر آئینی و غیر قانونی حکومتوں میں۔ وضاحت کردوں کہ ملکی سیاسی تاریخ میں جنرل ضیا الحق کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف پیپلز پارٹی کی عظیم الشان مزاحمت کی توہین ہو گی اگر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی مزاحمت سے اس کا موازنہ کروں۔ جس صبر و ثبات اور جرات و شان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جانثار مقتل کو گئے، جس قلندرانہ کیف و وجد اور حال و مستی میں وہ پھانسی کے تختے پر جلوہ افروز ہوئے اس کی مثال ڈھونڈھ کر لانا مشکل ہے۔ ہاں یہ سچ ہم سب کو نگلنا ہو گا، یہ سچ بولنا ہو گا، اس سچائی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہو گا کہ جنرل ضیا الحق کے دامن پر اگر عظیم قومی لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خون ناحق کے چھینٹے نہ ہوتے تو وہ آج کی وردی پوش مقتدرہ کے بالمقابل ہمیں بلند اخلاق ڈکٹیٹر محسوس ہوتا۔
پی ٹی آئی سے وابستگان کے گھروں میں نادر شاہی جتھوں کی طرح گھس کر توڑ پھوڑ لوٹ مار کے ساتھ خواتین خانہ کے دوپٹے کھینچے گئے۔ خوف پھیلانے کے لیے نابالغ بچوں اور اگر دادا ہاتھ چڑھا تو گھسیٹ کر لے گئے۔ میاں بیوی کو پکڑا تو میاں کو برہنہ کر دیا کہ اب ”اس“ کی باری ہے۔ بچنا ہے تو ابھی عمران خان کو برا بھلا کہتے ہوئے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کرو۔ جنرل ضیا الحق نے ہمارے ساتھ بالکل ایسا نہیں کرایا تھا نہ ہی اس وقت کی پولیس اور اعلیٰ افسران اس درجہ بے حس بے شرم اور بے حیا تھے۔ سیاسی مخالفین کے حوالے سے یہ نئی رسم ڈالی گئی ہے۔ (خدا نہ کرے) اب مستقبل کی یہی رسم سیاست ٹھہرے گی۔ بنو عباس نے اقتدار میں آ کر بنو امیہ کے ہر نامور شخص کی قبر کھدوا کر ہڈیوں اور گلی سڑی لاشوں سے انتقام لیا تھا۔ تاریخ سائنس ہے، بس اتنا ذہن نشین رہے۔
کیا فوج، پولیس، رینجرز اور سکیورٹی کے دیگر ذمہ دار اداروں کے کار پردرازوں کے پاس اس عجیب و غریب صورت حال کے لیے کوئی دلیل ہے کہ غم و غصہ میں مبتلا عوام کے چھوٹے چھوٹے جتھے حساس عسکری عمارات کی طرف رواں دواں ہیں اور راہ میں پولیس ہے نہ رینجرز نہ فوج، ”وچ مرزا یار پھرے“ کا عالم تھا۔ اجنبی چہرے جو فوٹیجز میں عوام کا رخ حساس تنصیبات کی طرف موڑ رہے ہیں وہ کہاں ہیں؟ ویسے تو جس کی پشت کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لی، اسے بھی ایجنسیوں نے ڈھونڈ نکالا، ان سے صرف نظر کی وجہ؟ ہم بتائے دیتے ہیں۔ سوچی سمجھی سکیم کے تحت وہ بھیجے گئے لوگ تھے۔ اگر اس کھیل کے اسکرپٹ رائٹرز کے علم میں نہیں تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ عامتہ الناس پی ٹی آئی کو راستے سے ہٹانے کی حکومتی اور خفیہ و ظاہری کرداروں کی کارستانیوں سے کماحقہ آگاہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں عمران خان اور اس کی پارٹی کو دیوار سے لگانے کی سازش شدت پکڑتی ہے عوام اس سے دگنی شدت سے اس کے ساتھ جڑتے چلے جا رہے ہیں۔
ملک اس وقت شدید سیاسی معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ سیاسی بحران کے پیدا کرنے میں بلاشبہ عمران خان کا حصہ بھی کم نہیں لیکن خدا لگتی یہ ہے کہ وہ ملک کا مقبول ترین لیڈر ہے۔ عوام اسی طرح اس کا دم بھرتے ہیں جس طرح باون برس قبل مشرقی پاکستان کے عوام شیخ مجیب الرحمن کا دم بھرتے تھے۔ مجیب کو سیاست اور اقتدار سے دور رکھنے کی چالوں اور سازشوں کے نتیجہ میں ملک ٹوٹ گیا تھا۔ آج بیروز گاری اور مہنگائی کے ہاتھوں ستر فیصد آبادی احساس محرومی اور غم و غصہ سے بھری پڑی ہے۔ 9 مئی کے بعد سے عوامی سطح پر دیکھی جانے والی وحشت اور خاموشی کو مستقل ہرگز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ 2002ء نہیں کہ ق لیگ قسم کا فارمولا چل جائے یا پی ٹی آئی کے چیئر مین کو جلاوطن کرنے کی بجائے جیل میں بند کر کے اور اس کے ساتھیوں کی دوڑیں لگا کر زرداری، فضل الرحمن، شہباز یا نواز شریف سے کام چلا لیا جائے۔ یہ بالکل چلنے کا نہیں۔ اور اب یہ بھی ناممکن ہے کہ جھرلو پھیر کر عمران خان کے امیدواروں کی فتح کو شکست میں بدلا جا سکے۔ یہ اس لیے ناممکن ہے کہ غیر مرئی قوتیں تیس فیصد تک دھاندلی پھیلا سکتی ہیں۔ اس سے آگے ان کے پر جلتے ہیں۔ یہ ملکی تاریخ کا اکلوتا الیکشن ہو گا (اگر ہوا تو) جس کا نتیجہ پولنگ اسٹیشنز پر جمع ووٹرز اپنا ووٹ ڈالنے سے پیشتر ہی نوشتۂ دیوار بنا دیں گے۔ چشم فلک بہت عجیب مناظر دیکھے گی۔ یہ پیش گوئی بھی ذہن نشین کر لیجیے گا کہ اگر اس کے باوجود انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی غلطی کا ارتکاب کیا گیا تو 1977ء کی انتخابی دھاندلی کے خلاف پی این اے کی تحریک کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ نتائج اتنے ہمہ جہت اور خوفناک بن کر سامنے آئیں گے کہ اگر نقشہ گری کروں تو محبی وجاہت مسعود کالم شامل اشاعت کرنے سے معذوری ظاہر کر دیں۔ دراڑیں وہاں تک مار کریں گی جہاں تک نہ ہی پہنچیں تو ہم سب کے لیے بہتر ہے۔ عوام واقعتاً ہاتھ میں پرچی آنے والے دن کی طرف دیکھ رہے ہیں جسے وہ یوم انتقام بنانے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ فیصلہ کن قوت ”صاف شفاف“ غیر جانبدار اور نان انجینئرڈ انتخابات کے انعقاد کی صورت نکالے۔ اسی میں ملک و قوم اور سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی بھلائی پنہاں ہے۔

