1445 محرم کی کربلا


ہم گزشتہ کئی سالوں سے محرم کا پہلا عشرہ کرنے کسی اور شہر کا رخ کرتے ہیں۔ اس بار ہماری خوش نصیبی کہ ہمیں یہ شرف ملا کہ ہم سنہ اکسٹھ ہجری میں حق اور باطل کو الگ کرتی ہوئی تا قیامت رہنے والی واضح تفریق کربلا کا پہلی بار ان ایام میں براہ راست مشاہدہ کر سکیں۔

بغداد پہنچے۔ کاظمین دو دن قیام کیا۔ امام موسی کاظم ع اور امام محمد تقی ع کے دربار میں حاضری دی۔ ملوکیت کے عدم تحفظ کے احساس نے آل محمد پر ہر دور میں قید و بند کی صعوبتیں عائد کی ہیں یا زہر سے اپنی ریشہ دوانیوں کو انجام تک پہنچایا ہے۔ یہ دونوں امام بنو عباس کے انہیں ظلم کا نشانہ بنے۔

یہیں پر ہم نے محرم کے اس چاند کو دیکھا جو چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود غم و حزن کا استعارہ ہے کہ شرافت۔ نفسی کا تقاضا ہے کہ ہر وہ شخص جس کسی کو امام حسین ع کی قربانیوں کا علم ہو چکا ہو، محرم آنے پر اس کا دل ملول ہو اور آنکھیں اشکبار ہو جائیں۔

دو دن کے قیام کے بعد جناب امیر ع کے شہر نجف اشرف کی راہ لی۔ کیا کہنا میرے مولا ع کا کہ جس کسی سے بھی ان کی نسبت ہو جائے وہ برگزیدہ ہو جاتا ہے۔ جب نجف ان کا مرقد بنا تو تمام شرف اور تمام وقار اس پر منتہج ہوا اور یوں وہ اشرف کہلایا جانے لگا۔

ایک خلقت جمع تھی جو مولائے کائنات کو ان کے بیٹے حسین کا پرسہ دینے آئے تھی۔ اے کاش کہ بقیع کی مسمار کردہ ایک بوسیدہ قبر پر اس غریب اور دکھیاری ماں سے بھی لوگ تعزیت کر سکیں جس نے چکیاں پیس پیس کر جنت کے شہزادوں کو پالا تھا۔

پانچ محرم کو کربلا پہنچے۔ کیفیت نا قابل۔ بیاں تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یزید کی فوج کا سپہ سالار حر اپنے ایک ہزار فوجیوں سمیت امام کو گھیر کر لایا تھا۔

اس سے قبل جب اس کی امام سے ملاقات رستے میں ہوئی تھی تو پیاس سے سرگرداں اس کے لشکر کو امام نے سیراب کیا تھا، یہاں تک کے اس کے گھوڑوں تک کے سامنے سے اس وقت تک پانی نہیں ہٹایا تھا جب تک وہ خود سر نہ ہٹا لیں۔ امام نے اس کے بعد جب آگے چلنے کا ارادہ کیا تو اس نے لجام فرس پر ہاتھ ڈال کر روکا تھا۔ امام نے عربوں کی روایت کے حساب سے اس سے کہا کہ ”اے حر تمھاری ماں تمھارے غم میں بیٹھے“ ۔

حر تھا تو یزید کا سپہ سالار لیکن اس کی ماں نے نبی کی بیٹی کی عظمت سے اس کو خوب روشناس کروایا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ ”اے حسین! اگر یہ جملہ عرب کا کوئی بھی دوسرا شخص بولتا تو میں اس کو پلٹ کر یہی جواب دیتا لیکن میں کیا کروں کہ آپ کی ماں سیدہ نساء العالمین ہیں۔ امام کا یہ سخت جملہ ہی بعد میں اس کے قلب کے منقلب ہونے کا سبب بنا اور روز عاشور ندامت میں ڈوبا یہ امام کی فوج میں شامل ہوا اور اپنے غلام اور بیٹے سمیت جان کا نذرانہ پیش کیا۔

ہر دور میں غم حسین منایا جاتا رہا ہے۔ زبان، ثقافت اور تہذیب نے اس کو مختلف پیرہن دیے مگر نکتہ ارتکاز ہمیشہ وہ عظیم قربانیوں کا سلسلہ رہا جو انسانی تاریخ میں فقیدالمثال ہے۔ برصغیر کی روایات کے برعکس عرب تہذیب میں اس کی منظر کشی کی جاتی ہے۔

لشکر یزید اور ابن زیاد کی نقارے بجاتی فوجوں کی امد کا سلسلہ نو محرم تک جاری رہا۔ جانے آل نبی کی عصمتوں اور بچوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جب مقتل کی روایات کی روشنی میں کم سے کم تیس ہزار کی فوج نو محرم تک طبل بجاتی حسین ابن علی ع کو گھیرے میں لے رہی تھی۔

ہم نے کربلا کی زیارت عام دنوں میں متعدد بار کی ہے۔ اربعین میں جو دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے، اس میں شریک ہونے کا شرف بھی ہم کو حاصل ہو چکا ہے لیکن بلاشبہ اس بار عجب بے چینی تھی۔ غضب کی بے قراری تھی۔ سات محرم آئی تو اس تصور کے ساتھ کہ آج سے حسین ع کے بچوں پر پانی بند کر دیا گیا ہے۔ اس بار کربلا میں موسم بھی سخت تھا۔ دھوپ کڑی تھی اور ہوٹل سے حرم تک کی محض پانچ منٹ کی مسافت پیاس کی شدت سے زبان کو سکھا دیتی تھی۔

ہائے خانوادہ ختم الرسل ص کے بچوں کی پیاس! آج بھی اس جگہ کا نشان ہے جہاں امام نے خیمے نصب کیے تھے۔ وہاں سے گزرے تو پیاس سے بلکتے ہوئے بچوں کی العطش العطش کی صدائیں کانوں میں گرز مارتی رہیں۔ خیمہ گاہ سے کچھ ہی دور وہ مقام ہے جس کو تلہ زینبیہ کہا جاتا ہے۔ یہیں سے ایک بہن نے اس گلے پر جو بوسہ گاہ۔ نبی تھا، کند خنجر چلتے دیکھا تھا۔

جیسے جیسے عاشور کا دن قریب آ رہا تھا دل بے کل ہوا جا رہا تھا۔ امام کی فوج کی بھی منظر کشی جاری تھی۔ جہاں پچھتر برس کے صحابی رسول ص حبیب ابن مظاہر کی شبیہ تھی وہاں تیرہ سالہ امام حسن کے بیٹے قاسم بھی گھوڑے پر سوار تھے۔ امام کے اشاروں پر جان قربان کرنے کے لئے تیار عباس علمدار بھی تھے۔ ان کے اور امام حسین کے حرم سے قالین ہٹائے جا چکے تھے۔ اور پھر عاشور کی وہ صبح نمودار ہوئی جس میں امام نے اپنے مؤذن کو روک کر شبیہ پیمبر اپنے اٹھارہ سالہ کڑیل جواں علی اکبر کو بڑھ کر اس اذان دینے کے لئے آگے بڑھایا تھا جس میں ان کے نانا کی نبوت کی گواہی آج تک دی جاتی ہے۔

آج قربانیوں کا دن تھا۔ سن اکسٹھ ہجری میں جو جو بھی آج یہاں موجود تھا اس کو خوب علم تھا کہ کم سے کم تقاضا جان کا ہے۔ ابھی پچھلی ہی رات تو امام نے اپنے انصار کو بلا کر چراغ بجھایا تھا کہ جس کو جانا ہے وہ چلا جائے۔ مگر غضب کی معرفت تھی ان نفوس میں کہ جو تڑپ کر بول اٹھے تھے کہ ہمیں ستر مرتبہ مارا جائے اور پھر ( جلایا ) زندہ کیا جائے ہم ہر مرتبہ آپ کا ساتھ دیں گے یا ابا عبداللہ! انہوں نے بتایا تھا کہ کبھی کبھی چراغ بجھتے ہیں تو روشنی پھوٹتی ہے۔

امام نے صبح عاشور یزیدی فوج کو مخاطب کر کے خطبہ دیا جس کے جواب میں ان سے پھر بیعت فاسق کا مطالبہ کیا گیا۔ حر ابن یزید ریاحی جو امام کو کربلا گھیر کر لائے تھے ان سے رہا نہ گیا اور انہوں نے ابن زیاد سے پوچھا کہ کیا واقعی جنگ ہو گی۔ جواب اثبات میں پا کر ان کی حالت غیر ہو گئی۔ فوج کے ایک سردار نے کہا کہ ”اے حر اگر مجھ سے کوئی پوچھتا کہ کوفہ کا بہادر ترین شخص کون ہے تو میں تیرا نام لیتا۔ تجھے کیا ہو رہا ہے“ ۔ انہوں نے کہا کہ "میں اپنے آپ کو جنت و دوزخ کے درمیان پا رہا ہوں۔ ”یہ کہہ کر وہ ہتھیار نیچے کر کے کندھوں کو جھکا کر امام کے لشکر کی جانب چل دیے۔ سر نیہوڑا کر کانپتی آواز میں کہا کہ کیا مجھ جیسے کو معافی مل سکتی ہے۔ جانتے تھے کہ بلکتے بچوں کے سوکھے گلوں سے اب بمشکل نکلتی ہوئی العطش کی صداؤں کے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔ مگر اہلبیت تو کریم ابن کریم ہیں۔ امام نے کہا کہ“ حر تم اس دنیا میں بھی آزاد ہو اور اس دنیا میں بھی۔ ”

ایک ایک کر کے انصار سوئے مقتل گئے۔ ظہر کا وقت آیا تو امام نے نماز کی مہلت مانگی جس پر کہا گیا کہ حسین تمھاری نماز کہاں قبول ہو گی۔ اللہ اللہ جو گھرانا معدن رسالت و نبوت ہے، ان کی نماز کے لئے یہ کہا گیا۔ لشکر یزید میں نمازی بھی تھے، حافظ قرآن بھی اور صحابیت کا دعوٰی کرنے والے بھی۔ امام نے کربلا بپا کر کے پوری انسانیت کو رہتی دنیا تک حق و باطل کو پرکھنے کی کسوٹی دے دی۔

دو صحابی امام کے آگے کھڑے ہو گئے اور ان تیروں کو اپنے سینوں پر روکتے رہے جو امام پر پھینکے گئے تھے۔
انصار کے بعد ، گود کے پالوں کی باری آئی۔ سب سے پہلے اٹھارہ سال کے جواں بیٹے علی اکبر آگے بڑھے۔

ہمیں اس سے یاد آیا کہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ ایران کے تفسیر میزان کے مصنف آغا طباطبائی سے تین لوگ ملنے گئے۔ محرم کے ایام تھے۔ آغا نے پوچھا کہ وہ حضرات کیا کرتے ہیں۔ ایک نے کہا کہ ہم مصائب امام حسین کا بیان کرتے ہیں۔ آغا نے کہا کہ بیان کرو۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا۔ ایک مقام پر پہنچ کر اس نے کہا کہ جب کسی کے جواں سال بیٹے کا انتقال ہو جاتا ہے تو لوگ تعزیت کرتے ہیں، اسے تسلی دیتے ہیں، اس کی دلجوئی کرتے ہیں لیکن جب علی اکبر سینے پر برچھی کھا چکے اور بوڑھا باپ جواں کی میت اٹھا چکا تو بقول شاعر کہ ”بعد از پسر، قلب پدر، آماجگاہ تیر شد“ ۔ آغا تڑپ اٹھے۔ اس مصرعے کو بار بار پڑھوایا۔ وہ صاحب تو

مصائب پڑھ کر اتر گئے۔ لیکن آغا گریہ کناں رہے اور مصرعہ دہراتے رہے کہ ”بعد از پسر، قلب پدر، آماجگاہ تیر شد“۔ اور پھر کہا کہ اے کاش یہ شاعر مجھے یہ ایک مصرعہ دے دے اور میری پوری تفسیر میزان لے لے۔ شاگردوں نے کہا آغا اس مصرعہ کے خالق ایرج مرزا ہیں جو مرثیہ کے شاعر نہیں ہیں، سیکولر ہیں۔ آغا نہ مانے اور بس سر جھکائے روتے رہے۔

انصار گئے، احباب گئے، بھائی گئے، بھانجے گئے، بھتیجے گئے۔ کمسن بچے امام کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے مقتل کا رخ کرتے رہے اور امام ان کی لاشوں کو ایک ایک کر کے خیمہ گاہ میں لاتے گئے۔ یہاں تک کے نبی کا نواسہ دشت کربلا میں تنہا رہ گیا۔ آواز بلند کی ”ہل من ناصر ینصرنا“ ۔ کوئی ہے جو ہماری مدد کرے۔ دشت کربلا میں خاموشی چھا گئی۔ گہوارے سے چھ مہینے کے بچے کے رونے کی صدا بلند ہوئی۔ امام اس بچے علی اصغر کو لے کر آئے اور کہا کہ تمھاری دشمنی تو مجھ سے ہیں نا، اس بے شیر کو دو گھونٹ پانی پلا دو۔ ابن زیاد نے عرب کے مشہور تیر انداز حرملہ کو حکم دیا ”اقطع کلام الحسین“ ۔ اس چھ مہینے کے بچے کی پیاس بجھانے کے لئے وہ سہ شعبہ تیر استعمال کیا گیا جو گھوڑوں کو مارنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ جانے علی اصغر کی ماں پر کیا گزری ہو گی جب امام اس کا لاشہ ماں کو سپرد کرنے گئے ہوں گے۔

آپ عاشور کے روز کربلا جائیں تو آپ وہ منظر دیکھیں گے جو آپ کی آنکھ نے کہیں نہیں دیکھا ہو گا اور وہ آوازیں سنیں گے جو آپ کے کانوں نے کہیں نہیں سنی ہوں گی۔ لوگ تلواریں اٹھائے، زنجیریں ہاتھوں میں تھامے دیوانہ وار اپنے آپ کو خون میں

نہلا دیتے ہیں کہ زخموں سے چور چور نواسہ رسول کے بدن پر پہنچنے والی ایذا کا تھوڑا سا اندازہ کر سکیں۔ ہر جانب ایک صدا آ رہی ہوتی ہے ”یا حسین“ یا حسین ”۔ گویا کہ چودہ صدیوں قبل اس استغاثہ پر لبیک کہہ رہے ہوں جب امام نے کہا تھا کہ“ ہل من ناصر ینصرنا ”۔ مولا آپ کے غلام حاضر ہیں۔ بقول میر تکلم کے

تیرے بیٹے، تیری بیٹی، تیرے گھر بھر پہ نثار
میرا بیٹا، میری بیٹی میرا گھر بار حسین

امام خیمہ میں آئے اور خواتین سے رخصت آخر لی۔ ہائے کس قدر آسان ہے یہ جملہ لکھنا۔ کلیجہ پھٹ جائے گر اس کی جامعیت کو انسان محسوس کر سکے۔ ایک بھائی اپنی بہنوں سے قتل ہونے کی اجازت چاہ رہا ہے۔ اپنی اس تین سالہ بیٹی کو وداع کرنے آیا ہے جس نے اپنے چچاؤں اور بھائیوں کو خون میں غلطاں دیکھا ہے۔

امام مقتل میں آئے، ایک بار پھر دعوت حق دے کر حجت تمام کی اور وہ جنگ شروع کی کہ لوگوں کو خیبر و خندق و صفین یاد آ گئی۔ شیر خدا کے بیٹے پر عرب جنگی روایات کے برعکس مل کر حملہ کیا گیا۔ نیزے مارے گئے، تیر مارے گئے، بھالوں کا نشانہ بنایا گیا، گرز سے ایذا پہنچائی گئی۔ جس کے پاس کچھ نہ تھا، اس نے سنگباری کرنا شروع کر دی۔ اتنے تیر پیوست تھے جسم مطہر میں کہ جب گھوڑے سے گرے تو کہا گیا کہ ”سلام ہو اس جسم پر کہ جب وہ گھوڑے سے گرا تو نہ تو وہ زین پر تھا نہ زمین پر“ ۔

امام کا سر نوک سناں پر بلند کر دیا گیا۔ یزیدی فوج میں شادیانے بجائے جانے لگے۔ ابن زیاد کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ ”اے امیر قوم عرب میں دستور ہے کہ جس کسی کو ذلیل کرنا ہوتا ہے، اس کی لاش پر گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس کی اجازت دو“ ۔ اس نے اجازت دی۔ ابھی گھوڑوں کی نعل بندی جاری تھی کہ حر ابن یزید کا قبیلہ آگے بڑھا اور کہا کہ حر قتل ہو چکے، یہ ہم برداشت نہیں کریں گے کہ ہمارے قبیلے کے شخص کی لاش پر گھوڑے دوڑائیں جائیں۔ اس نے کہا کہ لاشہ اٹھا لے جاؤ۔ قبیلہ اسد آگے بڑھا کہ حبیب ابن مظاہر ہمارے قبیلے لے تھے۔ ہم بھی اجازت نہیں دیں گے۔ کہا گیا کہ یہ بھی اٹھا لے جاؤ۔ یوں ایک ایک کر کہ شہدائے کربلا کے لاشے ان کے قبیلے والے اٹھا لے گئے یہاں تک کہ کربلا کے دشت میں محض ایک بے گور و کفن حسین کا لاشہ رہ گیا۔

سورہ شوری کی تئیسویں آیت ہے کہ ”قل لا اسالکم علیہ اجراً الا المودة فی القربىٰ“ ۔ بھلا یوں بھی مودت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یوں بھی اجر رسالت ادا کیا جاتا ہے۔ انتہا تھی نا شہادت حسین ع! اس کے بعد تو ظلم کو قرار آ جانا چاہیے تھا۔ مگر اس پر بس نہ کیا گیا۔ لاش پر گھوڑے دوڑائے جاتے کے بعد خیام حسینی کا رخ کیا گیا۔ خیام جلائے گئے۔ امام کی تین سالہ بیٹی سکینہ کو طمانچے لگائے گئے۔ گوشوارے یوں چھینے گئے کہ کان لہو لہو ہو گئے۔ مقدسات عصمت کی چادریں لوٹ لی گئی۔ ان کے بازوؤں میں رسن باندھیں گئیں اور بے کجاوہ اونٹوں پر نبی زادیوں کو کوفہ اور شام کے بازاروں میں پھرایا گیا۔

امام جب گھوڑے سے زمین۔ کربلا پر آئے تھے تو انہوں نے اپنی پیشانی کربلا کی جلتی ہوئی خاک پر رکھی تھی، سجدہ میں گویا ہوئے تھے، ”رضا بقضاء و تسلیما لامرہ۔ صبرا علی بلائک۔ لا معبود سواک۔“ اور پھر دعا کی تھی کہ ”الہی قد وفیت عہدی، اوفو بعہدک“ ”پروردگار میں نے اپنے وعدے کو پورا کیا، اب تو اپنے وعدے کو پورا کر“ ۔

آج محرم آتے ہی دنیا کے ہر گوشے میں فرش عزا بچھا دیا جاتا ہے۔ قریہ بہ قریہ کالے کپڑے پہن کر سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ پیاسوں کے نام پر سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔ کھانا کھلایا جاتا ہے۔ یہ سب محض امرا کا وتیرہ نہیں ہے۔ غریب سے غریب شخص بھی پورا سال پیسہ اکٹھا کرتا ہے کہ حسین کے نام پر وہ بھی خرچ کرنے کی سعادت حاصل کر سکے۔ امام کی دعا قبول ہوئی۔ بیشک خدا بہترین وعدہ ایفا کرنے والا ہے۔

تیرہ محرم کو قبیلہ بنی اسد کی خواتین ہزاروں کی تعداد میں خاک سر پر ڈالے اپنے سروں کو پیٹتے حرم امام حسین سے گزرتی ہوئی اس تاریخی واقعہ کی یاد دلاتی ہیں کہ جب تیرہ کو باقی ماندہ یزیدی فوج نے کوچ کیا تو اس قبیلہ کی خواتین نے شہداء کے بے سر لاشوں کی تدفین کا مرحلہ سر انجام دیا تھا۔

آپ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، کسی بھی مذہب کے پیروکار ہوں یا پھر دین کو محض افیون سمجھتے ہوں، ایک بار فقط ایک بار واقعہ

کربلا پڑھ لیجیے اور عاشور میں یہاں آ کر اس گزری ہوئی قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجیے۔ یقین جانیے آپ بھی حسینی ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS