”نظریۂ سفر“ اور ناصر عباس نیر کی تنقید
عصر حاضر کے سب سے اہم نقاد اور دانش ور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تحریروں میں ایک بہتر، انسان دوست معاشرے کے قیام کی خواہش جھلکتی ہے۔ انھوں نے پہلی بار اردو میں جدید اور ما بعد جدید تنقیدی نظریات کو مربوط اور منظم انداز میں پیش کیا۔ ما بعد نو آبادیاتی تنقیدی تصورات کو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اپنے معاشرے اور ادب کے حوالے سے نئے مباحث کو جنم دیا۔ ان کی تنقید کا مطالعہ قاری کو بصیرت کی اس کم از کم سطح تک ضرور لے جاتا ہے جہاں پر وہ اپنے وجود کا شعور حاصل کر سکتا ہے۔
ان تاریخی اور ثقافتی عوامل سے آگاہ ہو سکتا ہے جو اس کی ذہنی دنیا پر اثر انداز ہوتے اور اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی بدولت ہی اردو ادب کے قارئین نئے مباحث سے آشنا ہوئے : استعمار زدہ معاشرے کو جبر اور طاقت کی کون سی صورتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ واحد معنی کا اجارہ کیسے قائم ہوتا ہے اور اس سے نجات کی کیا شکل ہو سکتی ہے؟ نو آبادیاتی اور ما بعد نو آبادیاتی معاشروں میں ڈسکورس کی طاقت کیسے عمل آرا ہوتی ہے۔
ہماری قومی اور مذہبی شناختوں کے مضمرات کیا ہیں؟ اور کیا یہ شناختیں حقیقی ہیں یا مسلط کردہ؟ مرکز اور حاشیے کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟ مرکز اپنی اتھارٹی کو قائم رکھنے اور حاشیے کو اس کے مقام پر رکھنے کے لیے کیا کیا تدبیریں کرتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے دیگر تصورات ان کے جدید علوم کے مرتکز مطالعے اور گہرے غور و فکر کے نتیجے میں ہم تک پہنچے ہیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی کتب، اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے مضامین اور عصری مسائل کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تحریریں، مختلف علمی اور ادبی اجتماعات میں ان کی گفت گو ایک بہتر معاشرے کے قیام کی خواہش کو تعبیر دینے کی کوشش ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے ڈاکٹر ناصر عباس نیر ایک بڑے تعلیمی ادارے سے شائع ہونے والے تحقیقی جرنل ”بنیاد“ کے مدیر ہیں۔ ہر کام کو اس کے اعلیٰ ترین معیار تک لے جانے کا مزاج یہاں بھی کار فرما ہوا۔ محض دو تین سالوں میں ہی اس رسالے کی ادارت کے ذریعے انھوں نے تحقیق کے نئے اور بلند تر معیارات متعین کیے۔ تحقیقی مقالات کے لیے موضوعاتی ترجیحات کے ساتھ ساتھ ایک اہم اور بڑی تبدیلی رسالے میں ایک فکر انگریز اداریے کا اضافہ ہے۔
سال 2022ء کے اداریے میں دانش ور اور دانش وری کی روایت پر مقالہ تحریر کیا جب کہ اس سال (2023ء) انھوں نے ”بنیاد“ ادارتی صفحات پر ایڈورڈ سعید کا ”نظریۂ سفر“ متعارف کروا کر اردو تنقید میں ایک نئی بحث کی بنیاد رکھی ہے۔ ناصر صاحب نے مضمون میں ایڈورڈ سعید کے الفاظ کا حوالہ کچھ یوں دیا ہے : ”آدمیوں اور تنقیدی دبستانوں کی مانند خیالات اور نظریات بھی سفر کرتے ہیں۔ ایک آدمی سے دوسرے آدمی، ایک صورت حال سے دوسری صورت حال، ایک عہد سے دوسرے عہد کی جانب اور ایک ثقافت سے دوسری ثقافت کی طرف۔
“ اگر دیکھا جائے تو انسانی تہذیب کا ارتقا اسی سفر کے نتیجے میں ممکن ہوا ایک طرف نظریات اور تصورات کا سفر تہذیبی اور علمی ترقی، ایجادات اور دریافتوں کو ممکن بناتا ہے تو دوسری طرف اس سفر کی بدولت نظریات اور تصورات نئی ثقافتوں، نئے زمان و مکان، نئی ذہانت اور نئی صورت حال میں پہنچ کر نئی توانائی حاصل کرتے ہیں اور انسانی تہذیب کو اگلے مرحلے میں داخل کرنے کے لیے خود کو تیار پاتے ہیں۔
مدیر محترم نے اپنے اداریے میں اس نظریے کے پس منظر اور اس کے ارتقائی سفر کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تنقید کا غائر مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ کسی نظریے یا تھیوری کو کسی مرعوبیت کی بنا پر اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی اس بنیاد پر رد کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں یہ دونوں رویے اپنی انتہائی شکل میں موجود ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر جب کسی نظریے یا تصور کی روشنی میں اپنی ثقافتی اور سماجی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر وہ تاریخی، سماجی حالات اور علمیاتی فضا بھی رہتی ہے جس میں اس نظریے کا جنم ہوا اور اس نظریے کی حدود اور دائرہ کار بھی۔
انھوں نے نظریۂ سفر متعارف کرواتے ہوئے بھی یہی رویہ اختیار کیا۔ اس نظریے کی تمام تفصیلات اور جزئیات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ان مقامات کی نشان دہی بھی کی ہے جہاں سعید سے دانستہ یا نا دانستہ چوک ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”سعید نظریات کے سفر کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے بار بار تاریخی صورت حال کا ذکر کرتا ہے، لیکن کہیں استعماری صورت حال کا ذکر نہیں کرتا۔ سعید ہمیں یہ اشارہً بھی نہیں بتاتا کہ جب انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں جدید مغربی ادبی نظریات، سفر کرتے استعمار زدہ مشرق و افریقہ و لاطینی امریکا پہنچے تو انھیں کس طور برتا، سمجھا گیا۔“
یہ اعتراض بجا کہ کسی نظریے کی پیدائش، سفر اور منقلب ہونے میں جتنا کردار تاریخی و سماجی صورت حال کا ہے اتنا ہی استعماری صورت حال کا بھی ہے۔ استعمار زدہ خطوں کی دانش اکثر استعماری بیانیوں اور مہا بیانیوں کی حقیقت کو پانے میں ناکام ہی رہی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے سر سید، حالی، نذیر احمد اور شبلی کے مطالعات کو پڑھیں تو اعتراض سمجھ میں آتا ہے کہ یہ نو آبادیاتی دانش ور روشن خیالی کے تصور اور جدیدیت کے بیانیوں کا کتنا اور کس طرح کا فہم رکھتے ہیں اور انھیں اختیار کرتے ہوئے کہاں تحفیف کرتے ہیں اور کہاں وہ کسی پر ”بے بصر انحصار کرتے ہیں“ ۔
اور یہ کہ ان ادیبوں کے ہاں منتقل ہو کر جدید تصورات پر کیا گزری دوسری طرف انھوں نے ان تصورات کا ادراک جس صورت میں کیا اس کے نتیجے میں اردو ادب پر اور ہم پر کیا بیتی۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا اسی موضوع پر گزشتہ دنوں ایک انگریزی مضمون بہ عنوان The Journey of Ideas، شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے سعید کے اس نقطۂ نظر کہ: ”نظریہ یا تصور کوئی ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔ یا تو منہاجیاتی دریافت ہو سکتا ہے یا پھر منہاجیاتی پھندا“ پر سوال اٹھایا ہے کہ ”نظریہ ہمیشہ دو دھاری تلوار نہیں ہوتا“ ۔ سفر کرتے ہوئے آپ تک پہنچنے والے نظریے کو Either/or کی صورت حال میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ”یہ ایک ایسے دانش ورانہ وقفے کو جنم دے سکتا ہے جہاں پر غور و فکر، چھان بین، بحث مباحثہ، علمی اور منظم سر گرمی شروع ہو سکے اور اسی سر گرمی کے نتیجے میں ایک نئی اور مربوط، منطقی تھیوری تشکیل پا سکتی ہے۔“
ناصر عباس نیر نے The Journey of Ideas میں نظریۂ سفر کے حوالے سے بحث کو آگے بڑھایا ہے۔ اداریے میں اشارتاً کی گئی باتوں کی صراحت کی ہے اور کچھ نئے نکات کا اضافہ کیا ہے۔ وہ یورپی نشاۃ ثانیہ، روشن خیالی اور رومانویت کے یورپ سے مشرق کی طرف سفر بارے لکھتے ہیں : ذیل میں ان کے انگریزی مضمون کے ایک اقتباس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔
”1857ء سے یورپی نظریات، تھیوریز اور ادبی معیار اردو اور برصغیر کی دیگر زبانوں کی طرف بلا روک ٹوک سفر کرتے رہے ہیں۔ عام طور پر ہماری طرف آنے والے یورپی نظریات اور تھیوریز ان تاریخی حالات کی پیدا وار تھے جنھوں نے نشاۃ ثانیہ، روشن خیالی اور رومانویت وغیرہ کو جنم دیا۔ مزید براں یہ نظریات وکٹوریائی عہد کی اخلاقیات سے مملو تھے۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ان جدید یورپی تصورات کا سفر سرمایہ داریت کے پیدا کردہ نو آبادیاتی نظام کی سرنگ سے ممکن ہوا۔“
اب اس سرنگ کی تاریکی نے ”ان یورپی نظریات، تصورات کے کون کون سے گوشوں کو استعمار زدوں کی آنکھ سے اوجھل رکھا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ ناصر صاحب کا نکتہ یہ ہے کہ جارج لوکاش کی تجیم کی تھیوری ان پر پوری طرح لاگو ہوئی انھیں ویسے ہی ایک قدر اور افادے کا حامل سمجھا گیا جیسا کہ سرمایہ داریت ہر شے کو سمجھتی ہے۔ ان نظریات کو کاٹ چھانٹ اور تحفیف کے بعد وہیں تک محدود کر دیا گیا جہاں نو آبادیاتی مقاصد کی تکمیل ہو سکے۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تنقید کو بھی نظریۂ سفر کے تناظر میں سمجھا سکتا ہے۔ انھوں نے شبلی نعمانی کی تنقید کا جائزہ ”دو جذبیت“ (Ambivalence) کے تصور کی روشنی میں لیا ہے۔ دو جذبیت نفسیات کی اصطلاح ہے۔ جو انسانی رویے میں موجود غیر مستقل مزاجی، کسی چیز کی بہ یک وقت خواہش اور اس سے بے نیازی، حصول کی تمنا اور ترک کی آرزو، بہ یک وقت محبت اور نفرت کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ متضاد سمتوں میں جھولتی شخصیت علم نفسیات کی رو سے دو جذبی شخصیت ہے۔ ماہرین نفسیات نے شیزو فرینیا کے مریضوں میں جن علامتوں کی نشان دہی کی ہے ان میں ایک دو جذبیت بھی ہے۔
دو جذبیت کی اصطلاح کو سوشیالوجی، پولٹیکل سائنس اور ثقافتی مطالعات میں استعمال کیا گیا۔ ما بعد نو آبادیاتی مفکر ہومی بھابھا (Homi K Bhabha) نے اپنی کتاب The Location of Culture میں دو جذبیت کو استعمار کار اور استعمار زدہ کے رشتے کی وضاحت کے لیے استعمال کیا۔ ہومی بھابھا کے نزدیک نو آباد کار اور نو آبادیاتی باشندوں کے درمیان حاکم و محکوم اور غالب و مغلوب کا سادہ اور راست تعلق نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ان دونوں کے رابطے سے ان کے درمیان ایک ایسی سپیس پیدا ہوتی ہے جو دوغلے پن (Hybridity) کو راہ دیتی ہے۔ نو آبادیاتی باشندے استعمار کار کی ثقافت کو قبول یا رد کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔ ہومی بھابھا کے نزدیک یہ دو جذبیت غالب ثقافت کے استبداد کو روک کر مخلوط شناختوں اور نئے ثقافتی منطقوں کو جنم دیتی ہے۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اسی تصور کو شبلی کے تنقیدی خیالات کے مطالعے میں استعمال کیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس تصور کو بغیر سوچے سمجھے کسی غالب بیانیے کے اثرات کے تحت قبول نہیں کیا بلکہ اس کے ہر پہلو کا مختلف زاویوں سے گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا۔ اس کی حدود اور دائرہ کار سے واقفیت حاصل کی اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ دو جذبیت کسی ایک حالت کا نام نہیں بلکہ یہ تین حالتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ 1۔ مرتکز، 2۔ منتشر اور متذبذب۔
ان کے خیال میں شبلی کے تنقیدی خیالات دو جذبیت کی منتشر اور متذبذب حالت کو پیش کرتے ہیں۔ نیز یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ دو جذبیت کی کار فرمائی شبلی کی ابتدائی تحریروں میں ہی ملتی ہے بعد میں وہ اس تخلیقی قوت سے عاری ہو جاتے ہیں۔ ناصر صاحب کے ہاں آ کر دو جذبیت کا تصور منہاجیاتی دریافت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے منٹو کے افسانوں کا مطالعہ ”حاشیے پر لکھا متن“ کے عنوان سے کیا ہے۔ مابعد نو آبادیاتی مطالعات میں فرانز فینون ، ایڈورڈ سعید ، گائتری چکر ورتی کے ہاں حاشیے کا تصور ملتا ہے۔ فرانز فینوں حاشیائی وجود کی نفسیاتی، سماجی اور سیاسی جہتوں کا انکشاف کرتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید مغرب اور مشرق کو مرکز اور حاشیے کے فریم میں رکھتے ہیں۔ جہاں مشرق یعنی حاشیہ، مغرب یعنی مرکز کی دی گئی شناخت کو جینے پر مجبور ہے۔
(Gayatri Chakravorty) (Edward Said) (Frantz Fanon)
مرکز، حاشیے پر اپنی مرضی کی شناخت مسلط کرتا ہے اور ہومی بھابھا کے مطابق حاشیہ، مرکز کی مسلط کردہ شناختوں کو من و عن قبول نہیں کرتا۔ بلکہ استعمار کار اور استعمار زدہ کے رابطے سے دوغلا پن جنم لیتا ہے جو مرکز کے استبداد سے نجات دیتا ہے۔ جب کہ گائتری چکرورتی Can the Subaltern Speak میں کسی حاشیائی وجود کے احساسات اور خیالات کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی کو ناممکن قرار دیتی ہیں۔ کہ کسی غالب طبقے کی جانب سے ان کے لیے آواز اٹھانا دراصل مرکز کے ڈسکورس کو قوت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے لیے مرکز کے ڈسکورس کی رد تشکیل کرنے کی ضرورت ہے۔
اردو میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے پہلی بار حاشیے اور مرکز کے تعلق پر بحث کی ہے۔ وہ اس تصور کی روشنی میں منٹو کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو منٹو کے افسانوں کی نئی معنویت سامنے آتی ہے وہ منٹو کے تجزیے سے حاصل ہونے والی بصیرت کو استعمار کار اور استعمار زدہ کے تعلق کو سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اس سلسلے میں براہ راست ژاک دریدا کے خیالات سے استفادہ کیا ہے۔ وہ دریدا کا قول درج کرتے ہیں ”حاشیہ بہ یک وقت خاتمے اور آغاز، وحدت اور تقسیم، ذات اور غیر یہاں اور وہاں ہے۔“ (Jacques Derrida)
وہ دریدا کی بیان کردہ حاشیے کی ان خصوصیات کی روشنی میں منٹو کے حاشیائی کرداروں کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں :
”حاشیے کے روایتی تصور میں اس پر متن کی حاجات پوری کرتے چلے جانے کا مسلسل دباؤ ہوتا ہے۔ مگر نئی فکر میں حاشیہ بھی متن پر ایک قسم کا دباؤ رکھتا ہے۔ حاشیے کی موجودگی میں متن کے وہ معانی نہیں ہوتے جو حاشیے کی غیر موجودگی میں ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حاشیہ متن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔“
ہائبرڈ اور مخلوط ثقافت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب مرکز کے مقابل حاشیہ ہوتا ہے۔ ایک کی محکومی اور دوسرے کی حاکمیت کے درمیان پیدا ہونے والی گنجائش کو بھابھا نے آزادی بخش قرار دیا ہے یہاں بھی حاشیے کی وجہ سے متن کی استبدادیت متاثر ہوئی۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے نزدیک بھی حاشیے کی مداخلت مرکز کی طاقت کو تہ و بالا کرتی ہے۔ انھوں نے مرکز کو غیر مرئی اور حاشیے کو مرئی قرار دیا ہے وہ لکھتے ہیں :
”حاشیائی وجود مرئی اور حسی سادہ پن کا حامل ہوتا ہے۔ مرکز کی تفہیم کے لیے اسے اپنے اس حسی سادہ پن کو ترک کرنا ہوتا ہے اور اگر وہ اس پر تیار نہیں ہوتا اور وہ مرکز کی تفہیم بھی عدم تصنع کی حامل فکر کے تحت کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی تفہیم مرکز کی نظر میں مسخ شدہ، نا مکمل مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ بلاشبہ نتیجہ المیہ ہے مگر یہی وہ صورت ہے جس کے ذریعے حاشیہ مرکز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کا حامل ہے۔“
ان سطور میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے منٹو کے افسانے ”نیا قانون“ کے تجزیے میں حاشیے کے مرکز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو منکشف کیا ہے۔ منگو کوچوان اگرچہ مرکز کے نئے قانون کی مسخ شدہ تفہیم رکھتا ہے مگر ”منگو نے اپنی اس مسخ شدہ تفہیم کے ذریعے یہ باور کرایا کہ مرکز کا مفہوم متعین کرنے کا حق ان لوگوں کو ہے جن پر مرکز عمل آرا ہوتا ہے۔“
حاشیے کی اپنے حق سے متعلق اس آگاہی کا انکشاف دیگر ما بعد نو آبادیاتی مفکرین کے ہاں نہیں ملتا۔ ناصر عباس نیر نے مرکز اور حاشیے کے تعلق کی نئی جہتوں کو روشن کیا ہے۔
اگرچہ نظریہ سفر کے تناظر میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے تنقیدی نظریات کا جائزہ ایک مبسوط مقالے کا تقاضا کرتا ہے مگر اس مضمون کا دائرہ کار اس کی اجازت نہیں دیتا۔
ناصر صاحب کے دونوں مضامین کے مطالعے کے دوران کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں ( اگر یہ سوال ہوں تو ورنہ بہت ممکن ہے کہ یہ میری علمی کم مائیگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا الجھاؤ ہو) ۔ جیسا کہ ایک نظریہ یا تھیوری سفر کرتے ہوئے ایک ہی زمانے کے مختلف مفکرین کے ہاں پہنچتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے بے خبر (اگر جانتے ہوں تب بھی) اپنے اپنے انداز میں اس نظریے کو اختیار کرتے ہیں اور اس نظریے کی بنیاد پر کیے جانے والے ان کے مطالعات کے نتائج میں مماثلت کے امکانات زیادہ ہیں یا اختلاف کے اور اگر مماثلت ہے تو اس کی کیا علمی اور ثقافتی وجوہات ہو سکتی ہیں اور اگر مماثلت نہیں ہے تو اس کا سبب کیا ہے۔ کیا نظریے کے سفر کا طریقہ کار ہر مصنف کے ہاں مختلف ہو گا یا اس میں بھی مماثلت کے امکانات ہیں۔ ہو سکتا ہے اس موضوع پر ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی مزید تحریریں سامنے آئیں تو میری ان الجھنوں کا سلجھاؤ ہو سکے یا انھی مضامین کی دوبارہ قرات معنی مزید روشن کر دے۔


