دو افیئرز اور دو شادیاں کرنے والے اداکار شمی کپور جنھوں نے انڈین سنیما کو رومانس کرنا سکھایا

پردیپ کمار - بی بی سی ہندی، نئی دہلی


سنہ 1957 انڈین فلم کی تاریخ کے سنہری برسوں میں سے ایک ہے، یقین نہیں آتا تو اس سال کی فلمیں دیکھ لیں۔

اسی سال فلم ’مدر انڈیا‘ آئی جو آج تک بلاک بسٹر فلم مانی جاتی ہے۔ اسی سال دلیپ کمار کی فلم نیا دور‘ کا جادو دیکھا گیا اور گرو دت کی کلاسک فلم ’پیاسا‘ بھی اسی سال ریلیز ہوئی۔

انڈین سنیما کو بھی اس سال تین سدا بہار ہٹ فلموں کے درمیان ایک نیا ستارہ ملا۔ شمی کپور کی چار سال کی جدوجہد اور 19 فلموں کی ناکامی اس سال اپنے اختتام کو پہنچی۔ شمی کپور نے عامر خان کے چچا ناصر حسین کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’تم سا نہیں دیکھا‘ سے تہلکہ مچا دیا۔

یہ تہلکہ کیسے اور کیوں ہوا، اس سے پہلے یہ جاننا دلچسپ ہے کہ شمی کپور اس فلم سے پہلے ناکامی کے بھنور میں تھے اور یہاں تک کہ انھوں نے فلموں کو خیرباد کہنے اور انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں چائے کے باغات کا انتظام سنبھالنے کا ذہن بنا لیا تھا۔

اور اس کی وجوہات بھی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ برگد کے زیر سایہ کوئی دوسرا درخت پروان نہیں چڑھتا۔ شمی کپور کو تین بڑے برگد کے درختوں کا سامنا کرنا پڑا، خاندان کے اندر بھی اور خاندان کے باہر بھی۔

خاندان کے اندر خود پرتھوی راج کپور جیسی شخصیت موجود تھی، جو ان کے والد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اداکار بھی تھے۔ اگرچہ ان کا پہلا لگاؤ تھیٹر تھا۔ پرتھوی راج کپور کے بیٹے راج کپور کے لیے اپنے والد کے سامنے خود کو ثابت کرنا ایک چیلنج تھا لیکن اپنی فنکاری اور تخلیقی صلاحیتوں سے راج کپور نے بہت چھوٹی عمر میں ہی خود کو ثابت کروا لیا تھا۔

شمی کپور کو 1951 میں فلم ’جیون جیوتی‘ ملی۔ وہ اپنے کریئر کا آغاز کر رہے تھے، اسی سال راج کپور کی فلم ’آوارہ‘ نے انھیں انڈیا اور دنیا میں کامیابی کے عروج پر پہنچا دیا۔ شمی کپور کی پہلی فلم 1953 میں ریلیز ہوئی اور اگلے چار سال تک شمی کپور ناکامی کا ہی منھ دیکھتے رہے۔ بہر حال اسی ناکامی کے دوران سنہ 1955 میں انھوں نے سٹار اداکارہ گیتا بالی سے شادی کر لی جو عمر اور کامیابی دونوں میں سینیئر تھیں۔

شمی کپور نے نسرین مُنّی کبیر کو برطانوی چینل 4 کی ’مووی محل‘ سیریز ’شمی کپور، آلویز اِن ٹائم‘ میں اُس دور کے بارے میں بتایا: ’لوگ میرا موازنہ راج جی سے کرنے لگے۔ سٹیج پر تو کام چل گیا لیکن فلموں میں یہ مشکل تھا۔ میری مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب میں نے گیتا بالی سے شادی کر لی۔ میں نہ صرف پرتھوی راج کپور کا بیٹا اور راج کپور کا بھائی تھا، اب گیتا بالی کا شوہر بھی تھا۔‘

’جگہ بنانا آسان نہیں تھا‘

یہ وہ دور تھا جب انڈین فلمی دنیا میں راج کپور، دلیپ کمار اور دیو آنند کی فلموں کا چرچا تھا یا یوں کہیے کہ اُن تینوں کو ذہن میں رکھ کر فلمیں اور ان کے کردار لکھے جاتے تھے۔ اسی لیے شمی کپور کو کوئی اچھا کردار نہیں مل رہا تھا۔

شمی کپور کو ان دنوں ’تم سا نہیں دیکھا‘ میں لینے کے لیے ناصر حسین تیار نہیں تھے۔ ویسے بھی یہ فلم پہلے دیو آنند کو آفر ہوئی تھی۔ ان کے پاس وقت نہیں تھا۔ اس کے بعد ناصر حسین اس میں سنیل دت کو لینا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس بھی شوٹنگ کی تاریخیں نہیں تھیں۔

’بالی وڈ ٹاپ 20 سپر سٹارز‘ میں شمی کپور پر لکھے گئے آرٹیکل ’دی سٹار لائیک نو ادر‘ میں نسرین مُنی کبیر نے لکھا ہے کہ سشی دھر مکھرجی نے ناصر حسین سے کہا کہ ’آپ شمی کپور کو آزمائیں، میں اس میں امکانات دیکھ رہا ہوں۔‘

اس فلم میں کام کرتے ہوئے شمی کپور نے فلم انڈسٹری کو الوداع کہنے کا ذہن بنا لیا تھا۔ شمی کپور نے ان پر بننے والی دستاویزی فلم میں کہا ہے کہ میں فلم انڈسٹری کو چھوڑ کر کچھ اور کرنے کا سوچنے لگا۔ ایک دن گیتا بالی نے مجھ سے کہا کہ شمی کپور تم ایک دن بڑے سٹار بن جاؤ گے۔ میری بیوی کی بات سچ ثابت ہوئی۔

’تم سا نہیں دیکھا‘ نے آخر وہ کیا جو شمی کپور کے کریئر میں پہلے نہیں ہو سکا۔ درحقیقت اس فلم کے ساتھ ہی شمی کپور کے منفرد انداز کا وہ دور شروع ہوا، جس نے انھیں اگلی دہائی تک کامیابی کی چوٹی پر رکھا۔

دراصل ‘تم سا نہیں دیکھا’ کی ریلیز سے قبل انڈین سنیما کے ہیرو عموماً گاتے ہوئے نظر آتے تھے نہ کہ ڈانس کرتے۔ شمی کپور نے کھڑے ہو کر یا چلتے ہوئے ہاتھ پاؤں ہلانے کے اپنے انداز سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

’تم سا نہیں دیکھا‘ میں پہلی بار ایسا ہیرو منظر عام پر آیا، جسے حقیقت میں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ جس کے بازو اور ٹانگیں بجلی کی طرح چلتی دکھائی دے رہی تھیں، جس کی چال میں ستاروں کی گردش تھی، جو رقص کر رہا تھا، جس کے چہرے پر طرح طرح کے تاثرات ظاہر ہو رہے تھے، جس کی ڈائیلاگ ڈیلیوری بھی نکھری ہوئی تھی۔ انداز میں ایک تال میل تھا۔ اس کے علاوہ بالوں کے انداز سے لے کر کپڑوں کے انداز تک سب پر شمی کپور نے بہت محنت کی تھی۔

اس فلم کے حوالے سے ممبئی کے ماہر نفسیات اددین پٹیل نے ‘کپورز: دی فرسٹ فیملی آف انڈین سنیما’ کے مصنف مدھو جین کو بتایا: ’وہ پہلے اداکار تھے جنھوں نے ہندوستانی سنیما سکرین پر نوجوان دلوں کی تڑپ کا کھل کر اظہار کیا۔’

‘تم سا نہیں دیکھا’ کے گیت ‘جوانیاں یہ مست مست بن پیے، جلاتی جا رہی ہیں راہ میں دیے’ نے نوجوان نسل کی تڑپ کو ایک نئی جہت دی اور فلم نے باکس آفس پر کمال کر دیا اور شمی کپور یہاں سے سٹار بن گئے۔

اسی کتاب میں پروڈیوسر ڈائریکٹر اور بعد میں شمی کپور کے دوست منموہن دیسائی کہتے ہیں: ‘اگر شمی کو سکرین پر دیکھا جائے تو ہمیشہ رونے والے کرداروں دیوداس پارو کو بھی چھیڑنے یا چہچہانے کی گنجائش ملے گی۔’

ان جیسا سٹار کوئی دوسرا نہیں

نسرین مُنّی کبیر اپنے مضمون ‘دی سٹار لائیک نو ادر’ میں لکھتی ہیں کہ ’شمی کپور سے پہلے ہندوستانی ہیرو سکرین پر مردوں کی طرح نظر آتے تھے۔ وہ جو یا تو خاندان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے یا رسومات کے پابند تھے۔ شمی کپور نے یہ حد توڑ دی تھی۔ انھیں سکرین پر دیکھنا کسی نوجوان یا لڑکے کو دیکھنا تھا۔ انھوں نے یہ فرق ایک فلم سے پیدا کر دیا۔’

اس فلم کی کامیابی کے بعد ان کے گھر کے باہر فلم بینوں کی قطار لگ گئی۔ شمی کپور کی سوانح عمری ’شمی کپور: دی گیم چینجر‘ میں رؤف احمد لکھتے ہیں: ’تم سا نہیں دیکھا کی کامیابی کا فائدہ اٹھانے کے لیے انھیں سائن کرنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگ گئی، لیکن گیتا بالی نے انھیں سمجھداری سے فلمیں سائن کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے اس کے لیے ایک آسان طریقہ بھی بتایا کہ ایک لاکھ روپے سے کم کی کسی بھی فلم کو ہاں نہ کہیں۔‘

ان دنوں ایک لاکھ روپے کی کیا اہمیت تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ راج کپور نے اپنے والد کو آوارہ کے لیے 50 ہزار روپے دیے جبکہ کے آصف نے پرتھوی راج کپور کو مغل اعظم کے لیے 75 ہزار روپے دیے تھے۔

تاہم شمی کپور نے ایک لاکھ روپے کی گانٹھ اس طرح سے باندھی کہ جب ان کے اپنے دوست بپی سونی نے انھیں 90 ہزار روپے کی پیشکش کی تو انھوں نے فلم کرنے سے انکار کر دیا۔ پروڈیوسر شمی کپور کو ایک لاکھ روپے دینے کو بھی تیار تھے۔

اس کے باوجود شمی کپور نے اگلے چھ ماہ تک کوئی فلم سائن نہیں کی۔ ناصر حسین کی ہدایتکاری میں بنی دوسری فلم ’دل دے کے دیکھو‘ نے ان کے سٹارڈم کو مضبوط کرنے کا کام کیا۔ سنہ 1959 کی اس فلم نے ثابت کر دیا کہ تم سا نہیں دیکھا کی کامیابی یونہی نہیں تھی۔ اس فلم نے ان کے اس سویگ پر صاد کیا۔

یہ سویگ کیسا تھا اس کے بارے میں رشی کپور نے اپنی سوانح عمری ’کُھلم کھلا‘ میں لکھا کہ ’شمی چچا ہمارے پسندیدہ تھے۔ پاپا صرف پاپا جیسے تھے، ہم انھیں سٹار کی طرح نہیں دیکھ سکتے تھے۔ لیکن شمی چچا کو دیکھنا ایک سٹار کو دیکھنے جیسا تھا۔ ان کا بہت فیشن ایبل سٹائل تھا۔ اگر مجھے صحیح طور پر یاد ہے تو ایک موقع پر ان کے پاس دو پالتو شیر تھے، جب وہ بڑے ہوئے تو انھیں چڑیا گھر کے حوالے کرنا پڑا۔ وہ ہمارے ساتھ والے بنگلے میں رہتے تھے۔ اور ان کے گھر جانا ایک دعوت کی طرح تھا۔ وہ ایک بڑے پروجیکٹر پر ہم سب کو فلمیں دکھاتے تھے۔‘

رشی کپور نے شمی کپور کے انداز پر لکھا ہے کہ وہ شکار پر جاتے تھے اور ہم بھی کئی بار ان کے ساتھ جاتے تھے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں بیئر کی بوتل لیے جیپ چلاتے تھے۔ شمی کپور کھانے پینے کے بے حد شوقین تھے اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد انھیں موٹاپے نے گھیر لیا۔ رشی کپور یاد کرتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں شمی چچا نے مرکزی کردار ادا کرنا چھوڑ دیا۔ ایسا کرنے والے وہ اپنی نوعیت کے واحد سٹار تھے۔

لیکن اس سے پہلے وہ فلموں کے اشرافیہ اور اشرافیہ کے ہیرو کی دنیا بدل چکے تھے۔ مدھو جین نے ان کے خاندان کے افراد کے حوالے سے بتایا کہ شمی کپور امریکی اداکار ارل فلن سے بہت متاثر تھے اور ان کی خود نوشت ’مائی وکڈ وکڈ تھنگس‘ سے متاثر تھے۔ اسی لیے انھوں نے سرخیاں حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

شمی کپور

دو دو شادی، دو دو محبت کا معاملہ

انھوں نے اپنی فلموں کی کامیابی سے پہلے ہی اپنی ذاتی زندگی میں طوفان برپا کر رکھا تھا۔ نوتن اور ان کے پیار کی وجہ سے نوتن کی ماں شوبھنا سامرتھ نے نوتن کو یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجے دیا تھا۔ شمی کپور ہمیشہ نوتن کو اپنی بچپن کی گرل فرینڈ کہتے تھے۔ اس کے بعد ان کا دل مدھوبالا پر بھی آ گیا اور وہ اس سے شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگے۔ ان دنوں مدھوبالا کو دلیپ کمار سے پیار تھا اور شمی کپور، کپور خاندان کے صرف شہزادے تھے۔

ان کی شادی گیتا بالی سے پل بھر میں ہوئی، وہ بھی مندر میں اور گھر والوں کو اس کی تیاری کا موقع نہیں ملا۔ اس وقت تک کپور خاندان میں خواتین کو فلموں میں کام کرنے کی آزادی نہیں تھی، اس لیے راج کپور اس شادی کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں تھے۔

راج کپور کی شادی ایک طے شدہ شادی تھی۔ رؤف احمد لکھتے ہیں: ‘راج کپور شاید سب سے زیادہ قدامت پسند کپور تھے۔ میں آر کے کاٹیج میں ان کے ساتھ تھا جب مجھے گھر سے فون آیا کہ انھیں جلد آنا ہے کیونکہ شمی کپور دلہن کے ساتھ آرہے ہیں۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ وہ مصروف ہیں اور نہیں آ سکیں گے۔ لیکن وہ اپنا ارادہ بدل کر پارٹی میں چلے گئے، شاید انھوں نے سوچا ہو گا کہ جب شمی کو والدین کا آشیرواد حاصل ہے تو پھر اس کو ایشو کیوں بنایا جائے۔’

یہ بھی پڑھیے

راج کپور: فلمی دنیا کا حاکم کپور خاندان، جس کے فن کا آغاز لائل پور کی گلیوں سے ہوا

کشمیر سے بالی وڈ کا رومانس، جس نے کئی فلموں اور گیتوں کو امر کر دیا

بالی وڈ ڈائری: کپور کا خاندان جو ہندی سنیما کی تاریخ کا حصہ ہے اور رہے گا

تاہم اس کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ شمی کپور اور گیتا بالی کی شادی کے بعد ہی راج کپور اپنے خاندان کے ساتھ دوسرے گھر میں رہنے چلے گئے تھے۔ لیکن مدھو جین نے کپور خاندان پر جو کتاب لکھی ہے اس میں لکھا ہے کہ پرتھوی راج کپور نے یہ اصول بنایا تھا کہ ان کے بیٹے باپ بننے کے بعد اپنے اپنے گھر جائیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شمی کپور کے عروج کے دور میں راج کپور نے ان کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا۔ لیکن شمی کپور کی پہلی بیوی کی موت کے بعد وہ راج کپور کے خاندان کے ساتھ رہے اور ان کی دوسری شادی تک راج کپور کی اہلیہ نے ان کے بچوں کی دیکھ بھال کی اور ان کی دوسری شادی کی۔ شمی کپور نے اپنے کریئر کی دوسری اننگز میں راج کپور کے ساتھ کام کیا۔

تاہم شمی کپور کی زندگی میں 1961 میں آنے والی ’جنگلی‘ بھی سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ لندن سے تعلیم حاصل کر کے واپس آنے والی سائرہ بانو کی یہ پہلی فلم تھی۔

اس کے بعد شمی کپور نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا۔ انھوں نے 1975 میں بی آر فلمز کے تحت بنی فلم ضمیر میں سائرہ بانو کے والد کا کردار ادا کیا۔ اس دوران وہ 1961 سے 1971 تک کامیاب فلمیں دیتے رہے جن میں ‘پروفیسر’، ‘بلف ماسٹر’، ‘کشمیر کی کلی’، ‘راجکمار’، ‘جانور’، ‘تیسری منزل’، ‘این ایوننگ ان پیرس’، ‘برہمچاری’، ‘تم سے اچھا کون ہے’ اور ‘انداز’ جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔

نئی اداکاراؤں کے ساتھ کیمسٹری

شمی کپور ان فلموں میں اپنی اداکاراؤں سے جس طرح پیار کرتے تھے اس کے بارے میں رنبیر کپور نے شمی کپور پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں کہا: ’میرے والد رشی کپور کہا کرتے تھے کہ اگر آپ رومانس سیکھنا چاہتے ہیں تو شمی کپور سے سیکھیں۔ دراصل جب وہ اپنی اداکاراؤں کے سامنے کھڑے ہوتے تھے تو ان کی آنکھوں سے لگتا تھا کہ وہ ان سے محبت کر رہے ہیں۔‘

اس دستاویزی فلم میں عامر خان نے کہا ہے کہ شمی چچا نے ہم سب کو رومانس کرنا سکھایا ہے۔ شمی کپور کیسے پردے پر رومانس کی تصویر کشی کرتے تھے، جانور فلم کا گیت ‘لال چھڑی میدان کھڑی’ والا دیکھیں، ابتدائی چند لمحوں کے لیے معلوم ہو گا کہ وہ دراصل لال چھڑی سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم بعد میں پتہ چلتا ہے کہ لال چھڑی کے علاوہ اس ترتیب میں ہیروئن راج شری بھی سرخ لباس میں ہیں۔‘

انڈین فلمی پردے پر یہ شمی کپور ہی تھے، جن کے سامنے ہیروئنز بھی کھلے عام ‘او میرے سونا رے سونا، دے دونگی جان خفا مت ہونا رے’ گانے سے نہیں ہچکچاتی تھیں۔

شمی کپور اپنے کریئر کے دوران نئی اداکاراؤں کے ساتھ کام کرنے کے لیے مشہور تھے۔ تم سا نہیں دیکھا کی اداکارہ امیتا راہی ہو، یا مجرم کی راگنی، یا دل دے دیکھو کی آشا پاریکھ۔ کشمیر کی کلی میں شرمیلا ٹیگور اور پروفیسر میں کلپنا، ان سب نے اپنے کریئر کا آغاز شمی کپور کے ساتھ کیا۔

تاہم کامیابی کے درمیان 1965 کا سال بھی آیا جب ان کی اہلیہ گیتا بالی چیچک کے مرض کی میں انتقال کر گئیں۔ شمی کپور کے لیے یہ کسی بڑے صدمے سے کم نہیں تھا۔ وہ ناصر حسین اور وجے آنند کی فلم ‘تیسری منزل’ کے گانے ‘تم نے مجھے دیکھا’ کی شوٹنگ کر رہے تھے جب انھیں اپنی بیوی کی بیماری کی خبر ملی۔

گیتا بالی کی موت صرف تین ہفتوں کے اندر ہو گئی اور اس وقت اس بیماری کا خوف اس قدر تھا کہ گھر والوں کے علاوہ شمی کپور تک کوئی نہیں پہنچا۔ یہاں تک کہ پرتھوی راج کپور کی دوستی کی وجہ سے صرف ایک ڈاکٹر گیتا بالی کو دیکھنے گھر آیا۔

شمی کپور نے کئی مواقع پر کہا ہے کہ جب وہ کامیابی کے آسمان پر تھے تو بھگوان نے ان پر بریک لگائی۔ گیتا بالی کی موت کے بعد ممتاز کے ساتھ ان کا افیئر بھی سرخیوں میں رہا۔ برسوں بعد ممتاز نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ شمی ان سے شادی کرنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ راج کپور نے انھیں فلم میرا نام جوکر میں موقع نہیں دیا کیونکہ وہ گھر کی خواتین کے فلموں میں کام کرنے کے حق میں نہیں تھے۔

ممتاز اپنے کرئیر کو ترک نہیں کرنا چاہتی تھیں کیونکہ انھوں نے اسے بڑی محنت سے بنایا تھا اور دوسری طرف شمی کپور کو اپنے دو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بیوی کی ضرورت تھی۔

دوسری شادی کی کہانی

اس کے بعد بینا رمانی کے ساتھ بھی شمی کپور کا افیئر چلا۔ بینا رمانی اس وقت لندن میں زیر تعلیم تھیں اور شمی کپور نے انھیں ایک سپورٹس کار تحفے میں دی تھی۔ لیکن یہ افیئر زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا کیونکہ بینا رمانی جوان تھیں۔ ایسے میں راج کپور کی بیوی کرشنا کپور نے بھاو نگر کے راج خاندان کی نیلا دیوی کے ساتھ شمی کپور کی شادی کی بات کی۔

بھاو نگر کا راج خاندان راج کپور کا دوستانہ خاندان تھا اور تھیٹر کے مالک ہونے کی وجہ سے شمی کپور بھی اس خاندان سے ملنے جایا کرتے تھے۔ لیکن جب شادی کی بات آئی تو شمی کپور نے خود نیلا دیوی سے بات کی۔ نیلا دیوی نے ایک انٹرویو میں یاد کہا: ‘اس نے رات گئے فون کیا، یہ لینڈ لائنز کا وقت تھا۔ میرے گھر والوں نے شمی کپور کو بتایا کہ رات ہو گئی ہے، لیکن انھوں نے پھر فون کیا۔ اپنے بارے میں سب کچھ بتایا، افیئر کے بارے میں بھی بتایا۔ پھر پوچھا کہ تم اپنے گھر والوں سے بات کر کے بتاؤ اور ناشتہ کرنے آؤ ہمیشہ کے لیے میرے گھر ٹھہر جاؤ۔ یہ سلسلہ صبح پانچ سے چھ بجے تک چلتا رہا۔ ہم ناشتہ کرنے ان کے گھر گئے اور وہاں گھومنے لگے۔

1969 میں دوسری شادی کے بعد شمی کپور نے اپنے کرئیر پر کچھ توجہ دینے کی کوشش کرنے سے پہلے فلم ‘راجکمار’ کی شوٹنگ کے دوران ایک عجیب حادثہ پیش آیا۔ شمی کپور کو ہاتھی پر بیٹھ کر گیت، ‘یہاں کے ہم راجکمار’ گانا تھا۔ ان کے پاؤں ہاتھی کے گلے میں زنجیر سے بندھے ہوئے تھے تاکہ وہ گر نہ جائیں۔ اور چلتے چلتے اچانک ہاتھی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا۔ زنجیروں میں جکڑے جانے کی وجہ سے شمی کپور کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹ گئی تاہم گانے کے دوران ان کے چہرے پر کوئی شکن نہیں تھی۔

شمی کپور جو پہلے ہی چھلانگ لگاتے ہوئے کئی بار زخمی ہو چکے تھے، ان کے لیے یہ مشکل وقت تھا اور انھیں کئی مہینوں ہسپتال میں گزارنا پڑا۔ اس دوران وہ موٹے ہونے لگے۔ اگر پاؤں پہلے جیسے نہ ہوں تو ناچنا ممکن نہیں تھا اس لیے 1971 میں انھوں نے خود پر بریک لگائی۔ ‘انداز’ ان کی آخری سولو ہٹ فلم تھی۔

شمی کپور کے لیے یہ وقفہ کسی نعمت سے کم نہیں لگا۔ کیونکہ ان کے والدین دونوں کینسر کا سامنا کر رہے تھے۔ میرا نام جوکر کے فلاپ ہونے کے بعد راج کپور شدید مالی مشکلات کا شکار تھے اور راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب کہ ششی کپور چار پانچ شفٹوں میں کام کر رہے تھے، دونوں کے پاس وقت نہیں تھا۔ ایسے میں شمی کپور نے اپنے والدین کی مسلسل خدمت کی۔ پرتھوی راج کپور کی موت کے صرف 16 دن بعد ہی ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔

شمی کپور نے اس کے بعد اپنی دوسری اننگز کی شروعات کی۔ انھوں نے ‘پریم روگ’، ‘پرورش’، ‘ہیرو’ اور ‘ودھاتا’ جیسی فلموں میں بھی شاندار کام کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شمی کپور نے بطور ہیرو اپنے کامیاب دنوں میں بی آر چوپڑا کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا۔ رؤف احمد نے اس کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا ہے جو شمی کپور نے ان سے شیئر کیا تھا۔

رؤف احمد لکھتے ہیں: ‘بی آر چوپڑا انھیں گمراہ میں لینا چاہتے تھے۔ اس فلم کی کہانی کے مطابق شمی کپور کی بیوی مالا سنہا کو سنیل دت سے پیار ہو جاتا ہے۔ کہانی سننے کے بعد شمی کپور نے بی آر چوپڑا سے کہا تھا کہ تمھیں کیا ہو گیا ہے، جس کا مجھ جیسا شوہر ہو گا، کیا وہ کسی اور سے پیار کرے گا۔ بی آر چوپڑا کے الفاظ ان کے دل پر لگ گئi۔’

حالانکہ شمی کپور نے کام صرف بی آر چوپڑا کے ساتھ نہیں کیا بلکہ انھیں ناصر حسین کے ساتھ بھی ایسا ہی تجربہ ہوا جس نے ان کے کیریئر کو ایک نئی سمت دی۔ رؤف احمد نے لکھا ہے کہ ’دل دے دیکھو‘ کی کامیابی کے بعد ناصر حسین نے اپنی پروڈکشن کمپنی بنائی اور ’جب پیار کسی سے ہوتا ہے‘ پر کام شروع کیا تو اس فلم کے لیے آشا پاریکھ کو لیا۔ شمی کپور خود انھیں شنکر جے کشن کے پاس موسیقی کے لیے لے گئے۔

ایسے میں ایک دن ناصر حسین نے شمی کپور کو فون کیا اور پوچھا کہ آشا پاریکھ اور شنکر جئے کشن میرے ساتھ ہیں، آپ میرے ساتھ ہیں یا نہیں؟

یہ سوال سن کر شمی کپور غصے میں آ گئے۔ وہ خود کو اس فلم میں شامل سمجھ رہے تھے لیکن ناصر حسین کی جانب سے فلم کی پیشکش کا طریقہ انھیں پسند نہیں آیا۔ انھوں نے کہا نہیں میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں۔ نہ ہی ناصر نے دوبارہ کوشش کی اور نہ ہی شمی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ناصر نے دیوآنند کو اس فلم کے لیے سائن کیا۔ تاہم، بعد میں دونوں 1965 میں تیسری منزل کے لیے دوبارہ اکٹھے ہوئے۔ جب دیوآنند نے اس فلم کو سائن کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔

بعد میں شمی کپور نے روحانیت کی راہ بھی اختیار کی اور اتراکھنڈ میں ایک مذہبی استاد کے ساتھ طویل عرصہ گزارا، لیکن ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی 1988 میں انٹرنیٹ کی آمد سے آئی۔ وہ ہندوستان میں ایپل کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پہلے شخص تھے۔

لیکن اس وقت تک وہ ایک سنگین بیماری کی زد میں آ چکے تھے۔ اپنے رقص، اچھل کود، جھومتے ہوئے مناظر سے انڈین سنیما کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے والے اداکار نے اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال وہیل چیئر پر گزارے۔ ہفتے میں تین دن ڈائیلاسز کے لیے بریچ کینڈی ہسپتال جانا پڑتا تھا۔ لیکن ان میں جینے کا حوصلہ ہمیشہ قائم رہا۔ اس دوران وہ کام بھی کرتے رہے۔ اپنی موت سے کچھ دن پہلے انھیں امتیاز علی کی فلم ‘راک سٹار’ میں رنبیر کپور کو گرو منتر دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

شمی کپور کو شراب اور سگریٹ کے علاوہ تیز گاڑی چلانے کا بہت شوق تھا۔ نیلا دیوی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ شمی اپنی بیماری کے دوران اکثر کہا کرتے تھے کہ جب آپ گاڑی نہیں چلا سکتے تو جینے کا کیا مطلب ہے۔ شمی کپور کی وفات 14 اگست 2011 کو ہوئی۔

شمی کپور اپنے کریئر میں ڈانسنگ سٹار، ریبل ایکٹر، انڈین سنیما کے ایلوس پریسلے، یاہو سٹار اور دی گیم چینجر جیسے عرفی ناموں سے جانے جاتے تھے۔ اگرچہ شمی کپور کو بطور اداکار زیادہ عزت نہیں ملی۔ انھیں پہلی بار 1963 میں فلم فیئر ایوارڈ میں نامزد کیا گیا تھا، لیکن انھیں یہ اعزاز 1968 میں برہمچاری کے لیے ملا۔

انھوں نے ودھاتا میں معاون اداکار کے طور پر اپنا دوسرا فلم فیئر ایوارڈ جیتا تھا۔ ان کی اداکاری کو سنجیدہ اداکار کے طور پر نہیں لیا گیا، حالانکہ ‘پگلا کہیں کا’ اور ‘برہمچاری’ میں ان کے کردار سنجیدگی سے بھرپور تھے۔ انھیں ہمیشہ ایک لاؤڈ اداکار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

اپنی سوانح عمری کے علاوہ رشی کپور نے کئی انٹرویوز میں اعتراف کیا ہے کہ شمی کپور بھی دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے مستحق تھے، جو انھیں نہیں ملا۔ لیکن جیسا کہ شمی کپور کی فلم میں ایک نغمہ کی طرح ‘تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے، سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے‘ سینیما کے شائقین انھیں کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32516 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments