جڑانوالہ کے مسیحی اور کراچی تا بہاولنگر کے احمدی


جڑانوالہ میں مسیحی برادری کے خلاف ظلم کاجو بازار گرم کیا گیا وہ اس ملک میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والا نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی (خاکم بدہن) آخری۔ اس ملک میں باقی رہ جانے والے چند باشعور اور باضمیر لوگ اس بربریت پر مسیحی برادری سے شرمندہ بھی ہیں اور ان کے لئے دکھی بھی۔

جڑانوالہ کی مسیحی برادری ایک لحاظ سے خوش قسمت بھی ٹھہری کہ میڈیا میں تصویریں آئیں، شور مچا، سوشل میڈیا نے آواز اٹھائی، وزیراعظم نے سخت ایکشن لینے کا اعلان کیا، اسلامی نظریاتی کونسل نے مذمت کی، سابق وزیراعظم نے سانحہ قرار دیا، صدر مملکت کا دل دکھا، چیف آف آرمی سٹاف نے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا، دفتر خارجہ کی ترجمان نے واقعے میں ملوث افراد کو معاف نہ کرنے کا اعلان کیا، پولیس حرکت میں آئی، رینجرز تعینات ہوئے اور تادم تحریر جڑانوالہ میں ایندھن مہیا کرنے والے اور آگ لگانے والے سو سے زیادہ افراد (وقتی طور پر ہی سہی) سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

دوسری طرف ایک اور جماعت جو بہ زبان آئین اور بزور اسمبلی 1974 میں اقلیت قرار دی گئی، اس کی پچھلے چند ماہ میں 14 سے زیادہ عبادت گاہوں، کراچی اور میر پور خاص میں تین، تین، سانگھڑ، عمرکوٹ، سرگودھا، وزیرِ آباد، گجرات، جہلم، بہاولنگر اور وہاڑی میں ایک ایک عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے، ان کے منارے گرائے جا چکے ہیں، قبروں کو نقصان اور زندوں پر مقدمے بنائے گئے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر ان کے گھروں میں گھس کر بکرے قابو کیے گئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے نہ میڈیا میں (الا ماشا اللہ) کوئی آواز اٹھی، نہ کسی صدر، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف، سپیکر، دفترخارجہ کو تکلیف ہوئی، نہ کسی عالم نے ”اسلام میں مخالف فرقے یا مذہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں“ جیسا روایتی بیان دینے کی ضرورت محسوس کی۔ نہ کسی کالم نگار کو دو لائنیں لکھنے کی توفیق ملی نہ کوئی اینکر، سوائے ایک دو کے، اس سانحے پر تبصرہ ہی کر سکا۔

کہنے کو تو توہین مذہب کا قانون ہر مذہب کا احترام، ہر مقدس کتاب کی حفاظت، ہر اقلیت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ کہنے کو تو ہمارے علما کے مطابق اسلام میں ایسے کسی ظلم کی گنجائش نہیں۔ کہنے کو تو 11 اگست کی مشہور زمانہ تقریر کے مطابق بانی پاکستان نے ہر مذہب اور فرقے کو بطور پاکستانی شہری اپنی اپنی عبادت گاہ میں آزادی کی نوید سنائی تھی۔ کہنے کو تو پاکستان کی عدالت عالیہ نے پچھلے سال ہی چاردیواری کے اندر نہ جھانکنے اور ہر قسم کی مذہبی رسومات کے تحفظ کا فیصلہ سنایا تھا۔ لیکن ہمیں نہ قائد کی پروا ہے نہ کسی عدالت عالیہ کی۔ نہ ہم آئین کے پابند ہیں نہ اسلام کی تعلیمات کے۔ نہ ہمیں اسوہ حسنہ یاد رہتا ہے نہ کوئی حدیث۔ ہمارے اپنے قوانین، اپنی سرحدیں، اپنی عدالتیں، اپنی سزائیں، اپنا ڈنڈا۔

ہاں ہم اس بات پر آزردہ ضرور ہیں کہ بھارت اپنی اقلیت کو حقوق نہیں دے رہا، کینیڈا کی ایک مسجد کی دیوار پر گالیاں لکھ دی گئی ہیں، امریکہ میں مقدس کتاب کو جلایا گیا ہے، بھارت قربانی کرنے سے روک رہا ہے، سوئٹزر لینڈ مسجدوں کے منارے ختم کرنے کی بات کرتا ہے، فرانس کا صدر اقلیتوں کے حق میں نہیں بولتا، اسرائیل بہانہ بنا کر مسلمانوں پر چڑھ دوڑتا ہے، کشمیری کٹر ہندووں کے ہاتھوں نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ اور ہاں ہم نے یوکے میں شریعت نافذ کرانی ہے اس طرح چار شادیوں کی اجازت مل جائے گی، نکاح، طلاق مولوی طے کرے گا اور عورت کی حیثیت تین بولوں سے طے کی جا سکے گی۔

مسیحی بھائیوں کو دربدر کرنے، ان کے چرچ جلانے پر 128 کے قریب لوگوں کی قید کی خبر تو آ گئی لیکن اب انتظار کیجئے کہ ان اسیروں کے حق میں مظاہرے کرنے، وکیلوں کے ان کا منہ چومنے، عدالتوں پر دباؤ ڈالنے، انہیں باعزت بری کروا کے ان کے گلوں میں ہار ڈالنے کی خبریں کب آتی ہیں؟

Facebook Comments HS

2 thoughts on “جڑانوالہ کے مسیحی اور کراچی تا بہاولنگر کے احمدی

  • 18/08/2023 at 5:32 شام
    Permalink

    احمدی اور عیسائیوں میں ایک واضح فرق یہ ھے کہ عیسائی ایک الگ الہامی مذہب کے پیروکار ھیں جبکہ احمدی اسلام کے اندر نئی نبوت کے دعویدار ہیں اور اسی دعوے کی بنیاد پر ان کو
    پاکستان میں آئینی لحاظ سے شعار اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ھے اور آئین پاکستان پر عملدرآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ھے جسے آپ احمدیوں کے ساتھ ظلم شمار کرتے ہیں ۔

    • 18/08/2023 at 10:51 شام
      Permalink

      ظفر صاحب شعائر کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ پانچوں نمازیں زرتشتی مذاہب سے آئی ہیں۔ منارے ہر مذہب کے لوگ بناتے ہیں۔قربانی ہندومت میں بھی ہے۔ پھراسلامی شعائر چہ معنی۔۔۔پھر جو مردوں اور قبروں سے ہورہا وہ کون سے شعائر استعمال کرتے ہیں۔

Comments are closed.