قتل مقاتلے کے واقعات میں اضافہ
پچھلے کچھ عرصے سے ہم اخبارات میں دیکھ رہے ہیں کہ قتل مقاتلے سے متعلق خبروں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو گا جب ہماری نظروں سے قتل مقاتلے کی خبریں نہیں گزرتی ہوں گی۔ ان واقعات کے اسباب سے قطع نظر ان واقعات کا ایک اور تشویشناک پہلو خونی رشتوں کا ان واقعات میں ملوث ہونا ہے۔ پختون معاشرے میں جائیداد اور مال و اسباب کی خاطر چچا، چچازاد، ماموں، ماموں زاد اور بعض واقعات میں ناجائز تعلقات کے شبے اور الزامات میں بہنوں، بیویوں اور بھابیوں کے قتل کے واقعات تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل، ناخلف اولاد کے ہاتھوں باپ حتیٰ کہ ماں جیسی ہستی کا قتل، باپ کے ہاتھوں لخت جگر کی ہلاکت جیسے دلخراش واقعات آج کل جس تواتر سے وقوع پذیر ہو رہے ہیں وہ ان خونی رشتوں کے تقدس کی پامالی کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی اجتماعی بے حسی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اخبارات کے صفحہ اول پر معروف قانون دان اور سیاسی و قبائلی راہنما عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ مرحوم اور سینیئر جج آفتاب آفریدی کے خاندانوں کے درمیان کئی سالوں سے چلی آنے والی خون ریز دشمنی دوستی میں بدلنے والی چار اور پانچ کالمی سرخی بننے والی خبر پر ان دونوں خاندانوں کے علاوہ ان کے ہزاروں بہی خواہوں اور خاص کر عدلیہ اور سیاسی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد حتیٰ کہ ہر پڑھے لکھے اور باشعور فرد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہو گا۔
معاشرے میں قتل مقاتلے کے حوالے سے عام تاثر یہ ہے ان میں زیادہ تر ان پڑھ، جاہل، نشئی، عادی مجرم اور یا پھر مختلف سماجی اور نفسیاتی عوامل کو ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سمجھا جاتا ہے لیکن جب انسان مندرجہ بالا دو انتہائی پڑھے لکھے، قانون سے نہ صرف واقف بلکہ اپنی پوری زندگیاں قانونی موشگافیاں سلجھانے میں بسر کرنے والے دو خاندانوں کی خونی دشمنی اور اس میں دونوں جانب ہونے والے قیمتی جانی نقصانات کو دیکھتا ہے تو اس کی سمجھ میں سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں آتا ہے۔
ہمارے گاؤں میں جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے تب سے قتل مقاتلے کے بیسیوں واقعات ہوئے ہوں گے جن میں ہر جنس اور عمر کے افراد قتل کا نشانہ بنے ہوں گے جن میں سے اکثر واقعات کا خاتمہ صلح صفائی اور معافی تلافی پر ہوتا آیا ہے ان بیسیوں واقعات میں آج تک شاید ہی کوئی قانون کی گرفت میں آیا ہو گا اگر کسی وجہ یا بدقسمتی سے کوئی قانون کی پکڑ میں آیا بھی ہے توان قاتلوں میں سے شاید ہی کوئی پھانسی کے پھندے پر جھولا ہو گا یا شاید ہی کسی کو عمر قید کی سزا ہوئی ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے، قتل مقاتلے کے درجنوں واقعات کے باوجود کسی کو پھانسی یا عمر قید کی سزا کیوں نہیں ہوتی اس کی بنیادی وجہ تو معاشرے سے قانون کی حکمرانی کے تصور اور قانون کی تعمیل کے خوف اور ڈر کا مفقود ہونا ہے یہی وہ عامل ہے جو ہمارے خوبصورت اور پر امن معاشرے میں نہ صرف زہر گھول رہا ہے بلکہ انتقام در انتقام کی آگ کی وجہ سے پورے معاشرے کو جہنم کدہ بھی بنا رہا ہے۔
اگر آج بھی قانون معاشرے پر اپنی گرفت مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جائے تو مجال ہے کہ کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے سکے، اس حوالے سے یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی مثالوں سے قطع نظر اگر تیسری دنیا کے ممالک مثلاً چین، سعودی عرب، ملائشیا، ایران اور حتیٰ کہ موجودہ افغانستان کی مثال ہی لے لی جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ ان معاشروں میں قتل و غارت کے واقعات کیوں محدود ہیں، اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے قانون کی حکمرانی اور ملزموں کا فی الفور ٹرائل اور ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جانا وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ معاشرے کثیر آبادی اور مختلف سماجی اور معاشی اکائیوں میں بٹے ہونے کے باوجود قتل و غارت کے واقعات سے پاک اور محفوظ ہیں۔
ہمارے ہاں قتل مقاتلے کے دیگر اسباب میں خاندانی دشمنیاں، جہالت، معاشی افراط و تفریط، قبائلی اور نیم قبائلی روایات، ذہنی تناؤ، جائیداد تنازعات، دین سے بے خبری، بے پناہ غربت اور بعض واقعات میں فاقہ مستی اور اپنی بدمعاشی کا سکہ جمانا بھی قابل ذکر وجوہات ہیں۔ اسی طرح معاشرے میں ہر طرح کی منشیات کی بہتات، کرائم کلچر کا فروغ، نا قص عدالتی نظام، قانون کی کمزور گرفت اور پولیس کا فرسودہ اور ناکارہ سسٹم بھی معاشرے میں بدامنی اور قتل مقاتلے کے واقعات میں مسلسل اضافے کے باعث بن رہے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ ہے کہ آخر ان واقعات اور ہمارے پر امن اور بھائی چارے کے حامل معاشرے سے بدامنی اور قتل مقاتلے کے واقعات کا سدباب کیوں کر ممکن ہے اور وہ ایسے کون سے اقدامات ہو سکتے ہیں جو ان مجرمانہ سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے اولین اور بھاری ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے کیونکہ معاشرے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کا سب سے مستند اور منظم ادارہ یہی ہے، اس کے بعد عدلیہ بھی اس سلسلے میں اپنے فرائض سے بری الزمہ نہیں ہو سکتی ہے جب کہ ان دونوں اداروں کے لیے قانون سازی کرنے والے قانون ساز ادارے بھی اہمیت کے حامل ہیں، اسی طرح بحیثیت مجموعی معاشرہ اور اس کے اہم ادارے مساجد، خاندان، جرگے اور گھر کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہے۔
پولیس کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ اس کے ہاں قانون شکن عناصر کی تو سرپرستی ہوتی ہے البتہ شریف لوگ تھانے جاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں اس تاثر کے خاتمے کے لیے پولیس کو قانون شکن عناصر کے لیے زیرو ٹالیرنس پالیسی پر کاربند ہونا ہو گا۔ اس ضمن میں جرائم کے اسباب اور سدباب کے لیے پولیس کی سطح پر جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کے ساتھ ساتھ جدید تحقیق کے ذرائع بھی کافی حد تک ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ #


