اقلیتوں کا نوحہ⁩


اس واقعہ میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ نے واقعہ کی شدید مذمت کی۔ کسی بھی مذہب میں شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔ جب باقی ملک جشن آزادی منا رہا تھا تو ہماری اقلیتوں کو جلایا جا رہا تھا۔ اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کی خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرنا نا قابل قبول ہے۔ سیاسی راہنماؤں نے جڑانوالہ میں قرآن کی بے حرمتی اور گرجا گھر جلانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

یہ جملے ان بیانات کی کچھ عکاسی کرتے نظر آتے ہیں جو کہ پاکستانی سننے کے عادی ہو گئے ہیں اور آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہم کس واقعے کا ذکر کر رہیں ہیں۔ ماہ اگست میں یہ دوسرا واقع ہے کیونکہ ابھی گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے تربت کے قصبے کیچ میں ایک استاد کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ علماء کے جرگے میں اپنے پر لگنے والے الزامات کی صفائی کے لیے جا رہے تھے اس استاد کے شاگردوں نے ان کے خلاف مقامی علماء سے شکایت کی تھی۔

ابھی فروری کے مہینے میں ننکانہ صاحب میں ایک شخص کو ان الزامات پر ہی ہجوم نے مار دیا تھا اس طرح یہ سب لوگ بشمول اس طویل فہرست کا حصہ بن گئے جن کو توہین مذہب کے سلسلے میں شک، جی ہاں صرف شک کی بنیاد پر سستا اور فوری انصاف فراہم کر دیا گیا۔ واضح ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب یا پاکیزہ ہستیوں پر توہین آمیز بات سے نبٹنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں اور کسی کے منہ سے اس کا دعوی ہی کافی ہے کہ ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے اور انصاف کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جلد اور سستا انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے

ابھی تو بیانات چل رہے ہیں، پھر تحقیقات کا مطالبہ سامنے آئے گا بالخصوص اعلی سطح کی تحقیقی کمیٹی کی تشکیل کا ، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے، سوشل میڈیا پر دردناک تصاویر کے ساتھ اشعار اور بیانات کا سلسلہ شروع ہے جو چند دن جاری رہے گا اور پھر کوئی اور واقعہ، کوئی اور ٹریجڈی لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لے گی، جن کے پیارے اس واقعے سے متاثر ہوئے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جائے کی اور بقیہ قوم دائروں میں اپنا سفر جاری رکھے گی کہ جس کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ اختتام نظر آتا ہے۔

پے درپے واقعات میں ترتیب یاد رکھنا ذرا مشکل ہو جاتی ہے اس لیے آج ذرا ان واقعات کی تاریخ اور ان کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ میں یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ معاشرے میں تشدد آمیز رویوں میں بڑھوتری کے صرف ایک پہلو پر بات ہوگی اور وہ ہے توہین (Blasphamy) کے واقعات کی تاریخ پر کیونکہ یہ مختصر تحریر سب رویوں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مبینہ توہین مذہب کے نام پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں افراد پر تشدد اور ان کے قتل کے واقعات میں اضافہ کی شرح میں اضافہ نظر آتا ہے بالخصوص پنجاب میں۔ میرا نہیں خیال کہ سرکاری سطح پر ایسے اعداد شمار کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی پالیسی نظر نہیں آتی جو اس بڑھتے ہوئے ٹرینڈ کا سدباب کرتی ہو۔

پاکستان پینل کوڈ کے قوانین جو کہ ہمیں انگریز سرکار سے ورثے میں ملے تھے ان میں سیکشن 295 (A) بھی ملا تھا جس کے مطابق کسی بھی مذہبی شخصیت کی بے حرمتی قانونا جرم بن گئی تھی۔ اس قانون کا اجرا 1920 کی دہائی میں توہین رسالت پر کتاب شائع کرنے پر پبلشر کے قتل کے بعد ہوا۔ کام ایسے ہی چلتا رہا حتی کہ 1974 میں آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا اور 1980 اور 1986 کے درمیانی عرصے میں جنرل ضیا الحق نے قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کے عمل میں اس سلسلے میں مزید ترامیم کی گیں۔ اس سال جنوری 2023 میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر کریمنل لاء بل منظور کیا جس کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ، ان کی ازواج مطہرات اور اہل بیت کی بارے میں توہین پر دس لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال کی سزا ہو گی۔ یہ تو قوانین بارے ایک مختصر ترین جائزہ تھا

اگر ہم ان واقعات کے تسلسل اور شرح پر نظر ڈالتے ہیں تو تصویر کچھ یوں ابھرتی ہے کہ 1947 سے لے کر 1987 تک تیرہ افراد کے خلاف رپورٹ درج ہوئی تین افراد کو قتل کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران 1953 اور پھر 1973 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے دو مرتبہ تحریک چلی۔ گیارہ اگست 1948 کو ایک احمدی، میجر محمود کو کوئٹہ میں ہجوم نے تشدد کے بعد قتل کر دیا اسی طرح دو اور احمدیوں کو 1950 میں قتل کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان کے قانون کے مطابق انہیں غیر مسلم نہیں قرار دیا گیا تھا۔

1987 کے بعد توان الزامات اور غیر عدالتی قتل کے واقعات میں انتہائی تیزی نظر آئی۔ جہاں 1948 اور 1978 کے درمیان توہین کے گیارہ کیس رجسٹر ہوئے اور تین قتل ہوئے، 1987 اور 2021 کے درمیان ان کیسز میں 1300 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2021 تک 89 افراد کو غیر عدالتی سطح پر قتل کیا جا چکا ہے، 701 افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا، جبکہ 1306 افراد پر اس سلسلے میں الزامات لگے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک اندازہ ہے کیونکہ بہت سے توہین کے الزامات اور کیسز تو میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں توہین کے کیسز اور قتل کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بدترین سال 2009,2011 اور 2014 ہیں جب بالترتیب دس، گیارہ اور دس افراد قتل کیے گئے۔ اب تک سب سے زیادہ کیس کا اندراج 2020 میں ہوا جن کی تعداد 138 تھی۔ ان الزامات کا نشانہ بننے والے اور قتل ہونے والوں میں عام لوگ ہی نہیں بلکہ اہم معاشرتی شخصیت بھی تھیں جن میں پنجاب گورنر سلمان تاثیر، اقلیتوں کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی اور ہائی کورٹ جسٹس عارف اقبال بھٹی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق الزامات کا شکار ہونے والے افراد میں 70 فیصد سے زیادہ کا تعلق پنجاب سے ہے۔ 1994 میں پہلی بار ایک مسلمان پر توہین کا الزام لگا اور مارا گیا۔ یہ گوجرانوالہ کا حافظ قرآن فاروق سجاد تھا جس کو ہجوم نے پہلے پتھروں سے مارا اور پھر اس کی لاش کو جلا دیا۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ حافظ سجاد کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا جو کہ توہین مذہب میں سزائے موت کے لیے تحریک کا حصہ تھی۔ شروع میں تو حافظ سجاد کی بیوہ عدالت میں ملزموں کا پیچھا کرتی رہیں لیکن بالآخر خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔

ان اعداد شمار کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ضیا دور کی قانونی شقوں سے پہلے تک پورے پاکستان میں کسی عورت پر توہین کا الزام نہیں لگا تھا۔ لیکن 2021 تک 107 خواتین پر توہین کا الزام لگا اور اٹھارہ کو قتل کر دیا گیا جن میں سے دو تو کم عمر تھیں۔ ان ملزم خواتین میں سے سب سے زیادہ کا تعلق مسیحی برادری سے ہے جبکہ ایک تہائی مسلمان ہیں۔ توہین کے الزام میں سامنا کرنے والے مردوں میں ستر فی صد مسلمان ہیں جبکہ باقی تیس فیصد کا تعلق غیر مسلم آبادی سے ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں غیر مسلم آبادی کا تناسب پانچ فیصد سے کم ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا، بہت سے الزامات تو میڈیا تھا پہنچتے ہی نہیں، اس لیے یہ نا ممکن ہے کہ سو فیصد قابل اعتماد اعداد و شمار مل سکیں۔

اخباری رپورٹس پر ہی نظر ڈالیں تو گزشتہ سال میں توہین کی بنیاد پر نفرت انگیزی واقعات میں مختلف علاقوں میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کی تباہی، احمد بچوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر سکول سے نکالنا، 62 سالہ احمدی شخص کو قتل کرنا، ایک ہندو صفائی کرنے والے پر الزامات اور پولیس کا اس کو گرفتار کر کے ہجوم سے بچانا، ایک چینی ورکر پر توہین مذہب کے الزامات اور پولیس کا اس کو بچا لینا، دو مسیحی بچوں کی توہین کے الزام میں گرفتاری، ہندو لڑکیوں کا اغوا اور پھر مسلمان بن کر نکاح کرنا، عیدالاضحی پر احمدیوں پر قربانی کرنے پر مقدمہ وغیرہ۔

آئیے واپس جڑانوالہ جہاں 16 اگست کو مسیحی آبادی پر ہجوم کے حملے میں انیس گرجا گھروں کو جلا دیا گیا، ان کے قبرستان کی بے حرمتی کی گئی۔ الزام کے مطابق سینما چوک کے قریب قرآن پاک کے پھٹے ہوئے اوراق ملے تھے اور وہیں قریب میں دو مسیحی بھائی رہتے تھے۔ مبینہ طور پر تحریک لبیک پاکستان کی مقامی قیادت نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے جذبات کا ابھارا، مساجد کے لاؤڈ سپیکر کا استعمال بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے کافی دیر تو بس کھڑے دیوانگی کا تماشا دیکھتے رہے۔

یہ واقعہ کہیں بھی ہوتا، دل خراش ہوتا لیکن جڑانوالہ میں اس واقعے کا ہونا ستم ظریفی سے کم نہیں کہ یہ شہر بیسویں صدی کے شروع میں ہندوستانی قوم پرست تحریک کا گڑھ تھا۔ اس علاقے کے سکھ تھے جنہوں نے حریت کا پرچم بلند کیا اور غدر پارٹی نامی تنظیم قائم کر کے ہندوستانی تحریک آزادی کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی دی۔ اسی زمین نے بھگت سنگھ کو جنم دیا۔ برصغیر کی تحریک آزادی اس کے نام کے بغیر نامکمل ہی رہے گی۔ جڑانوالہ جو دہائیوں تک ہندو، سکھ، مسلمان اور عیسائیوں کا مسکن رہا، 1947 کے بعد جب ہندو اور سکھ آبادی ہندوستان چلی گئی تو پھر بھی یہ ترقی پسند تحریکوں کی آماجگاہ رہا اور اس وقت کسی گرجا گھر کو جلانے کے بارے میں سوچنا بھی محال تھا۔ اس تنگ نظری اور عدم برداشت کے رویوں کی وجوہات پر آئندہ نشست میں بات کریں گے لیکن صرف ایک مشاہدے پر اپنے بات ختم کرتا ہوں۔

پاکستان کی 24 کروڑ آبادی کی اوسط (median) عمر تقریباً 23۔ 24 سال بنتی ہے۔ جہاں جڑانوالہ واقعے پر اکسانے والوں اور پس پردہ ان کو ہوا دینے والوں کی عمریں کافی زیادہ ہوتی ہیں لیکن ان کے ماننے والے عموماً جوان نہیں بلکہ نوجوان ہوتے ہیں۔ ایک سوسائٹی جہاں نوجوانوں کے سامنے ایک باوقار اور امید افزاء مستقبل نظر نہ آ رہا ہو وہاں ان کا اس نفرت کی آگ کا ایندھن بننا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ جہاں آگ لگانے اور ہنگامہ برپا کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق محنت کش غریب طبقے سے تھا وہیں جن کے گھروں کو آگ لگائی گئی وہ بھی غریب محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اور آگ لگانے والے اس شخصیت کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں جن کا لقب رحمت اللعالمین تھا، جن کی زندگی کمزوروں کے لیے ایک ڈھال تھی، جن کی مسکراہٹ لوگوں کی ڈھارس بندھاتی تھی اور جنہوں نے چودہ سو سال پہلے قبائلی معاشرے میں برداشت اور حلم کی روایت قائم کی۔

نوٹ۔ اس مضمون میں لیے گئے اعداد و شمار سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز اسلام آباد کی مرتب کردہ حالیہ رپورٹ سے اخذ کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments HS