بین الاقوامی ادب کے حوالے سے ایم خالد فیاض کی کتاب کا طائرانہ جائزہ
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس سال میں تنقید کے نام پر بین الاقوامی ادب سے ایسا بہت کچھ ترجمہ یا تلخیص کی صورت سامنے آیا ہے جو یقیناً لائق ستائش تو تھا مگر جس طور یہ ظہور پذیر ہو رہا تھا وہ ادبی سرگرمی کا حامل نہیں بن پا رہا تھا کہ تب تخلیقی عمل کو ایک طرح سے دیس نکالا دیا جا چکا تھا۔ نتیجۃ اس دورانیے میں تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ایم فل حتی کہ پی ایچ ڈی لوگ بھی ادبی ذوق سے عاری پائے گئے۔ تخلیقی متون پڑھنا ان کا مسئلہ ہی نہیں تھا کہ وہ ادبی جمالیات کی راہ پر چلے ہی نہ تھے تو ایسی فضا میں جناب ایم خالد فیاض نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور ادبی تنقید لکھنے اور نظری مباحث کی فراوانی کے زمانے میں ادبی تخلیقات کی طرف دھیان دینا شروع کیا، مختلف ادبی جرائد میں ان کی تخلیقات شائع ہونا شروع ہوئیں جس نے ادبی حلقے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ مندرجہ بالا کتاب میں انہی مضامین کو اکٹھا کیا گیا ہے۔
کتاب چھ حصوں پر مشتمل ہے جس کا اک حصہ بین الاقوامی ادب کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں بین الاقوامی ادب کے تراجم کی طرف لوگ متوجہ ہوئے ہیں اب دھڑا دھڑ بین الاقوامی ادب کے شہ پارے ترجمہ ہو کر منصہ شہود پر آ رہے ہیں۔ ان تراجم کا معیار کیا ہے یہ ایک الگ بحث ہے ان پر تنقید ہونا ابھی باقی ہے۔ کسی حد تک تنقید ہو بھی رہی ہے۔
ایم۔ خالد فیاض لکھتے ہیں : ”میں فن پاروں کے براہ راست مطالعے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں اور نظریے کی عینک سے فن پاروں کو پرکھنے کی بجائے فن پاروں کے مطالعے اور تجزیوں سے نظریے کو اخذ کرنے کا رجحان رکھتا ہوں۔ ممکن ہے اس کی وجہ ہماری تنقید میں ان نظری مباحث کی فراوانی ہو جن کی بنیاد میں مجھے تخلیق کے مطالعے کی شدید کمی کا احساس ہوتا رہا ہے۔ میں متن کی قرات سے حاصل ہونے والے تنقیدی نتائج کا زیادہ شائق ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میرا رجحان عملی تنقید کی طرف زیادہ ہے۔“
بین الاقوامی ادب کے حصے میں آٹھ مضامین شامل ہیں جن میں سے ہم چار کا طائرانہ جائزہ لیں گے۔
اس کتاب کا پہلا مضمون ہے ”سیفو کی شاعری کے دیگر موضوعات۔“ میرے نزدیک سیفو کو ایک مرد ہونا چاہیے تھا جب کہ وہ عورت نکلی اور کمال کی شاعرہ اور قدیم دور سے تعلق، ایک غیر معمولی کردار۔ سیفو کے کلام کا معتد بہ حصہ حسن و عشق کے موضوعات پر مبنی ہے جس کی بنا پر اسے ”افرودیتی“ کی پجارن اور نسائی ہم جنس پرستی کی بانی کہا گیا حتی کہ سیفو کے حوالے سے جنسی ادب جو بے نام تھا کہ لئے ”سیفو ازم“ کی اصطلاح بھی وضع کر لی گئی۔
سیفو کی شاعری دیوملائی اساطیر سے مالا مال ہے۔ یونانی مائتھالوجی کے ایک کردار ہسپرس کے حوالے سے سیفو کی ایک معنی خیز نظم جس کا عنوان ہے ”گلہ بان“ ایک اہم نظم ہے۔ ہسپرس ایک ایسا کردار ہے جو اچانک غائب ہو گیا اور لوگوں کے بقول اس نے ایک شفیق ستارے کا روپ دھار لیا۔ سیفو کہتی ہے :
”گلہ باں ہو تم گویا شام کے
”ہسپرس ہانکو ٹھکانوں کی طرف
جو کچھ بکھیرا نور صبح نے
ہانکو بھیڑیں اور ہانکو بکریاں
ہانکو بچے گھرانوں کی طرف
ماؤں کی جانب، پناہ گاہوں کی طرف۔ ”
یہ نظم ان معنوں میں بہت اہم ہے کہ اس میں صبح اور شام سے متعلق روایتی تصورات سے انحراف کیا گیا ہے۔ عام شعری روایت کے مطابق دن یا روشنی سے مثبت اور شام یا اندھیرے سے منفی تصورات کو ہی منسوب کیا جاتا ہے اور ان تصورات کے پس منظر میں انسان کی ماقبل تہذیب کے اس دور کی سائیکی کارفرما ہے جب وہ تاریکی اور اندھیرے سے خوف کھایا کرتا تھا کیوں کہ اندھیرا انھیں عدم تحفظ کا احساس دلاتا تھا اور دن کے اجالے میں وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی انسان تاریکی سے وحشت زدہ ہوتا ہے اور تاریکی کو گناہ، جرم اور خطرے کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس کتاب کا دوسرا مضمون ہے ”بڑھاپا، شہر اور بودلیئر“ : اس مضمون میں بودلیئر کی نثری نظموں کی کتاب ”پیرس کا کرب“ پر خوب صورت انتقاد پیش کیا گیا ہے۔ بڑھاپا اعتدال کی بنا پر دانائی کی علامت سمجھا جاتا تھا جوانی جذبات سے بھرا دور لیکن نئی ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کو بوڑھوں سے دور کر دیا ہے کہ بوڑھے تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کا ساتھ نہیں دے سکے اور کمزوری کا استعارہ بن گئے۔ یہ دور فرد کی سطح پر کم اور نفسیاتی سطح پر کہیں زیادہ اتھل پتھل کا دور ہے۔
ایک بوڑھا شخص نہ صرف اپنی کم ہوتی توانائیوں کو محسوس کر رہا ہوتا ہے بلکہ نئی نسل کی قوت و کارکردگی سے اپنی شکستہ کارکردگیوں کا موازنہ کر کے احساس کم تری میں مبتلا بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ صورت حال بوڑھوں کے لیے انتہائی اذیت ناک ہوتی جاتی ہے۔ وہ ایسی صورت میں نئے سرے سے محبتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ وہ بچوں کے بچوں پر محبتیں نچھاور کرنا چاہتے ہیں لیکن یہاں بھی انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ معصوم بچے بھی ان سے ڈرنا شروع ہو جاتے ہیں وہ جس قدر زیادہ محبت چاہتے ہیں انہیں اس قدر اجنبیت اور نفرت ملتی ہے۔ اس کا موثر اظہار بودلیئر نے اپنی نظم ”بوڑھی عورت کی مایوسی“ میں کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے :
”جھریوں سے ماری ہوئی بڑھیا خوشی کے مارے پھول گئی،
جب اس نے خوب صورت بچے کو دیکھا جس سے ہر کوئی ہنسی مذاق کر رہا تھا۔
یہ حسین و نازک نقش، بڑھیا کی طرح، بغیر دانت اور بغیر بالوں کے۔
وہ آگے بڑھی اور تبسم کے ساتھ بچے سے کھیلنے لگی۔
بچہ سہم گیا اور اس بے چاری عورت کے پیار کے
جواب میں تیزی سے ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔
اس نے چیخ و پکار سے سارے گھر کو سر پر اٹھا لیا۔
بیچاری بوڑھی عورت ایک ابدی تنہائی میں پیچھے ہٹ گئی۔
اور ایک کونے میں بیٹھ کر رونے لگی۔ ”
زیر نظر کتاب کا تیسرا مضمون ہے ”ٹیگور کا تصور موت ’گیتانجلی‘ کے حوالے سے۔“
”جب میں نے زندگی کا دروازہ پہلے پہل لانگھا اس لمحے کی مجھے
خبر نہیں تھی۔ وہ کون قوت تھی جس نے اس عظیم عالم راز میں آدھی
رات کو جنگل میں ایک کلی کی طرح کھل اٹھنے دیا!
جب میں نے صبح کی روشنی دیکھی تو مجھے فوراً لگا، گویا میں اس
دنیا میں اجنبی نہیں ہوں اور گویا بے نام روپ کی اس نامعلوم ہستی
نے میری ماں کی شکل میں مجھے اپنی گود میں لے لیا ہے۔
اسی طرح بہ وقت مرگ وہی نامعلوم ہستی اسی طرح ظہور کرے
گی، گویا میں اسے ہمیشہ سے جانتا رہا ہوں۔ ”
ٹیگور کے تصور موت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس کے ہاں نہ تو محض رجائیت ہی رجائیت ہے اور نہ ہی یاسیت ہی یاسیت بلکہ رجائیت اور یاسیت ہر دو پیلو بین بین دکھائی دیتے ہیں جس سے ٹیگور کے تصور موت میں ایک توازن کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔
چوتھا مضمون ہے ”مارک ٹوئین کی کہانی ’دعائے جنگ‘ “ :مارک ٹوئین ہو، فرائیڈ ہو، برٹرینڈ رسل ہو یا کوئی اور مفکر یا ادیب؛ان کے نزدیک انسان یا انسان کی انسانیت سے برگشتگی کی وجہ، انسان میں پائے جانے والے بربریت اور تشدد پر مبنی جنگجویانہ عناصر ہیں۔
مارک ٹوئین کی زیر مطالعہ کہانی ”دعائے جنگ“ بھی جنگ کے خلاف احتجاج کے طور پر لکھا گیا ایک طنزیہ افسانوی فن پارہ ہے۔ جس میں ہمیں وہ یہی دکھاتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں عوام کی اکثریت جنگی جنون میں کس قدر مبتلا ہو جاتی ہے اور جب کوئی فرد ان کے اس جنگی جنون کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے پاگل قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس کہانی میں جو منظر دکھایا گیا ہے وہ جنگ کے دنوں کا ہے جب ہر طرف جوش و خروش اور جذبہ حب الوطنی اپنے عروج پر ہے، ہر ہاتھ میں جھنڈا ہے، ایک گرجا گھر میں تمام رضا کار موجود ہیں جنھیں اگلے دن محاذ پر جانا ہے اور ان کے ساتھ ان کے عزیز اور پیارے بڑے مغرور اور شاداں بیٹھے ہیں۔
گرجا گھر میں عبادت کا آغاز بائبل سے جنگ کے متعلق ایک باب سے ہوتا ہے۔ دعائے اول کے بعد انتہائی رقت آمیز اسلوب میں دعائے جنگ شروع ہوتی ہے اسی دوران ایک عمر رسیدہ اجنبی گرجا گھر میں داخل ہوتا ہے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے میں باری تعالی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ وہ کہتا ہے جو دعا مانگی گئی ہے دراصل ایک دعا نہیں بلکہ دو دعائیں تھیں ایک وہ جو زبان سے ادا ہوئی اور دوسری وہ جو زبان سے ادا نہیں ہوئی۔ وہ کہتا ہے سوچو کہ جب تم اپنے لیے برکت کی التجا کر رہے تھے کہیں ایسا تو نہیں کہ عین اسی وقت تم قصد اور ارادے کے بغیر کسی ہمسائے کے لیے قہرالہی کی دعا مانگ رہے تھے؟ جس پر اس بوڑھے کا ٹھٹھا اڑایا گیا۔ ”
آخر میں کیا یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا تنقید تخلیق سے کم تر صنف ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ لا حاصل بحث ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تنقید؛ تحقیق سے الگ ایک علمی اور ادبی صنف ہے تنقید کی اپنی ایک حیثیت ہے اور تخلیق کی اپنی۔ دونوں کے اپنے اپنے تقاضے ہیں۔ اور جب کوئی بھی اپنے بنیادی تقاضوں سے اغماض برتتا ہے یا اپنی شعریات کا لحاظ نہیں رکھتا یا اپنی صلاحیتوں میں خام ٹھہرتا ہے تو وہ لا محالہ اپنے مقام سے نیچے آتا ہے۔
بنیادی طور پر تنقید اور تخلیق دونوں ہی اپنی اصل میں بہرحال ذہنی اعمال ہی ہوتے ہیں۔ یہاں علوم اور نظریات کے مسلسل مطالعے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انھیں فن پارے پر تھوپنے کے لئے تازہ کیا جاتا رہے بلکہ اس کا مطلب فن پارے کی ہم دردانہ تفہیم میں بہتری پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اردو ادب کے شائقین کے لئے تنقید کے حوالے سے یہ ایک عمدہ کتاب ہے اسے کتابی دنیا لاہور نے شائع کیا ہے۔ گیٹ آپ خوب صورت ہے۔


