سانحہ جڑانوالہ پر خاموش مت رہیں .


بارہ سال پہلے میرے والد صاحب کا انتقال اٹلی میں ہوا۔ میں ان کا جنازہ پڑھ کر پیچھے مڑا تو دیکھا کہ ایک کونے میں میرے اطالوی مسیحی دوست کھڑے تھے جو تعزیت کرنے آئے ہوئے تھے۔ اگلے روز اتوار تھا۔ شہر کے چرچ کا پادری فابیو میرا دوست تھا۔ اس نے میرے والد صاحب کے لئے چرچ میں خصوصی دعا کرائی تھی۔ گزشتہ تین دہائیوں سے کوئی ایسا سال نہیں گزرا ہو جب میرے یہ مسیحی دوست مجھے رمضان مبارک یا عید مبارک کے میسج بھیجنا بھول گئے ہوں۔ امریکہ میں نائین الیون کا واقعہ ہوا تو ہم مسلمان یورپ میں چھپ کر بیٹھ گئے کہ ہمیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس وقت میرے مسیحی دوستوں نے ایک عجیب پالیسی بنائی۔ انہوں نے اپنے گھروں کے صحن میں خصوصی ڈنر کا اہتمام کرنا شروع کر دیا تاکہ شہر کے لوگ ہمیں اکٹھے بیٹھے دیکھیں اور انہیں پتہ چلے کہ کوئی ہمیں جدا نہیں کر سکتا۔ پھر ایک دن مجھے خبر ملی کہ افریقہ کے کسی ملک میں چرچ پر دہشتگردوں کا حملہ ہوا ہے اور کافی مسیحی مارے گئے ہیں۔ ابھی میں خبر پڑھ ہی رہا تھا کہ میرے فون پر میرے مسیحی دوستوں کے میسج آنا شروع ہو گئے تھے کہ یاد رکھنا کہ ہماری دوستی میں ایسے واقعات سے رتی برابر فرق نہیں آئے گا۔

انفرادی سطح سے ہٹ کر مجموعی طور پر صورت حال یہ ہے کہ غربت یا جنگوں سے بھاگ کر یورپ داخل ہونے والے تارکین وطن شہریوں کو سب سے پہلی پناہ جو ملتی ہے وہ انہی مسیحی خیراتی تنظیموں کی جانب سے ملتی ہے۔ اکثر پادری گرجا گھروں کے ساتھ ملحق گھروں میں ان بے وطن بے یارومددگار لوگوں کو رہنے کے لئے چھت فراہم کرتے ہیں۔ پناہ گزین اور مہاجرین شام کو انہی گرجا گھروں کے باہر مفت کھانے کی قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد جو ذرا ترقی کر لیتے ہیں اور گھر یا روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن گزارہ نہیں کر پاتے تو وہ کھانا نہ بھی کھائیں تو بھی ہر ہفتے اشیائے خور و نوش لینے کی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ جو ذرا مزید ترقی کر لیتے ہیں اور کھانے کا جگاڑ کرلیتے ہیں وہ بھی چرچ کی خیراتی دکانوں میں سستے کپڑے، سستے میٹرس یا سستا فرنیچر خریدنے پہنچ جاتے ہیں۔ یورپ میں نوے کی دہائی میں آنے والے نوے فیصد لوگ کسی نہ کسی طریقے سے مسیحیوں کی جانب سے ضرور فائدہ اٹھا چکے ہیں

اگر ہم امیگریشن کی سیاسی پالیسیوں کی بات کریں تو یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی سو فیصد تعداد مسیحیوں سے برائے راست فائدہ لے چکی ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ یورپی ممالک میں امیگریشن کھولنے کے مطالبے سے لے کر تارکین وطن شہریوں کے حقوق تک کے تمام مطالبے سب سے پہلے مسیحی خیراتی تنظیموں کی جانب سے ہی آتے ہیں۔ اگر ہم مسلمانوں کے بات کریں تو مسلمانوں کے خالصتاً مذہبی مطالبات بھی مسیحیوں کے احسان تلے دبے ہیں۔ مثلاً ”پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت سے لے کر قرآن مجید کے تقدس کے بارے پوپ فرانسیس کا موقف سب سے پہلے یورپی میڈیا میں جگہ بناتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺکے متنازعہ خاکوں کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے پوپ فرانسیس نے مسلمانوں کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ اگر کوئی میری ماں کو گالی دے تو میں اس کے منہ پر تھپڑ ضرور ماروں گا۔ جب یورپی سکولوں میں مذہبی تعلیم کی بات ہوتو مسیحیوں کی جانب سے یہ مطالبہ آتا ہے کہ اس پریڈ میں مسلمانوں کو ان کے قرآن سکھانے کی تعلیم کا حق دیا جانا چاہیے۔ جب یورپی ممالک میں مسلمان عورتوں کے پردے کے خلاف قانون سازی کی بات شروع ہوئی تو بھی مسیحی مسلمانوں کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں اور جب کسی بھی ملک میں قرآن نذر آتش کرنے کا شوشا چھوڑا جاتا ہے تو بھی پوپ فرانسس غم و غصہ کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

ان تمام احسانات کے بدلے مسیحیوں کی جانب سے کسی بھی پناہ گزین کو مذہب تبدیل کرنے پر زور نہیں دیا جاتا۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ یورپ کے جن شہروں میں مساجد نہیں ہوتی وہاں کے مسلمان پناہ گزینوں کے لئے انہیں مسیحی تنظیمات یا پادری کی جانب سے چرچ سے ملحقہ کوئی کمرہ دے دیا جاتا ہے کہ یہاں پر اپنی عبادت کر لیا کریں۔

لیکن جب ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہمیں یورپی پاسپورٹ مل جاتا ہے تو ہم سب سے پہلی بحث یہ چھیڑتے ہیں کہ مسیحیوں کو کرسمس کی مبارک باد دینا گناہ ہے۔ ان کا کوئی فوت ہو جائے یا دہشتگردی کا شکار ہو جائے تو اس سلسلے میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنا بدعت ہے۔ اور اگر کوئی عظیم ہستی فوت ہو جائے تو ہم اس بحث میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ جنت میں نہیں گئی ہو گی۔

جڑانوالہ واقعہ کے بعد مذمت مذمت کے کھوکھلے نعروں سے اس حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا کہ اگر واقعی پاکستانیوں کی اکثریت مسیحیوں کو برابر کا شہری سمجھتی ہے تو پھر اتنی تیزی سے 19 چرچ اور 86 مکانات کس نے جلا دیے، قبرستان تک میں گھس کر قبروں سے صلیبیں کس نے اکھاڑ دیں اور ان کی بے حرمتی کس نے کی۔ بچیوں کے جہیز کس نے لوٹے، گھروں سے واٹر پمپ اور ٹوٹیاں تک کون اکھاڑ کر لے گیا۔ ماؤں بہنوں اور بچیوں کو کھیتوں میں کھلے آسمان تلے رات کیوں بسر کرنا پڑی۔ وہ جو گرجا گھروں کے باہر سویڈن میں قرآن جلانے کی مذمت کے بینر لگائے بیٹھے تھے ان کے گرجا گھروں کے اندر موجود انجیل مقدس اور مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کس نے کی۔ اگر سب ہی مذمت کر رہے ہیں تو پھر اتنے لوگوں کو موٹویٹ کس نے کیا، ہزاروں کا جلوس کون نکالنے میں کامیاب ہوا۔ دو ٹانگوں پر چلنے والے ان جانوروں کو اس بستی کی جانب کس نے ہانکا، کس نے بھڑکایا اور پہنچایا اور اگر پہنچ گئے تھے تو اتنے گھنٹوں تک جاری فسادات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روکا کیوں نہیں۔

ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کے علم کی ضرورت نہیں۔ معاشرے میں پھیلی نفرت، تشدد اور عدم برداشت کی جھلک دیکھنی ہوتو گاہے بگاہے سوشل میڈیا پر نظر ڈال لیا کریں کہ کون سی جماعت کا کون سا نعرہ مقبولیت عام پکڑتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور کوئی اس آگ کو بجھانے کی کاوش میں نہیں ہے۔ اگر ملک میں اعتدال کی پالیسی پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تو پاکستان تیزی سے ایک میجارٹرین اسٹیٹ میں بدل جائے گی جس میں ایک پسندیدہ مذہب سے آگے بڑھتے ہوئے ایک خاص مسلک تک بات پہنچ جائے گی۔ اور حالت وہ ہو جائے گی جو جرمنی کے دانشور مارٹن نیمولر نے لکھی تھی

پہلے وہ سوشلسٹوں کے پکڑنے آئے تو میں خاموش رہا کیونکہ میں کون سا سوشلسٹ تھا۔
پھر وہ ٹریڈ یونین والوں کو اٹھانے آئے تو میں خاموش رہا کہ میں کون سا ٹریڈ یونین والا تھا
پھر وہ یہودیوں کو اٹھانے آئے تو میں خاموش رہا کیونکہ میں کون سا یہودی تھا
پھر وہ جب مجھے پکڑنے کے لئے آئے۔ تو کوئی باقی رہ نہیں گیا تھا جو میرے لئے آواز اٹھاتا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments