مٹی آدم کھاتی ہے

کچھ کتابیں سارے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ محمد حمید شاہد کا ناول ’مٹی آدم کھاتی ہے‘ ان ہی میں سے ایک ہے۔ ناول نگار نے اپنے اس ناول کو انسان اور اس کی محبتوں کی کتاب قرار دیا ہے۔ ہم سب کو دُکھ دے کر اس دنیا کو الوداع کہنے والے نقاد محترم شمس الرحمن فاروقی اسے دُکھ کی کتاب کہتے ہیں۔ میں اسے انسان اور اس کی محبتوں اور دُکھ کی کتاب کے ساتھ نفرت اور

Read more

کٹی پوروں سے بہتی سلیم شہزاد کی بھید بھری نظمیں

سلیم شہزاد کی شعری کائنات میں جھانکنے اور سفر کرنے کے بعد بھی، اس کے تمام دروازے مجھ پر وا نہیں ہوئے ہیں۔ اس کائنات میں سیکڑوں دنیائیں بستی ہیں، کٹی پھٹی، خون آلودہ، زخم خوردہ اور سنسان و اجاڑ دنیائیں۔ مسافروں کو لہولہان کرنے والی دنیائیں۔ میرے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ کسی کے لیے بھی یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ان دنیاؤں کا سفر ایک بار کر لیا جائے تو، بار بار ان کے سفر

Read more

میری سیاسی سرگزشت

ہندوستان کی سیاسی تاریخ دلچسپ بھی ہے اور آنکھیں کھولنے والی بھی۔ اور جب یہ تاریخ ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی جیسی غیر جانبدار شخصیت کے قلم سے تحریر ہوئی ہو تو، دلچسپی دوچند ہو جاتی ہے اور آنکھیں صرف کھلتی ہی نہیں ہیں، آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ کم از کم ڈاکٹر صاحب مرحوم کی مختصر سی ”میری سیاسی سرگزشت“ پڑھ کر میرا حال تو کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب علی گڑھ مسلم

Read more

وہ جو چاند تھا سر آسماں : داستان عشق

نابغۂ روزگار شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں، اشعر نجمی کی ترتیب و تہذیب میں، ابھی ابھی چھپ کر جو کتاب ’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘ کے نام سے آئی ہے، اسے دیکھ کر مجھے اپنے من پسند ادیب رضا علی عابدی کے افسانے ’جان صاحب‘ کی تین سطریں یاد آ گئیں۔ جان صاحب ایک ایسے کردار کا نام ہے جو کہیں سے آ کر ایک چھوٹے سے شہر کے اسٹیشن پر پڑ جاتا ہے، لوگ اسے پاگل سمجھتے

Read more

نقوش شبلی: ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا ایک اور کارنامہ

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی نئی کتاب ”نقوش شبلی“ دیکھ کر یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں پر ڈاکٹر صاحب پہلے ہی درجن بھر سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں، اس نئی کتاب کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ مزید یہ سوال بھی اٹھ سکتے ہیں کہ علامہ شبلی نعمانی کی حیات و خدمات پر کتابیں پڑھی ہی کیوں جائیں؟ اور یہ کہ بھلا آج کے ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں

Read more

”بابری مسجد: آنکھوں دیکھا حال“ ایک دستاویز

یوں تو سینئرصحافی معصوم مراد آبادی کی کتاب ”بابری مسجد :آنکھوں دیکھا حال“ لاک ڈاؤن سے پہلے حاصل ہو گئی تھی لیکن اس کا مطالعہ لاک ڈاؤن کے دوران اور وہ بھی اس وقت شروع کیا جب سپریم کورٹ کی جانب سے لکھنو کی خصوصی سی بی آئی عدالت کو دی گئی یہ ہدایت نظروں سے گزری کہ آئندہ 31 اگست کو بابری مسجد کی شہادت میں مجرمانہ سازش کے مقدمے کی سماعت مکمل کرلی جائے۔ خیر عدالت میں تو

Read more

جاتک کہانیاں اور آصف فرخی

نور عنایت کی انگریزی میں مرتب کردہ ’جاتک کہانیاں‘ کا آصف فرخی کا اردو ترجمہ ابھی ابھی تو پڑھا تھا اور پڑھ کر ایک طرح کا سکون اور اطمینان محسوس ہوا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو آج کے دنوں میں، جب ادبا و شعرا اپنی شہرت اور اپنی خود نمائی کے لیے مغربی ادب کے دامن میں پناہ لینے پر فخر کرتے ہیں، مشرقی ادب کی بازیافت کر رہا ہے۔ امید تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ مشرق کے ایسے ہی مزید چھپے ہوئے خزانوں کو ہمارے سامنے لائیں گے۔

لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، انہیں کسی اور منزل کی طرف روانہ ہونے کی جلدی تھی، وہ روانہ ہو گئے۔ ’چپ چاپ‘ گوتم بدھ کی طرح جیسا کہ ’جاتک کہانیاں‘ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے : ”وہ (گوتم بدھ) کپل وستو کے راج کمار تھے لیکن انہوں نے اس دنیا کے بارے میں جب سوچنا شروع کیا تو اس زندگی سے اکتا گئے۔ عیش و آرام کی زندگی سب کو چھوڑ کر ایک دن چپ چاپ اکیلے ہی چل دیے“ ۔

Read more