نور عنایت کی انگریزی میں مرتب کردہ ’جاتک کہانیاں‘ کا آصف فرخی کا اردو ترجمہ ابھی ابھی تو پڑھا تھا اور پڑھ کر ایک طرح کا سکون اور اطمینان محسوس ہوا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو آج کے دنوں میں، جب ادبا و شعرا اپنی شہرت اور اپنی خود نمائی کے لیے مغربی ادب کے دامن میں پناہ لینے پر فخر کرتے ہیں، مشرقی ادب کی بازیافت کر رہا ہے۔ امید تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ مشرق کے ایسے ہی مزید چھپے ہوئے خزانوں کو ہمارے سامنے لائیں گے۔
لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، انہیں کسی اور منزل کی طرف روانہ ہونے کی جلدی تھی، وہ روانہ ہو گئے۔ ’چپ چاپ‘ گوتم بدھ کی طرح جیسا کہ ’جاتک کہانیاں‘ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے : ”وہ (گوتم بدھ) کپل وستو کے راج کمار تھے لیکن انہوں نے اس دنیا کے بارے میں جب سوچنا شروع کیا تو اس زندگی سے اکتا گئے۔ عیش و آرام کی زندگی سب کو چھوڑ کر ایک دن چپ چاپ اکیلے ہی چل دیے“ ۔
Read more