مستنصر حسین تارڑ کے ناول "بہاؤ” کا تہذیبی شعور

ناول ”بہاؤ“ مستنصر حسین تارڑ کا شاہکار ناول ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا یہ ناول کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح انھوں نے اس ناول میں قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کی تصویر پیش کی ہے شاید آج تک کوئی مصنف اس طرح جامع اور خوبصورت طریقے سے نہیں کر پایا۔ مستنصر حسین تارڑ کا تعارف مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے

Read more

گلزار ملک کا ناول: ”گمشدہ میراث“

فیصل آباد میں ادبی اور شعری روایت آغاز سے اب تک کم و بیش ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے۔ پرانے اخبارات، رسائل اور انجمنوں سے مل جانے والی قرار داد کے ذریعے سے یہاں کا جو شعری منظر نامہ مرتب ہوتا ہے اس میں ن م راشد پہلے اور بڑے شاعر ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بہت سارے ایسے شاعر اور شاعرات سامنے آتے ہیں جنہوں نے اس شعری منظر نامے میں اپنی اپنی

Read more

شہزاد احمد کی شاعری

شہزاد احمد نے 16 اپریل 1932 کو مشرقی پنجاب کے مشہور تجارتی اور ادبی شہر امرتسر کے ایک ممتاز خاندان کے فرد ڈاکٹر حافظ بشیر کے گھرانے میں جنم لیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے 1952 میں نفسیات اور 1955 میں فلسفے میں پوسٹ گریجویشن کی اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ ”صدف“ 1958 میں ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔ ان غزلوں کے مجموعے ”جلتی بجھتی انکھیں“ 1969 پر انہیں آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔

Read more