کیا آپ بچوں پر ہونے والے ریپ کی اس قسم سے واقف ہیں؟
ہم صرف جسمانی اور جنسی تشدد اور ریپ کے بارے میں جانتے آئے ہیں۔ لیکن ایک اور قسم کا تشدد ہے جس سے بہت سے باشعور اور تعلیم یافتہ والدین بھی واقف نہیں۔ اس تشدد یا زیادتی کے مرتکب خود والدین ہوتے ہیں کبھی نادانی میں اور کبھی شعوری طور پر اپنی شخصیت کے مجرمانہ خواص کی وجہ سے۔
اس قسم کے تشدد ریپ کو جذباتی ریپ یا Emotional Rape بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تشدد جسم پر نیل کے نشان نہیں چھوڑتا اور نہ ہی اس کا میڈیکل رپورٹ سے چلتا ہے۔ اس کا سراغ تب لگتا ہے جب جذباتی حالت کچوکے کھا کر اس نوبت تک یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بچے میں شدید نوعیت کے نفسیاتی مسائل پیدا ہو کر بچے کے اخلاق، کردار اور تعلیمی سرگرمیوں کو تلف کر چکے ہوتے ہیں اور بچہ والدین اور معاشرے میں ناپسندیدہ بن جاتا ہے۔
نفسیات بتاتی ہے کہ :
والدین کو بچے کی پیدائش سے پہلے مائنڈ باڈی ریلیشن کو سمجھنا ہو گا۔ اور یہ کہ صحت مند جسم صحیح دماغ کا ضامن ہے۔
والدین بچے کی پیدائش سے پہلے جوش و جذبات میں مل کر بچے کی تربیت اور پرورش کے جدید اصولوں کے ایجنڈے تو بناتے ہیں
لیکن والدین اپنی فطرت کی وہ خامیاں، ضد اور غلط کرداری روئیے نہیں چھوڑتے جو جسمانی اور جذباتی ریپ کا باعث ہیں۔
اس قسم کا ایموشنل اور جسمانی ریپ ان شکلوں میں ہو سکتا ہے :
1۔ بچے کو پہلے دن سے ہی الگ کمرے میں سلانا اور ماں باپ کی قربت اور لمس اور آواز سے محروم رکھنا۔ بچے کے لئے ایک جسمانی بے آرامی اور جذباتی دھچکا ہے۔ وہ ماں کے پیٹ سے نکل کر فوراً غیر محفوظ کر دیا گیا جس کا اظہار وہ شاید ابھی نہ کرے لیکن تین سال کی عمر کو پہنچ کر اس عدم تحفظ کا اعلان وہ سوتے میں اٹھ کر رونے، چیخیں مارنے اور رفتہ رفتہ رات کی نیند میں کمی کی صورت میں کرے گا۔
2۔ والدین کا بچے کے معاملات اور فیصلوں میں ایک پیج پر نہ ہونا، لڑائی جھگڑے ایک دوسرے کے خلاف بچے کو بھڑکانا اور ان کے علیحدگی کے فیصلے اور دھمکیاں بچے کو سن رہی ہوتی ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچہ چھوٹا ہے اسے کیا پتہ۔ لیکن یہ سب واقعات اس کے لئے اسرافیل کے صور کی طرح کانوں میں پڑ کر جسمانی اور جذباتی صدمے کا باعث بنتی ہیں۔ کیا یہ تشدد نہیں کہ تنہا بچہ الگ کمرے میں خوفناک آوازیں سن رہا ہے۔ جوں جوں بڑا ہوتا ہے وہ ان خوفناک سرگوشیوں کو معنی دیتا ہے۔ سب سے بڑا پیغام جو اس کے ننھے جسم اور ذہن کو ملتا ہے وہ یہ کہ وہ غیر محفوظ ہے۔ اور صبح شام ماں باپ کے پھولے چہرے اور تناؤ دیکھ کر اس کے خوف اور عدم تحفظ کو گارنٹی مل جاتی ہے۔
غذائی تشدد :
3۔ بچے کو ماں کا دودھ نہ ملنا اور دوسرے دودھ کی کم خوراک ملنا، تازہ خوراک کی بجائے ٹیوبوں میں بھرے حنوط شدہ دلیے، جوس، مختلف ذائقوں میں محفوظ شدہ فروٹ ساس، فروزن اور ٹن پیک کھانے کا سامان پیزا پاسٹا اور بد ذائقہ بازاری خوراک اور ایسی خوراک جس سے بچے کو الرجی اور ان ٹالرینس ہے ایک طرف بچے کی غذائی ضروریات پوری نہیں کرتیں دوسری طرف اس کی جسمانی صحت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا کر اس کی ذہنی نشو نما پر بھی شدید منفی اثرات ڈالتا ہے۔
4۔ دو سال کی عمر سے پہلے منظم اور سٹرکچرڈ ٹائلٹ ٹریننگ اور اس پر سختی سے عمل کروانا بچے کے لئے جسمانی اور جذباتی بے آرامی اور تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ ہم نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے بچے کی تربیت اور نشو نما کو تیز رفتار کر دیا۔ حالانکہ ٹوائلٹ ٹریننگ کی یہ برق رفتاری چھ سال کی عمر میں معکوس بھی ہو سکتی ہے یعنی وہ یہ سب کچھ بھول بھی سکتا ہے اور دوسری طرف جسمانی تھکن، بے آرامی اسے پانچ سال کے بعد چڑچڑا بنا سکتی ہے اور وہ احساس جرم اور عدم تحفظ کا شکار ہو سکتا ہے۔
5۔ چھ سال سے پہلے ڈے کیئر
اور سمر کیمپ کی مشقتیں بھی جسمانی تشدد کا ایک انداز ہیں جہاں بچہ سارا دن جسمانی تھکاوٹ اور گھر سے دور بے فائدہ سٹرکچرڈ ماحول اور پیار اور شفقت سے محروم اجنبی لوگوں میں ذہنی بیزاری اور بوریت کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چھ سال کی عمر میں جب سکول جانے کا وقت ہوتا ہے اس میں ایسے کرداری مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو اس کی نارمل سکولنگ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اور اس کی ذہنی کارکردگی گھٹنا شروع ہو جاتی ہے۔ اچھا بھلا ذہین بچہ سیکھنے کے عمل سے دور بھاگنے لگتا ہے اور اپنی عمر سے پیچھے رہ جاتا ہے کیونکہ چھوٹی عمر کے بوجھ اسے تشدد لگتے ہیں اور اب وہ ذہنی طور پر بھی صدمے سے گزرتا ہے۔ نفسیات کی رو سے سات سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا منظم اور سٹرکچرڈ ماحول اور پروگرام کسی تشدد اور ریپ سے کم نہیں۔
6۔ بیماری کی حالت میں سکول بھیجنا بھی ہر صورت میں اس کی جسمانی جذباتی اور نفسیاتی حالت کا ریپ ہے۔ بچہ اپنی جسمانی تکلیف کو بیان نہیں کر سکتا۔ اور وہ زبردستی سکول دھکیلا گیا ہے۔ وہ اس سفاکی سے نبرد آزما نہیں ہو سکتا۔ اب وہ بیماری اور تھکاوٹ کا اظہار اپنے ساتھیوں کے ساتھ لڑ جھگڑ کر نکالے گا ٹیچر کا کہنا نہیں مانے گا اور بیماری میں کس طرح اپنی پڑھائی پر فوکس کر سکتا ہے۔
7۔ بچے کو کنٹرول کر کے اس کو قریبی رشتوں سے دور رکھنا بہت سنگین جذباتی تشدد اور ریپ ہے جس کے نتیجے میں بچے کی نفسیات کو اتنا شدید دھچکا لگتا ہے کہ جس کی تلافی ممکن نہیں۔
یہ ریپ دونوں ماں باپ کی طرف سے ایک کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ریپ بہت خفیف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ ماں / باپ میں سے کوئی ایک بچے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنے کی ہوس میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ بچے کو اپنے ہی باپ / ماں کا کہنا ماننے، بات سننے، پیار کرنے ہنسنے، کھیلنے اور حتی کہ گرینڈ پیرینٹس سے بات کرنے، محبت کرنے اور سلام دعا اور ان کی عزت و تکریم کرنے گلے لگنے کے لئے بھی اپنے کنٹرول کرنے والے ماں / باپ سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اول تو اجازت ملتی ہی نہیں، اگر کنٹرولنگ اتھارٹی سماجی دباؤ کے تحت اجازت دے بھی دے تو کنٹرولنگ اتھارٹی بچے کو الگ بٹھا کر بچے کے کان میں ان لوگوں کے خلاف زہر کو کمال ہوشیاری سے اس طرح انڈیلتے ہیں کہ بچہ رفتہ رفتہ مکمل طور پر یہ باور کر لیتا ہے کہ مجھے اپنے والدین میں سے صرف ایک کا کہنا ماننا ہے۔ یوں وہ غیر محسوس طریقے پر نفسیاتی یتیم ہو جاتا ہے۔
شدید اور بھیانک صورتحال میں بچہ مخالف پارٹی کو جو اس کا باپ / ماں، گرینڈ پیرینٹس یا ان کے رشتے دار بھی ہو سکتے ہیں کنٹرولنگ ماں / باپ کے کہنے میں آ کر وکٹم بنا کر ان کو تنگ کرتا، ستا تا، ان کی اشیا کی توڑ پھوڑ، ان کے گاربیج کو خاص طور پر الٹا کرتا ہے حتی کہ مار پیٹ اور ان کو گھر سے نکلنے کی دھمکیاں دینے لگ جاتا ہے۔
کلینیکل کیس ہسٹریوں سے ایک ملاحظہ ہو: ایک بیس سالہ لڑکی ماہر نفسیات کے پاس لا تعداد نفسیاتی مسائل کے ساتھ آئی جن میں اے ڈی ایچ ڈی، اینزائٹی، ڈپریشن اور ناقابل کنٹرول غصہ اور پر تشدد رویے جن کی وجہ سے وہ صرف ہائی سکول ہی مکمل کر پائی۔ اس کی سب سے نمایاں شکایت یہ تھی کہ وہ بچپن میں اپنے دادا دادی کو ماں کے کہنے پر بہت ستاتی تھی۔ اس کا کہنا تھا ”جب میرے دادا دادی اور ددھیالی رشتہ دار ہمارے گھر آتے میری ماں مجھے ان کو تنگ کرنے حتی کہ دادا دادی کو مارنے کو کہتی اور ان کے خلاف بھڑکاتی اور مجھے دھمکاتی کہ تم صرف مجھ سے اور میرے ماں باپ سے پیار کرو گی۔ مجھے ماں کے سامنے دادی کی کی گود میں بیٹھنے، لپٹنے کی اجازت نہیں تھی۔ حالانکہ میں دادا دادی سے لپٹنا چاہتی تھی۔ مجھے ان سے نہ لپٹنے کا بہت صدمہ ہوتا مگر میں اپنی سفاک ماں سے ڈرتی تھی اور یہ بھی دیکھتی تھی کہ کبھی کبھی مجھے دادی دادا سے پیار کرنے کی اجازت مل جاتی مگر وہ بھی چند سیکنڈ کے لئے میرے باپ کو دکھانے کے لئے۔ رفتہ رفتہ میں بھی ماں کی مکمل فرماں بردار بن گئی اور دادا دادی کو خوب تنگ کرتی۔ میں بھی ان کو دشمن سمجھنے لگی لیکن جب دادا دادی انتقال کر گئے تو مجھے شدید صدمہ ہوا اور میں احساس جرم میں مبتلا ہو گئی۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے باپ سے بات کرنے کے لئے بھی ماں کی اجازت لینا پڑتی تھی۔ اور مجھے اپنے باپ پر ترس آتا مگر میں ماں سے ڈرتی تھی۔“
پدرسری روئیے کے تحت اس قسم کے جذباتی ریپ مرد کرتے ہیں اور بچوں کو کنٹرول کر کے ان سے ان کی ماں اور ننھیال سے محبت چھین کر انہیں اینٹی سوشل بنا دیتے ہیں۔ جبکہ اس جدید اور تعلیم یافتہ دور میں عورت قانون کا سہارا لیتے ہوئے دھونس سے بچوں کو ان کے باپ اور ددھیال چھین کر اپنے ہی بچوں کی جذباتی صحت داؤ پر لگا دیتی ہے اور اس گھناؤنے ریپ کی مرتکب ہوتی ہے۔
رشتوں کے تقدس کی پامالی اور محبتوں سے دوری بچے کو اینٹی سوشل بناتی ہے۔ والدین کو اپنے حاسدانہ جذبات کو کنٹرول کرنے کے لئے علاج کی ضرورت ہے۔ تب ہی روح کے تشدد اور ریپ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
۔


