جینا ہو تو ایسے جیو


عمر کی نصف سنچری مکمل ہونے پر انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت عجیب و غریب خیالات کا حصار اپنے گرد باندھ لیتا ہے۔

مگر صنوبر ایسی نہیں ہیں۔ انہیں جب بھی دیکھا ایک خوش گوار حیرانی بھی ہوئی اور یہ خواہش بھی پیدا ہوئی کہ صنوبر جیسی زندگی، ماں باپ، بہن بھائی، بیٹیاں اور شوہر ہر لڑکی کا نصیب ہو۔

صنوبر کی خوش قسمتی تھی کہ ان کا میکہ اور سسرال دونوں ہی ذہنی اور علمی طور پر روشن خیال اور باشعور تھے۔

صنوبر حیران کن شخصیت کی مالک ہیں۔ تاریخ میں ماسٹر کی سند حاصل کی ہے اور مختلف فلاحی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ سماجی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔

انہیں بچپن سے ہی فنون لطیفہ کی ہر صنف سے لگاؤ رہا ہے۔ وہ آج ایک اچھی بیٹی، شفیق بہن، دوست ماں، چارہ گر بیوی ہونے کے ساتھ ایک اچھی کالم نگار بھی ہیں، بہترین پروڈیوسر اور ہدایات کار بھی ہیں، رقص و موسیقی میں بھی خوب دل چسپی لیتی ہیں اور اس کے علاوہ یوگا میں ماہر استاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔

وہ بلاشبہ ایک انسان دوست شخصیت ہیں مجھے آج بھی یاد ہے جب میں پہلی بار ڈاکٹر ناظر محمود صاحب کا وی لاگ ریکارڈ کرنے ان کے گھر گیا تھا۔ صنوبر کو پہلی بار دیکھا تھا وہ اپنی گلی کی صفائی کرنے والے خاک روب میاں بیوی کو ناشتہ دے رہیں تھی صنوبر ناظر کو اس کا شاید احساس بھی نہ ہوا ہو مگر مجھے یہ دیکھ کر ضرور حیرانی ہوئی کیوں کہ اسلام آباد کے پوش علاقوں میں صبح سویرے ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خاک روبوں کے ساتھ ہونے والی معاشی زیادتیوں کے خلاف ہر لکھنے، بولنے یہاں تک کہ قانونی فورم پر بھی آواز بلند کی ہے۔

اب اگر ان کے تھیٹر ڈراموں کی بات کی جائے تو صنوبر نے اپنی بہن کنول کے ساتھ مل کر سوانگ گروپ کا قیام اس وقت کیا جب سنجیدہ موضوعات پر تھیٹر دم توڑ چکا تھا اور اب وقت تھا کہ وہ اپنے بچپن کی تربیت کو بروئے کار لاتیں اور ایسا ہی ہوا۔ ان کے والد نفیس صاحب دستک گروپ کے ساتھ ابتدائی دنوں سے وابستہ رہے ہیں۔ اسلم اظہر اور منصور سعید جیسے فن سے محبت کرنے والے لوگوں کے ساتھ تھیٹر کرتے رہے۔ صنوبر اپنے والد کے ساتھ دس سال کی عمر سے تھیٹر کی سرگرمیوں کو دیکھتی آئیں ہیں۔

سوانگ نے بہترین اور سبق آموز تھیٹر پیش کیے جن میں ”سو برس کی اسٹوری، منٹو راما، آزادی کے واقعات پر منٹو کے افسانوں پر مبنی ایک اور تھیٹر لکیر“ اس کے علاوہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے دن، خواتین کے عالمی دن پر بھی مختصر دورانیے کے اچھے اور معیاری ڈرامے پیش کرچکا ہے جنہیں دیکھنے والوں نے خوب داد و تحسین سے نوازا ہے۔

اگر ہم صنوبر ناظر کو بطور لکھاری دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک احساس سے بھرپور دل کی مالک ہیں۔ وہ معاشرے میں ہونے والے ظلم و زیادتی کے خلاف ایک توانا آواز ہیں۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے حالات حاضرہ، ملکی و بین الاقوامی سیاست و ثقافت اور معاشرے کے پیچیدہ مسائل پر، مسلسل لکھ رہی ہیں۔ ان کی تحریروں میں پڑھنے والوں کو اپنا پن محسوس ہوتا ہے گویا قاری کی سوچ کو زبان مل گئی ہو۔ جو لوگ معاشرے کو بدلنے اور پاکستان میں بچوں، بڑوں، مرد و خواتین اور

ٹرانس جینڈر کے چھوٹے بڑے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ خواتین جو تمام رشتوں کو اچھے سے نباہنے کے ساتھ پڑھنا لکھنا چاہتی ہیں ان کے لیے صنوبر ناظر کسی رول ماڈل سے کم نہیں ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ صنوبر کی تحریروں کا مطالعہ کریں۔

یہاں میں ان کے چند سیاسی و سماجی کالموں کے عنوانات بھی پیش کروں گا جو کئی بڑی ویب سائٹس پر پبلش ہو چکے ہیں۔ ہم سب ویب سائٹ پر ”تالہ بندی اور نسوانی ختنہ“ تین سوالات، فکر و فلسفہ، کراچی ”وہ تین دن، ایک شاگرد جسے اپنے استاد کے لباس پر اعتراض تھا، ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنانی آتی ہے“ وی نیوز ( We News ) ویب سائٹ پر ”صبح۔ شام۔ رات، خدا دیکھ رہا ہے، سیما کے سپنے اور اپنے، دوزن، خراب عورت، رودالی، محبت کی شادی یا نفرت کی، اگلے جنم موہے بٹیا ہی دیجیو، پاکستانی سیاست میں خواتین کے لیے مشکلات، پردہ گرتا ہے“ ڈی ڈبلیو (DW) ویب سائٹ پر ”تیری امت نے مرے گھر کی اہانت کی ہے، کیا واقعی ایسے بچے کند ذہن ہوتے ہیں، زمانے اب تیرے مدمقابل، کوئی کمزور سی عورت نہیں ہے، قیمتی زرعی اراضی پر رہائشی منصوبوں کی وبا، گیس لائٹنگ۔ نفسیاتی فریب کاری گر توشہ خانہ کا مقصد کچھ یوں ہوتا، جبر کے ہتھیار اور آج کی عورت، پختون خواتین کا معاشرے میں کردار، شاہ دولہ کے چوہوں کی قوم، نوجوانوں میں غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کا بڑھتا رجحان، اسلام آباد میں خاک روبوں کے استحصال کی کہانی“

صنوبر کی زندگی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے خاص طور پر ان خواتین کو جو یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ گھر داری سے وقت ہی نہیں ملتا۔ صنوبر ناظر گھر داری کے ساتھ سوشل ورکر، لکھاری اور تھیٹر گروپ بھی چلا رہی ہیں۔ ان کے گھر ناظر محمود اور خود ان کے دوستوں کی آئے روز دعوتوں ہوتی ہیں جن میں مزے مزے کے کھانوں مکمل اہتمام صنوبر خود کرتی ہیں اور ذائقہ ایسا کہ کھانے والے اپنی انگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔

صنوبر کسی کی ذاتی زندگی میں دخل نہیں دیتیں اور چاہتی ہیں کہ کوئی ان کی زندگی میں دخل اندازی نہ کرے۔ دونوں میاں بیوی دوستوں کے لیے بہترین دوست ہیں اور ہم خیال، باشعور دوست چنتے ہیں اور گلدستہ بناتے ہیں۔

میرے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ صنوبر بھابھی اور ناظر محمود جیسے قابل، سمجھ دار، باشعور اور پڑھے لکھے لوگ نہ صرف مجھے برابر کی عزت دیتے ہیں بل کہ میری لکھی تحریروں پر میری حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور یقیناً میں ان دونوں سے بہت کچھ سیکھا ہوں اور مزید سیکھ رہا ہوں۔

آج صنوبر ناظر کی پچاسویں سالگرہ کی گولڈن جوبلی منا رہیں ہیں۔ لوگ زندگی کی نصف صدی گزارتے ہیں مگر صنوبر نے یہ پچاس سال بھر پور جیے ہیں اور اس میں یقیناً ان کے والدین، بہن بھائی، شوہر اور بیٹیوں کا ساتھ دینا نہایت اہم رہا ہے۔

سالگرہ مبارک صنوبر ناظر ہمیشہ سلامت رہیں۔

Facebook Comments HS