ناول بت پرستوں کی نئی نسلیں (14)
نوٹ : بُت پرستی اُن کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو اُن کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ِہلاہل تھا، جو اُن کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بُت کو تراش کر اُس کی پُراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود اُن کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اُسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بُت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بُت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
************
چودہواں باب
گدھ اور مرتا ہوا آدمی
*********************
فضل داد کے ہسپتال پہنچنے تک یہ خبر پورے ملک پور، روشن آباد اور آس پاس کے دیگر علاقوں کے علاوہ تمام حکومتی حلقوں میں بھی پہنچ چکی تھی۔ روشن داد اور عروسہ فضل کے بعد سب سے پہلے فضل داد کی دونوں بہنیں اور دونوں بہنوئی ہسپتال پہنچے۔
ملک پور، روشن آباد اور منسلک علاقہ جات میں نہایت غم کے ماحول کے ساتھ ساتھ ایک غصہ بھی پوری طاقت سے پل رہا تھا۔ وہاں کے مکین یہ جاننے کے لئے سخت بے چین تھے کہ یہ مذموم حرکت کس نے اور کس کے ایما پر کی ہے؟ انتقامی جذبہ کا الاؤ اس قدر بلند تھا کہ اگر انہیں اصل مجرم کی خبر ہو جاتی تو وہ شاید اُس کو جلا کر راکھ کر دیتے۔
حکومتی حلقوں تک خبر پہنچتے ہی پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے بھی حرکت میں آ چکے تھے۔ اس کے باوجود گجو کی کوئی خبر نہیں تھی۔ اُسے تو جیسے زمین نے نگل لیا یا آسمان کھا گیا تھا۔ ملک ہاؤس کے کیمروں کے علاوہ وہ کہیں نظر بھی نہیں آ رہا تھا۔ پورے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں میں اُس کی ایک جھلک تک موجود نہیں تھی اور نا ہی کسی نے اُسے کبھی یہاں دیکھا تھا۔
ملک ہاؤس اور ہسپتال کے باہر بہت سے غم زدہ لوگ جمع تھے۔ وہ ملک فضل داد کے بارے میں پل پل کی خبر رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بے شمار گھروں میں ماتم کا سماں تھا۔ لاکھوں ہاتھ فضل داد کی صحت و سلامتی کی دعاؤں کے لئے اُٹھے ہوئے تھے۔ لوگ کلام ِ پاک پڑھ پڑھ کر خدا کے حضور گڑ گڑا رہے تھے۔
اُدھر ملک فضل داد ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں موت کے خلاف جنگ میں مصروف تھا۔ ماہر ڈاکٹروں کی مسلسل پانچ گھنٹے کی محنت اُس کا معدہ خالی کرنے میں لگی۔ اس عمل کے دوران وہ کومے میں چلا گیا اور اس وقت وہ صرف مشینوں کی مدد سے ہی زندہ تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق اچھی خبر یہ تھی کہ زہر، دل کی بجائے دماغ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اگر وہ براہ ِ راست دل پر اثرانداز ہوتا تو فوراً موت واقع ہو سکتی تھی۔ دماغ پر اس کے اثرات بھی بے شک کم نقصان دہ نہیں تھے البتہ اس میں زندہ بچ جانے کا امکان کافی حد تک موجود تھا۔ بے شک اُس کے ہوش میں آنے کی بھی ابھی پوری امید نہیں تھی اور ہوش آنے پر ہی کسی نقصان کی درست خبر مل سکتی تھی۔
عروسہ فضل اور روشن داد، دونوں متفق تھے کہ اگر ضرورت ہو تو فضل داد کو کہیں یورپ یا امریکہ کے کسی بڑے ہسپتال لے جایا جائے۔ لیکن ڈاکٹروں کا استدلال تھا کہ اس حالت میں کوئی بھی حرکت کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اُن کا مشورہ تھا کہ پہلے اُس کے ہوش میں آنے کا انتظار کیا جائے۔ روشن داد کی دونوں بہنیں اور پھوپھیاں بھی ڈاکٹروں کی رائے سے اتفاق کر رہی تھیں۔
دوپہر کے فوراً بعد پیر علیم الدین شاہ اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ ملک ہاؤس پہنچا۔ روشن داد کے وہاں موجود نہ ہونے پر وہ ہسپتال پہنچے اور روشن داد سے مل کر اس سانحہ پر گہرے غم اور تشویش کا اظہار کیا
”اگر ملک فضل داد جیسے مقبول اور محبوب سیاسی لیڈر پر اس طرح کا حملہ ہو سکتا ہے تو ہم بے چارے تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں۔ لیکن یہ جو کوئی بھی ہے ہمیں مل کر اُس کا سراغ لگانا اور اُسے کیفر ِ کردار تک پہنچانا پڑے گا“ ۔
پیر علیم الدین شاہ اور اُس کے بھائی کچھ دیر وہاں موجود رہے اور پھر پیر علیم الدین شاہ نے روشن داد سے مزید کہا
”اگر آپ کو کسی بھی مدد کی ضرورت پڑے تو مجھے صرف ایک کال کیجئے گا۔ میں اور میرے بندے فوراً حاضر ہو جائیں گے۔ ملک فضل داد کے ہم پر بہت احسانات ہیں۔ ہم اُس کے دشمن کو چین سے نہیں رہنے دیں گے“ ۔
اس کے بعد وہ سب روشن داد سے اجازت لے کر چلے گئے۔
*****************
احمد دین نے اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیا، پانچ ڈالے کلاشنکوفوں والے بندوں سے بھرے اور پلوشہ پاشا کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ اُس کے گیٹ پر تو بس ایک چوکیدار تھا، جو انٹر کام پر گھر کے اندر خبر دیتا تھا کہ کون آیا ہے۔ احمد دین کی پراڈو اور ساتھ میں کلاشنکوفوں والے بندوں سے بھرے ہوئے پانچ ڈالے دیکھتے ہی چوکیدار نے بغیر کچھ پوچھے ہی گیٹ کھول دیا۔
پلوشہ اتفاق سے اوپر والی منزل میں بیٹھی کھڑکی سے سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ احمد دین، نیاز علی اور فراز علی اُس کے دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ وہ باہر آ گئی۔ اس ماحول میں اُس نے سلام دعا کی ضرورت بھی نہ سمجھی
”آپ لوگ، اس وقت؟ اس طرح؟ اور وہ بھی بغیر اطلاع دیے؟ خیریت تو ہے؟“ ۔
اُس نے نہایت بارعب انداز میں سوال کیا۔
”ہم لوگ تم سے بات کرنے آئے ہیں“ احمد دین بولا
نیاز علی اور فراز علی، باپ کے کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے پلوشہ کو گھور رہے تھے۔
”ہم لوگ، کیا مطلب؟ آپ سب لوگ مجھ سے بات کرنے آئے ہیں؟ ایک اکیلی لڑکی کا سامنا کرنے کے لئے آپ کو اتنے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے؟“ ۔
احمد دین نے دونوں بیٹوں کو پیچھے ہٹایا اور باقی لوگوں کو بھی اشارہ کیا تو وہ بھی اپنے اپنے ہتھیار لے کر پیچھے ہٹ گئے۔
”بات تو میں اکیلا ہی کروں گا۔ یہ لوگ تو ایسے ہی جوش میں آ گئے ہیں میرے ساتھ“ ۔
”تو بتائیے؟ یہیں کھڑے کھڑے بات کرنی ہے یا ہماری گفتگو اندر بیٹھ کر بھی ہو سکتی ہے؟“ ۔
”احمد دین جواب میں خاموش رہا تو پلوشہ نے لہجے کو ذرا مہذب کر لیا
”تو آ جائیے، تشریف لائیے، میرے گھر میں بیٹھنے کے لئے کافی جگہ ہے“ ۔
احمد دین اندر جانے لگا تو دونوں بیٹے بھی اُس کے ساتھ آگے بڑھے۔ احمد دین نے دونوں کو باہر ہی روک دیا اور خود پلوشہ پاشا کے ساتھ اندر چلا گیا۔
پلوشہ اُسے لے کر آگے بڑھی تو دو خادمائیں جو اِس دَوران اُس کے پیچھے آ کھڑی ہوئی تھیں، اُس کے ساتھ ہو لیں۔
کمرے میں پہنچ کر پلوشہ نے دونوں خادماؤں کو اندر بھیج دیا۔ خود ایک صوفے پر بیٹھ گئی اور احمد دین سے بھی بیٹھنے کی درخواست کی۔
احمد دین کے بیٹھتے ہی اُس نے بات شروع کی
”آپ ہمارے بڑے ہیں۔ میں تو یہاں آپ کی سرپرستی میں ہی جی رہی ہوں۔ میری ماں اور نانی دونوں بڑے ملک صاحب اور آپ کی شکرگزار رہتی ہیں۔ آپ کو جو بھی کام تھا، آپ مجھے کسی کتے کے ہاتھ بھی پیغام بھیجتے تو میں حاضر ہو جاتی۔ آپ یہ جانتے بھی تھے تو پھر آپ نے یہ سب تکلف کیوں کیا؟“ ۔
”بات فوراً کرنے کی ضرورت پیش آ گئی تھی لڑکی! اس لئے یوں اچانک آنا پڑا۔ تم جانتی ہی ہو گی ملک صاحب کے بارے میں“ ۔
”جی جانتی ہوں اور میرے لئے یہ نہایت دکھ کی بات ہے۔ پتہ نہیں اب ہمارا کیا ہو گا! ہم اُن کی چھتر چھایا میں بہت آرام کی زندگی گزار رہے تھے“ ۔
”تو پھر تم اس سازش کا حصہ کیوں بنی؟“ ۔
”کیسی سازش؟ آپ کیا بات کر رہے ہیں؟“ ۔
”ملک فضل داد صاحب کو قتل کرنے کی سازش“ ۔
”اگر ایسی کوئی سازش ہوئی ہے تو بخدا مجھے اس کا کوئی علم نہیں“ ۔
”جھوٹ مت بولو! ابھی کچھ دن پہلے تم پیر علیم الدین شاہ کے گھر گئی اور کافی دیر اُس کے گھر میں رہی۔ بولو کیا جھوٹ ہے؟“ ۔
”مجھے تو کوئی بھی با اثر آدمی بلائے، میں ملنے چلی جاتی ہوں۔ یہ میرے کاروبار کا حصہ ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ایسی گھناؤنی سازشیں کرتی پھرتی ہوں“ ۔
”تم جھوٹ بول رہی ہو! تم یقیناً اس سازش کا حصہ ہو“ ۔
پلوشہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئی
”میں اور ہزاروں اچھے برے کام کرتی ہوں لیکن میں کبھی کسی بھی قتل کا حصہ نہیں بن سکتی۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ مجھ پر کوئی بھی الزام لگائیں مگر اس تہمت کا بوجھ مجھ پر مت ڈالیں“ ۔
”اچھی طرح سوچ لو لڑکی! اگر کل کو ثابت ہو گیا کہ تم اس قتل کی سازش کا حصہ تھیں تو میں تمہارے سمیت تمہارا سارا خاندان جلا کر راکھ کر دوں گا ”۔
وہ نہایت ٹھوس لہجے میں بولی
”میں آپ کو اس کی زحمت نہیں دوں گی میاں احمد دین صاحب! اگر کسی دن مجھے ایسا کوئی کام مجبوری میں بھی کرنا پڑ گیا تو میں خود ہی اپنے آپ کو اپنے پورے خاندان سمیت آگ کی نذر کر دوں گی“ ۔
”بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ! اور یہ مت بھولو کہ تم اپنی ہمت سے بڑی بات کر رہی ہو“ ۔
”آپ کو پھر میری ہمت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ آج تک آپ کا واسطہ شاید منافق اور بزدل مردوں سے ہی پڑا ہے، کسی با اصول طوائف سے نہیں پڑا۔ ملک فضل داد صاحب تو اس سارے علاقے کے لئے احترام کی جگہ ہیں اور میں تو اُن کی غلام ہوں۔ اگر کوئی مجھے بڑے سے بڑا لالچ دے کر کسی گلی کے کتے کو بھی قتل کرنے کے لئے کہے تو میں کبھی نہ کروں۔ میں پُشت ہا پُشت سے ایک اصلی اور نسلی طوائف ہوں۔ ہمارے اصول ہمیں کسی خون خرابے کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ لیکن پھر بھی اگر کبھی آپ کو ایسا کوئی ثبوت مل جائے تو مجھے صرف میسج لکھیے گا، میں سزا پانے کے لئے خود حاضر ہو جاؤں گی“ ۔
اب کھڑا ہونے کی باری احمد دین کی تھی
”جو کچھ تم کہہ رہی ہو، اگر یہ سچ ہے تو تم قاتلوں کا سراغ لگانے کے لئے ہماری مدد کرو۔ میں تمہاری طرف سے کسی خبر کا انتظار کروں گا ورنہ میں تمہیں اس سازش کا حصہ دار سمجھوں گا“ ۔
اور وہ باہر جانے لگا تو پلوشہ نے اُسے پیچھے سے آواز دی
”چائے تو پی کر جائیے! میں آپ سب کے کھانے کا بندوبست بھی زیادہ سے زیادہ آدھ گھنٹے میں کرا سکتی ہوں“ ۔
”تمہیں جو کہا گیا ہے تم وہ کرو“ ۔
اور احمد دین باہر نکل گیا۔
*************
آئی سی یو وارڈ میں بہت سی مشینوں اور نالیوں کے سہارے، فضل داد سانس تو لے رہا تھا مگر اُس کے ہوش میں آنے کے امکانات دُور دُور تک نظر نہیں آ رہے تھے۔ ڈاکٹر مکمل طور پر مایوس تو نہیں ہوئے تھے مگر اُن کی امید بھی اب دھندلا رہی تھی۔ انتظار کے سوا کچھ اور ابھی ہو نہیں سکتا تھا، اس لئے ڈاکٹروں نے اصرار کر کے عروسہ فضل، روشن داد، جمیلہ، ثریا، فیاض احمد اور نیاز احمد کو گھر بھیج دیا تھا۔
رخشندہ فضل اور تابندہ فضل پہلے ہی گھر جا چکی تھیں۔ دونوں نے اپنے دفتروں سے تو چھٹی لے لی تھی مگر بچوں کو بھی سکول نہیں بھیجا تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہ جلد از جلد گھر پہنچ کر بچوں کی خبر لیں۔ اُن کا پروگرام جلد ہی واپس آنے کا بھی تھا۔
ملک ہاؤس میں نوکر چاکر سب کام کاج تو کر رہے تھے مگر یوں گماں ہوتا تھا جیسے گھر کے تمام در و دیوار اور ہر شے پر موت پہرہ دے
رہی تھی۔
عروسہ فضل نے گھر آتے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں میں موجود اپنے واقف کاروں سے رابطہ کیا تو وہ ملک ہاؤس آ کر اُس سے ملاقات کے لئے راضی ہو گئے۔ وہ چاہتی تھی کہ اگلا کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے وہ اپنے ان کولیگ نما دوستوں سے صلاح مشورہ کر لے۔
روشن کی مکمل توجہ باپ کی صحت پر مرکوز تھی۔ اگر کسی نے اُس سے کچھ پوچھا بھی تو اُس کا یہی جواب تھا کہ پہلے وہ اپنے باپ کو بچانے کی ہر ممکنہ کوشش کرے گا۔ اُس کا خیال تھا کہ جس کسی دشمن نے بھی یہ جرات کی ہے اُس سے کسی بھی وقت بعد میں نمٹا جا سکتا ہے مگر اس وقت پہلی ترجیح اُس کے باپ کی زندگی کو دی جانی چاہیے۔
***************
اُدھر ملک پور کی حویلی میں سینکڑوں لوگ جمع تھے۔ ان میں عورتیں، بچے بوڑھے سبھی شامل تھے۔ وہ سب فضل داد کے بارے میں اس سانحہ کی خبر سن کر آئے تھے۔ اُن میں سے بہت سے کے گھروں میں تو صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی۔
احمد دین اور اُس کے دونوں بیٹے، روشن داد کی ہدایت کے مطابق ملک پور کی حویلی میں موجود لوگوں کو تسلی دینے کے علاوہ اُن کے کھانے پینے کے انتظامات بھی سنبھالے ہوئے تھے۔
یوں تو سارا علاقہ ہی جیسے کسی متوقع المیے سے سہما ہوا اور غم زدہ تھا لیکن منشی چراغ دین کی حالت بہت خراب تھی۔ ایک تو بڑھاپا اور بڑھاپے کے کئی امراض، اس پر یہ خبر کہ اس وقت فضل داد زندگی اور موت کی کشمکش میں گھرا ہوا ہے۔
منشی چراغ دین نے ملک جہانداد اور ملک فضل داد، ہر دو کے ساتھ مل کر اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے دل و جان سے محنت کی تھی۔ اُسے فضل داد سے پیار تو تھا ہی لیکن وہ اپنے بچوں کی عمر کے اس مالک کا احترام بھی کرتا تھا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ فضل داد کے بارے میں کسی خبر نے نور بانو کو بھی دُکھی کر دیا تھا۔ کچھ عرصہ سے نور بانو بھی فضل داد کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے لگی تھی۔ ورنہ تو وہ اُس کے نزدیک ایک بزدل دولت مند سے زیادہ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا۔
************
ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد نے جب سے ملک فضل داد کے ساتھ مل کر کام شروع کیا تھا، یہ پہلا موقع تھا کہ وہ کسی معاملے میں فکر مند ہوئے تھے۔ بے شک انہوں نے اپنے کاروبار بہت ہنرمندی سے سنبھالے ہوئے تھے مگر اُن کی سیاست تو فضل داد کی حکمت سے ہی چل رہی تھی۔ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ اس میدان میں کوئی خاص جوہر نہیں دکھا سکے تھے۔ اس وقت اگر اُن کے بزنس اُن کی سیاست کے ممد و معاون ثابت ہو رہے تھے تو اُن کی سیاست بھی اُن کے کاروباروں کو سہارا دیے ہوئے تھی۔
*************
پولیس اور دیگر اہم اداروں کے چند افسران دوست، ملک ہاؤس میں جمع ہوئے۔ سب نے متفقہ طور پر عروسہ فضل پر واضح کیا کہ جب تک ’گجو‘ گرفتار نہیں ہو جاتا یا کسی گروہ کے ساتھ اُس کے رابطوں کے ثبوت نہیں مل جاتے، تب تک کسی پر بھی صرف شک کر کے اُسے گرفتار کرنا ایک خطرناک عمل ہو گا۔
عروسہ فضل تو یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ جس پر بھی شک ظاہر کرے گی اُسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔ تفتیش ہو گی اور اصل مجرم سامنے آ جائے گا۔ لیکن اب یہ جان کر وہ اور بھی غصہ کا شکار ہو رہی تھی کہ وہ اس وقت کتنی بے بس ہے۔ غصہ تو اُسے خود پر بھی آ رہا تھا کہ کیوں اُس نے رحم کھا کر ایک اجنبی بچے کو گھر میں رکھا اور فضل داد کی زندگی سے کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا۔
”پیر علیم الدین شاہ اور اُس کے بھائیوں پر ایسے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ہاتھ ڈالنا تو فائر بیک بھی کر سکتا ہے“ ایک پولیس افسر کا خدشہ تھا۔
”اگر ہمیں وفاقی سطح پر اس تفتیش کی اجازت مل جائے تو ہم گجو کو کہیں نہ کہیں سے ضرور تلاش کر لیں گے اور پھر ہمارا کام نسبتاً زیادہ آسان ہو جائے گا“ دوسرے افسر نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
”وفاق سے اجازت دلانا میرا کام ہے“ عروسہ فضل نے دعوٰی کیا تو سب افسران نے اُسے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
***************
پلوشہ پاشا نے اپنا ٹیلیفون استعمال کرنے کی بجائے کسی ذمہ دار ذریعہ سے پیر علیم الدین شاہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، جو منظور کر لی گئی۔ پلوشہ ہی کے کہنے پر شہر کی ایک ایسی پارک کو اس گفتگو کے لئے چُنا گیا، جہاں شام کو کافی رش ہوتا تھا۔
دونوں طے شدہ وقت پر مقررہ پارک میں پہنچے۔ بہت سارے دوسرے لوگوں کے درمیان، وہ تھوڑے فاصلے پر اس طرح چل رہے تھے گویا دونوں کو وہاں ایک دوسرے کی موجودگی کا علم ہی نہیں تھا۔ پہلے سے تجویز کیے گئے طریقہ کے مطابق وہ ایک ایسے دوہرے بنچ کی تلاش میں تھے۔ جس پر دونوں ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ سکیں۔ تاکہ اگر کسی کی نظر بھی پڑے تو اُن میں سے صرف ایک فرد پر پڑے۔
اتفاق سے انہیں ایک بڑے درخت کے نیچے اُن کا مطلوبہ بنچ خالی مل گیا۔
اب وہ دونوں اکیلے اکیلے ہی وہاں بیٹھے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو نہیں جانتا۔
بات علیم الدین نے شروع کی
”تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟ تم کتنی بار بغیر اجازت اور اطلاع کے میرے پاس آ چکی ہو۔ آج بھی آ جاتیں“ ۔
”آج یہ ممکن نہیں تھا شاہ جی۔ میری ہر حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے“ ۔
”تم جانتی ہو میں کتنا مصروف آدمی ہوں۔ پھر سو سجن سو دشمن ہیں میرے۔ میں اس طرح بغیر سیکیورٹی کے کہیں آ جا نہیں سکتا“ ۔
”سیکیورٹی کے بغیر تو آپ آج بھی نہیں ہیں اور آپ کے گارڈز کو میں دیکھ بھی سکتی ہوں۔ بے شک دوسرے لوگوں کو وہ نظر نہیں آ رہے“ ۔
”تم کام بھی بات کرو۔ کیوں بلایا ہے مجھے؟“ ۔
”آپ نے ایسا کیوں کیا شاہ جی؟“ ۔
”کیوں؟ کیا کِیا ہے میں نے؟“ ۔
”یہی ملک فضل داد کو مروانے کی کوشش“ ۔
”تمہارا خیال بالکل غلط ہے۔ یہ جو بھی معاملہ ہے، اس سے میرا یا میرے بھائیوں کا کوئی تعلق نہیں“ ۔
”لیکن اُس دن جب آپ نے مجھے گھر بلایا تھا تو آپ نے کسی کو راستے سے ہٹانے کے لئے میری مدد طلب کی تھی“ ۔
”مدد طلب کرنے کے معاملے میں تمہارا کہنا درست ہے لیکن وہ سلسلہ کچھ اور تھا۔ پھر میں کسی کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا اور ابھی بھی چاہتا ہوں۔ راستے سے ہٹانا، مطلب اپنے کاروباری راستے سے ہٹانا۔ میں کسی کو قتل کرانا نہیں چاہتا تھا۔ اور ملک فضل داد سے ہماری سیاسی مسابقت ضرور ہے مگر وہ صرف سیاست تک محدود ہے۔ سیاست سے الگ وہ ہمارا بہت اچھا دوست ہے۔ ہم اُس کے بڑے خیر خواہوں میں سے ہیں“ ۔
”آپ نے اُسی وقت ایک کال کے آنے پر مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کا کوئی خود کش بمبار آپ کے دشمن کی صفوں میں پہنچ چکا ہے۔ ملک فضل داد کو مارنے کی کوشش بھی جس لڑکے نے کی ہے وہ آپ کا خود کش بمبار ہی لگتا ہے“ ۔
”یاد کرو میں نے کیا الفاظ استعمال کیے تھے۔ میں نے کہا تھا کہ میرا ایک خود کش بمبار میرے دشمن کی صفوں میں شامل ہو گیا ہے۔ میں نے اپنے دشمن کی بات کی تھی۔ ملک فضل داد سے کبھی بھی ہماری دشمنی نہیں رہی۔ نہ اُس کی طرف سے اور نا ہی ہماری طرف سے“ ۔
”تو پھر آپ کا دشمن کون ہے؟“ ۔
”وہ کوئی اور ہے اور اُس سے بڑی پرانی دشمنی ہے۔ لیکن وہ بھی صرف کاروباری دشمنی ہے“ ۔
”کیا آپ مجھے اُس دشمن کا نام بتانا پسند کریں گے؟“ ۔
”نہیں، اس وقت تو یہ ممکن ہی نہیں رہ گیا“ ۔
”کیوں۔ ؟“ ۔
”حالات بہت خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ہمیں بہت احتیاط برتنا پڑے گی۔ اس لئے میں نے اپنے بندوں کو فی الحال اُس کام سے بھی روک دیا ہے“ ۔
”لیکن ملک فضل داد کے لوگ تو آپ پر ہی شک کر رہے ہیں“ ۔
”وہ اس وقت صدمے کی حالت میں ہیں اور مجھے اُن سے دلی ہمدردی ہے۔ مجھے امید ہے کہ فضل داد بچ جائے گا اور اُس کے صحت یاب ہوتے ہی اُس کے بندے بھی اس شک سے باہر آ جائیں گے“ ۔
”آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہاں آنے کی زحمت گوارا کی“ ۔
”کوئی بات نہیں۔ بہرحال اب تم اپنا دل صاف کر لو“ ۔
”مکمل طور پر تو دل اُسی وقت صاف ہو سکے گا جب ملک فضل داد کا کوئی اور دشمن اس واردات کی ذمہ داری اُٹھا لے گا۔ آپ کا ایک بار پھر شکریہ۔ میں اب چلتی ہوں“ ۔
اور وہ اُٹھ کر چلی گئی۔
پیر علیم الدین شاہ اُس کے جانے کے بعد بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا کہ اُس کے گارڈز آ گئے۔
علیم الدین کا بھائی کلیم الدین بھی اُن کے ساتھ تھا۔ اُس نے بھائی سے پوچھا
”کیا کہہ رہی تھی یہ گشتی؟“ ۔
”کچھ نہیں۔ بس فضل داد کی ہمدردی کا بخار چڑھا ہوا ہے سالی کو“ ۔
”آپ کہیں تو ابھی اتار دیتے ہیں۔ ابھی کہیں راستے میں ہی ہو گی“ ۔
”نہیں نہیں، تم لوگوں نے کچھ نہیں کرنا۔ میں اس ستر خصمی کے ساتھ اپنے طریقے سے نمٹوں گا“ ۔
***************
عطا محمد صبح خبر ملتے ہی ہسپتال پہنچ گیا تھا اور پھر روشن داد کی ہدایت پر روشن آباد اپنے دفتر چلا گیا تھا۔ شام کو دفتر کا کام ختم کر کے وہ دوبارہ ہسپتال پہنچا تو اُسے خبر ملی کہ ملک فضل داد کی حالت میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس واپسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ راستے میں اُسے بیوی کے ایک کام کی وجہ سے مارکیٹ میں رکنا پڑا۔
جب وہ مارکیٹ سے فارغ ہو کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا جہاں کچھ اندھیرا سا تھا، تو اُسے تین مسلح لوگوں نے گھیر لیا۔ دو افراد نے اُسے گن پوائنٹ پر پچھلی سیٹ پر بٹھایا اور خود اُس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ تیسرا ڈرائیور کو گن دکھاتا ہوا پیسنجر سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک اور اس قدر تیزی سے ہوا کہ بازار کا کوئی آدمی اس کا نوٹس بھی نہ لے سکا۔
پیسنجر سیٹ والے کے حکم پر گاڑی چل پڑی۔ ماحول ایسا تھا کہ نہ تو عطا محمد کو اور نا ہی اُس کے ڈرائیور کو کسی مزاحمت کا موقع ملا۔ گاڑی جب بازار سے باہر نکل کر ایک نسبتاً ویران سڑک پر آ گئی تو عطا محمد کے اوسان بحال ہوئے۔ وہ خود بھی خاموشی سے بیٹھا حالات کا جائزہ لے رہا تھا اور اُس نے اپنے ڈرائیور سے بھی کوئی بات نہیں کی۔ کوئی آدھ گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی سڑک سے ذرا نیچے اتار کر روک دی گئی۔
ایک آدمی نے ایک مضبوط ڈوری کے ساتھ، عطا محمد کے ہاتھ اُس کی پشت پر باندھ دیے۔ دوسرے نے ایک پٹی سے اُس کی آنکھیں ڈھانپ دیں۔ اب عطا محمد کو تشویش ہوئی تو اُس نے پوچھا ”تم لوگ کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟“ ۔
ایک آدمی نے اُسے ڈانٹنے کے انداز میں کہا ”خاموش رہو اور کسی ہوشیاری کی کوشش مت کرو۔ ہم تمہیں یہاں کسی سے ملوانے کے لئے لائے ہیں۔ تمہیں قتل کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ البتہ اگر تم نے کوئی بدتمیزی کی تو قتل بھی ہو سکتے ہو“ ۔
عطا محمد کی کچھ ڈھارس بندھی۔ اُن لوگوں نے اُسے گاڑی سے اتارا اور سڑک سے دور لے جانے لگے۔ عطا محمد اب تک راستے کو یاد رکھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اب جب کہ وہ دیکھ نہیں پا رہا تھا تو وہ چلتے ہوئے اپنے قدم گننے لگا۔ پانچ چھ منٹ چلنے کے بعد اُسے ایک پک اپ وین میں بٹھا دیا گیا۔ کچھ اور لوگوں کی اس وین میں موجودگی، اُن کی باتوں سے ہی ہو گئی تھی۔ وہ بولا
”مجھے لگتا ہے، آپ لوگ مجھے کسی اور کی جگہ غلطی سے اُٹھا لائے ہیں“ ۔
وین میں سے ایک گرجدار آواز آئی ”ہمیں کوئی غلطی نہیں لگی۔ تم عطا محمد ہو۔ تمہاری ماں کا نام ثمینہ بی بی ہے اور شاہ محمد تمہارا باپ ہے۔ تم روشن آباد میں ملک فضل داد کی کمپنیوں کے چیف اکاؤنٹنٹ ہو۔ اُس کے بہنوئیوں کے بزنس اکاؤنٹس بھی تمہاری نگرانی میں ہی چلتے ہیں۔ اب بتاؤ کیا ہم غلط آدمی کو اُٹھا لائے ہیں“ ۔
”یہ تو صحیح ہے مگر میں نے ایسا کیا کِیا ہے کہ مجھے یوں اُٹھا کر لایا گیا ہے؟“ ۔
”تمہیں پیر علیم الدین شاہ صاحب نے کوئی کام کہا تھا، جو تم نے وعدہ کرنے کے باوجود ابھی تک نہیں کیا“ ۔
”اچھا، یہ بات؟ مگر اس کے لئے مجھے یوں اغوا کر کے لانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کام تو ٹیلی فون پر بھی ہو سکتا تھا“ ۔
”لیکن اب تمہیں یہ بتانا ضروری ہو گیا تھا کہ اگر کام نہیں کرو گے تو تمہاری بیوی اور بچے کو بھی یونہی اُٹھا کر غائب کیا جا سکتا ہے“ ۔
”مگر میں تو اپنے وعدے پر قائم ہوں اور پیر صاحب کے کام میں ہی لگا ہوا ہوں۔ کام مکمل ہوتے ہی میں خود رابطہ کر لوں گا“ ۔
”اتنا زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت ملک فضل داد کس حالت میں ہے۔ اگر وہ ہوش میں نہیں آ سکا یا پھر آ بھی گیا اور کسی کام کاج کے قابل نہ ہوا تو اُس کی سیاست اور بزنس ایمپائر، دونوں ختم ہو جائیں گی۔ ایسی صورت میں بھی تمہیں شاہ صاحب کی ضرورت پڑے گی“ ۔
(عطا محمد کو اس وقت یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی صحرا میں کھڑا ہے جہاں ایک آدمی مرنے کے قریب ہے۔ بہت سے گدھ اُس کے آس پاس کھڑے اُس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں )
اس کے باوجود وہ ہمت کر کے بولا
”میں شاہ صاحب کا ہمیشہ سے احترام کرتا آیا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ دیگر حالات کچھ بھی ہوں، میں شاہ صاحب کا کہا ہوا کام چند دنوں میں مکمل کر کے انہیں خبر دے دوں گا“ ۔
”دیکھ لو! یہ آخری وارننگ ہے۔ اگر کام جلد مکمل نہیں ہوا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے“ ۔
”نہیں، اس کی نوبت نہیں آئے گی“ ۔
”اگر ایسی نوبت آئی تو پھر تمہارا بہت نقصان ہو جائے گا“ ۔
عطا محمد کی یقین دہانی پر اُسے پھر گاڑی میں بٹھایا گیا، اس طرح کہ اب اُس کی اور اُس کے ڈرائیور کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ڈرائیور اُن لوگوں میں سے کوئی کر رہا تھا۔ واپسی کا سفر انہوں نے کسی اور بھی لمبے راستے سے کیا۔ پھر ایک ویرانے میں گاڑی روک کر خود غائب ہو گئے۔
جب کافی دیر خاموشی رہی تو عطا محمد نے اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی۔ اُسے حیرت ہوئی کہ اُس کے ہاتھ تو کھلے ہوئے تھے۔ اُس نے اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو دیکھا کہ ڈرائیور اُس کے ساتھ ہی بے سُدھ پڑا تھا۔ اُس نے خود ہی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور دو گھنٹے تک خجل خوار ہونے کے بعد کہیں رات گئے گھر واپس پہنچ سکا۔
*************
پانچ دن سے ملک فضل داد، کو مہ کی حالت میں تھا۔ بس ایک ہی امید سب کی ڈھارس بندھا رہی تھی کہ وہ ابھی تک زندہ تھا۔
یوں تو فضل داد سے متعلق ہر شخص ہی دُکھ میں گھرا ہوا تھا مگر روشن داد پہلے دن سے لے کر اب تک نہ صرف یہ کہ باپ کی نگہداشت میں مصروف تھا بلکہ وہ دوسرے لوگوں کو تسلی بھی دے رہا تھا۔ وہ مشکل سے چند گھنٹے سوتا تھا۔ آس پاس کے سب لوگ حیران بھی تھے اور خوش بھی کہ ایسے ناز و نعم میں پلا ہوا روشن داد، اس وقت کتنا مضبوط شخص ثابت ہو رہا تھا۔
سوائے اُس وقت کے کہ جب وہ ہسپتال میں ہوتا تھا، اُس کا موبائل ہر وقت آن رہتا۔ وہ ہر کال اٹینڈ کرتا اور ہر میسج کا جواب دیتا۔ اُسے بار بار میڈیا کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا مگر وہ اپنے اعصاب پر مکمل قابو رکھے ہوئے تھا۔
برطانیہ میں موجود اپنے دیگر دوستوں کے علاوہ کرسٹینا سے بھی وہ مسلسل رابطے میں تھا۔ کرسٹینا نہ صرف اُسے حوصلہ دے رہی تھی بلکہ ان حالات سے نمٹنے کے لئے اُس کی رہنمائی بھی کر رہی تھی۔ وہ بھی ممکنہ حد تک پورے دن کی ملاقاتوں کا احوال اُس سے شیئر کر رہا تھا اور وہ تمام سوال بھی جو اُس سے کیے جا رہے تھے۔
اس اعصاب شکن ماحول میں سات دن اور گزر گئے لیکن فضل داد کے بدن میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ اگلے دن روشن داد، باپ کے آئی سی یو وارڈ میں نہایت غم زدہ بیٹھا تھا کہ سینئر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں پہنچی۔ انہوں نے روشن داد کو بتایا کہ وہ اب بالکل مایوس ہو چکے ہیں اور مجبور ہیں کہ فضل داد کی آکسیجن اتار کر اُسے مردہ قرار دے دیں۔ ابھی وہ یہ کہہ کر باہر نکلنے ہی والے تھے کہ روشن داد نے باپ کی طرف دیکھا تو اُس نے آنکھیں کھول دیں۔ ڈاکٹروں نے قریب آ کر دیکھا تو وہ پلکیں جھپک رہا تھا۔
……………..


