تذکرہ وارث شاہ

آج ہم اپنے وطن پنجاب کے ان دو جانبازان عشق کا ذکر کرنا چاھتے ہیں جنہوں نے حسن و عشق کے موضوعات کو سدا کے لئے لا فانی کر دیا ۔ ایک ہیر اور دوسرا رانجھا ۔ جس شاعر نے اس قصہ کو خلعت دوام بخشا ہے اسکا نام سید وارث شاہ ہے ۔ قدرت نے اس عظیم الشان شاعر کو غیر معمولی ذہانت و لیاقت سے نوازا تھا جسکو اس نے بروۓ کار لاتے ہوئے ” ہیر رانجھا ” قصہ منظوم کیا ۔
جو لوگ پنجابی ادب سے نا آشنا ہیں انکے لئے وارث شاہ کا تعارف کروانا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔
وارث شاہ ایک فقیر منش اہل دل گزرا ہے جسکی پیدائش شیخوپورہ کے علاقے جنڈیالا شیر خان میں1722 میں ہوئی ۔ یہ صوفی سلسلہ ” چشتی ” سے بہت حد تک متاثر تھا ۔ تصوف میں بنیادی طور پر چار سلسلے ہیں ۔ اول چشتی سلسلہ جسکی ابتدا ایران میں دسویں صدی میں ہوئی اور برصغیر پاک و ہند میں اسکے داعی خواجہ معین الدین چشتی واقع ہوئے ہیں ۔ بقیہ تین سلسلہ قادری ‘ سہروردی اور نقشبندی ہیں ۔ اگر وارث شاہ کی ” ہیر ” کو اسکی مدت العمری کی کمائی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ اس عظیم شاعر نے اپنی شاعری میں جو لسانی اور فنی مہارتوں کا ہنر دکھایا ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے شاعر کو نصیب ہوا ہو ۔
فراق گورکھپوری نے تو وارث شاہ کو انیس اور اقبال کے ساتھ شمار کیا ہے ۔ ملاخطہ ہو :
~ ٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میں
انیس و حالی و اقبال و وارث شاہ بھی
” ہیر وارث شاہ ” کے متعلق عرش ملیسانی فرماتے ہیں :
اس میں شعر و شاعری ہے اس میں رقص و رنگ بھی
ہیر وارث شاہ کی بھی ہے رباب و چنگ بھی
وارث شاہ کا کلام جوہر قبول ساتھ لے کر آیا تھا اور اسکو ہر دلعزیزی حاصل کرنے میں اتنی کامیابی حاصل ہوئی جس کی نظیر آسانی سے نہیں ملتی ۔
گزرے وقتوں کی بات ہے جب بہت سے لوگوں کو خصوصاً پنجاب میں ہیر وارث شاہ کا بہت سا حصہ بر زبان ہوا کرتا تھا
دیہی علاقوں میں مشہور تھا :
جیس پڑھ لئی ہیر ‘ او ہو گیا فقیر
مگر اب چونکہ جدید دور آ گیا تو نوجوان نسل کی ترجیہات بھی بدل گئیں ۔ وہ پنجابی و دیگر مقامی زبانوں کے منظوم لوک قصے پڑھنا اور انھیں ازبرکرنا تو دور کی بات وہ اپنی زبان سے یکسردور ہو گئے اور اب تو پنجابی بولنے میں شرم محسوس کرنے لگے ہیں ۔
آپ اگر پڑھ نہیں سکتے تو سن تو سکتے ہی ہیں نہ ۔ ہم آپ کی یہ مشکل بھی آسان کر دیتے ہیں ۔ ویسے تو بہت سے خواتین و حضرات نے اسے اپنی آواز دی ہے مگر حنا نصر اللّه ‘ گرداس مان اور عرفان اللّه نے بہت خوش الحانی سے اس کو گایا ہے ۔ بچے ‘ جَوان اور بوڑھے سب اسکو سنتے ہیں ۔قصہ میں یا زبان میں یا طرز بیان میں کچھ ایسی دلچسپی ہے کہ آپ اسکو سنتے اکتاتے نہیں ۔ اگر پنجاب میں سعدی یا شیکسپئر کو کسی سے تشبیہ دینی ہو تو وارث شاہ سے زیادہ اس تشبیہ کا کوئی حقدار نہیں ۔ استعارے ‘ محاورات و ضرب المثال کا کثیر استعمال کیا گیا ہے یہاں تک کہ انکو اگر جمع کیا جائے تو ان سے پنجابی کی ایک بہترین اور ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے ۔ وارث شاہ کی ہیر کو پنجاب کا انسائیکلوپیڈیا کہا گیا ہے ..اس میں نہ صرف پنجابی زبان کی Variety ہے بلکہ ہر علاقے کا کلچر رہن سہن ‘ کاروبار’ کھیل کود’ شادی بیاہ کے رسم ورواج’ پنجاب میں مقیم ذاتیں’ اس دور کی موسیقی (Music) بڑی تفصیل کے ساتھ درج ہے ۔
چند شعر ملاخطہ ہوں:
الحمد خدا دا ورد كیجےعشق کیتا سو جگ دا مول میاں
پہلا آپ ہی رب نے عشق کیتا معشوق ہے نبی رسول ﷺ میاں
ترجمہ :
ہر کام کا آغاز کرتے ہوئے اللّه کا ذکر کرنا چاہئے جس نے کائنات کی تخلیق کے لئے عشق کو بنیاد بنایا اور پھر خود ہی سب سے پہلے اپنے پیارے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو اپنا محبوب بنا کر عشق کیا ۔
—–
وارث شاہ ” ہیر ” کے چہرے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
نین نرگسی مرگ ممولڑے دے
گلّھاں ٹہکیاں پُھل گلاب دا جی
بھواں وانگ کمان لاہور دِسّن
کوئی حُسن نہ اٙنت حساب دا جی
سُرمہ نیناں دی دھار وِچ پھب رہیا
چڑھیا ہند تے کٙٹک پنجاب دا جی
ترجمہ :
ہیر کی آنکھیں ہرن کی آنکھوں کی طرح چمکدار ، چھوٹی چڑیا کی طرح تیز اور نرگس کے پھول جیسی تر و تازہ ہیں۔ اس کے گال جوبن پہ آئے کِھلے ہوئے گلاب کے پھول کی طرح لگتے ہیں۔ اس کی بھنویں(Eyebrows) لاہور میں بننے والی کمان کی طرح خمدار ، اس کے حسن کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی ، یعنی حساب میں نہ آنے والا حُسن ہے۔آنکھوں کی دھار اوپر سے سرمے کے ڈورے ایسی لٹک پٹک اور سٙج دٙھج دکھاتے ہیں جیسے پنجاب کے لشکر نے ہندوستان پہ چڑھائی کر دی ہو۔
یہ قصہ پاک و ہند میں رہنے والے لوگوں کی زبان زد عام نہ ہو سکا اور صرف پنجاب تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں ٹھیٹھ پنجابی زبان استعمال کی گئی ہے ۔ جو کہ غیر پنجابی قاری کے لئے غیر دلچسپ ہے ۔ فراق گورکھپوری فرماتے ہیں کہ ” وہی شاعری امر ہوتی ہے یا بہت دنوں تک زندہ رہتی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لفظ ایسے آئیں جنھیں ان پڑھ لوگ بھی جانتے اور بولتے ہیں۔”
مثال کہ طور پر یہ چار الفاظ (کٙٹک, ٹہکیاں, مرگ, ممولڑے) کا مطلب پنجابی بولنے والوں کی کثیر تعداد کوبھی معلوم نہیں ہوگا ۔ کٹک سے مراد لشکر ‘ ممولڑا ایک چھوٹی چڑیا کو کہتے ہیں ‘ ٹہکیاں یعنی کھلتے پھول کی مانند ۔
ایک دلچسپ بات یہاں قابل غور ہے کہ اگر تو آپ کسی دوشیزہ کے حسن کے سحر میں مبتلا ہیں یا کوئی ایسا شوق رکھتے ہیں تو یہ قصہ آپکو بہت لطف دے گا ۔ لیکن یاد رہے اگر آپ کسی کے عاشق ہیں تو دوسری جانب آپ کسی کے بھائی بھی ہیں۔ جب کوئی دوسرا مرد آپکے گھر میں سے کسی عورت پر فریختہ ہونے کا گمان بھی کرے تو اپکے لئے یہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور غیرت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا فریق پے چڑھ دوڑتا ہے ۔ تب کیدو سے نفرت نہیں ‘ ہمدردی ہوتی ہے ۔ پھر ہیر سے محبت نہیں نفرت ہوتی ہے جب وہ خاندان کی عزت و آبرو پے سوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔
ڈاکٹر رشید انور کی نظم ” جے میں وارث ہوندا ” اس حوالے سے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ انہوں نے ہیر کو صرف آوارہ لڑکی جانا ہے جو اپنے ماں باپ کی عزت خاک میں ملا دیتی ہے
جے میں وارث ہوندا جے میں لکھدا ہیر کہانی
اس قصے دی ہیر نو لکھدا اتھری تے انموڑ جوانی
جنہے ماں دا مان گوایا جنہے پیو دی پت لہائی
جنہے گھر وچ چور لیاندا ماپیاں دے گھر سن لوائی
۔ پنجاب میں ہمیشہ سے ہی یہ سوچ غالب رہی ہے ۔ عورت اگر محبت کی شادی کر لے تو اس ” واحیات ” , ” بے غیرت ” اور پتہ نہیں کن دوسرے القابوں سے یاد کیا جاتا ہے۔
اگر آپ ہیر وارث شاہ پڑھنا چاھتے ہیں تو اس ضمن میں میں اپکو کچھ کتابیات تجویز کر دیتا ہوں- یوں تو بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ بہت سے اہل علم حضرات نے اسکی شرح بیان کی ہے ۔ میرے مطابق سب سے آسان اور سلیس شرح پروفیسر حمید اللہ ہاشمی نے کی ہے ۔ علی عباس جلالپوری کی” مقامات وارث شاہ ” بہترین کتاب ہے ۔ اسی طرح شہزاد احمد کا ایک مضمون ہے ” ہیر وارث شاہ ” ۔
آپ کوشش کریں خود بھی پڑھیں اور اپنے دوستوں کو بھی پڑھنے کو دیں ۔ پنجابی زبان کو دیہات اور پنڈ سے نکال کر شہر میں لائیں اور روزمرہ زندگی میں دوستوں کے درمیان پنجابی بولنے میں کوئی آر محسوس مت کریں ۔ مجھے یقین ہے وہ وقت دور نہیں جب وارث شاہ کا کلام ہماری نوجوان نسل میں وقعت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ۔

