سائنسدان ڈاکٹر سہیل زبیری سے نصف صدی کی دوستی


آج مجھے ڈاک سے ایک کتاب کا تحفہ ملا اور وہ بھی بچپن کے دوست ڈاکٹر سہیل زبیری کی لکھی ہوئی کتاب
A MYSTERIOUS UNIVERSE
کا قیمتی تحفہ۔ اس کتاب کو ایک معروف و مستند ’معتبر و معزز ادارے
OXFORD UNIVERSITY PRESS
نے چھاپا ہے۔

جب میں سہیل زبیری کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بچپن اور نوجوانی کے وہ شب و روز یاد آ جاتے ہیں جب ہم سکول اور کالج کے زمانے میں پشاور کی گلیوں اور بازاروں میں گھوما پھرا کرتے تھے اور گھنٹوں مذہب ’سیاست‘ ادب اور فلسفے پر تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔ چونکہ ہم دونوں سائنس کے طالب علم تھے اس لیے سائنس کے علم نے ہماری منطقی سوچ اور تنقیدی شعور کو بڑھاوا دیا اور ہم نے مذہب اور روایت کو چیلنج کرنا سیکھا۔ ہمیں نوجوانی میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ ہم جس معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں وہاں ہمارے بزرگوں نے

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں نے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا

اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے نوجوانی میں ہی سہیل زبیری جیسا دوست ملا جس سے میں دل کی باتیں کر سکتا تھا۔ زندگی کے ہر دور میں مخلص دوست زندگی کا انمول تحفہ ہوتے ہیں۔

ایک دن میری والدہ نے مسکراتے ہوئے مجھ سے کہا تھا
عورتیں ویسے ہی زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے بدنام ہیں تم دونوں سہیل مل کر گھنٹوں کیا باتیں کرتے رہتے ہو؟

میں نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا ہم مل کر ساری دنیا کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ایڈورڈز کالج پشاور سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں نے ایم بی بی ایس اور سہیل زبیری نے فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔زندگی کے اس موڑ پر ہمارے راستے جدا ہو گئے اور ہم دونوں زندگی کے میلے میں کھو گئے۔

کئی برسوں بلکہ کئی دہائیوں کے بعد زندگی کے ایک اور موڑ پر ہم پھر مل گئے اور مکالے کا آغاز وہیں سے ہوا جہاں پچاس برس پہلے چھوڑا تھا۔

ہم نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ نصف صدی میں ہم نے
کیا کھویا
کیا پایا
کیا سیکھا
زندگی کے کون سے راز جانے
سہیل زبیری نے مجھے انسان کی خارجی کائنات کے
اور
میں نے سہیل زبیری کو انسان کی داخلی کائنات کے راز بتائے۔

میں نے سہیل زبیری کو خط لکھے اور انہوں نے باقاعدگی سے جواب دیے۔ انہوں نے میرے مشکل سوالات کے بھی مدلل جواب دیے۔

مثال کے طور پر میں نے ان سے پوچھا کہ
WHAT IS THE RELATIONSHIP OF PHYSICS AND METAPHYSICS?

میرے لیے خوش گوار حیرت کی بات یہ تھی کہ سہیل زبیری نے میرے محبت ’شادی اور خاندان کے بارے میں چند نیم سنجیدہ اور غیر سنجیدہ سوالات کے بھی نہایت سنجیدہ اور تفصیلی جواب دیے۔

چالیس خطوط کے تبادلے کے بعد میں نے جب سہیل زبیری کو مشورہ دیا کہ ہم ان خطوط کو ایک کتاب کی صورت چھپوائیں اور اس کا نام

RELIGION, SCIENCE AND PSYCHOLOGY
رکھیں تو پہلے تو وہ بہت ہچکچائے لیکن پھر راضی ہو گئے۔

سہیل زبیری کا خیال تھا کہ ان کے سماجی و نظریاتی خیالات کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا اور مجھے یقین تھا کہ ہماری کتاب کو وہ تمام مرد و زن بڑے شوق سے پڑھیں گے جو زندگی کے بارے میں سنجیدہ رویہ رکھتے ہیں اور مذہب ’سائنس اور نفسیات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں نے سہیل زبیری کو بتایا کہ پاکستان میں میری کتاب
انسانی نفسیات کے راز
کی سینکڑوں کاپیاں بک چکی ہیں۔

کتاب چھپنے کے بعد ہم نے سہیل زبیری کو امریکہ سے کینیڈا بلایا اور انہوں نے جب فیمیلی آف دی ہارٹ میں لیکچر دیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے خیالات و نظریات کو کتنے لوگوں نے کتنی دلچسپی اور دلجمعی سے سنا۔

سہیل زبیری کتاب کی مقبولیت سے اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ہم اس مکالمے کو جاری رکھیں اور ایک اور کتاب چھاپیں میں نے ان کے مشورے پر عمل کیا اور ہم نے مل کو اس موضوع پر دو کتابیں چھاپیں۔

میں نے سہیل زبیری سے کہا کہ ہماری کتاب اردو میں زیادہ مقبول ہوگی چنانچہ میں نے نعیم اشرف سے ’جو اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو من تراجم کرتے ہیں‘ درخواست کی کہ وہ ہماری کتاب کا اردو میں ترجمہ کریں اور پاکستان میں چھپوائیں۔ اب وہ کتاب

مذہب سائنس اور نفسیات
کے نام سے چھپ چکی ہے اور پاکستان میں بہت مقبول ہو رہی ہے۔

جب سہیل زبیری کو یقین ہو گیا کہ اردو قارئین سنجیدہ مضامین پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں تو میں نے مشورہ دیا کہ آپ ’ہم سب‘ کے لیے سائنس کے حوالے سے کالم لکھا کریں۔ سہیل زبیری نے میرا مشورہ قبول کیا۔

اب جب میں ہر ہفتے ’ہم سب‘ پر ان کا کالم پڑھتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔
سہیل زبیری امریکی یونیورسٹی میں ایک پروفیسر ہیں۔ ان کی
QUANTUM PHYSICS AND OPTICS

کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب معتبر یونیورسٹیوں میں نصاب کا حصہ ہے لیکن وہ کتاب خواص کے لیے ہے۔ اب انہوں نے ایک کتاب

A MYSTERIOUS UNIVERSE
عوام کے لیے لکھی ہے جس کا قیمتی تحفہ مجھے آج ہی ملا ہے۔

میں نے سہیل زبیری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس کتاب کے چند ابواب کی تلخیص اردو میں لکھیں اور ’ہم سب‘ پر چھپوائیں تا کہ ان کے خیالات و نظریات سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔

میری نگاہ میں مذہبی شدت پسندی ’دقیانوسی سوچ‘ توہم پرستی اور اندھے ایمان کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم سائنس ’طب اور نفسیات کے علوم کو عام فہم زبان میں پیش کریں تا کہ ہمارے سکولوں اور کالجوں کے طلبا و طالبات انہیں آسانی سے پڑھ سکیں اور ان کی ذہن کی کھڑکیاں اور دل کے دروازے کھل سکیں اور وہ جدید علوم سے استفادہ کر سکیں۔

زندہ قومیں اپنے بچوں کو سوال کرنا سکھاتی ہیں۔ ان کے دانشور جدید علوم کے تراجم کرتے ہیں وہ مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں جبکہ مردہ قومیں سوال کرنے کو بے ادبی اور گستاخی سمجھتی ہیں اور ماضی پرست ہو جاتی ہیں۔ میرا ایک شعر ہے

ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں
کہاں سے آئے گا آزاد نوجواں کوئی

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ میرے بچپن کے دوست سہیل زبیری نے جدید سائنسی معلومات اور بصیرتوں کے حوالے سے عوام کے لیے عام فہم زبان میں ایک کتاب لکھی ہے اور اس کتاب کے دیباچے میں سہیل زبیری کو مفید مشورے دینے والے دوستوں میں خالد سہیل کا نام بھی شامل ہے۔

میری خواہش ہے کہ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھیں تا کہ وہ اس کتاب کی اہمیت اور افادیت جان سکیں۔
مجھے سہیل زبیری کی دوستی پر فخر ہے ایسی دوستی جو
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail