بیس ستمبر 1996ء: مرتضی بھٹو کے قتل کی بریکنگ نیوز


(رضی الدین رضی کی یاد نگاری)

جس بریکنگ نیوز کی میں آج کہانی سنا رہا ہوں۔ یہ اس پراسرار قتل کی ہے جس کی گتھی آج تک نہیں سلجھ سکی۔ اور یہ قتل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو کا تھا۔ قتل بھی اس دور میں ہوا جب بہن وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھی اور جن لوگوں نے مرتضی کو گولیاں سے چھلنی کیا تھا بعد ازاں انہوں نے بہن کو بھی اسی انداز میں قتل کر دیا۔ دونوں واقعات میں سب سے اہم سوال ایک ہی ہے جس کا آج تک جواب نہیں مل سکا اور سوال یہ ہے کہ پہلی گولی کس نے چلائی تھی؟

20 ستمبر 1996ء جمعہ کا دن تھا۔ نوائے وقت کے نیوز روم میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ نیوز روم میں 9 سے 10 بجے کے دوران کھانے کا وقفہ ہوتا تھا۔ کچھ لوگ دفتر میں ہی اور کچھ اپنے گھروں یا ہوٹلوں پر جاکر کھانا کھا لیتے تھے۔ نوائے وقت کا دفتر اس زمانے میں حسن پروانہ کالونی میں واقع تھا۔ میرا گھر چونکہ قریب ہی تھا لہذا میں کبھی پیدل اور کبھی موٹرسائیکل پرکھانا کھانے گھر چلا جاتا تھا اور آدھ پون گھنٹے میں واپس آ جاتا تھا۔ لیکن جانے سے پہلے ہم نو بجے والی ڈاک کاپی تیار کروا جاتے تھے۔ ہمارا معمول تھا کہ ادھر سے ڈاک کاپی نیوز روم سے نکلتی اور اس کے ساتھ ہی ہم بھی نیوز روم سے نکل جاتے۔ ہمارے بعد نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ، ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر جبار مفتی، سینئر مانیٹرنگ انچارج عبدالقادر یوسفی سمیت کچھ لوگ دفتر میں ہی موجود رہتے۔ اور جب ہماری واپسی ہوتی تو نو بجے کے بعد کی خبریں ہماری منتظر ہوتی تھیں۔ نو بجے تک ہم نے جو کام کیا ہوتا تھا اس میں سے کچھ خبریں ایسی ہوتی تھیں جو لوکل تک رد و بدل اور اضافوں کے ساتھ تیار ہوتی رہتی تھیں۔ کسی حادثے، کسی جلسے یا کسی کے بیان میں نئی تفصیلات شامل ہو جاتیں اور اس طرح ہم ڈاک کے بعد مڈ (Mid) اور پھر لوکل کاپی تک انہی خبروں سے کھیلتے رہتے۔ مڈ کاپی دراصل ڈیرہ غازی خان اور وہاڑی کے ایڈیشنوں پر مشتمل ہوتی تھی جو ہم گیارہ بارہ بجے کے لگ بھگ بھیجتے تھے۔ پھر حتمی تبدیلیاں لوکل ایڈیشن میں کی جاتی تھیں۔ ڈیرہ غازی خان اور وہاڑی ایڈیشن والی کاپیاں بھی کم وبیش لوکل ہی ہوتی تھیں۔ لوکل ایڈیشن میں ڈیرہ غازی خان اور وہاڑی کی نمایاں خبریں اتار کر سٹی کی خبریں فرنٹ اور بیک پر شائع کردی جاتی تھیں اور ایسی ہی تبدیلیاں اندرونی صفحات میں ہوتی تھیں۔ نوائے وقت میں اس زمانے میں رنگین تصاویر کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا لیکن ہم عموماً سات آٹھ بجے تک کی تصاویر استعمال کرتے تھے۔ ڈاک ایڈیشن میں ہی یہ کوشش کی جاتی تھی کہ لوکل تک چلنے والی تصویروں کا ہی انتخاب کیا جائے اور لے آؤٹ اس انداز میں بنایا جائے کہ لیڈ، سپر لیڈ کے ساتھ شائع ہونے والی تصاویر کو ڈاک سے لوکل تک تبدیل نہ کرنا پڑے۔ آٹھ نو بجے تک اب بھی کم وبیش تمام اہم خبریں آجاتی ہیں اور اسی لیے الیکٹرانک میڈیا پر تمام چینلوں کے خبرنامے رات نو بجے ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں۔

اس روز جب ہم وقفے پر گئے تو ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آج ہم جن رنگین تصاویر کا ڈاک ایڈیشن میں انتخاب کر رہے ہیں وہ لوکل تک نہیں چل سکیں گی۔ مجھے یاد نہیں کہ اس روز ہم نے ڈاک میں کیا خبریں لگائی تھیں لیکن ان دنوں لال مسجد کے خطیب مولانا عبداللہ کے بیٹے عبدالرشید غازی کی گرفتاری کی خبریں شائع ہو رہی تھیں (اندازہ کریں کہ کم وبیش تین عشرے قبل بھی لال مسجد انتہا پسندی کے فروغ کے لیے آج کی طرح ہی فعال تھی)۔ ان دنوں لال مسجد کے علاوہ صدر فاروق لغاری اور بے نظیر بھٹو کے درمیان اختیارات کی جنگ بھی جاری تھی۔ بعد ازاں ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور کچھ عرصے بعد فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت اسی قتل کی بنیاد پر ختم کردی جس کی میں آپ کو کہانی سنانے جا رہا ہوں۔ آج بھی مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ مرتضی کو دراصل بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے لیے ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔

کھانے کے وقفے کے بعد جب میں دفتر پہنچا تو مجھے یہی بتایا گیا کہ اہم خبر آ گئی ہے اور مرتضی بھٹو قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ ان پر یہ حملہ آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ ہوا تھا۔ ابھی ہم اس خبر سے ہی نہیں سنبھل پائے تھے کہ کچھ ہی دیر میں معلوم ہوا کہ مرتضی بھٹو زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے ہیں۔ بہن وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھی اور بھائی 70 کلفٹن کے باہر بے یار و مدد گار قتل کر دیا گیا تھا۔ بے نظیر یہ خبر سنتے ہی ہسپتال پہنچیں اور وہ بھی اس حالت میں کہ ان کے صرف ایک پاؤں میں چپل تھی۔ مرتضی ان کی آمد سے قبل دم توڑ چکے تھے۔ مرتضی بھٹو کی یہ تصویر جب دس بجے نوائے وقت کے کمپیوٹر سیکشن میں پہنچی تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ موڈیم کے ذریعے تصویر اتنی تیزی سے پہنچ جاتی ہے میرے لیے یہ بہت حیران کن تھا۔ اس رات مرتضی کے قتل کے ساتھ ساتھ ہم ٹیکنالوجی کی اس رفتار پر بھی بات کرتے رہے کہ کیسے چیزیں چند منٹ میں سیکڑوں میل کا فاصلہ طے کر لیتی ہیں۔ اب تو خیر معاملات اس سے بھی آگے جا چکے ہیں۔

مرتضی اور بے نظیر کے درمیان اختلافات کی خبریں ہمیشہ سے اخبارات کی زینت بنتی رہیں۔ مرتضی بھٹو جب 1994 میں ملتان پریس کلب میں آئے تھے تو اس زمانے میں بھی بہن کے ساتھ ان کے اختلافات چل رہے تھے۔ ملتان پریس کلب کے صدر اس زمانے میں غضنفر علی شاہی اور جنرل سیکرٹری مظہر جاوید تھے۔ مرتضی بھٹو کو مظہر جاوید نے ملک عاشق علی شجرا کے ذریعے ملتان پریس کلب آنے کی دعوت دی تھی۔ اس زمانے میں ملتان پریس کلب کے فنانس سیکرٹری کا عہدہ ہمارے پاس تھا۔ مرتضی بھٹو نے ملتان پریس کلب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جب برسراقتدار آئیں گے تو ہماری حکومت امریکہ کی نہیں صرف پاکستان کی حامی ہوگی۔

مرتضی بھٹو ، نذر بلوچ اور رضی الدین رضی – ملتان پریس کلب 1994

مرتضی بھٹو کا نام ہم نے پہلی بار 1980 ءکے عشرے میں اس وقت سنا تھا جب ہم کالج میں زیرتعلیم تھے۔ جب 16 ستمبر 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو انہوں نے مرتضی کو پاکستان سے باہر بھیج دیا تھا۔ 4 اپریل 1979 ءکو بھٹو کو پھانسی ہوئی تو دونوں بھائی لندن کے ایک فلیٹ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ چار اپریل 1979ء کے بعد اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے مرتضی بھٹو نے الذوالفقار کے قیام کا اعلان کیا اور جنرل ضیاء کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی۔ اسی تنظیم نے دو مارچ 1981 ء کو پی آئی اے کی پشاور جانے والی پرواز کو ہائی جیک کیا جس کے بعد یہ پرواز کابل لے جائی گئی جہاں فوجی افسر میجر طارق رحیم کو جہاز پر ہی قتل کر کے ان کی لاش رن وے پر پھینک دی گئی۔ ہائی جیکروں میں سلام اللہ ٹیپو کا نام نمایاں تھا۔ مرتضی کے ساتھیوں میں اس زمانے میں راجا انور بھی شامل تھے جو بعد ازاں مرتضی کے عتاب کا بھی نشانہ بنے اور پھر انہوں نے مرتضی کی دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے ”دہشت گرد شہزادہ“ کے نام سے کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے مرتضی بھٹو کے حوالے سے حیران کن انکشافات کیے اور یہ بھی لکھا کہ مرتضی کس طرح ایک کارکن کو کسی کے قتل میں استعمال کرنے کے بعد اسے کسی دوسرے کے ہاتھوں قتل کروا دیتے تھے۔ جب مرتضی اور شاہ نواز جلاوطنی کے دن افغانستان میں گزار رہے تھے تو راجا انور بھی ان کے ساتھ تھے۔ بعد ازاں انہوں نے راجا انور کو بھی جیل میں ڈال دیا۔ راجا انور یہ کہانی بھی ایک الگ کتاب میں بیان کرچکے ہیں۔

مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد اس قتل میں ملوث بہت سے کردار اسی طرح ختم کر دیے گئے جیسے لیاقت علی خان اور پھر بعد ازاں بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے ساتھ ہوا۔ ان کے قتل کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی بہن کے ساتھ ان کے اختلافات ختم ہو گئے تھے۔ 7 جولائی 1996 ءکو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں مرتضی بھٹو کی بے نظیر بھٹو کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں نصرت بھٹو بھی شریک تھیں۔ آصف زرداری کچھ دیر کے لیے ملاقات میں شریک ہوئے اور پھر اٹھ کر چلے گئے۔ اس ملاقات کے صرف دو ماہ بعد 20 ستمبر 1996ء کو مرتضی بھٹو کو اپنے ساتھیوں سمیت مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ یہ معمہ بھی آج تک حل نہیں ہوسکا کہ آصف زرداری نے مرتضی کے قتل کے بعد اپنی مونچھیں کیوں صاف کرا لی تھیں۔

Facebook Comments HS