حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم


اگلے روز محترم محمد سلیم الرحمن سے ہلکی سی ڈانٹ کھائی تو قسم سے سرشار ہو گیا۔ ہوا یوں کہ محمد حسن عسکری کے ترجمے ”موبی ڈک“ پر ایک تعارفی شذرہ لکھتے ہوئے اس ترجمے کے بارے میں مظفرعلی سید کا ایک تبصرہ یاد آیا جو انہوں نے ڈی ایچ لارنس کے منتخبات کے ترجمے کے دوران لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ

”سمندر کی زندگی، وہیل کے شکار کی تفصیلات، ملاحی کی اصطلاحات، اور دیگر کوائف اس میں ایسے تھے کہ استاد مرحوم (عسکری) کے اس ترجمے کو وہ حیثیت دینا مشکل ہے جو ان کے فرانسیسی ناولوں کے ترجموں کو حاصل ہے“

اس تبصرے کے ساتھ ہی معاً یاد آیا کہ جب مظفر صاحب کی مترجمہ کتاب ”فکشن فن اور فلسفہ“ شائع ہوئی تو ”موبی ڈک“ پر ڈی ایچ لارنس کا مضمون ترجمہ کرتے ہویئی ”موبی ڈک“ کے اقتباسات عسکری والے ترجمہ سے استعمال کرنے کے بجائیے مظفر صاحب نے انہیں خود نئیے سرے سے اردو میں ترجمہ کیا تھا کیونکہ مذکورہ سبب کی بنا پر مظفر صاحب کو عسکری والا ترجمہ کچھ بہتر محسوس نہ ہوا تھا۔

راقم کے ذہن میں تھا کہ مظفر علی سید کی اس بات پر تبصرہ کرتے اردو کے مایہ ناز مترجم محمد سلیم الرحمن نے تفنناً اپنے ایک کالم میں لکھا تھا ’اگر عسکری کے ترجمہ کے نادرست ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماہی گیری کی اصطلاحات سے واقف نہیں تھے تو کیا خود مظفر علی سید کسی زمانے میں جہازی رہے ہیں جو یہ عسکری صاحب سے بہتر ترجمہ کرنے کے قابل ہو سکے تھے؟ اس کے بعد سلیم صاحب نے مظفر علی سید کے کیے ہوئیے ترجمے کو عسکری کے ترجمے کے مقابل رکھ کے واضح کیا تھا کہ فلاں فلاں مقامات پر عسکری کا ترجمہ مظفر علی سید سے بہتر ہے‘

آج اپنا شذرہ لکھتے ہوئیے یہ بات ذہن میں آئی مگر سلیم صاحب کے کالم کا حوالہ مستحضر نہ ہونے کی وجہ سے برادرم محمود الحسن سے پوچھا تو انہوں نے بات کی تصدیق تو کی لیکن کالم کا حوالہ نہ دے سکے۔ چونکہ ”موبی ڈک“ والے شذرے پر سلیم صاحب کی بات کا حوالہ دینا چاہتا تھا اس لئے تصدیق حاصل کرنے کے لئے خاکسار نے ڈرتے ڈرتے سلیم الرحمن صاحب کو فون کر لیا۔ سلیم صاحب کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک مجھ جیسے ہیچمداں پر ہمیشہ نگاہِ شفقت رکھنا بھی ہے۔ لیکن انہیں فون کرتے ہوئے ڈر دراصل ایک اور وجہ سے لگا۔ پچھلے دنوں یارِغار اور ہمدم دیرینہ اکبر معصوم کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ایک دن اچانک سلیم صاحب کا فون آگیا اور مجھے حکم دیا کہ ” ’سویرا‘ کے گوشۂ اکبر معصوم کے لیے تم اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں اکبر پر ایک شخصی قسم کا مضمون لکھ دو“۔ میں نے اس بات کو اپنے لیے اعزاز جان کر ہامی بھرلی۔ 1989 میں جب میں لاہور میں تھا تو اس زمانے میں اکبر ایک دفعہ میرے پاس آئے تھے۔ دیگر بہت سے لوگوں کے علاوہ میں نے سلیم صاحب سے بھی اکبر کی شاعری کا ذکر کیا تھا اور یا شاید ملاقات بھی کرائی تھی۔ سال 2000 میں جب اکبر کی پہلی کتاب ”اور کہاں تک جانا ہے“ شائع ہوئی تو کراچی میں اس کی تقریب رونمائی کے لیے سلیم صاحب نے ایک پیراگراف بھی لکھ کر دیا جو میں نے اکبر کو بھجوا دیا تھا۔ وہ اسی زمانے میں ایک سوینئیر میں شائع بھی ہوا تھا۔

سلیم صاحب کے فون کے بعد میں نے اسی رات اکبر پر لکھنا شروع کر دیا مگر چار پانچ پیراگراف لکھنے کے بعد طبیعت پر کچھ ایسی روک لگی کہ پچھلے پندرہ بیس دن سے ایک سطر بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔

اسی لئے آج سلیم صاحب کو فون کرتے ہوئے کچھ ہچکچاہٹ رہی کہ وہ اس بارے میں پوچھیں گے تو میرے پاس سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن سلیم صاحب کی محبت کہ مضمون کے بارے میں کوئی بات نہیں چھیڑی اور مذکورہ مسئلے کی تصدیق کی کہ ’ہاں میں نے مظفر علی سید کے جواب میں یہ باتیں ایک کالم میں لکھی تھیں کیونکہ کہ ”موبی ڈک“ کے مذکورہ اقتباسات کا عسکری والا ترجمہ سید صاحب کے ترجمے سے بہتر تھا۔ میں نے شکریہ کے ساتھ شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے از خود بتایا کہ اکبر پر مضمون میں لکھ رہا ہوں لیکن میری رفتار سست ہے۔ جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ نرم خو، حریری مزاج اور دھیمی دھیمی آواز و انداز سے باتیں کرنے والے سلیم الرحمن کی طرف سے میرے لئے ڈپٹ ہی تھی۔ کیا ان کا کوئی مزاج دان قیاس کرسکتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا ہوگا۔ ؟

مضمون کی سست روی کے جواب میں سلیم صاحب بولے ”وہ جو آپ فیس بک خواہ مخواہ لکھتے رہتے ہیں اسے چھوڑیں اور اسی وقت میں اکبر پر مضمون لکھیں“۔

سلیم صاحب کی زبان سے سے یہ سن کر میں دھک سے رہ گیا۔ یا للعجب، وہ آدمی جو موبائیل فون تک استعمال نہیں کرتا وہ فیس بک پر میری درفنطیوں سے کیسے واقف ہے؟ میں نے پوچھا ”آپ کیسے جانتے ہیں“؟ مسکراتے ہوئے بولے ”بس کوئی آکے پڑھا جاتا ہے۔ “ تھوڑا رکے، پھر بولے ”بس اس میں سے کچھ ٹائم نکال کر اکبر پر مضمون لکھ دیں“۔ میں نے بھی کان پکڑ کر کہہ دیا ”جی ضرور“۔ سچ پوچھیے تو سلیم صاحب کی یہ بے نام سی سرزنش مجھے بہت اچھی لگی تھی۔

اردو ادب اور مغربی فکشن اور شاعری کے تراجم اور ترجمہ نگاری کی روایت سے دلچسپی رکھنے والی اگلی نسل کے لوگ تو اس درویش صفت ادیب و شاعر اور اردو و انگریزی کے منفرد کالم نگار سے خوب واقف ہیں مگر آج کے سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والی نئی پود کو شاید معلوم نہ ہو کہ محمد سلیم الرحمن کون ہیں۔ اور سچ پوچھئیے تو جو مخلوق ادبی دنیا کے غل مچاتے کف اڑاتے چنگھاڑتے ماحول ہی سے تعلق رکھتی ہو اسے یہ جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے کہ لاہور شہر میں ایک ہی وضع قطع کی زندگی گزارتا، بنا کسی بڑے ادارے سے وابستہ ہوئے، بغیر بھاری بھاری تنخواہ اور وظیفے حاصل کیے، اپنے دھن میں مگن و مست گزشتہ ساٹھ ستر برسوں سے تنِ تنہا اپنی شاعری، افسانوں اور دنیا بھر کے ادب کے تراجم سے اردو ادب کو ثروت مند کرتا اردو اور انگریزی زبان کا یہ منفرد نثرنگار کون ہے!

مگر پھر بھی آئیے انوکھی چھب والے اس خاموش طبع، سادھو منش، اپنے ہی انداز کی بامرادانہ زیست کرنے والے ادیب اور اپنے طور کے منفرد انسان محمد سلیم الرحمن کی شخصیت اور مزاج کی کچھ جھلکیاں دل کے نگار خانے سے نکال کے آپ کو دکھائی جائیں۔ اگر آپ نے اس زمانے میں میر کے شعر

شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں

دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں

کی سچی تصویر دیکھنی ہو لاہور کی ایک قدیم بستی داروغہ والا کے اس مکین کو دیکھیے جس کے نام کا خط ڈاکیہ صرف نام اور داروغہ والا، لاہور دیکھ اس کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ جو لاہور جیسے مرکز میں رہ کر لاہور کے تمام ادبی حلقوں سے بے نیاز ہے جو کسی قسم کی ادبی تقریبات میں شرکت نہیں کرتا جو کتابوں کی تقریب رونمائی میں مضمون نہیں پڑھتا۔ جو ہر قسم کی پبلک ریلیشنگ سے کوسوں دور رہتا ہے۔ مگر اس کے باوجود جو نہ صرف لاہور، نہ صرف ملک بلکہ ساری دنیا کی ادبی اور علمی سرگرمیوں سے اس حد تک واقف رہتا ہے کہ بڑے بڑے باخبر لوگ بھی ان معاملات کی آگاہی اسی کے اردو انگریزی کالموں سے پاتے ہیں۔ اسی درویش بے نوا کا نام محمد سلیم الرحمن ہے۔

سلیم الرحمن پچھلے ساٹھ ستر سال سے ان نادر روزگار لوگوں کی آخری نشانیوں میں سے ہیں جو گوشہ گیری میں رہ کر بھی جریدھ عالم پہ نقش دوام کی طرح ثبت ہوتے ہیں۔ جو لوگ ان کے مقام سے واقف ہیں وہ ان کے پاس بیٹھ کر کچھ وقت گزارنے اور ان کی باتیں سننے کو سعادت سمجھتے ہیں جب کہ ان کی بے نیازی اور توکل عالم یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ان کا نام پرائیڈ آف پرفارمنس کے لیے منتخب کیا گیا، جس کے ساتھ اب دس لاکھ روپے بھی ملتے ہیں مگر یہ درویش خدا مست کہ بیدل کی طرح اپنے ہی رنگ میں اس شعر کی مثال ہیں

عالم اگر دہند نہ جنبم ز جائے خویش

من بستہ ام حنائے قناعت بہ پائے خویش

(مجھے اھر ساری دنیا بھی بخشی جائے تو میں اپنی جگہ سے نہیں ہلوں گا۔ میںنے اپنے پیروں میں قناعت کی مہندی لگا رکھی ہے۔)

یہ سند افتخار وصول کرنے کے لیے اسلام آباد تک نہ آئے اور چٹا سا انکار کر دیا۔

جہاں تک یاد پڑتا ہے سلیم الرحمن صاحب کی رسمی تعلیم کوئی اتنی زیادہ نہیں۔ وہ علی گڑھ سے ایف ایس سی کر کے پاکستان آگئے تھے۔ ان کے والد مولانا عقیل الرحمن ندوی علی گڑھ کے ایک اسکول میں فارسی کے استاد تھے۔ مختار مسعود جیسا صاحب اسلوب نثر نگار مولانا کے شاگردوں میں سے تھا۔ آواز دوست کے آخر میں مختار مسعود نے اپنے استاد کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:

”ان میں بہت سی خوبیاں تھیں علم شاعری اخلاق خود داری۔ ان کی زندگی سادگی اور فقر سے عبارت تھی۔ ان کی نظر میں کچھ ایسا اثر تھا کہ اس کا فیض میں آج بھی اپنی زندگی میں پاتا ہوں۔ “

مختار مسعود گیارہ بارہ برس کے تھے کہ ان کی ایک تصویر پر استاد مولانا عقیل الرحمان نے سعدی کا ایک شعر اپنے خوبصورت خط میں لکھ کر کر دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ

”یہ تحریر اور تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے اور وہ نصیحت جو مولانا نے مجھے ایک بار کی تھی اس کا نقشہ بھی میرے دل پر آج تک اسی طرح محفوظ ہے میں نے اقبال کی ایک طویل نظم بھی اس شفیق استاد سے کوئی دو ہفتے تک ان کے گھر جا کر پڑھی۔ وہ اقبال کے سلسلے میں میرے خضر راہ ثابت ہوئے۔ اقبال سے ان کو بہت عقیدت تھی“۔

علی گڑھ میں آمد پر قائداعظم کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی کانپتی آواز کے ساتھ بچپن میں مختار مسعود نے جو نظم پڑھی تھی وہ بھی انہی مولانا ندوی کی لکھی ہوئی تھی اور اقبال کی ایک زمین میں تھی۔ [مختار مسعود، آواز دوست، ص 37۔ 236 ]

سادگی فقر درویشی خودداری اور علم وشاعری اور ذوق و ادب کی یہ ساری ادائیں محمد سلیم الرحمن کو اپنے والد سے ورثے میں ملی ہیں۔ علیگڑھ سے وہ جتنا پڑھ آئے تھے پاکستان آکر انہیں نہ رسمی تعلیم بڑھانے کی خواہش ہوئی اور نہ حنیف رامے کے ”نصرت“ میں دو ایک سال کے علاوہ انہوں نے کہیں نوکری کی۔ اسی ایف ایس سی کے بل پر انہوں نے یونانی کلاسیک سے لے کر جدید ترین کلاسک شاعروں اور فکشن نگاروں کے شاہکار اردو میں ترجمہ کر دیے۔ ہم جیسے سیکڑوں لوگ جو اپنے گلے میں پی ایچ ڈی کا طوق لٹکائیے پھرتے ہیں، جن کی واحد متاع یونیورسٹیوں کی کانفرنسوں میں ادھر ادھر سے اٹھائے ہوئے مسالے سے تیار کردہ مقالات پڑھنا اور تیسرے درجے کے پی ایچ ڈی مقالات سے چوتھے اور پانچویں درجے کے مقالات تیار کروا کر مزید نام نہاد پی ایچ ڈی سکالرز تیار کر کے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر ترقیاں پانا ہے ایسوں کی ڈاکٹریٹ کی حیثیت محمد سلیم الرحمن کے ایف ایس سی اور معروف نقاد اور شاعر سلیم احمد کے ایف اے کے سرٹیفیکیٹس کے آگے ایک کاغذ جتنی بھی نہیں ہے۔

سہارن پور سے چلتے ہوئے انہوں نے جس قطع کی کالر دار قمیص اور پاجامہ کو پہناوے کے طور پر ایک دفعہ اختیار کیا وہی وضع آج تک برضا و رغبت نبھائے جاتے ہیں۔ ساری زندگی لاہور میں گزار دی مگر یہ خیال تک نہ آیا کہ زمانے کے چلن کے مطابق دوسرے نام نکالنے والے ادیبوں کی طرح ڈیفنس یا گلبرگ ہی کو سدھار جاتے۔ ایک دفعہ داروغہ والا میں جو پاؤں توڑ کر بیٹھے تو پھر زندگی بھر کے لیے وہیں کے ہوکر رہ گیے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ زیادہ عرصے کے لیے لاہور سے کہیں باہر بھی کبھی گئے ہوں۔ ہفتے میں دو ایک روز جو شہر آنے کے لیے مقرر کیے تو پھر اس میں بھی تبدیلی نہ کی۔ جب تک ڈاکٹر سہیل احمد خان زندہ تھے جمعرات کی جمعرات بارہ ایک بجے کے قریب ان کے پاس اورینٹل کالج میں آیا کرتے تھے۔ وہاں سے اٹھتے مال روڈ پر ریگل کے کوآپرا پر چکر لگاتے ہوئیے صفاں والا چوک کی طرف ہولیتے۔ انہیں بسوں ویگنوں پر سفر کرنے میں کوئی عار نہ تھا۔ ایک آدھ دفعہ تو راقم کو بھی ان کے ساتھ ویگن میں سفر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

میں اس زمانے میں پنجاب سول سیکریٹیریٹ لاہور کے اندر سردار عبدالرب نشتر کے زمانے میں قائم شدہ حکومت پنجاب کے ایک ادارے ”مجلس زبان دفتری“ میں ترجمہ کا بیگار کاٹا کرتا تھا۔ ترجمہ کاری کے لیے ”بیگار“ کا لفظ میں نے کیوں استعمال کیا اس کا ذکر پھر کسی موقع پر ہوگا۔ سیکریٹیریٹ سے اورینٹل کالج زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ جمعرات جو سلیم الرحمن صاحب کے آنے کا دن ہوتا میں بارہ ساڑھے بارہ بجے اپنے افسر بالا سید باقر نقوی مرحوم سے تھوڑی سی چھٹی لے کر موٹرسائیکل کے کک پر پیر رکھتا تو سیدھا اورینٹل کالج میں ڈاکٹر سہیل احمد خان کے پاس ادارہ تصنیف و تالیف کے دفتر جا اترتا سلیم صاحب آ چکے ہوتے یا تھوڑی دیر میں پہنچ جاتے۔ ان کے آتے ہی سہیل صاحب چائے بنواتے۔ سلیم صاحب کے ہاتھ میں میں پلاسٹک یا موٹے خاکی کاغذ کا ایک چھوٹا سا لفافہ ہوتا تھا۔ اس میں سے کوئی خط یا مضمون یا اخبار کا ٹکڑا نکال کر سہیل صاحب کو دکھاتے۔ سہیل صاحب بھی انہیں ہفتے بھر کے مشاغل کے بارے میں بتاتے۔ اس دوران چائے پی جاتی اور اگلے پچھلے دنوں کی باتیں ہوتیں۔ ان دو بڑے لوگوں کے درمیان میں ہیچمدان صرف اس بات پر پھولے نہ سماتا کہ اپنے زمانے کے اتنے بڑے آدمی کے ساتھ بیٹھنا اس کی باتیں سننا نصیب ہے۔ اسی زمانے میں نے عبداللہ حسین کے ناول ”قید“ پر ایک مضمون لکھا تھا۔ سلیم صاحب کو دکھانے کی جرأت تو کبھی ہوئی نہیں ایک روز چپکے سے سہیل صاحب کو مضمون دے آیا۔ سہیل صاحب نے کسی روز وہ سلیم صاحب کے سپرد کردیا۔ سلیم صاحب نے جگہ جگہ مضمون پر کچھ نشانات لگائیے اور اسلوب اور زبان کی کچھ کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔ ان کی اصلاح کو میں نے اعزاز سمجھ کر قبول کیا اور باقی زندگی کے لیے اس طرح کی غلطیوں سے تائب ہو گیا۔ سلیم صاحب نے وہ مضمون ”سویرا“ میں شایع کیا۔ ان کی اصلاح سے گزر کر جو مضمون چھپا دیکھا تو اپنا ہی مضمون اپنی نظر میں وقار پا گیا۔

اسی زمانے میں سلیم صاحب نے مجھے کہا کہ تم انگریزی میں سائنس فکشن پڑھا کرو اور پھر خود ایک ناول لا کے بھی دیا کہ اس سے شروع کرو۔ میں کئی دن اتراتا پھرا کہ سلیم صاحب نے مجھے ناول پڑھنے کے لیے دیا ہے۔ مگر بڑی خرابی اس وقت ہوئی جب ایک روز پاک ٹی ہاؤس لاہور میں وہ ناول کسی اور نے مجھ سے اچک لیا۔ مارے شرمندگی کے میں کئی ہفتوں تک سلیم صاحب سے صرف اس لیے نہیں ملا کہ وہ پوچھیں گے کہ کتنا پڑھا تو میں کوئی جواب نہ دے پاؤں گا۔ آخر ایک روز سرجھکائے ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو جھکتے جھکتے کہہ سنائی کہ آپ کا دیا وہ ناول مجھ سے کہیں کھو گیا ہے مگر انہوں نے کمال مہربانی سے کچھ ایسا ظاہر کیا کہ جیسے کوئی بات ہی نہیں۔ بولے کہ ”کوئی بات نہیں وہ تو میں آپ کو دینے کے لیے ہی لایا تھا“ اور بات ختم۔ پھر ایسا ہی ایک معاملہ محمد خالد اختر کے ترجمہ و تلخیص کردہ ”ابن جبیر کا سفر نامہ“ کے ساتھ ہوا۔ اب صحیح یاد نہیں کہ یہ کتاب مجھے صلاح الدین محمود نے تحفتاً دی تھی یا سلیم صاحب نے۔ بہرحال اس کا مقدر بھی سائنس فکشن ناول والا ہی ہوا اور یہ بھی مجھ سے کہیں کھو گئی۔

یہ اسی زمانے کی بات ہے کہ میں پورے ہفتے جمعرات کا انتظار کیا کرتا کیونکہ اس روز سلیم صاحب سے ملاقات ہونا ہوتی تھی۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب وہ اورینٹل کالج سے نکلتے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیتا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سامنے سے ویگن پر بیٹھے ”کوآپرا“ پر معروف انگریزی کالم نگار خالد احمد سے ملتے ہوئے ریگل چوک سے ٹیمپل روڈ پر پہنچ گئیے۔ یہاں ”بک مارک“ کے نام سے شمس صاحب کا اشاعتی ادارہ تھا۔ سلیم صاحب جہاں بھی ہوتے لاہور کا ہر معقول اشاعتی ادارہ انہیں اپنا مشیر بنا کر فخر محسوس کرتا تھا۔ اپنے کلاسیکی ذوق اور مزاج کی وجہ سے سلیم صاحب کا ذہن ایک طرف یونانی و رومی اور مغربی ادب کے مہم ادبی کتب کا بحر ذخار ہے تو دوسری طرف اردو فارسی کی کلاسیکی داستانیں اور طلسم نگاریاں ان کے تخیل پر راج کرتی ہے ہیں۔ ”جہاں گرد کی واپسی“ سے لے کر یونانی ادب کے مشاہیر تک اور ادھر چیخوف کے ڈراموں اور جرمن ادب کے خزانوں سے لے کر جوزف کانریڈ کی معیت میں تاریک افریقہ کے قلب ظلمات تک کا کوئی کونا کھدرا ایسا نہیں ہے جو سلیم الرحمن کا دیکھا بھالا نہ ہو۔ ایسا آدمی اگر اشاعت گھروں کا مشیر ہو تو یہ ان اداروں کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ بک مارک تو پھر ان کا اپنا ادارہ تھا۔ دیگر بہت سی اردو کتابوں کے علاوہ اس ادارے نے سلیم صاحب کا کیا ہوا رباعیات سرمد کا اردو ترجمہ مع مقدمۂ ابوالکلام آزاد بر سرمد بھی شائع کیا تھا۔ شمس صاحب سلیم صاحب کے بہنوئی تھے۔ وہیں سلیم صاحب کے بھانجے عمران سے بھی ملاقات ہوا کرتی۔ یہ وہی عمران صاحب ہیں جن کا موبائیل فون آج بھی میرے لیے سلیم صاحب سے رابطے کا ذریعہ ہوتا ہے وہ اس واسطے کہ سلیم صاحب نے خود تو موبائل فون کا جھنجھٹ کبھی پالا ہی نہیں۔ دوپہر کے دو اڑھائی گھنٹے بک مارک پر گزارے جاتے جہاں ”سویرا“ والے چوہدری ریاض احمد بھی آ جاتے اور کبھی کبھار محمود گیلانی بھی۔ شمس صاحب سموسوں اور چائے کے ساتھ تواضع کرتے۔ بک مارک والی ان نشستوں میں میں راقم کو بھی شرکت کا موقع ملتا رہا۔

1995 سے 09۔ 2008 تک میں کا عرصہ میں لاہور سے باہر رہا۔ اس دوران سلیم صاحب سے بہت کم ملاقاتیں ہوئیں۔ کبھی کبھار خط سے رابطہ ہو جاتا تھا ورنہ انہیں فون کرنے میں تو میں جھجک کا شکار رہتا تھا۔ ایک تو یہ کہ سالہا سال کے بعد فون کرنے میں ویسے ہی کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہوتی دوسرے یہ کہ فون کال کے ابتدائی دو چار منٹ اور جملوں کے دوران مجھے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سلیم صاحب کی طرف سے کچھ شناسائی کی فضا نہیں بن پا رہی۔ جیسے درمیان میں کوئی اجنبیت کی دیوار سی ہے۔ ایک تو فون پر سلیم صاحب ویسے ہی بہت دھیمے بولتے ہیں اور پھر کم گفتاری کچھ ایسی کہ یوں لگتا جیسے سرگوشی کر رہے ہوں یا فون کال سے ان کے مشاغل یا آرام میں خلل اندازی ہوئی ہو۔ مثلا جب انہیں فون کرتا اور بتاتا کہ میں فلاں بول رہا ہوں تو آگے سے سپاٹ سی آواز آتی

”جی اچھا“، پھر خاموشی کا اک وقفہ جس سے میں اٹ پٹاپن محسوس کرتا۔ اصل بات پر آنے سے پہلے کچھ رسمی سے کلمات کا تبادلہ کرنے کے لیے پوچھتا

”جناب آپ کی صحت کیسی ہے؟ “

جواب آتا

”ٹھیک ہے“

”کیا مشاغل ہیں قبلہ آج کل؟ “

”کوئی خاص نہیں“، جواب آتا اور پھر لمبی خاموشی۔

اور میں پھر جلدی سے کام کی بات پوچھ یا بتا کر الوداعی سلام کہتا اور جواباً وعلیکم السلام کے ساتھ ہی فون بند! ہاں، خط کا جواب وہ ضرور دیا کرتے تھے مگر وہ بھی نپے تلے لفظوں میں۔ لیکن مستفسرہ بات کا جواب وہ پورا دیتے نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ! اس کم سخنی سے میرا دل بہرحال بوجھل ہو جاتا۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ 2008 میں ایک دفعہ پھر میرا لاہور جانا نکل آیا۔ اپنے پچھلے دورِ لاہور میں میں نے سات سال ادارہ ثقافت اسلامیہ میں گزارے تھے اور تین ساڑھے تین سال کا عرصہ سول سیکریٹیریٹ لاہور میں۔ مگر دوسرے دورِ ورود میں سارا عرصہ اورینٹل کالج میں رہا۔ پچھلے دور میں بھی اورینٹل کالج جانا اکثر ہوا کرتا تھا لیکن صرف ڈاکٹر تحسین فراقی یا ڈاکٹر سہیل احمد خان سے ملنے کی غرض سے۔ مگر اب کے میں اورینٹل کالج میں بطور مدرس گیا تھا۔ یہ بھی قدرت کا ایک عجیب بندوبست تھا کہ میں جس ادارے یعنی اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں بطور طالب علم پڑھنے کی آرزو کیا کرتا تھا اور نہ پڑھ سکا تھا اسی اورینٹل کالج میں اب میں ایک پڑھانے والے کے طور پہ گیا تھا جس کی تدبیر سازی میں بہت بڑا ہاتھ میرے محترم اور مشفق دوست ڈاکٹر تحسین فراقی کا تھا۔

اس دورِ لاہور کی اہم یادوں میں بھی بڑی یاد یہ ہے سلیم صاحب سے ملاقاتوں کا ٹوٹا ہوا سلسلہ جڑ گیا۔ اب میں اورینٹل کالج میں تھا مگر جمعرات کی جمعرات سلیم صاحب کے وہاں آنے کا سلسلہ موقوف ہوچکا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ سہیل احمد خان کا انتقال ہو چکا تھا۔ ویسے بھی جاپان سے واپسی کے بعد سہیل صاحب اورینٹل کالج میں زیادہ عرصہ نہیں رکے تھے۔ وہاں سے وہ جی سی یونیورسٹی میں چلے گئے تھے۔ اس دوران میں لاہور بہت کم ہی گیا مگر جب بھی گیا جی سی میں سہیل صاحب سے ملنے ضرور جاتا۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں جب میں نے محمد حسن عسکری پر اپنے کام کا ابتدائی حصہ انہیں دکھایا تو بس ایک ہی جملہ کہہ کر انہوں نے مجھے نہال کر دیا: ”عسکری کی شخصی زندگی اور ذہنی ارتقا کا اتنا بھرپور اتنا مفصل اور جامع تذکرہ اب تک نہیں لکھا گیا“۔ سہیل صاحب سے ان کبھی کبھار کی ملاقاتوں میں میں نے سلیم صاحب کو کم ہی دیکھا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ جن دنوں میں میرا لاہور جانا ہوتا وہ شاید سلیم صاحب کے شہر میں آنے کے دن نہ ہوتے ہوں گے۔

بہرکیف اورینٹل کالج میں بطور مدرس جانے کے بعد سلیم صاحب سے ملاقاتوں کا ٹھکانا ایک اور جگہ ہوگیا۔ ٹمپل روڈ پر ہی میاں چیمبر میں محمود گیلانی کا ایک اشاعتی ادارہ تھا۔ یارِ لبیب ضیا الحسن سے معلوم ہوا کہ سلیم صاحب آج کل پیر کے روز مغرب کے بعد وہاں آتے ہیں۔ تو بس پھر کیا چاہیے تھا میں بھی وہاں پہنچ جاتا۔ یہ ٹھیا محمود گیلانی کی عملداری میں تھا اور انہی کی میزبانی میں چلتا تھا۔ اس ٹھیے پر سلیم صاحب سے ملاقاتوں کا بارہ تیرہ برس کا ٹوٹا ہوا پرانا سلسلہ پھر جڑ گیا۔ اس دفعہ ان ملاقاتوں کا انداز مزاج اور ماحول میں بہت کچھ بدلا ہوا تھا سوائے چائے کے ساتھ سموسوں کی ضیافت کے۔ اور یہ کہ شمس صاحب کی جگہ اب میزبان محمود گیلانی تھے۔ محمود گیلانی جنہیں اب مرحوم لکھتے ہوئیے دکھ ہوتا ہے کلاسیکی موسیقی کے دھنی بھی تھے اور گُنی بھی۔ سلیم صاحب کی علمی اور ادبی باتوں کے ساتھ ساتھ اب گیلانی صاحب سے راگ داری کی بہت سی باتیں معلوم ہوا کرتی تھیں۔ اوپر میں نے اس مجلس کے مزاج اور ماحول میں تبدیلی کی جو بات کی ہے تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ اب سلیم صاحب کے اگلے وقتوں کے وہ پرانے ہم رتبہ ہم نشین رفتہ رفتہ کچھ مرحوم ہو چکے تھے اور کچھ کے ساتھ محفل داریاں ختم ہو گئی تھیں۔ لہذا اب سلیم صاحب کے گردوپیش منڈلانے والوں میں نوخیز ادیبوں، یونیورسٹیوں کے نوعمر طلبا، مجھ ایسے محبت کاروں اور بِرنا عقیدت مندوں کی تعداد زیادہ تھی اور سلیم صاحب بھی ان پر بہت شفقت کیا کرتے تھے۔ وہاں کے حاضر باشوں میں شاعر ادیب بھی ہوتے اور موسیقی سے ربط رکھنے اور گانے بجانے والے بھی۔ سلیم صاحب کی محبت میں یہ سب لوگ محمود گیلانی کے اڈے پر کھنچے چلے آتے تھے۔ سلیم صاحب اپنی اسی ہمیشہ والی وضع کے ساتھ اپنے ایک مخصوص صوفے پر پراجمان ہوتے۔ تازہ پالش سے چمچماتے بوٹ، کالر والی استری شدہ قمیض اور کریز دار سفید پاجامہ جو ان کا قدیم الایام سے پہناوا تھا وہ اب بھی اسی طرح تھا۔ کلین شیو گول روشن چہرہ، آنکھوں پر موٹے موٹے گول شیشوں کی عینک جس کے پیچھے سے جھانکتی تیز آنکھیں۔ بغل میں کاغذ یا پلاسٹک کا ایک لفافہ جس میں اخبارات کے کچھ تراشے کچھ خطوط یا کوئی کتاب ہوتی۔ کتاب یا کوئی تحریر پڑھنے کا انداز بھی وہی پرانا کہ کتاب آنکھوں کے اتنا قریب لاکر کر پڑھا کرتے تھے کہ پہلی دفعہ میں دیکھنے والے کو حیرت ہوتی کہ اتنا قریب سے بھلا کوئی آدمی کیسے حروف بینی کر سکتا ہے۔

ان کے گردا گرد کرسیوں پر ان کے خورد سال محبت کرنے والے طلبا اور جواں سال شاعر و افسانہ نگار بیٹھے ہوتے۔ ان میں مستقل کا حاضر باش راؤ محمد اقبال بھی ہے جس نے اپنے استاد سہیل احمد خان اور مربی سلیم الرحمن کی محبت میں اپنا اصل نام تک بھلا دیا اور دونوں ناموں کو ملا کر اپنی مستقل شناخت ”سلیم سہیل“ کے نام سے بنا لی ہے۔ یہاں احمد عطا بھی بیٹھتا ہے اور شاہد بلال بھی (یہ دونوں ہونہاربروے اورینٹل کالج میں میرے پہلے بیج کے نمایاں طلباء میں سے ہیں۔ آج آٹھ نو سال کے بعد تو یہ دونوں مشاعرہ باز و چھت پھاڑ قسم کے شاعر بن چکے ہیں مگر اس وقت بھی یہ اپنے ہم عمروں میں بہت نمایاں صلاحیتوں کے لوگ تھے۔ شاہد بلال تو بعد میں اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد میں بھی ایم فل میں میرا شاگرد رہا ہے۔ انتہائی باصلاحیت و خوش ذوق شعری مزاج رکھنے کے باوجود اپنی نہاد کے تلوّن کے سبب نے یہ جم کر کچھ کر نہیں پاتا جس کا افسوس رہتا ہے )۔ نجم سیٹھی کا گلوکار بیٹا علی سیٹھی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں سلیم صاحب کے پاس آیا کرتا ہے۔ انہی دنوں میں سنا تھا کہ اس نوجوان کا کوئی انگریزی ناول بھی آیا چاہتا ہے۔ یہاں سلیم صاحب کی سب سے کھلی گپ چلتی تھی۔ کم گو تو وہ ہمیشہ سے تھے مگر اب اجنبیوں میں ویسے لیے دیے نہیں رہتے تھے۔ اب یہ وہ پہلے والے سلیم الرحمن نہیں لگتے تھے جن کے علمی ”رعب“ کے سبب میں کبھی سہیل صاحب کے پاس بیٹھ کر خاموشی سے ان کی باتیں سنا کرتا تھا۔ کچھ ایسی طمطراق والی شخصیت تو وہ کبھی بھی نہ تھے مگر وضع داری اور اپنے رکھ رکھاؤ والے سبھاؤ کے سبب ان کا مخاطب ان سے بے تکلف ہونے میں میں ایک جھجھک سی محسوس کرتا تھا۔ مگر اب ان لونڈے لپاڑوں میں وہ بالکل انہی کی طرح بن جاتے۔ کھل کے ہنستے کھل کے بولتے تھے۔ ان کا یوں ہنسنا بولنا اور خودوں کے ساتھ برابر والوں کی سی بے تکلفی برتنا، لاریب، اس نسل کے لوگوں کے لیے بہت بڑی سعادت تھی۔ اپنے زمانے کی اردو دنیا کا ایک بڑا جدید شاعر، افسانہ نگار، کلاسیکی داستانوں و طلسم نگاریوں کا پارکھ، عالمی کلاسیکی و جدید ادب کا ذوق شناس، صاحب اسلوب نثر نگار، بے مثل مترجم اور انگریزی اردو لغت شناسی میں منفرد مقام و رسوخ رکھنے والا لسانیات کا ماہر محمد سلیم الرحمن مستقبل کے ادب کے ان معماروں کو اگر یوں وافر طور پر میسر ہے تو کوئی بدبخت ہی ہوگا جسے اپنی قسمت پر ناز نہ ہو۔

اب سلیم صاحب ادبی مجلسوں کی سیاست اور حلقوں کے سالانہ انتخاب کے موقعوں پر بننے بگڑنے والی گروہ بندیوں اور ان کی کھینچا تانی پر بھی نوجوان لکھاریوں سے گفتگو کر لیتے اور ان کی آپسی چپقلشوں سے بھی لطف اندوز ہولیتے تھے۔ سلیم صاحب کو میں نے کبھی کسی ادبی حلقے میں جاتے وہاں مضمون افسانہ یا نظم پڑھتے دیکھا نہیں تھا مگر اس مجلس کے میزبان محمود گیلانی کہ خود افسانہ نگار بھی تھے اور مجلسی تنقید کے شہ سوار بھی حلقہ ارباب ذوق کی ادبی سیاست میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے نہ صرف حصہ لیتے بلکہ اس معاملے میں وہ پورے ڈیرے دار آدمی واقع ہوئے تھے۔ یہ تو نہیں معلوم کہ انہوں نے خود کبھی حلقے کے سالانہ انتخاب میں حصہ لیا تھا مگر کسی نہ کسی حصے دار پارٹی کو با جماعت سپورٹ کرنے اور جوڑ توڑ کر کے مخالف پارٹی کے بندے ادھر ادھر سرکانے کھسکانے میں بڑا سرگرم حصہ ڈالتے تھے۔ ملکی سیاست کی طرح ادبی حلقوں کی سیاست میں بھی یہی دستور ہے عام حالات میں سب ادیب ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے مگر حلقے کے سالانہ انتخاب کا موقع جوں جوں قریب آتا دھڑے بندیاں زور پکڑتی جاتیں۔ سیاست کی یہ گرما گرمی صرف ادبی حلقوں کے جلسوں تک ہی محدود نہ رہتی تھی بلکہ نجی محفلوں کے اندر بھی اس سے پیدا ہونے والے لے کھنچاؤ کے اثرات آجاتے تھے۔ عام حالات میں ساتھ ساتھ رہنے والے بھی اس انتخابی کھینچاتانی میں لڑاکا مرغوں کی طرح پر پھیلائے اور پُھلائے رہتے تھے۔

2010 میں حلقہ ارباب ذوق کے سالانہ انتخاب کے موقعے پر مرحوم محمود گیلانی کو محسوس ہوا کہ ان کے تڈے پر سلیم صاحب کے لیے آنے والے کچھ دانے ان کے جرگے کے امیدوار کو ووٹ سپورٹ دینے کی بجائے درپردہ ان کے مخالف امیدوار کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال آئے ہیں۔ اسی بات پر اُس روز محمود گیلانی سلیم سہیل پر بگڑ بیٹھے تھے۔ انہیں لگا تھا کہ وہ مخالف دھڑے کے امیدوار کے ساتھ زیادہ ہنس ہنس کے جو باتیں کر رہا تھا اس سبب سے گیلانی صاحب کے امیدوار کی ہیٹی ہوئی ہے۔ اس بات پر اس روز وہ سلیم سہیل کو کچھ سخت سست کہہ رہے تھے۔ ان کا مخاطب پہلے تو مودبانہ انداز میں صفائی دیتا رہا مگر پھر آگے بھی سلیم سہیل تھا کہ جس کی شہرت ہی ادبی حلقوں کی تنقیدی نشستوں کی ابتدائی نرمک نرمک گفتگو کو اپنے جارحانہ جملوں اور بد لحاظ محاکموں سے تلپٹ کر دینے کی ہے، اس کی آواز بھی بلند ہونے لگی۔ گیلانی صاحب عمر میں سلیم سہیل سے خاصے بڑے اور خوش گفتار آدمی تھے مگر ان کے اندر اپنے مقابل پر چھا جانے اور اسے مغلوب رکھنے کی خواہش اور خو بھی ہوتی تھی جس کی وجہ سے حلقوں کے نشستوں میں یورشانہ بے باکی کی شناخت رکھنے والے سلیم سہیل کے اندر بھی گرمئی گفتار موجیں مارنے لگی۔ وہ دھیمے دھیمے اپنی جون میں آ ہی رہا تھا کہ ایسے میں سلیم صاحب نے خاموشی توڑی اور اپنی دھیمی و ریشمی حکمت سے سلیم سہیل کا رُخ کسی دوسرے موضوع کی طرف موڑ دیا۔ ذرا کی ذرا میں ماحول کا تناؤ رفع ہو گیا اور محمود گیلانی مرحوم بھی تھوڑی دیر کے بعد پھر موسیقی پر آگئے۔

میں اس مجلس میں جاتا تو خالص سلیم صاحب کی وجہ سے تھا مگر محمود گیلانی کی موسیقی دانی اور اس کے اسرار و رموز پر ان کی باتیں میرے لیے اضافی ضیافت کا باعث ہوا کرتیں میں ان کا ایک سنجیدہ سامع بن کر ان سے کچھ نہ کچھ استفسار کرتا رہتا اور اور لطف اندوز ہوتا جس سے گیلانی صاحب کو کلاسیکی موسیقی کے بارے میں میری ”واقفیت“ کے بارے میں کچھ خوش گمانی سی ہو گئی۔ 2010 کے آخر میں جب میں لاہور سے واپس آ گیا تو کبھی کبھار فون پر گیلانی صاحب سے ان محافل کا ذکر آتا وہ بہت خوش ہوتے اور میری موسیقی میں دلچسپی و ”درک“، جو درحقیقت کن رسیا پن کے سوا کچھ نہ تھا، کی تعریف کر کے میرے شوق کو بڑھاوا دیتے رہتے۔ بہت مدتوں کے بعد ایک روز جب گیلانی صاحب کے انتقال کی خبر ملی تو درِ دل پر جیسے بھاری پتھر سا آ پڑا۔ بہت افسوس ہوا اور پھر ان کی موت جن حالات میں ہوئی تھی وہ بھی کم دکھی کر والے نہ تھے۔ سلیم سہیل نے بتایا تھا وہ گھر میں اکیلے رہتے تھے۔ اسی اکلاپے میں کسی روز اچانک ان کا دم پرواز کر گیا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔ ان کی نقل و حمل اور معمولات کے اوقات سے واقف پڑوسیوں کو کچھ دنوں بعد شک گزرا۔ لوگ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئیے تو پتہ چلا کہ بہاولپور کے باسی اور سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں پر گزرے سانحات سے دل گرفتہ رہنے والے میجر محمود گیلانی کو گزرے تو کئی دن ہوچکے ہیں! رہے نام اللہ کا۔ دعا ہے اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائیے اور ان کے درجات بلند کرے۔

میاں چیمبر میں محمود گیلانی کے ہاں کی ان نشستوں میں ہی ایک روز سلیم صاحب نے عمران خان کے بارے میں سلطان محمود آشفتہ کی اس پیشگوئی کا ذکر کیا تھا کہ یہ آدمی کسی روز ملک کا وزیراعظم بنے گا۔ یہ ساری روداد میں نے جولائی 2018 میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے بہت پہلے ایک الگ شذرے میں بایں الفاظ لکھ بھی دی تھی:

”جملۂ معترضہ کے بعد اب آئیے آٹھ برس پرانے قصے کی طرف۔ لاھور میں یہ معمول تھا کہ ہر ہفتے پیر کے روز شام کے وقت ہم محمود گیلانی مرحوم کے کتاب گھر واقع ٹمپل روڈ پر چند احباب کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ میزبان محمود گیلانی کے علاوہ وہاں دیگر آنے والوں میں سب سے اہم شخصیت جناب محمد سلیم الرحمن کی تھی۔ سچ پوچھیے تو وہ محفل سجتی ہی سلیم صاحب کی بدولت تھی اور میں وہاں جایا بھی انہی کی زیارت اور ان سے کسبِ فیض کے لیے تھا۔ وہ نہ صرف عمر میں سب سے بزرگ تھے بلکہ اپنے ادبی مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بھی سب سے ممتاز تھے۔ یہ ان کی خوئے خورد نوازی تھی کہ ہم ایسے بے مایہ لوگوں پر بھی شفقت کرتے اور اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دیا کرتے تھے۔

مجلس کا کوئی موضوع طے نہ ہوتا تھا جو بات بھی چھڑ گئی سب خورد و کلاں اپنی اپنی بساط کے مطابق کچھ کہہ سن لیتے تھے۔ بیچ بیچ میں سلیم صاحب بھی اپنی دھیمی آواز اور مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ارشاد فرماتے رہتے تھے۔ سلیم صاحب تو علم کا خزانہ تھے ہی اس لیے سب میں نمایاں رہتے، محمود گیلانی مرحوم بھی اپنی میزبانی اور خوش بیانی کے سبب محفل میں خوب ہی رنگ بھرا کرتے تھے۔ میں ان کی موسیقی شناسی اور راگ داری باتوں سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ ایک روز گفتگو کا رخ سیاست کی طرف مڑ گیا اور عمران خان کا ذکر آ گیا۔ سلیم صاحب نے بتایا کہ عمران خان کے بارے میں ایک پیش گوئی ہے کہ اپنے ہاتھ کی ریکھاؤں کے مطابق یہ شخص ایک روز وزیر اعظم بنے گا۔ یاد رہے یہ 2010 کی بات ہے۔

آخر میں اب اپنے میلان کے مطابق ووٹ کے بارے میں کچھ طے کر ہی لیا جائیے تو بہتر ہے۔ خان صاحب کی طویل ان تھک جدوجہد، جس میں جِد (ضد) ان کی اور جہد خلا و ملا کے نادیدہ باسیوں کی بھی کم نہیں، کو دیکھتے ہوئے سچ پوچھیے تو اب تو مجھے بھی ان پر ترس آنے لگا ہے۔ اور پھر اب کے تو گھر کے پیروں کی تائیدی رائے بلکہ عملیاتی کوششیں اور گوشت کھلائی جناتی کاوشیں بھی اسی کی مؤید ہے۔ اور پھر سلطان محمود آشفتہ کی پچیس برس پرانی پیشگوئی کی داستان بھی میں لکھ ہی چکا ہوں!

مگر ان سب کے باوجود منکہ مسمی فلاں ابن فلاں، سکنہ موضع فلاں کا فیصلہ یہی ہے کہ اس دفعہ میں ووٹ خان صاحب کو نہ دیا جائیے کہ اس مردِ خود سر و ہوڑ مت کا اعتبار نہیں۔ میرا سیاسی و سماجی مشرب پیش گوئیوں پر چلنے کے بجائیے حواس سے پرکھے اور فہم سے جانچے آنکے حقائق و واقعات کے تجزیے پر عمل کا ہے۔ خان کی پچھلی پانچ سالہ بالک ہٹ سیاست اور عقل فکر سے عاری دیانت کے چرچوں نے مجھے سخت بے مزہ کیا ہے۔

آخری بات!

سوال ہے کہ سلطان محمود آشفتہ کی پیش گوئی اگر درست ثابت ہوگئی اور خان بہادر صاحب وزیرِاعظم بن گئیے تو پھر۔ ؟

تو پھر اس سے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوگا نا کہ قبلہ سلطان محمود آشفتہ(اللہ ان سے راضی ہو) کا علمِ قیافہ و دست شناسی درست تھا نہ یہ کہ عمران خان کوئی سمجھ دار آدمی ہے۔ حکمران تو، اللہ معاف کرے، چودھری شجاعت جیسے بھی بن ہی جاتے ہیں۔

ٹیمپل روڈ والی شام کی یہ نشست ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ختم ہو جاتی۔ ہم سیڑھیاں اترتے ہوئیے نیچے آ جاتے۔ کچھ دیر الوداعی باتیں ہوتیں گیلانی صاحب صاحب سلیم صاحب کو گاڑی میں بٹھاتے اور اگلی منزل، سلیم صاحب کے گھر داروغہ والا یا گلبرگ میں ریڈنگز، کی طرف روانہ ہو جاتے اور میں سول سیکریٹیریٹ کے عقب میں واقع کھلی سڑکوں والے سنت نگر میں اپنے بسیرے کی طرف لوٹ آتا۔

لاہور میں ریڈنگز نامی ادارہ بھی اپنے انداز کا واحد ادارہ ہے۔ اس کے کرتا دھرتا ڈاکٹر انوار ناصر ہیں مگر سچ پوچھئیے تو یہ محمد سلیم الرحمن کا ”دماغ بچہ“ ہے۔ ڈاکٹر انوار ناصر کے سرمائے و محنت اور سلیم صاحب کی دماغی کاوشوں نے مل کر گلبرگ میں اپنے انداز کا یہ واحد کتاب گھر کا قائم کیا ہے جس میں دنیا کا بہترین انگریزی ادب نہایت مناسب داموں دستیاب رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کتاب گھر کو لاہور کے ادیبوں کی ایک مستقل بیٹھک ہونے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ کتابیں خریدنا تو ایک بہانہ ہے اصل میں ادیب لوگ یہاں ایک بہترین ادبی ماحول میں گپ بازی کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ جہاں کتابیں ہوں ادیبوں کی گپ بازی کو بہترین ٹھکانا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ چائے کے بنا وہاں زیادہ دیر تک ٹکا کریں۔ ڈاکٹر انوار ناصر نے ادیبوں کا دل لگائیے رکھنے کے لیے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ کتابوں کے بڑے بڑے شیلفوں سے ایک گوشہ بچا کر وہاں بیٹھنے کو میز کرسیاں اور گرمئی محفل کو بڑھاوا دینے کے لیے فنجان اور سما وار سجا کر اپنے کتاب گھر کو

ویراں شود آں شہر کہ میخانہ ندارد

کی بد دعا سے بچا لیا ہے۔

اب اگر کتابیں دیکھتے دیکھتے کوئی تھک جائیے اور چاہے کہ دم کے دم سستا لے تو وہ کتاب ہاتھ میں پکڑے اس مے خانے کی طرف آجاتا ہے اور چائے کی چسکیوں کے ساتھ کتاب کی ورق گردانی کرتا رہتا ہے۔ ہاں یہ ذہن میں رہے کہ یہاں کتاب کا پڑھنا تو شاید مفت میں مل جائیے مگر چائے کے لیے کیسہ ہلکا کرنا ضروری ہے۔ کاؤنٹر پہ رکھی ٹوکری میں پیسے ڈالے سماوار سے گرم پانی پیالی میں انڈیلے اس میں پتی کی تھیلی ڈالے اور بقدر ضرورت خشک دودھ لے اور اپنی کٹوری اٹھا کر میز پر آ بیٹھے۔ ڈاکٹر انوار اور اور سلیم صاحب کے اس بندوبستی نظام نے تھوڑے ہی عرصے میں ریڈنگز کتاب گھر کو لاھور شہر کا ایک بہترین ادب گڑھ بنا دیا ہے۔ ریڈنگ کتاب گھر کی یہ شہرت صرف لاہور اس کے بیرون جات یا اندرون ملک میں ہی نہیں بلکہ اب تو اس کی یہ شہرت اکناف عالم میں پھیل چکی ہے۔ ہندوستان سے لاھور آنے والا ہر ادیب جب تک ریٹنگز کے دو چار چکر نہ لگا لے وہ اپنا دورۂ لاہور ادھورا گردانتا ہے۔ یہاں مجھے بھی ایک دو دفعہ شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی کے ساتھ کچھ بہترین لمحات گزارنے کا موقع ملا ہے۔ بلکہ شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ تو ایک دفعہ برادرم محمود الحسن نے ایک طویل انٹرویو کا اہتمام بھی یہیں کیا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ وہ انٹرویو اسی زمانے میں کسی اخبار میں انہوں نے شائع بھی کروا دیا تھا۔

2010 کے آخر میں جب لاہور مجھے دوبارہ چھوڑنا پڑ رہا تھا تو سلیم صاحب کے ساتھ ایک دو نشستیں اس کتاب گھر میں بھی ہوئیں تھیں۔ اس کی سبیل یوں بنی کہ ان دنوں جب میں عسکری پر اپنا مقالہ مجلس ترقی ادب، لاہور سے شائیع کروانے کے لیے اس وقت مجلس کے ڈائیریکٹر شہزاد احمد کی ناز برداریاں کر کر کے ان کے رویے سے سخت بدمزہ ہورہا تھا تو سلیم صاحب نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ مجلس کے چکر میں پڑنے کے بجائیے اپنا مقالہ ریڈنگز کو دو۔ انوار ناصر اس کو نہ صرف شائع کریں گے بلکہ شایان شان سبیل سے اس کا معاوضہ بھی ادا کریں گے۔ سلیم صاحب ریڈنگز کے لیے نہ صرف باہر سے درآمد کرنے کے لیے کتابوں کا انتخاب کرتے تھے بلکہ اس ادارے نے اشاعتِ کتب کا جو کاروبار شروع کیا اس کے بھی مرکزی صلاح کار وہی تھے۔ اسی حیثیت میں انھوں نے ریڈنگز سے میرے مقالے کی اشاعت کی سفارش کی تھی۔ مگر پھر مجھے جب اچانک لاہور چھوڑ اسلام آباد آنا پڑا اور ڈاکٹر انوار ناصر بھی ادارے کے کچھ انتظامی معاملات اور کچھ مالی مجبوریوں میں الجھ گئیے تو مقالہ اشاعت کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تھی۔ گمان ہے کہ محمود گیلانی مرحوم کے بعد جب میاں چمبر والی بیٹھک بھی اجڑ گئی تو آج کل سلیم صاحب کا اگلا ٹھکانہ یہی ریڈنگ کتاب گھر ہے۔

یوں تو سلیم صاحب خاموش طبع آدمی ہیں۔ میرا ان کے ساتھ جو تھوڑا سا وقت گزرا اس میں میں نے انہیں کبھی قہقہہ لگا کر ہستے نہیں دیکھا۔ لیکن ایسا نہیں کہ انہیں ہنستے مسکرانے سے کوئی پرہیز ہے۔ چٹکلوں اور مزاح کی بات سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ پرانے ہم عمر ساتھیوں میں تو وہ لطیفے سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے مگر ان کی مزاج کی ثقاہت لطیفہ بھی اپنے ہی معیار کا پسند کرتی تھی۔ 94۔ 1993 والی نشستوں ہی کی بات ہے کہ سلیم صاحب ایک دفعہ اورینٹل کالج کے شعبہ تصنیف و تالیف میں سہیل صاحب کے پاس آئے ہوئے تھے۔ انہی دنوں انہوں نے کسی انگریزی کتاب یا رسالے میں کوئی تازہ تازہ لطیفہ پڑھا تھا۔ لطیفہ اتنا زوردار تھا کہ وہ سنائیے بغیر رہ نہ سکے۔ کہا کہ ایک انگریز کی بیوی فوت ہو گئی۔ دوست احباب تعزیت کے لیے آتے مرحومہ کے سگھڑاپے کی تعریف میں کچھ نہ کچھ کہتے۔ جواباً یہ بھی اس کی یاد میں کچھ نہ کچھ بولتے۔ ایک موقع پر انہوں نے سرد آہ بھرتے ہوئیے کہا ”کیا بتاؤں کہ میرے لیے وہ کیا حیثیت رکھتی تھی:

When she was alive she was my right hand۔ Now after she is gone my right hand is my wife ”!

اپنے آپ میں ہی سمٹے سمٹائیے رہنے والے محمد سلیم الرحمن کی زبانی یہ چٹکلا سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی تھی اور اچھا بھی لگا تھا۔ خواہش ہی رہی کہ وہ بعد میں بھی کسی موقعے پہ کوئی لطیفہ سناتے مگر وہی بات کہ اب ان کے گرد و پیش جو لوگ تھے ان میں ان کے ہم عمر کم ہی رہ گئیے تھے۔ نو عمروں میں آدمی اس طرح کی بے تکلفی سے عموماً پرہیز ہی کرتا ہے۔

اب آخر میں یہ بھی عرض کر دیا جائیے کہ اپنی نوعیت کے اس واحد ادیب سے تعارف کس سبیل سے ہوا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ ان کا نام تو سن 83۔ 1982 میں کہیں سانگھڑ ہی میں ”جہاں گرد کی واپسی“ کے مترجم کے طور پر سنا یا پڑھا تھا مگر ان کا زیادہ ذکر 89۔ 1988 میں ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، لاھور میں سراج منیر سے سننے میں آیا تھا۔ انہی کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ یہیں لاہور میں ہی کہیں رہتے ہیں ورنہ میں تو انہیں مولوی عنایت اللہ دہلوی کے زمانے کا کوئی کوئی بزرگ سمجھا تھا۔ وہ سلیم الرحمن صاحب کا ذکر بڑی عقیدت اور محبت سے کیا کرتے تھے۔ سراج بھائی کی وجہ سے ادارہ ثقافت اسلامیہ ملک بھر کے اصحاب علم و ادب کا گڑھ بن گیا تھا۔ اس جرگے کا شاید ہی کوئی بڑا آدمی ہو جو سراج بھائی کے پاس نہ آتا ہو۔ ان مجالس میں بہت بڑے بڑے لوگوں کا ذکر سنا اور ان میں سے اکثر سے ملاقات بھی پہلی دفعہ یہی ہوئی تھی۔ مولانا حنیف ندوی اور اسحاق بھٹی صاحب تو خیر اسی ادارے میں ملازم تھے، باہر سے آنے والوں میں اعجاز بٹالوی، عاشق حسین بٹالوی، ترقی پسند نقاد پروفیسر ممتاز حسین، معروف شیعہ عالم و شاعر علامہ طالب جوہری، انتظار حسین، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، مرزا منور، ڈاکٹر محمد اجمل، مختار مسعود اور دیگر بیسیوں ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ اس زمانے کے بہت سے باکمالوں سے پہلے پہل وہیں ملاقات ہوئی تھی۔

صلاح الدین محمود تو وہاں مستقل آنا جانا رکھتے تھے۔ ہائے کیا نفیس آدمی تھے۔ لباس سے لے کر قد و قامت تک انداز و اطوار سے لے کر رفتار و گفتار تک ایک ستواں آدمی، ایک ستھرا انسان، ایک الگ انداز کا شاعر۔ وہ سراج بھائی کے پاس مستقل آتے اور گھنٹوں بیٹھتے۔ جس رنگ کا کرتا پاجاما اسی رنگ کا رومال ان کے ہاتھ میں ہوتا۔ نہ ان کے کرتے پاجامے میں کبھی شکن نظر آئی تھی نہ دستی رومال میں۔ جیسا ان کا لباس ہوتا ویسے ہی دھلے دھلائے وہ خود رہتے تھے۔ جس لحن سے باتیں کرتے اسی لے میں نظمیں سناتے، بولتے پڑھتے اگر انہیں کبھی محسوس ہوجاتا کہ ادائیگی میں کہیں شین قاف کی غلطی ہوگئی ہے یا کسی لفظ کا درست تلفظ ان کے خاص معیار کے مطابق ادا نہیں ہو پایا تو فوراً ”معاف کیجئے گا“ کہہ کر وہ لفظ، جملہ یا مصرع دوبارہ دہرایا کرتے تھے۔ ان کی کسی نظم کی تعریف کردی جاتی تو ممکن نہیں تھا کہ اگلے روز وہ نظم کاغذ پر اپنے ہی انداز کے ’جیومیٹرائی خط‘ میں لکھ کر نہ لاکر دیں۔ ایک روز وہ آئے بیٹھے تھے اور لاہور کے پرانے لوگوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ سلیم الرحمن صاحب کا ذکر آگیا جو علیگڑھ میں ان کے ہم جماعت بھی رہے تھے۔ ان کے علمی کمالات اور ادبی حاصلات کے ساتھ ساتھ ان کے انگریزی تراجم بھی زیر بحث آئیے۔ ان کی انگریزی دانی کی داد سراج بھائی نے یوں دی تھی کھ

”اگر وہ طلسم ہوش ربا کو شیکسپیرین انگریزی نثر میں ترجمہ کرنا چاہیں تو ان کی قدرت سے یہ بعید نہیں“!

میں تو یونہی چپ چاپ ایک کونے وہاں بیٹھا ان دونوں انوکھے خوش کلاموں کی باتیں سن رہا تھا، سراج بھائی کے اس جملے کے اصل مخاطَب درحقیقت اپنے ہی ڈھنگ کے یہ منفرد شخص اور شاعر صلاح الدین محمود تھے جن کی باتیں اور یادیں لکھنا مجھ پر ابھی قرض ہے۔ سراج بھائی کی بات سنتے ہی صلاح الدین محمود اپنے علیگڑھ کٹ پاجامے کی کریز درست کرتے ہوئیے جھوم اٹھے۔ سر ہلاتے جاتے اور کہتے جاتے :

”بالکل ٹھیک کہا آپ نے سراج، بالکل ٹھیک! “۔

سلیم صاحب کی بڑائی تو دل میں پہلے ہی نقش تھی ان دو حضرات کی اس ”تفضیلی“ تعریف نے ان کے لیے میری ارادت مندی پر مہر تصدیق ثبت کردی اور ان سے ملنے کے لیے رہوار شوق کو گویا ایڑھ لگا دی۔

رہوار کیا زمیں پہ چلا آسماں چلا

اور پھر اس واقعے کے شاید چند ہی دنوں کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں میرے کرم فرما تحسین فراقی کے ہاں سلیم صاحب سے اتفاقاً جو ملاقات ہوئی تو ان کی خدمت میں پہلا سلامِ نیازمندی پیش کرنے کا موقع پایا تھا۔

ہر قسم کی ادبی سیاست سے دور، ادیبوں کی دھڑے بندیوں سے نفور شہرت و نمائش سے کوسوں فاصلے پر رہنے والا ادب اور صرف ادب کے سہارے قرطاس و قلم سے سے روزی کمانے والا، یہ بے غرض و بے نفس یہ مرد ابریشم، جسے دنیا محمد سلیم الرحمن کے نام سے جانتی ہے، مگر جس کی تصویر بھی بہت کم لوگوں نے دیکھی ہے ان نایاب نسلوں کی آخری باقیات میں سے ہیں جن کا ادبی منہاج تہذیبِ نفس کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ جن کی فنی ریاضت ان کی ذات شخصیت مزاج نفس روح میں تہذیب پیدا کرتی ہے اور جن کی نفسی تہذیب ان کے فنی منہاج کو متاثر کیا کرتی ہے۔ زمانے کی رو، روش، رواج اور وقت کا فیشن جن کے مزاج کی صلابت میں سیندھ نہیں لگا سکتا۔ جن کی درویش منشی اور فقر نہادی دکھاوے کی نہیں ہوتی۔ جو دنیا سے ایک محتاط فاصلے پر رہ کر دنیا کو برتنے اس میں سے بقدر ضرورت اپنا حصہ پاتے اور قناعت پر مدار رکھ کر ایک گونا سیرچشمی کے ساتھ باقی کو دور باش کہہ دیتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہی استقلال اور مداومت ان کے لیے سلوک اور ریاضت کا متبادل بن جاتا ہے۔ ایک دفعہ انتظار حسین نے جب سلیم صاحب سے فنِ ترجمہ نگاری کی بابت پوچھا تو انہوں نے آخر یوں ہی تو نہیں کہہ دیا تھا نا کہ

”یہ کام صبر، اطاعت اور انکسار مانگتا ہے“!

صبر، انکسار، انتظار، اطاعت اور صلے سے بے نیاز چولیں ہلا دینے والی ریاضت یعنی وہ دولت جو فی زمانہ نایاب و ان مول ہے وہ قسام ازل سے محمد سلیم الرحمن کو بڑی وافر مقدار میں ملی ہے۔

درویشی گوشہ گیری قناعت توکل اور بے نیازی کی ان کمیاب صفات اور پڑھنے لکھنے کے شوق کے علاوہ میں نے سلیم صاحب کے اندر اگر کسی اور شے سے شغف اور شیفتگی محسوس کی ہے وہ تھی کرکٹ! ان کے اس شوق کا پتا بھی یوں چلا تھا کہ ایک دفعہ وہ جب سہیل احمد خان کے پاس آئیے تو اگلی جمعرات کو کہیں کسی دوست کے ہاں جانے کی بات ہو رہی تھی جہاں جانا شاید پہلے سے طے تھا۔ سلیم صاحب نے بلا رو رعایت صاف انکار کردیا۔ بچوں کے سے انداز میں بولے : ”نا بابا نا، جمعرات کو ہم تو گھر میں بیٹھ کے کرکٹ کا میچ دیکھیں گے“!

شاید یہ 1992 کے ورلڈ کپ کے دنوں کی بات تھی۔ آج جبکہ کہ میں سلیم صاحب کے بارے یہ ٹوٹی پھوٹی سطریں لکھ رہا ہوں یقیناً وہ اسی وارفتگی کے ساتھ 2023 کے ورلڈ کپ میچ دیکھنے میں مصروف ہوں گے کہ علی گڑھ والے رشید احمد صدیقی کی طرح علیگڑھ کے سلیم الرحمن کو بھی اردو زبان اور کرکٹ سے بے پناہ لگاؤ ہے مگر علیگڑھ سے اب ان کو کتنا ارتباط رہ گیا ہے اس بارے میں میرے پاس کوئی تازہ ترین معلومات نہیں! لیکن داستانوی رومانس اور سائینس فکشن کے طلسم کدے میں ایک مابعدالطبیعی بُعد کی آرزو رکھنے والا دماغ اگر لاہور میں اپنا ایک پورا علی گڑھ قائم کیے بیٹھا ہو تو عجب بھی نہیں!

دعا ہے کہ اللہ تعالی اردو شعر و ادب کے اس فقیر منش گوشہ گیر اور کرکٹ پسند ادیب کو سدا سلامت رکھے!

Facebook Comments HS