وہ اک تارا قسط نمبر: 5


سارے میں شور مچ گیا تھا۔
”لد میلا آ گئی ہے۔ ارے بھئی کوئی ہے جو اس ارسلان کو بتائے کہ اس کی لدمیلا آ گئی ہے“ ۔

اینا ابھی اپنی کلاس روم میں داخل بھی نہ ہو پائی تھی کہ جب اس کا استقبال کوریڈور میں بکھرے اس کے ساتھیوں کی ان آوازوں سے ہوا تھا۔

تھوڑی سی حیرت سے اس نے سارے منظر کو دیکھا تھا۔ کسی نے اس سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ اسے کیوں اچانک گھر جانا پڑا تھا۔ ماں کی بیماری کی اطلاع تھی۔ اب وہ دنوں بعد آئی ہے تو ان کا حال کیسا ہے؟ بہتر ہیں۔ تکلیف کیا تھی؟ وغیرہ وغیرہ۔

دونوں کے مشترکہ دوست اکٹھے ہو گئے تھے۔
ہیثم سے انہیں سب کچھ معلوم ہو گیا تھا۔ نیوشا ہنستے ہوئے اسے کہتی تھی۔

”یہ تمہارا ہیثم تو تمہیں بہت مس کر رہا تھا۔ میں نے تو بہتیری ٹکریں ماریں اسے بہلانے اور قابو کرنے کی۔ سوچا چلو موقع غنیمت ہے اسے اڑانے کا ۔ پر یار وہ تو تیرا سچا ارسلان ہے۔

اینا ہنستی رہی۔ ہیثم نظر آیا تو مزے سے بولی۔

”لو میں دس دن کے لیے کیا غائب ہوئی ہمارے دوستوں نے تو ہمیں تاریخی کردار بنا دیے۔“ ہیثم کھلکھلا کر ہنس پڑا۔

”تمہارے شہد، مکھن، آلو اور کھیروں پر ان کی نظریں ہیں جو تم لائی ہو۔ باقی سب خیریت ہے۔“
”میرا خط ملا تمہیں۔ پڑھا۔ کیسا لگا؟“
جب وہ لیکچر کے بعد باہر نکلے۔ اینا نے پوچھا تھا۔
”میں تو اسے پڑھتا رہا۔ تمہاری سیاست اس میں بھی گھل گئی تھی۔“
”کچھ اور بھی تو گھلا ہوا تھا اس میں“
ہیثم کی آنکھیں جیسے جگمگ جگمگ کر اٹھیں۔
”واقعی تم نے مجھے مس کیا۔“
”تو میں نے بکواس لکھا تھا۔“
وہ چلتے چلتے اک ذرا رکی۔ تیکھی نظروں سے اسے دیکھا اور غصے سے بولی۔
قہقہہ لگاتے ہوئے ہیثم نے آ گے بڑھ کراس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور بولا۔
”مجھے بہت اچھا لگا۔ اینا تمہارا بہت شکریہ۔ میں تو سمجھتا تھا میں ہی تمہارا دیوانہ ہوں۔“
او ر پھر ویسے ہی سب کچھ ہوا۔ جیسے اینا نے خط میں لکھا تھا۔

چیر ننکو بھی جلدی مر گیا۔ ابھی اس کی موت پر ڈھنگ سے خوش بھی نہ ہو پائی تھی کہ آندرو پوف کی تقرری اسے غمگین سی کر گئی۔

اپنے دکھ کا اظہار اس نے برملا سب کے سامنے کیا اور ذرا سی بھی نہیں گھبرائی کہ یوری آندرہ پوف کے جی بی کا کتنا تگڑا بندہ ہے۔

تا ہم ہیثم نے ضرور کہا ”دیکھو تو سہی۔ ڈکٹیٹر ریاستوں میں سیکرٹ سروس والوں کے پاس معلومات ہوتی ہیں اور انہیں حالات کی سنگینی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ شاید ملکی حالات کے لیے بہتر ہو۔ بیورو کریسی نے ان نیر مچایا ہوا ہے۔ شاید اسے نتھ ڈال سکے۔“

کلاس میں تو قہقہے لگ رہے تھے۔
”لو ان بندوں نے نتھ ڈالنی ہے۔ بڈھے لج لج کرتے۔ چلنے پھرنے سے آوازار۔“ اینا اور گلاشا نے یک زبان کہا۔
”وہ لطیفہ سنا ہے ارے بھئی کن بندروں کی بات کرتے ہو؟ پارلیمنٹ کے بندروں کی یا ٹیگاؤں کے۔“
اب ہوا یہ کہ آندرہ پوف اچانک مر گیا۔
ہیثم ان دنوں اپنے گھر گیا ہوا تھا۔ واپس آیا تو گوربا چوف نے کریملن کا تاج و تخت سنبھال لیا تھا۔

اب اس نے وتیرہ بنا لیا تھا۔ وہ کارخانوں، نفسیاتی اسپتالوں اور جیلوں میں جاتی اکثر تو ہیثم کو بھی ساتھ گھسیٹ لیتی۔ کبھی وہ بہانہ بناتا تو اکیلے نکل پڑتی۔

ایک دن جب وہ لائبریری میں بیٹھی بہت پرانے پر اودا دیکھ رہی تھی۔ ایک سرخی نے فوراً متوجہ کیا۔ امریکہ کے صدر کینیڈی کا خروشیف کوالٹی میٹم۔ امریکہ سوویت یونین کو الٹی میٹم دے۔ اس جذباتی لڑکی کو یہ بہت برا لگا تھا۔ وجہ کیا تھی؟ تفصیل کی طرف متوجہ ہوئی۔

”سوویت یونین کیوبا میں نیوکلیئر میزائلوں کی تنصیب بند کرے ورنہ جنگ ناگزیر ہو گی۔“
تبھی ہیثم اس کے پاس ایک موٹی سی فائل کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ اینا نے اسے متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
”ذرا اسے پڑھو۔“
اس نے تاریخوں پر نظر ڈالی۔ 1962 کا سال تھا۔

”چین نہیں اسے بھی۔ پنگے دیکھو۔ کیوبا امریکہ سے پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دنیا کی سپر پاور کے گھر کے دروازے پر میزائلوں کی باڑ لگا رہا ہے۔ اب دھمکیاں نہیں ملیں گی تو اور کیا ہو گا۔“

”ہٹاؤ اسے اور یہ دیکھو۔“
یہ ان رپوٹوں کی فائل تھی جو انڈر گراؤنڈ پر یس سانددت نے بہت اہم ملکی ایشوز پر شائع کی تھیں۔

لائبریرین بتا رہا تھا۔ ”یہ بڑی اہم فائلیں ہیں جو صرف چھ ماہ پہلے خاص ذرائع سے لائبریری کے لئے حاصل کی گئی ہیں۔“

”چلو گوربا چوف کی گلاس ناسٹ پالیسی کو دعائیں دو کہ پوشیدہ چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔“

دونوں فائل پر جھک گئے۔ واقعہ اہم اور سوویت کے جنوبی حصے کے ایک شہر نوووچر کا سک کے ایک بہت بڑے کارخانے کی بغاوت سے متعلق تھا۔ تفصیلات دل خراش تھیں جنہیں ایک ایسے شخص نے زمانوں بعد لکھا تھا جو کے جی بی کی جیلوں میں گلتا سڑتا رہا۔ جس کا باپ بڑا کٹربالشویک تھا جو سٹالن کے تطہیری عمل کی بھینٹ چڑھا۔

بڑی وجوہات دو تھیں۔ تنخواہوں میں تیس سے پینتیس فی صد تک کمی کی گئی اور مکھن گوشت کی قیمتوں میں اتنا ہی اضافہ کر دیا گیا۔ اب ظاہر ہے گوشت مکھن تو مانگنا تھا۔ رہنے کے لئے گھروں کا مطالبہ بھی ہوا۔ کام چھوڑ کر چودہ ہزار مزدور باہر نکلا تو شہر کا چوتھائی حصہ بھی ان کی حمایت میں ساتھ ہو لیا۔ مقامی پولیس کے سپاہی آئے تو الٹا انہیں منتشر کرنے کی بجائے ان کی پیٹھ ٹھونکنے لگے۔ شہر کی انتظامیہ نے فوج بلا لی۔

اب ایک نیا اور انوکھا تماشا دیکھنے کو ملا۔ ٹرکوں اور جیپوں سے فوجی جوان اور جونیئر افسر چھلانگیں مار کر اترے اور سیدھے جا کر ہڑتالیوں کے گلے لگے۔ ان کے منہ ماتھے چومے اور بولے۔

”ڈٹے رہنا۔ ان حرامزادوں کو مزہ چکھانے کی ضرورت ہے۔ یہ زاروں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔“

انہوں نے بندوقیں اٹھائیں۔ فضا میں لہرائیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان نعروں کے ساتھ کیا۔ سارا شہر امنڈ پڑا تھا۔ کریملن میں تو بھونچال آ گیا۔ تھرتھلی مچ گئی۔ کیا ہو؟ سر جوڑ کر بیٹھے۔

تجویز ہوا کہ پس ماندہ دیہی علاقوں کی فوج بلائی جائے۔ سو کاکیشیائی فوج آئی۔
”دیکھو اسے۔ ہیثم نے لکیر کھینچی۔“ اس کے ہونٹوں پر طنزیہ ہنسی تھی۔

یہاں ایک اور حیرت انگیز بات ہوئی کہ اس فوج کے سینئر افسر کو جب گولی چلانے کا حکم ملا اس نے فوج کے سامنے اونچی آواز میں جیسے للکار کر کہا۔

”میں کبھی گولی نہیں چلاؤں گا۔ یہ لوگ سچائی پر ہیں اور سچ کا ساتھ دینا میرا فرض ہے اور اس جان کی اوقات ہی کیا ہے؟“

پل نہیں لگایا اور خود کو گولی مار لی۔ ایسا دلیرانہ شو ہو اور مظاہرین بپھریں نہ۔ کہیں ممکن تھا؟ وہ میدان کارزار جما کہ لاشوں کے انبار لگ گئے۔ بے پنا ہ جانی نقصان۔ مقدمات۔ جیلیں۔

لیکن چونکانے والی خبر وہ تھی کہ خودکشی کرنے والے فوجی کی بیوی کو گھر سے پکڑ کر جیل میں لایا گیا سالوں اسے وہاں رکھا گیا۔ اس وقت وہ شاید کسی نفسیاتی اسپتال میں ہو۔

وہ ساکت بیٹھی تھی۔ چہرے کو خوبصورت ہتھیلیوں کے ہالے میں لئے۔ ”بہت ڈپریشن میں آ گئی ہو۔ چلو آؤ۔ کافی پئیں۔“

گھونٹ گھونٹ کافی پیتے، اس سے باتیں کرتے، گیت سنتے اچانک اس نے کہا۔

”ہیثم کیوں نہ ہم سمولنسک ضلع کے سائچیوفکا مقام پر بنائے گئے نفسیاتی اسپتال چلیں اور اس عورت کی کھوج کریں شاید وہ وہاں ہو۔“

”چلیں گے کس دن؟ وہ اگر نہ ملی تو کئی اور مل جائیں گے۔“

Facebook Comments HS