حسنین جمال! تمہیں خدا پوچھے )


اگر آپ پاکستانی معاشرے کے ٹیپیکل قسم کے مرد ہیں اور آپ حسنین جمال کو نہیں جانتے اور نہ اس کو پڑھتے ہیں تو پھر آپ چنے ہوئے مردوں میں شامل ہیں اور آپ پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہے لیکن بد قسمتی دیکھیے کہ میں ان مردوں میں شامل نہیں۔ یہ شخص اپنی تحریروں سے مجھے گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن اللہ کا کروڑ ہا شکر ہے کہ مجھے واپس ہدایت مل گئی ہے۔

اک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں سے صرف اک ڈیمانڈ کی جاتی ہو کہ وہ بس پیدا ہو جائیں اور جہاں ہر قسم کی معاشرتی پابندی بہن بیوی سے ہوتی ہوئی بیٹی تک پہنچ جاتی ہے اور جہاں اس بات پر بھی قتل عام ہو جائے کہ اک شخص نے محفل میں میری ماں کا نام کیوں لیا ہے وہاں یہ شخص اپنی کتاب میں نہ صرف اپنی بیوی کا نام لیتا ہے، لکھتا ہے بلکہ اس کی تعریف بھی کرتا ہے اور تو اور بے حیائی کی انتہا ہے کہ اس کو جس نام سے گھر میں لاڈ سے پکارتا ہے وہ نام بھی لکھ دیا ہے۔

ویسے حقیت تو یہ بھی ہے کہ اک جلسہ عام میں نکاح پڑھا جاتا ہے جہاں لڑکی کا نام معہ ولدیت لیا جاتا ہے وہ بھی باآواز بلند پر وہ تو شادی ہے نا اگرچہ اس میں پورا شہر ہی کیوں نہ موجود ہو۔ میں چاہتا تو اس کی بیوی کا نام بھی لکھ سکتا تھا لیکن الحمدللہ میں اک غیرت مند مرد ہوں میں اس کی بیوی کا نام کیوں لکھوں؟

آپ نے اس کی کتاب داڑھی والا پڑھی ہے؟ شکر ہے نہیں پڑھی! اس معاشرے کہ ہم مرد جو دوستوں کے مذاق کرنے پر افینڈ ہو جاتے ہیں اور کھیل کھیلتے ہوئے بات لڑائی تک پہنچ جاتی ہے اس معاشرہ میں یہ از خود اپنی کتاب میں اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ میری داڑھی کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے ”کیا جمال کا بیٹا سکھ ہو گیا ہے؟“ ہے کوئی بات کرنے والی۔ میرے بارے میں کوئی کہہ کر تو دیکھے چیر نہ دوں۔ لیکن جب میں یہ کتاب داڑھی والا پڑھ رہا تھا اس وقت شیطان نے میرے دماغ پر پردہ ڈالا دیا تھا اور مجھے یہ شخص دوسروں سے مختلف لگتا تھا کہ کوئی ایسا شخص بھی ہے جو اپنی ذات پر نہ صرف طنز کر سکتا ہے بلکہ اس کو چھاپ بھی سکتا ہے۔ غضب خدا کا ہمارے والدین نے اتنی محنت کی اور اتنی سختی کی ہماری تربیت پر اور اب ہم بھی اسی طور پر اپنے بچوں پر کر رہے ہیں لیکن یہ معلوم ہے کیا کہتا ہے ”معلوم ہے جو بچے پتنگ نہ اڑا سکیں، کبوتر بازی نہ کر سکیں ان کا آسمان کتنا محدود رہ جاتا ہے؟ اتنا کہ جتنی یہ آپ کے سامنے والی دیوار ہے۔ “

سوچنے کی بات ہے کہ آسمان کیسے چھوٹا ہو سکتا ہے آپ اور میں اور باقی سب جب بھی سر اٹھا کر اوپر دیکھیں گے تو ہمیں اپنے اپنے حصہ کا آسمان نظر آ جائے گا لیکن جو بچے پتنگ لوٹتے تھے یا کبوتر باز تھے وہ بھی کوئی بچے تھے! سکول میں اویرج کوئی پوزیشن نہیں! یہ تمام بچے گھروں کو پھلانگتے دیواریں ٹاپتے اک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے بڑا ہو گئے اور اس دوران ان نے کسی چیز کے لیے محنت کرنے کا سبق سیکھا اس کیلے دوڑ لگانا، دوسروں سے مقابلہ کرنے کا ، سوشل سکلز کا استعمال، اک دوسرے کے ساتھ مل کر بانٹ کر رہنا، دوستی نبھانا بلکہ دشمنی بھی اور اپنے بل بوتے پر اپنے معاملات کو حل کرنا سیکھا ہے سب سے بڑھ کر بڑی عمر کے لیے جو یادیں اکٹھی کی ہیں ان کا آج کی عملی زندگی میں کیا کام ہم خود بھی تو اپنے بچوں کو یہ سب پڑھا سکتے ہیں جب ان کو ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن اک بات یہ نہیں سمجھ آتی کہ اک جیسے ماحول اور اداروں میں پڑھنے والے بچوں میں سے جو سکول کے ٹاپر ہوتے ہیں وہ ان بچوں کی نسبت عملی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ضرور یہ بھی یہودی کی سازش ہو گئی تاکہ ہمارے بچے پڑھ نہ سکیں۔ اس حسنین جمال کو ہی دیکھ لیں ان آوارہ گردیوں کے باوجود اس کی دو کتابیں شائع ہو گئی ہیں ضرور کوئی اور لکھ کر دیتا ہو گا وگرنہ ایسے لوگ کہاں زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اچھا اک اور بات جو اس نے اس کتاب میں لکھی وہ یہ کہ کتابیں زبردستی نہ پڑھیں غضب خدا کا ہم اپنے بچوں کو کیوں وہ ادب نہ پڑھائیں جو ہم نے پڑھا ہے آخر ہم نے اک عمر گزاری ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ کون سی کتاب اچھی ہے اور کون سی بری۔

لیکن یہ بات اس کی طرح بچوں کو بھی سمجھ نہیں آتی۔ میں نے غلطی کی کہ اس کی کتاب داڑھی والا اپنی بیٹی کو پڑھنے کے لیے دی۔ بس جذباتی ہو گیا تھا جب اس نے اپنی بیٹی کو جو خط لکھا تھا وہ پڑھا اب بھلا کوئی اپنی بیٹی کو لکھا ہوا خط بھی شائع کرتا ہے لیکن نہیں جی یہ حسنین جمال صاحب ہیں ان نے وہ بھی شائع کر دیا وہ تو شکر ہے میری بیٹی نے وہ کتاب مکمل نہیں پڑھی لیکن برا یہ ہوا کہ بیٹا جو ابھی سات آٹھ سال کا ہے وہ یہ کتاب لے کر بیٹھ جاتا ہے اور مجھ سے عجیب عجیب سے سوال کرتا ہے۔

بس جی وہ وقت ہی نہیں رہا جب والدین کا احترام ہوا کرتا تھا ہم تو آج بھی اپنے ابا جی سے بات بھی نہیں کر سکتے سوال تو دور کی بات ہے۔ یہ سب اس حسنین جمال اور اس جیسے لوگوں کا گند ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں سوال پیدا کرتے ہیں اور ان کو پچھلی نسل سے مختلف سوچنے پر لگا رہے ہیں۔ کیا ہے جو ہم اکیسویں صدی میں ہیں اور جدید ڈیجیٹل دور آ گیا ہے ہمارے آبا و اجداد نے بھی تو اس سوچ اور فکر کے ساتھ زندگی گزاری تھی پر نہیں جی یہ نئی نسل کے نمائندے چاہتے ہیں کہ بدلتے حالات کے ساتھ سوچ بھی بدلی ہونی چاہیے۔

نئی سوچ کی بھی سن لو! کہتا ہے اپنی زندگی میں آسانیاں پیدا کرو۔ وہ کیسے؟ ان طریقوں سے جن سے ہم نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ہے۔ کہتا ہے اے سی کے چکر میں بند کمروں والے گھر مت بناؤ بلکہ کھلے ہوا دار کمرے بناؤ اسی طرح بیڈ کے چکر سے نکلو اور چارپائی استعمال کرو کہ صدیوں سے ہم یہ ہی استعمال کر رہے ہیں آپ خود سوچو یہ آسانیاں پیدا کرنے والی بات ہے یا رشتہ داروں میں ناک کٹوانے والی۔ کیا ہے کہ آج کل اک بیڈ ستر اسی ہزار کا آتا ہے جبکہ چارپائی سات آٹھ ہزار کی! اسی طور پر اے سی لینا بھی اک عذاب سہی اور بجلی کے بل اپنی جگہ مگر رشتہ داروں کو بھی تو منہ دکھانا ہوتا ہے۔

آپ نے اس کی دوسری کتاب سوچتے رہیے پڑھی ہے؟ میرا خیال ہے رشتہ داروں سے ناک کٹوانے والے مشورے اس ہی کتاب میں ہیں۔ یہ ہی نہیں یہ بندہ بالکل ہی معاشرے میں آپ کو عزت سے زندہ نہیں رہنے دے گا۔ سوچتے رہیے میں ہی جناب لکھتے ہیں کہ لنڈے سے جاکر خریداری کیا کرو اور باقاعدہ اس شخص نے لنڈے سے خریدی کا طریقہ کار بتایا ہے کہ کیسے اور کس قسم کی اشیاء لنڈے سے لینی چائیں۔ سوچیں بھلا آپ نے لنڈے سے خرید کر کوئی چیز پہنی ہو اور کسی کو پتہ چل جائے بندہ تو ساری زندگی کسی کو منہ نہ دیکھا سکے۔

میرا اک دوست بھی اس جیسی سوچ کا مالک ہے اس نے شکار کے لیے اپنے اور اپنے بیٹے کے بوٹ جیکٹس وغیرہ لنڈے سے خرید کر رکھے ہیں۔ پندرہ سو روپے میں اس نے دو سال پہلے بوٹ لیے تھے اگرچہ بہت کمفرٹ ایبل ہیں سستے ہیں دیکھنے میں اچھے ہیں دو سال سے خراب نہیں ہوئے لیکن ہیں تو لنڈے کے نا۔ میں نے بھی دو سال پہلے آٹھ ہزار کے لیے تھے دو سال استعمال کیے ہیں اس سال نئے لوں گا کہ پھٹ گئے ہیں لیکن اب دو سال سے زیادہ اور کتنے چلتے۔ اک اور واہیات بات جو یہ شخص کرتا ہے کہ جینز پہنو اگرچہ شاعر صاحب نے بھی کہا تھا کہ

کس نے کری جینز ممنوع
پہنو اچھی لگتی ہے

چلو کسی سمارٹ سی لڑکی نے پہنی ہو تو اچھی لگتی ہو گئی لیکن یہ ہم مردوں کو کہتا ہے کہ پہنو۔ اک دو جینز لے لو اور زندگی سکون سے گزارو۔ نہ خراب ہوتی ہے نا پرانی ہوتی ہے روز اک شرٹ چینج کرو اور نیا سٹائل بنا لو۔ کم خرچ بالا نشین۔ لیکن یہ جو بزرگ کہتے ہیں کہ یہ واہیات لباس ہے اس کا کیا اگرچہ خود ان بزرگوں نے ساری زندگی دھوتی پہنی ہے۔ مجھے تو یہ شخص کوئی ایجنٹ لگتا ہے جو ہماری نسل کو خراب کرنے کو پلانٹ کیا گیا ہے۔

می ٹائم کے نام سے کالم لکھ دیا کہ اپنے لیے ٹائم نکالو چلو یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اگلی بات کہ کے لیے بیٹھو سکون کرو دماغ کو پرسکون رکھو اور یہ باتیں کرتے ہوئے الزام پھر بزرگوں پر کہ وہ دن کا کچھ حصہ سکون سے گزارتے تھے یا پھر مراقبے کرتے تھے۔ اب خود سوچیں اک طرف کہتا ہے کہ بزرگوں کی باتیں مانوں اور دوسری طرف ان کی کچھ باتوں کی نفی بھی کرتا ہے۔ اب کون اس جھمیلے میں پڑے کہ کون سی بات آج قابل عمل ہے اور کون سی نہیں۔

اس کے علاوہ موصوف نے نقل کرنا طالب علم کا حق قرار دیا ہے۔ اس سے زیادہ اور میں کیا دلیل دوں کہ یہ شخص ہماری نئی نسل کو بگاڑ رہا ہے اگرچہ اپنے اس مضمون میں اس نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں بچوں کا کم اور بڑوں کا زیادہ قصور نظر آتا ہے مگر میں آپ کو بتا چکا ہوں یہ اپنے الفاظ سے پڑھنے والوں پر جادو کر دیتا ہے۔ مضمون لمبا ہوتا جا رہا ہے مگر اس شخص نے تقریباً دو کتب، کتب بھی وہ جن کے کئی ایڈیشن بازار میں آ چکے ہیں اور کم و بیش چار سو مضامین لکھے ہیں اور مجھے یہ سوچ سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے کہ نا جانے اس کے مضامین نے کن کن نوجوان ذہنوں میں سوچ کے نئے زاویے پیدا کر دیے ہوں گے۔

آخر میں آپ کو بتاؤ کہ مجھے واپس ہدایت کیسے ملی!

اس شخص نے مضمون لکھا کہ اپنے کام خود کیا کرو خاص طور پر جب آپ کسی دوسرے شہر میں اکیلے رہتے ہیں۔ اب یہ جناب تو خود اسلام آباد رہتے ہیں بیوی اور بیٹی لاہور میں اور ماں باپ ملتان میں، خود لکھتا ہے کہ ساری ذمہ داریوں کے درمیان اردو اور انگلش والا سفر کرتا ہوں لیکن نام بھی تو اس کا ہی ہے نا۔ پورے پاکستان میں۔ نہ ہم محنت کرتے ہیں اور نہ اس طرح سفر ہوتے ہیں نہ ہمارا نام ہوتا ہے۔ نہ ہوسی ڈھولا نہ ہو سی رولا۔

اب اپنے کام خود کرنے سے مراد کہ آٹا خود گھوندھو، ہانڈی پکا کرتیں دن کام چلاؤ اور اک فل پلیٹ کی قیمت میں گھر کا سالن تین دن کھاؤ، ہنر اپنی جگہ بچت اپنی جگہ اور صحت اپنی جگہ صرف تھوڑی سی محنت سے۔ پر جی یہ کوئی مردوں کے کرنے کے کام ہیں کیا؟ اگرچہ میں خود اگر اس پر عمل کروں تو ماہانہ پندرہ ہزار تک بچا سکتا ہوں۔ یہ کام تو میں نے نہ کیا لیکن اس کی اک بات پر عمل کر لیا کہ مجھے ہدایت جو ملنی تھی۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ اک چھوٹے سے فلیٹ کی صفائی کا اک کام والا ہزار پندرہ سو روپے لے لیتا ہے جبکہ صفائی بھی ٹھیک نہیں کرتا اگر ہم خود یہ کام کریں تو بچت بھی ہو گئی اور کام بھی اچھا ہو گا۔

بس میرا جو برا وقت آیا میں اس کی باتوں میں آ گیا اور پانی میں سرف گھول کر پورے فلیٹ میں پھیلا دیا کہ اب صفائی ہو گی، حالانکہ ہم سب کو پتہ ہے کہ یہ ہم مردوں کے کرنے کے کام نہیں۔ پانی تو پھیلا دیا پر جب بیٹھ کر جھاڑو لگانا شروع کیا تو دو منٹ میں ٹانگیں دہائی دینے لگیں، یہ کام مشکل لگا تو سوچا کہ صرف وائپر لگا لیتا ہوں لیکن جب جھک کر وائپر لگانا شروع کیا تو کمر نے کہا کہ نہ جناب یہ اتنا بھی آسان کام نہیں۔

پھر سو جوتے اور سو پیاز کھاتے ہوئے کبھی جھاڑو سے اور کبھی وائپر سے کوئی تین گھنٹے لگا کر صفائی کے نام پر مزید گند مچایا۔ اور اگلا پورا ہفتہ جو جسم میں درد رہا وہ الگ۔ مجھے ان ماؤں بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کا خیال تو آیا جو روز پورے پورے گھروں مکانوں حویلیوں کی صفائی کرتی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ دیگر ذمہ داریاں بھی ادا کرتی ہیں اور اک بار بھی حرف شکایت اپنی زبان پر نہیں لاتیں لیکن پھر یاد آیا کہ یہ تو ان کی ڈیوٹی ہے، میں کیوں اتنا بزدل ہو رہا ہوں کہ ان کے بارے میں ایسا سوچتا ہوں اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ یہ سب اس شخص حسنین جمال کی تحریروں کا قصور ہے کہ میں اپنے آباؤ اجداد کے ان مردانہ اوصاف کو بھولتا جا رہا ہوں۔ بس وہ لمحہ اور یہ لمحہ اب میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ اس شخص کی تحریروں کو نہ پڑھوں لیکن اب بھی اگر کوئی تحریر نظر سے گزرے تو دل میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ بات تو لاجیکل اور ٹھیک ہی ہے۔

Facebook Comments HS