زلزلوں کی پیش گوئی کی سائنس
یہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں۔ زلزلوں کی پیش گوئی کی سائنس
کل پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہلک قدرتی آفت کو اٹھارہ سال گزر گئے۔ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کی صبح آزاد کشمیر اور اس سے ملحقہ شمال مغربی پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں کو ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھے کی شدت کے زلزلے نے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا۔ پہلے ہی دن ہلاکتیں ستر ہزار سے زیادہ تھیں جن میں بڑی تعداد ان بچوں کی تھی جو اس وقت نہایت ناقص طرز پر تعمیر شدہ، اکثر سرکاری سکولوں میں موجود تھے۔ ہزاروں لوگ ملبے تلے دبے کراہ رہے تھے اور لاکھوں لوگ بے خانماں، کھلے آسمان تلے، سر پر کھڑے ہمالیائی موسم سرما کی شدت کے تصور سے لرز رہے تھے۔
اچھی بات یہ ہوئی کہ ابتدائی افراتفری اور سرکار کی جانب سے آنے والے کچھ گمراہ کن بیانات کے بعد ہوش کا دور دورہ ہوا۔ عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی گئی اور ایک فقید المثال امدادی مہم اقوام متحدہ، قومی اور بین الاقوامی راحت کار تنظیموں اور حکومت پاکستان کی شراکت سے شروع ہوئی۔ عالمی برادری نے پاکستان کی امدادی اپیل کا خاطر خواہ جواب دیا اور درکار رقم تقریباً سو فی صد عطیہ کی گئی۔ اس مساعی میں یہ خادم بھی اول روز سے شامل تھا اور اس مجموعی افتخار میں شرکت پر تا عمر شاداں رہے گا کہ دنیا میں رونما ہونے والی ماضی قریب کی آفات کے برعکس، قطعی ناقابل علاج زخمیوں کے علاوہ، کوئی ایک شخص بھی ثانوی وجوہات جیسے وبا، سردی، لوٹ مار وغیرہ کے سبب نہیں مرا۔ نہ ہی بچیوں کے اغوا، زنا بالجبر یا صنفی تشدد کے کوئی قابل ذکر واقعات پیش آئے۔ امداد کی تقسیم بھی کم و بیش شفاف اور اطمینان بخش طریقے سے عمل میں آئی۔
ایک گریز کی اجازت دیجیے کہ احباب کو اس سے چند دہائی پہلے کا ایک مماثل سانحہ یاد دلایا جائے۔ تیس اور اکتیس مئی سن انیس سو پینتیس کی درمیانی رات کو کوئٹہ اور گرد و نواح پر بھی ایک قیامت صغری بیتی تھی۔ ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ سات کی شدت کے زلزلے نے کوئٹہ، مستونگ اور نواحی بستیوں کو ملیا میٹ کر دیا تھا۔ اموات کا تخمینہ تیس سے ساٹھ ہزار کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ متاثرہ گھرانوں میں ہزارہ امام باڑہ کے بالمقابل، میکانگی روڈ پر واقع ایک سرکاری ملازم کا گھر بھی تھا۔ جب پہلا جھٹکا آیا تو صاحب خانہ نے سب سے پہلے اپنی نابینا ماں اور دو بڑی بیٹیوں کو صحن میں پہنچایا۔ پھر اپنی جواں سال ہم سر اور چار ماہ کے بیٹے کو نکالنے کے لیے قدم بڑھایا ہی تھا کہ دوسرے جھٹکے نے مکان کو زمین بوس کر دیا۔ گرد چھٹنے پر ملبے کو دیکھا تو بیوی اور بچے پر انا للہ پڑھ ڈالی لیکن اچانک ملبے کے نیچے سے رونے کی آواز آنا شروع ہو گئی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ محلے کے ایک اور گھر کے، زلزلے سے بچ جانے والے دو نوجوان یکایک نظر آئے تو انہیں مدد کے لیے پکارا گیا۔ ان کے ساتھ مل کر ملبے اور شہتیروں کو ہٹایا تو دیکھا کہ ماں نے چھت گرتی دیکھ کر اپنے شیر خوار بچے کو اپنے جسم کی ڈھال تلے پناہ دے رکھی ہے۔ خود تو جان، جان آفرین کے سپرد کر دی مگر بچے کو بچا لیا۔
بعد کی طولانی داستان سے قطع نظر کہ بچوں کی پرورش کیسے جتنوں سے ہوئی، جب وہ بچہ پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہوا تو اسے اپنی ماں کی عظیم قربانی کا علم ہوا۔ تب اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی زندگی اپنے وطن کے آفات کے شکار لوگوں کی راحت کاری کی راہ پر بسر کرے گا۔ اور اس نے یہ کام متعلقہ صوبائی محکمے کے افسر اعلی کے عہدے سے اپنی سبک دوشی تک کوئی چالیس سال تک اس تندہی سے کیا کہ ملک بھر میں اس کی مثال دی جاتی رہی۔ مئی سن پینتیس کی اس قیامت خیز رات بچ جانے والا یہ بچہ اس خادم کے والد صاحب قاضی فضل الرحمان ہیں۔ اس خادم کے ایک جنوبی افریقی دوست ڈاکٹر جمی راتھ نے ایک روز اس عجیب مشاہدے کا ذکر کیا کہ کارکنان قضا و قدر کیسے کچھ لوگوں کو غیر محسوس طریقے سے ان کے آبا کے نقش قدم پر لے آتے ہیں۔ کم از کم اس خادم کی زندگی اس اتفاق کی مثال ہے کہ انجینیئرنگ اور اقتصادیات میں تعلیم اور زرعی ترقی، انتظام آبی وسائل، ماحولیات کے تحفظ اور سرکاری محکموں کی تربیت کے معتد بہ تجربے کے بعد یکایک رخ راحت کاری کے شعبے کی سمت ایسا مڑا کہ گزشتہ دو دہائی سے یہی مقصد زندگی رہا ہے۔
چلیں واپس سانحہ آٹھ اکتوبر کی جانب آتے ہیں۔ زلزلے کے بعد راحت کاری، فوری بحالی اور تعمیر نو کے دوران اکثر ایسے ہم کار اور رفقاء ملے جن کی پیشہ ورانہ دیانت، مہارت، اور آفت زدہ لوگوں کے ساتھ ہم دلی کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ کچھ بد مزہ واقعات، اکثر اونچی دکانوں پر براجمانوں کے بھی نظر سے گزرے لیکن ان کا ذکر فی الحال چھوڑتے ہیں۔ زلزلے کے بعد کی تعمیر نو کا سب سے کامیاب پہلو یہ تھا کہ امدادی اداروں نے مقامی لوگوں پر بھروسا کیا۔ مثلا، پانچ لاکھ کے قریب مکانات کی زلزلے سے محفوظ طرز پر تعمیر کے لیے مالکان مکان کو مکلف ٹھہرایا گیا، ان کی تربیت اور تعمیری معیار کی نگرانی کا موثر نظام وضع کیا گیا۔ نتیجتا، مقررہ معیار کے مطابق تعمیر نو کا تناسب چھیانوے فی صد رہا جو دنیا کی تاریخ میں بے نظیر ہے۔ اس کا ثبوت بعد کے چند سالوں میں سامنے آیا جب کئی شدید زلزلوں میں ایک بھی نو تعمیر شدہ مکان نہ گرا۔ اس کے برعکس، چھوٹے مکانوں جیسا ہی حجم رکھنے والے پرائمری سکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز کی تعمیر کے لیے روایتی ٹھیکے داری کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس خادم نے چند سال قبل پوچھا تو پتا چلا کہ وہاں پیش رفت کا تناسب تیس فی صد کے قریب ہے۔ امید ہے اب صورت حال بہتر ہوئی ہوگی۔
آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد کی راحت کاری، فوری بحالی اور تعمیر نو کا تجربہ تو کئی کتابوں کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن اس سے حاصل ہونے والا اہم سبق یہ ہے کہ اگر تعمیر نو اور آفات کے تدارک کے پیچھے مضبوط سیاسی عزم موجود ہو، تکنیکی مہارتیں بہم پہنچائی جائیں اور مقامی لوگوں پر بھروسا کیا جائے تو بہتری ممکن ہے۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ لوگ زلزلوں نے سے نہیں مرتے بلکہ ناقص تعمیرات کے سبب جان بحق ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جاپان اور انڈونیشیا اب تک غیر آباد ہوچکے ہوتے۔
چلتے چلتے، گزشتہ دنوں ایک ولندیزی ”سائنس“ دان کا بڑا چرچا رہا جس نے بلوچستان اور قندھار کے سنگم پر واقع چمن ارضیاتی درز یعنی چمن فالٹ لائن پر اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران بڑا زلزلہ آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ کوئٹہ کا متذکرہ بالا زلزلہ بھی اسی فالٹ لائن کے سبب آیا تھا۔ ارضیات اور سائنس سے دل چسپی رکھنے والے احباب جانتے ہوں گے کہ ارضی طبقات یعنی ٹیکٹونک پلیٹس کے مطالعے کی بنیاد پر کسی علاقے میں زلزلہ آنے کے امکان کا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے مگر زلزلے کے وقت اور شدت کی پیش گوئی اب تک سائنس کی رسائی سے باہر ہے۔ جب مذکورہ ”سائنس“ دان کا مضمون دیکھا تو پتا چلا کہ موصوف کو نجومی یا ستارہ بین کہنا زیادہ درست ہو گا چونکہ ان کی پیش گوئی ارضی طبقات کے تجزیے پر نہیں بلکہ سیاروں اور ستاروں کی کسی ترتیب پر مبنی تھی۔ الحمد للہ، چمن فالٹ لائن تو انگیخت نہ ہوئی البتہ اس دوران پہلے ہزاروں میل دور ہمالیائی فالٹ لائن پر اور گزشتہ دنوں مغربی افغانستان اور ایران میں ہندوکش فالٹ لائن کے سبب زلزلے کے شدید جھٹکے آئے۔
ہمارے نظریہ سازش کے شوقین کچھ احباب نے پیش گوئی اور امر واقعہ کے درمیان جغرافیائی فاصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے ولندیزی ”سائنس“ دان کی پیش گوئی اور انتباہ کو رد کرنے والوں کے لتے لینا شروع کر دیے۔ اتفاق سے ان میں سے اکثر احباب ”انجینیئر“ آغا وقار کی واٹر کٹ کے بھی قائل پائے گئے۔ ایک اور گریز کی اجازت دیجیے۔ سن اٹھہتر کی بات ہے کہ ایک سفید ریش بزرگ کا ظہور ہوا۔ نام ان کا حکیم برق الظفر عرشی تھا اور غالباً شمالی سندھ کے کسی صحرائی قصبے کے مکین تھے۔ ان کے داماد عاصم گیلانی صاحب ”نوائے آسمان“ نامی ایک پرچے کے مدیر تھے جس کا پتہ نزد عرشی سنیما لاہور درج ہوتا تھا۔ یہ پتا نہیں کہ حکیم صاحب عرشی سنیما کے مالک تھے یا اس کی ہمسائیگی کے سبب یہ نسبت اختیار فرمائی تھی، یا پھر سنیما مالکان نے حکیم صاحب سے ارادت کے پیش نظر ازراہ برکت سنیما کا یہ نام رکھ ڈالا تھا۔ حکیم صاحب کا دعوی تھا کہ خدائے پاک ان سے براہ راست ہم کلام ہوتا ہے اور پیش آمدہ واقعات کی خبریں انہیں اس ذریعے سے ملتی ہیں۔ ان کی پیش گوئیاں ”نوائے آسمان“ میں شائع ہوتی تھیں۔ بلکہ سچ پوچھیں تو پورا پرچہ انہی پر اور کچھ مریدوں کے عقیدت مندانہ خطوط پر مشتمل ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ فرمایا کہ مولانا مفتی محمود اور مولانا مودودی جولائی سے پہلے انتقال کر جائیں گے۔ سال ارتحال کا تعین مگر پرچہ کو باریک بینی سے پڑھنے کے باوجود نظر نواز نہ ہوسکا۔ دونوں اکابر اس وقت کبیر السن تھے اور دائم المرض بھی، اور بدیہی تھا کہ زود یا بدیر داغ مفارقت دے جائیں گے، لیکن غور کیجیے کہ کوئی نہ کوئی جولائی تو ان کے انتقال کے بعد گزرنا ہی تھی۔ اس کے بعد اس خادم کو ”نوائے آسمان“ کا کوئی شمارہ ہم دست نہ ہوسکا، چنانچہ پتا نہیں کہ حکیم صاحب کے مریدوں نے کسی جولائی کو ان کی پیش گوئی کی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا یا نہیں۔
اسی طرح، سیارہ زمین کی تعمیر میں ایک خرابی مضمر ہے کہ اس کا قشر یعنی اوپری سطح ٹیکٹونک پلیٹس پر مشتمل ہے جن کے بیچ کی رگڑ کے سبب ہر وقت کہیں نہ کہیں، کم یا زیادہ شدت کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ کہیں اور کی پیش گوئی کا ثبوت کہیں اور سے لانا مضحکہ خیز حرکت ہے۔ وہ دن البتہ واقعی علم ارضیات کی تاریخ میں انقلابی ہو گا جس دن زلزلے کے مقام، وقت اور شدت کی درست پیش گوئی کی جا سکے گی۔ تب تک ہمیں ستارہ شناسوں کی جانب دیکھنے سے زیادہ زلزلوں اور دیگر آفات کی تیاری، مناسب طرز تعمیر اور قومی اور مقامی سطح کی منصوبہ بندی پر توجہ دینا چاہیے۔


